سُرورِ عنبر دست — آبِ گم کے بشارت (مسرت علی سرورؔ) پر ڈاکٹر اسلم فرخی کا خاکہ

0

آبِ گم کے مرکزی کردار بشارت: مسرت علی سرورؔ
مشتاق احمد یوسفی کی شہرہ آفاق کتاب “آبِ گم” کے مرکزی کردار بشارت تھے۔ کتاب کے پانچ مضامین میں پہلے مضمون میں بشارت کے خسر بزرگوار کا ذکر ہے، دوسرے میں بشارت صاحب کے سواری یعنی ایک عدد گھوڑا خریدنے کا بیان ہے، تیسرے میں موٹر کار اور پشاور کے خان صاحب، چوتھے میں ان کے آبائی شہر کان پور کی یاترا اور ایک ہم جماعت کا احوال اور آخری مضمون میں ان کی ملازمت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ بشارت صاحب دراصل یوسفی صاحب کے عزیز دوست مسرت علی صدیقی تھے جو سرورؔ تخلص رکھتے تھے۔

مسرت علی سرورؔ 1917 میں قصبہ سمبھل ضلع مراد آباد میں پیدا ہوئے مگر 1930 سے ان کا مستقل قیام کان پور میں رہا۔تعلیمی قابلیت ایم اے اردو تھی۔ابتداََ تدریس کا شعبہ اپنایا مگر بعد ازاں اپنا آبائی کام یعنی لکڑی کی تجارت شروع کی اورپاکستان آنے کے بعد “ایجوکیشن ٹمبر ورکس” کے نام سے لی مارکیٹ میں کاروبار شروع کیا۔ ان کا تخلص “سرورؔ” ان کے استادِ گرامی معروف شاعر نشور واحدی کا عطا کردہ تھا۔ ان کے دو شعری مجموعے “نوائے بے نوا” اور “نقشِ سرورؔ” کے نام سے شائع ہوئے۔ پہلا مجموعہ 1983 میں شائع ہوا جبکہ دوسرا مجموعہ بعد از وفات1987 میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ جناب ڈاکٹر اسلم فرخی کا ترتیب کردہ ہے۔

“دانش” کے قاریئن کے لیے اس کتاب میں شامل ڈاکٹر اسلم فرخی کا تحریر کردہ خاکہ “سرورِ عنبرِ دست” پیش کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل دانش پہ  اس کتاب میں شامل مسرت علی سرورؔ کا تحریر کردہ پیش لفظ پیش کیا جاچکا ہے۔


نہ کوئی آنا جانا نہ کوئی ملنا جلنا۔ بس ایک دن غریب خانے پر تشریف لے آئے۔ نام سے واقف تھا ملاقات کبھی نہیں ہوئی تھی۔ ملا تو بندئہ بے دام بن گیا۔ وہ مجھ سے عمر، علم، تجربے سب میں بہت بڑے تھے لیکن ملے تو اس طرح جیسے مجھ میں اور اُن میں کوئی فرق ہی نہیں تھا۔ جیسے ہم دونوں ایک دوسرے کے جنم جنم کے ساتھی تھے۔ یہ اُن کی بزرگانہ شفقت کا بھرپور اظہار اور شانِ دلنوازی تھی۔ آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو اُن کی صورت آنکھوں میں پھر رہی ہے۔ لمبا قد جسم نہ بہت دبلا نہ مائل بہ فربہی۔ کتابی چہرے پر شرافت اور نیک نفسی کا وفور۔ آنکھوں میں محبت اور علم کا نور۔ سرور صاحب کو دیکھ کر سلیقے کا احساس ہوتا تھا۔ نِکھ سے سُکھ درست۔ لباس اعلیٰ۔ کیا مجال کہیں کوئی شکن ہو۔ عمدہ سلا ہوا۔ کپڑا قیمتی۔ رنگ میں موسم کی مناسبت۔ ہر چیز اور ہر بات میں رکھ رکھائو۔ گفتگو میں خلوص اور رچائو۔ فارسی کے برمحل اشعار سے مزیّن۔ سراپا میں جس جا نظر کیجئے والی بات تھی۔ نفاست کا لفظ ہم سب بے تکان استعمال کرتے آئے ہیں لیکن جب مسرّت علی سُرور مرحوم سے ملاقات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ نفاست کا مفہوم کیا ہے۔ خوش ذوتی کسے کہتے ہیں اور رکھ رکھائو کے کیا معنی ہیں۔

