عورت ———- بشارت محمود میرزا

0

عورت کی طرف لوٹنا میرے لیے روحانیت کی طرف لوٹنا ہے، ہو سکتا ہے میں نے کہیں پرانا عقیدہ درج کیا ہو ’’شادی ہمارے روحانی مراتب کو گھٹا دیتی ہے‘‘ تو پھر میرے نئے اور پرانے قول میں مطابقت کیسے ممکن ہو گی؟ عمیق شخصی جائزے نے قدیم قول تک مجھے پہنچایا تھا جب میں اپنا مطالعہ کر رہا تھا اب جب عورت سے خطاب کر رہا ہوں تو چھوٹتے ہی جو ادا ہو چکا ہے میں اُس سے پسپا نہیں ہونا چاہتا۔

میں اس مضمون کو تفصیل سے دیکھنا چاہتا ہوں لیکن تفصیلات کے ساتھ نہیں، تفصیلات کے جتنے دفاتر اس مضمون میں ہیں یقیناً دینیات میں بھی نہیں۔ عورت خدا سے زیادہ براہِ راست ہمیں محظوظ کرتی ہے۔ اسی لیے میری یہ سرسری رائے زیادہ خلافِ حقائق نہیں ہونی چاہیے کہ عورت سے خطاب سے بھرے ادبی خزینے اُس کے مثبت تذکرے کے گنجینے ہی ہیں۔

میں عورت کو مذاہب اور ادوار میں صرف ضرورتاً دیکھوں گا۔ اگرچہ ایسے جائزے یا احاطے کو میں کوئی خدمت بھی نہیں سمجھتا۔ کچھ وقت سے مذاہب اور ملتوں میں جو نا اتفاقِ رائے کے اظہار کی عادت اور بعض پر بعض کی برتری کی جو شعوری کوشش ہونے لگی ہے اور بعضوں کی جو عیوب شماری ہونے لگی ہے اُس سے مجھے نفرت سی ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مطالعاتی معلومات کے اندراج کو سرسری رکھنے کے بعد بھی میں خود کو اُن میں روح بھرنے سے قاصر ہی مانتا رہا ہوں۔

مذاہب میں تجزیاتی اور مطالعاتی مسابقات کی افادیت اور کسی سے ملتی جلتی دوسری کوششوں پر سے میرا ایمان جاتا رہا ہے۔ پھر بھی میں اس موضوع پر ضرور لکھوں گا، یہ میرا مضمون ہے۔ میں عورت کو گنہگار نہیں سمجھتا نہ ہی میں اس پر کاربند ہوں کہ چونکہ ہر عورت گنہگار ہے اس لیے جو بھی اس سے پیدا ہوتا ہے وہ گنہگار ہی ہوتا ہے۔ ایسا سمجھنے سے میرے عصمتِ انسان کے ابتدائی عقیدے پر زد پڑتی ہے، میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ میں عقیدے کو بچانے کے لیے کمر باندھ رہا ہوں انسان کے ساتھ رأفت کی وجہ سے بعض اعتبار مجھے رد کرنے پڑتے ہیں۔

پھر بھی ایسے مطالعات میں تاریخ اور عمرانی عادات کا تذکرہ خود ہی دھر آتا ہے۔ اس لیے میں یہ ترتیب رکھوں گا کہ ان ادوار اور روئداد کو پہلے ہی نمٹ لوں جو بعد کے سلسلئہ کلام میں ہمیں پھر رہ رہ کر متوجہ کرے گا۔

میرا مطالعہ ہے کہ عورت کا فعلی کردار اُس کے ازلی کردار کی مکرر مشق ہے۔ تقریباً ہر جگہ پر عورت کے لیے ہمارے مشاہدے لیے لیے جو کردار ہے وہ اُس کا ذاتی نہیں ہے شاید منصبی ہے۔ مجھے اچھی طرح نہیں پتا نہ میں ٹھیک سے یاد رکھ سکتا ہوں کہ وہ کونسا زمانہ تھا جب مردانہ تدبر نے اولین بار عورت کی صحیح حیثیت کو معلوم کیا تھا۔ میں داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا اُس پہلے فہیم مرد انسان کو جس نے با حساب پیمائش کیساتھ فرائض اور ذمہ داریوں کی تقسیم جیسی بھی وہ تھی کر لی تھی۔ اگر یہ تقسیم واقع نہ ہوتی تو اُمور کی جو ترتیب بنی تھی وہ نہ بنتی اور اگر وہ ترتیب نہ بنتی تو جو تعمیر ہم تک پہنچی ہے وہ بھی نہ ہوتی۔ یہاں تک کہہ دینے سے اگرچہ کوئی فیصلہ تو نہیں ہو جاتا لیکن اتنا تو طے ہو جاتا ہے کہ عورت کے کردار کی مجامع انسانی میں نشو نما اور عمرانی تبدیلیوں اور ارتقاء میں حصہ تو معلوم ہو جاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ عورت کو اپنی انہی خدمات اور اپنے اسی کردار کا اعتراف چاہیے ہے جو شاید نہیں ہو رہا ہے۔ آخر اتنا کچھ قبول کر لینے سے بگڑتا کیا ہے میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ عورت کی خدمات کو بڑھا چڑھا کر بیان کر کے اُسے دھوکے کی ڈھارس بندھا کر اس کی توانائیوں کو اور زیادہ برتا جائے جیسا کہ ہماری گزری صدی کے دوران خصوصی طور پر ہوا ہے جس کی بدولت عورت کے ہاتھ میں رقم تو آگئی ہے اُس کی خوشبو رخصت ہو گئی ہے۔ پول پرستی کے اس دَور نے عورت کو اُس کی شخصیت کے متعلق شدید دھوکا دیا ہے۔ جسے وہ صرف اس لیے بڑے پیمانے پر محسوس نہیں کر سکتی یا کرنا نہیں چاہتی کہ اُسے اپنی قدیم تہی دستی کے مسائل یاد ہیں۔ مردانہ جبر کے عمرانی ماحول میں عورت کی پُردستی اور آزاد ہستی بہت استثنائی مثال ہیں۔