سُرور مرحوم کا تعلّق سنبھل ضلع مراد آباد سے تھا لیکن عمر کا بڑا حصہ کانپور اور کراچی میں گزرا۔ ڈاکٹر عندلیب شادانی مرحوم بھی اُنہیں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ سُرور صاحب عربی فارسی کے فاضل اور ایم اے تھے تعلیم سے فارغ ہو کر تدریس کا پیشہ اختیار کیاتھا۔ دو سال سندیلے کے گورنمنٹ سکول میں رہے۔ ان کا مزاج اور ذوق دونوں اسی پیشے کے متقاضی تھے۔ لیکن ہوا یہ کہ ’’ان سے چھوٹا قمار خانۂ عشق‘‘۔ مزدوری عشرت گہہ خسرو تو نہیں کی لیکن چوب تیشہ کی فراہمی کی راہ ضرور اُستوار کی۔ سُرور صاحب جن دنوں گورنمنٹ اسکول ہمیرپور میں متعین تھے اس زمانے میں وہاں کے لڑکیوں کے سکول میں انگریزی کی کوئی معلّمہ نہیں تھی۔ جو خاتون انگریزی پڑھاتی تھیں ان کا تبادلہ ہو گیا تھا۔ متبادل انتظام ہوا نہیں۔ اسکول کی ہیڈ مسٹریس کو علم ہوا کہ سُرور صاحب کی بیگم سند یافتہ معلّمہ ہیں۔ چنانچہ بیگم سُرور سے درخواست کی گئی کہ وقتی طور پر انگریزی پڑھا دیں۔ نئی معلّمہ کے آنے تک بیگم سُرور نے تدریسی فرائض انجام دیئے۔ نئی معلّمہ آپہنچیں تو ہیڈ مسٹریس نے معززینِ شہر کا جلسہ کیا۔ جلسے میں بیگم سُرور اور سُرور صاحب کا شکریہ ادا کیا اور ایک قیمتی ادنیٰ چادر بیگم سُرور کو ہدیتاً پیش کی۔ سُرور صاحب نے ایک بار یہ چادر مجھے دکھائی اور یہ واقعہ سنایا۔ اس وقت ان کی آنکھوں میں مسرّت کی جو چمک تھی، سچّی محبت اور بے پایاں خلوص کی آئینہ دار تھی۔ انہوں نے چادر کو ایسی احتیاط سے نکالا اور اتنی محبت سے چوکی پر پھیلایا کہ مجھے حیرت ہوئی۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ مرحوم بیگم کے تذکرے میں ان پر سرشاری کی یہی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ سُرور صاحب کو اپنی بیگم سے بڑی محبت تھی۔ ناظم آباد کے مکان کا نام انہیں کے نام پر ’’قیصر لاج‘‘ رکھا تھا۔ ان کا ذکر بڑے چائو سے کرتے۔ کبھی کبھی اس تذکرے میں آبدیدہ بھی ہو جاتے۔ میرا خیال یہ ہے کہ ان کی بیماریٔ دل کا سبب بھی یہی صدمہ تھا۔ بظاہر اچھے بھلے نظر آتے لیکن دل تھا کہ اندر ہی اندر بیٹھا جاتا تھا اور اسی بیماریٔ دل نے آخر آخر ان کا کام بھی تمام کیا۔

مُعلّمی سے دست بردار ہونے کے بعد سُرور صاحب نے جو کاروبار کیا اُسے شعر و ادب یا علم سے کوئی علاقہ نہیں تھا۔ پوب خشک صحرا سے ان کا واسطہ رہا۔ عرصۂ دراز تک کانپور میں کاروبار کرتے رہے پھر کراچی آ گئے اور یہاں بھی عمارتی لکڑی کا کاروبار کیا۔ ادبی ذوق کی تسکین یوں کہ دکان کا نام ’’گریجویٹ ٹمبر مارٹ‘‘ رکھا۔ گریجویشن اور ٹمبر میں کیا نسبت ہے یہ تو میں نہیں سمجھ سکا۔ یہ اندازہ ضرور ہوا کہ نام کے انتخاب میں سُرور صاحب نے اپنے علم اور گریجویٹ ہونے کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کی چھوٹ سے ان کا کاروبار ہمیشہ جگمگاتا رہا۔

سُرور صاحب میں بڑا سلیقہ تھا۔ ہر کام کو بڑے قاعدے قرینے سے کرتے تھے۔ ناظم آباد نمبر چار میں ان کے مکان پر جانے کا بارہا اتفاق ہوا۔ پھر وہ یہاں کی گہما گہمی سے کچھ تنگ آ کر کلفٹن منتقل ہو گئے تھے۔ وہاں بھی جانا ہوا۔ سُرور صاحب کے کردار و گفتار کی طرح ان کے رہن سہن میں بھی سلیقہ اور نفاست تھی۔ کسی سے ملنے جائیے تو مکان میں داخل ہوتے ہی صاحبِ مکان کے سلیقہ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ غالب نے یوں ہی تو نہیں کہہ دیا تھا ’’ہوتا ہے ہر مکاں کو مکین سے شرف اسد‘‘ کلفٹن والے مکان میں سُرور صاحب کے کمرے سے یہی احساس ہوتا تھا کہ ہر چیز بڑے اہتمام سے رکھی ہی نہیں بلکہ سجائی گئی ہے۔ بعض شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی موجودگی میں در و دیوار مُنھ سے بولتے محسوس ہوتے ہیں۔ سرور صاحب کے بارے میں میرا تاثر یہی ہے کہ وہ جہاں بیٹھتے تھے در و دیوار مُنھ سے بولتے محسوس ہوتے تھے چاہے وہ ان کا اپنا دولت کدہ ہو یا کوئی اور جگہ۔ وہ میرے یہاں آتے تھے تو مجھے اپنے ڈرائنگ روم کی گویائی اور زیبائی کا احساس ہوتا تھا۔ ان کے جانے کے بعد پھر وہی دیوار و در اور وہی خاموشی۔

ُسُرور صاحب کے پہلے مجموعے ’’نوائے بے نوا‘‘ کی اشاعت کے بعد میں نے ایک دن انہیں ٹیلیفون کیا۔ اس مجموعے کے دیباچے میں سُرور صاحب نے کھا ہے کہ ’’میری پسندیدہ اشیاء میں چار چیزیں قابلِ ذکر ہیں۔ عطر، سفید پوشی، شاعری اور موسیقی‘‘ میں نے فون پر گزارش کی کہ چار اشیاء میں تین یعنی عطر، شاعری اور موسیقی مشترک ہیں۔ رہی سفید پوشی تو اسے برقرار رکھنے کا حوصلہ نہیں رہا لہٰذا مدت ہوئی ترک کر دی۔ ’’مگر میرے یہاں ترتیبِ شاعری، موسیقی اور عطر ہے‘‘ جواب میں کہنے لگے، بھئی سفید پوشی اب رہی کہاں اور بھرم بھی نہیں رہا۔ موسیقی کا شوق نذرِ کراچی ہوا۔ عطر اور شاعری باقی بچے ہیں۔ ان کا بھی کوئی بھروسہ نہیں، اس گفتگو کو مشکل سے دو تین دن گذرے ہوں گے کہ ’’شُمامتُہ العَنبر‘‘ کی ایک شیشی پہنچی۔ شیشی بھی یونہی ہی نہیں، کسی حسین زیور کی طرح مخمل کے خوبصورت ڈبّے میں بند۔ بھیجنے والے کے ذوق اور نفاست کا مُرقع اور پھر ’’سُرور عنبر دست‘‘ کی یہ عنایت ہمیشہ جاری رہی۔ (اگر پدر نتواند پسر تمام کند کے بمصداق عزیزم کامران نے اس عنایت کو تا حال جاری رکھا ہے) ایک دفعہ سُرور صاحب نے اپنا ذخیرۂ خوشبو بھی دکھایا۔ قسم قسم کے عطر تھے۔ مختلف عطر دانوں میں سجے ہوئے۔ سُرور صاحب ایک عطر دان کھولتے کوئی شیشی نکالتے، عطر کی تفصیل بیان کرتے۔ پھر دوسرا عطر دان کھولتے کوئی اور قلم نکالتے اور اس کی خوبیاں بیان کرتے۔ لذیز بود حکایت دراز تر گفتم کا مزا اُسی دن آیا۔ سُرور صاحب خوشبو کی تفصیل میں ایسے سرشار تھے کہ خوشبو خود ان کے وجود سے چھیلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ اُس دن مجھے معلوم ہوا کہ سُرور صاحب کو خوشبویات کے موضوع پر کتنا عبور حاصل ہے۔ عطریات کے بارے میں ہماری معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں کہ مغربی خوشبوئوں نے خوشبوئے مشرق کو قطعاً متروک کر دیا ہے۔ پسند ناپسند کا مسئلہ ذاتی اور وجدانی ہوتا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مشرقی خوشبوئیں بھاری اور دیرپا ہوتی ہیں۔ سُرور صاحب نے یہ بات متعدد بار کہی کہ مشرق کی خوشبو آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔ مغربی خوشبو ہوا کا ایک جھونکا ہے۔ اِدھر آیا اور اُدھر گیا۔ مشرق کی خوشبو میں ٹھہرائو ہے۔ اس سے روح میں سرشاری پیدا ہوتی ہے۔ سُرور صاحب کا یہ مشاہدہ صرف خوشبو کی حد تک نہیں تھا۔ یہ مشاہدہ ان کے یہاں ایک طریقۂ زندگی اور عقیدے کی حیثیت رکھتا تھا۔ یوں تو وہ مغربی لباس پہنتے تھے۔ میز کرسی بھی استعمال کرتے تھے لیکن ذہنی اور روحانی اعتبار سے مشرقیّت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ان میں جو رکھ رکھائو تھا جو وضع داری تھی وہ مشرقی تہذیب کی بنیاد ہے۔ مشرقی وضع داری کے جو نمونے میری نظر سے گذرے ہیں سُرور صاحب بھی ان میں شامل ہیں۔ انہوں نے ہر شخص سے میل جول کا جو معیار اور انداز اختیار کیا تھا ساری زندگی اسے نباہتے رہے۔ ملنے جلنے میں نہ احساس تفاخر تھا نہ وہ غیر معمولی انکسار جس سے دوسرے کی نفی ہوتی ہے۔ جس سے ملتے تھے کُھلے دل سے ملتے تھے۔ جو شخص اُن سے ایک دفعہ مل لیتا تھا ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔

سُرور صاحب دل کے مریض تھے۔ لندن جا کر بائی پاس کی منزل سے بھی گذر چکے تھے لیکن وہ ہرکس و ناکس پر اس کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ طبعاً غیّور اور متین تھے۔ اپنے دُکھ سے کسی کو رنجیدہ کرنا ان کا شعار نہیں تھا۔ اپنے غم کا اظہار نہ کرنا بھی بڑی جرأت کی بات ہے۔ یہ پیغمبروں اور ولیوں کی صفت ہے۔ سُرور صاحب ولی تو نہیں تھے لیکن اُنہیں اولیا اللہ سے بڑی عقیدت تھی اور اُنہوں نے تصوّف کا بڑا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ فارسی شاعری سے اُنہیں غیر معمولی شغف تھا کچھ اس وجہ سے بھی انہیں تصوّف سے دلچسپی تھی۔ سُرور صاحب کو فارسی کے بے شمار اشعار یاد تھے۔ گفتگو میں وہ بالعموم فارسی ہی کے شعر پڑھتے تھے۔ اُن کی تحریروں میں بھی جا بجا فارسی کے اشعار نظر آتے ہیں۔ سُرور صاحب نے فارسی کے اکابر شعرأ کو بڑی محبت اور خلوص سے پڑھا تھا۔ جب بھی فارسی شاعری کے بارے میں اُن سے گفتگو ہوئی۔ ان کی یاد داشت، مطالعے اور شعر فہمی کا قائل ہونا پڑا۔ باوجود یکہ وہ صبح سے شام تک کاروباری مصروفیتوں میں اُلجھے رہتے تھے تا ہم مطالعے کے لیے کچھ نہ کچھ وقت ضرور نکال لیتے تھے۔ ان کا مطالعہ بہت اچھا اور حاضر تھا۔ اگرچہ انہیں جدید شعری رجحانات سے دل چسپی نہیں تھی لیکن واقفیّت ضرور تھی۔ نثری نظم انہیں بالکل پسند نہیں تھی مگر اُنہوں نے اس تجربے کی مذمّت نہیں کی صرف یہ کہا ’’نوجوانوں کو نئے تجربوں کا حق ہے‘‘۔ سُرور صاحب کے یہاں شدّت پسندی نہیں تھی توازن اور اعتدال تھا۔ شدّت پسندی صرف غم برداشت کرنے کی حد تک تھی۔ اُنہوں نے غم برداشت کرنے میں شدّت پسندی کا رویّہ اختیار کیا لیکن اسے اپنا ذاتی سرمایہ بنائے رکھا۔ عام مظاہرہ نہیں کیا۔