عورت جس نے زمانوں مردانہ عیاشیوں کا مشاہدہ کیا تھا، کاغذی روپوں کے وقار کو برتنے کا نیا نیا تجربہ کرتے ہوئے کیسا محسوس کرتی ہے یہ تو کوئی عورت ہی بتا سکتی ہے۔ میں اُسے صرف ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔ اگر وہ باوقار بننا چاہتی ہے تو وہ اپنے جنسی مسیر کو صحیح رکھے وہ باوقار بن جائے گی۔ مجھے اُس کے فقر سے اُس کا غنا اچھا لگتا ہے اگر وہ بنا کر کمائے تو اُس کا فخر بڑھ جائے گا اگر وہ بنا کر کماتے ہوئے لُٹا کر گنوائے گی تو اُس کا مقام حقارت تک گِر جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شک اور تردید نے ہمیں گومگو کی حالت میں لا کھڑا کر دیا ہے۔ چونکہ تقریباً تمام ہی معاملات طرفین میں ہوتے ہیں اس لیے تقریباً تمام ہی مواقع میں بے اعتمادی سے پیدا ہونے والا اضطراب زائل نہیں ہوتا۔ ایسی ہی صورت حال مرد اور عورت انسان کے مابین ہے۔ مرد جو عورت کا مضبوط سہارا ہے، کسی بھی تعلق کے ساتھ استقامت کا حامل نہیں رہا ہے۔ چنانچہ شعوری طو رپر قوت اور جنسی طور پر بلوغت حاصل کرتی ہوئی تقریباً ہر عورت بے یقینی سے دُچار ہو جاتی ہے۔ اگر اُس کی شادی ہو جائے؟ اگر اُس کی شادی نہ ہو سکے؟ اگر اُس کی شادی ناکام ہو جائے؟ اگر اُس کی شادی شادی ہی ثابت نہ ہو؟ کیا وہ تنہا زندگی گزار سکتی ہے؟ ایسے سوالات ظاہر ہے عورت کو لاحق صدیوں کی بے اعتمادی کی پیداوار ہیں، جن کو مرد انسان کے ساتھ اُس کے تعلق کی تاریخ نے رائج اور مضبوط بنایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سوالات کیسے ختم ہو سکتے ہیں؟ اگر ہم شادی کو اشباعِ غریزۂ جنسی کے ادارے کی بجائے آئینی انسانی وظیفے کے تناظر میں دیکھنے کے قابل بن جائیں۔

ریاست اور قانون کو ازدواجی تعلقات میں طرفین کے معاملات پر نگرانی کی فرصت اور فرضیت کا احساس بھی ہو تو ہم ایک زیادہ باوقار اور مطمئن معاشرت کی تشکیل میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

زمانہ قدیم سے ہی اقوام کے عورت کے بارے میں تصورات، واضح طور پر منفی ہی رہے ہیں باوجود اس کے کہ زندگی کی مجموعی سرگرمی اور مردانہ اعمال کی پشت پناہی میں یا کم از کم بڑے اعمال کی پشت پناہی میں عورتوں کا حصہ بہت ہی قابلِ ذکر رہا ہے۔ جنگجو مردوں کو میدان میں قائم رکھنے، جوش و جذبہ کا مظاہرہ کرنے اور فرار سے غیرت محسوس کرنے پر مجبور کرنے والی قوت عورت ہی کی رہی ہے۔ میرے لیے یہ مطالعہ بہت دلچسپ ہے کہ مرد کی قدیم رفیق نسوانیت اُس کی مکمل مطیع اور حلیف نہیں بن سکی ہے۔ یہ پرانا مشاہدہ طرفین میں انائی مخالفت اور غیریت کا ہمیشہ برقرار رہنے والا سچا واقعہ ہے۔ مرد انسان کئی ہیجانی حالتوں میں صرف نسوانی حاضری کی وجہ سے توازن اور تناسب کی رعایت میں ناکام ہو جاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ اُس نے بہت شروع میں عورت کی استعداد کی درست پیمائش یا فہم حاصل کر لیا تھا پھر بھی غلطی سے اس رائے پر کاربند رہنے پر قانع ہو گیا کہ ’’عورت مکمل