سُرور صاحب اولاد اور دوستوں کے سلسلے میں بڑے خوش نصیب تھے۔ میں اسے اُن کی نیک نیتی کا ثمرہ قرار دیتا ہوں۔ ان کے دوستوں میں مجھے شفیق صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سُرور صاحب کا تذکرہ شفیق صاحب کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ شفیق صاحب میں خلوص، وضع داری اور سچّی دوستی کا وہی انداز ہے جو سُرور صاحب میں تھا۔ شاید دونوں کے تعلقات کی بنیاد یہی باہمی وضع داری اور رکھ رکھائو ہو۔ آخر عمر میں سُرور صاحب گاڑی نہیں چلاتے تھے۔ شفیق صاحب انہیں ہر جگہ لے جاتے تھے اور یہ خدمت بڑی خوشی سے انجام دیتے تھے۔ ایک دفعہ انٹر کون میں کسی کتاب کی رسمِ اجرأ تھی۔ سُرور صاحب اور شفیق صاحب دونوں ساتھ ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ بڑے خوش اور مطمئن۔ جلسہ خاصی دیر سے شروع ہوا۔ ہم سب انتظار کرتے کرتے تھک گئے مگر سُرور صاحب اور شفیق صاحب اپنی اپنی جگہ بڑے مطمئن بیٹھے رہے جیسے کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ یہ تو ہوا ہی کرتا ہے۔ اکتاہٹ، گھبراہٹ، اضطراب اور بے چینی سب ذہنی انتشار کی علامت ہیں۔ دل مطمئن ہو تو نہ گھبراہٹ ہوتی ہے نہ بے چینی اور نہ انسان کسی چیز سے اُکتاتا ہے۔ ہماری گھبراہٹ اور ہر وقت کے اضطراب کا سبب وہ ذہنی انتشار ہے جو ہمارے وجود کا حصّہ بن چکا ہے۔ سُرور صاحب کے یہاں اضطراب اور گھبراہٹ نہیں تھی۔ طمانیّت اور سکون تھا۔ میرا خیال ہے کہ ان کی شائستگی اور سلیقے کی بنیاد یہی طمانیّت تھی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہمہ وقت حالات و واقعات کے دبائو میں مبتلا رہتے ہیں۔ ایک تلوار ہے کہ سروں پر لٹکی ہوئی ہے۔ اب گری اب گری، نہ تلوار گرتی ہے، نہ ہمارا خوف دور ہوتا ہے۔ سُرور صاحب جس نسل سے تعلق رکھتے تھے اُس نے حالات و واقعات کا دبائو قبول نہیں کیا تھا۔ ہم حالات و واقعات کے اسیر ہیں۔ وہ حالات و واقعات خود تخلیق کرتے تھے اور انہیں اپنا تابع رکھتے تھے۔ ہم اس نسل کے نمائندوں کو رشک اور حسرت سے دیکھتے ہیں وہ ہم پر ترس کھاتے ہیں اور ہمیں ذہنی بیمار سمجھتے ہیں۔ سُرور صاحب باتیں بھی ٹھہر ٹھہر کر کرتے تھے۔ کسی طرف سے بھی عجلت کا کوئی مظاہر نہیں تھا۔ سکون ہی سکون تھا۔

تدریسی زندگی کے چار برس سے قطع نظر سُرور صاحب کی زندگی کا بڑا حصّہ کاروبار میں گذرا اور کاروبار بھی ایسا کہ جس میں ذوقِ شعر و ادب کے پنپنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی لیکن سُرور صاحب کی سخن وری نے کانپور کی بانس منڈی اور کراچی کے پُرانے حاجی کیمپ کو بھی شبستانِ شاعری میں شامل کر دیا تھا۔ سُرور صاحب نے مختلف اصنافِ سخن میں طبعِ آزمائی کی ہے لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر تھے۔ ان کی شاعری کی نشو و نما کا دور جگر صاحب کا دورِ عروج تھا۔ سارے ملک میں جگر صاحب کی دھوم تھی۔ ان کی شاعری، وارفتگی، ان کا ترنم، شعری نغمگی اور برجستگی، ہر بات میں غیر معمولی کشش تھی۔ سُرور صاحب بھی جگر سے متاثر ہوئے۔ یہ ایک فطری اثر تھا لیکن سُرور صاحب نے جگر کا اثر تقلیدی طور پر قبول نہیں کیا بلکہ یہ اثر ان کے یہاں تخلیقی انداز سے در آیا ہے۔ میں یہاں سُرور صاحب کی شاعری پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ صرف مجنوں صاحب کی رائے نقل کئے دیتا ہوں جس سے سُرور صاحب کے شاعرانہ کمالات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ مجنوں صاحب نے نوائے بے نوا کے بارے میں لکھا ہے:۔

’’سُرور صاحب کے اس چھوٹے سے مجموعے کی سب سے زیادہ ممتاز خصوصیّت یہی ہے کہ ’’اُنچہ از دل خیز دبر دل ریزد‘‘ دل اور زبان کی یہ یک جہتی بہت بڑی دولت ہے اور اس کو دُنیوی مکروہات سے آلودہ نہ ہونے دینا آدمی کا بہت بڑا اکتساب ہے ۔۔۔۔ ان کے کلام کا مختصر حجم اس بات کی علامت ہے کہ وہ کبھی بغیر شدّتِ تاثر کے کوئی بات نوکِ زباں یا نوکِ قلم تک نہیں لاتے۔ اُن کی یہ بے تکلّفی اور بے ریائی ان کے کلام کی تاثیر کو ہمیشہ قائم رکھے گی اور اثر قبول کرنے والے دل و دماغ کو ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی‘‘۔

نوائے بے نوا کی اشاعت کے بعد سُرور صاحب نے ایک دوسرے مجموعے کی ترتیب شروع کی تھی۔ ایک دفعہ ان سے گفتگو ہوئی تو بتایا کہ پچاس غزلیں اس نئے مجموعے کے لیے منتخب کی ہیں۔ انہوں نے یہ پچاس غزلیں ایک بیاض میں لکھ رکھی تھیں۔ اپنے فطری سلیقے کے مطابق کام پورا اور پکّا کیا تھا لیکن مجموعے کی اشاعت نہ ہو سکی اور وہ مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ دل کے مریض تو تھے ہی، تکلیف ہوتی تو امراضِ قلب کے ادارے میں داخل ہو گئے کہ کراچی میں اہلِ دل کا ملجا و ماوٰی وہی ہے۔ پھر ایک صبح اطلاع ملی کہ سُرور صاحب رخصت ہو گئے۔ بڑا دکھ ہوا کہ وضع داری کا ایک نمونہ ختم ہو گیا۔ ہوتا یہی ہے کہ انسان چلا جاتا ہے۔ فسانے رہ جاتے ہیں فسانہ خوانی ہوتی رہتی ہے۔ بہر حال یہ بھی ایک وظیفۂ انسانیت ہے۔ یہ فساد خوانی دوستوں کی اور خود اپنی بازیافت ہے۔ فسانہ کہتے رہو اور انہیں ڈھونڈتے رہو لیکن بقول شاد

ڈھونڈو گے اگر ملُکوں مُلکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہمیں

بہت ممکن تھا کہ پچاس منتخب غزلوں کی بیاض یونہی پڑی رہتی لیکن خدا بھلا کرے شفیق صاحب کا کہ اُنہیں اس کی اشاعت کا خیال آیا اور یہ کام اس خاکسار کے سُپرد ہوا۔ سُرور صاحب کے فرزند ارجمند کامران میاں نے اس کام میں میرا بہت ہاتھ بٹایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان کی امداد و اعانت شامل حال نہ ہوتی تو اس مجموعے کی اشاعت بھی ممکن نہ ہوتی۔ ایک سعادت مند بیٹے کی حیثیت سے اُنہوں نے اپنے والد ماجد کی شعری تخلیقات کو منظرِ عام پر لانے میں جس ذوق و شوق کا مظاہرہ کیا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پُرانی نسل نئی نسل سے بلا وجہ برگشتہ خاطر ہے۔ اس برگشتہ خاطری کی کوئی بنیاد نہیں۔ محض سوئے ظن والی بات ہے۔

کامران میاں سے مجھے سُرور صاحب کی بعض پُرانی بیاضیں بھی ملی تھیں۔ میں نے بہت غور کیا لیکن ان قدیم بیاضوں کے کلام کو مجموعے میں شامل نہیں کیا کیونکہ میری دانست میں سُرور صاحب بذاتِ خود اس سارے کلام کو مسترد کر چکے تھے۔ یہ کلام تو اُنہوں نے نوائے بے نوا میں شامل کیا تھا نہ اسے نئے مجموعے میں جگہ دی تھی۔ اب اگر اس سارے مسترد شدہ کلام کو بھی شامل کر لیا جاتا تو مجموعے کا حجم یقیناً بڑھ جاتا لیکن حسنِ معنی میں کوئی اضافہ نہ ہوتا چنانچہ اس خیال کے پیشِ نظر میں نے یہ سارا کلام شامل نہیں کیا۔

سُرور صاحب محب دلنواز تھے۔ بھلے آدمی تھے۔ وضع دار اور مخلص تھے۔ شاعری ان کا شوق تھی اور نفاست ان کا مزاج۔ بھلے آدمیوں کی طرح زندگی گذاری۔ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دور کے جلوے سے خوش اور مطمئن رہے۔ مشاعروں، جلسوں، جلوس اور دھوم دھڑکے سے بے نیاز۔ میرا خیال ہے کہ وہ بالعموم مشاعروں میں شرکت سے گریز کرتے تھے۔ اُنہیں شاعری سے شغف تھا، ہلڑ بازی سے نہیں۔ میں ان کی زندگی کے کاروباری پہلو سے قطعاً واقف نہیں لیکن مجھے کبھی کبھی خیال آیا ہے کہ ہر مرحلے پر شائستگی اور اصول کو مدِّنظر رکھنے والے نے کاروبار میں کامیابی کیسے حاصل کی پھر سوچتا ہوں کہ یہی تو اُن کا کمال اور سب سے بڑی خوبی تھی۔ مختلف سطحوں کو یکجا کرنا، تضادات میں ہم آہنگی پیدا کر کے انہیں مماثلت کی حیثیت دینا اور اپنے لیے قابلِ قبول بنا لینا ہی اصل کمال ہے۔ ماحول کی سفاکی اور حالات کی نامواقفت کا روسنا سبھی روتے رہتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ خوشگوار ماحول اور موافقت حالات کتنوں کو میسّر آتے ہیں۔ انسان کا جوہر سفّاک ماحول اور ناموافق حالات ہی میں زیادہ بہتر طریقے سے عیاں ہوتا ہے۔ سُرور صاحب چوب خشک کے کاروبار میں مصروف رہے۔ گلے شکوے ان کی زبان سے نہیں سُنے گئے۔ ’’آوازِ دوست‘‘ ضرور بلند ہوتی رہی اور ماحول کو متاثر کرتی رہی۔ یہی آواز نقشِ سُرور کے روپ میں آپ کے سامنے ہے۔ ایک مخلص فنکار کا سرمایۂ حیات، روشن روشن، معطّر معطّر، دل کش اور دل نواز۔

سُرور صاحب میرے لیے تو ’’سُرورِ عنبر دست‘‘ تھے مگر مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ان کے خلوص و محبّت کی خوشبو کسی خاص شخص یا ذات تک محدود نہیں تھی۔ ان کا سارا کلام ان کی خوشبو سے معمور ہے۔ جو بھی ان کے شعوری مجموعوں کا مطالعہ کریگا اس خوشبو کو ضرور محسوس کرے گا۔ یہ خوشبو دلنواز اور روح پرور ہے۔ اُنہوں نے ایک جگہ کہا ہے۔

ساری فضا منور ساری ہوا معطّر
گذرا ہے آج کوئی جانِ بہار اِدھر سے

سُرور صاحب کی یادوں اور ان کی شاعری کے مطالعے سے فضا منوّر اور ہوا معطّر معلوم ہوتی ہے اور یہ محض میرا حُسنِ خیال نہیں حقیقت ہے۔

مارچ ۱۹۸۷

اس مضمون کی دستیابی اور انتخاب کے لیے ادارہ محمد فیصل کا شکر گزار ہے۔

(Visited 1 times, 5 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: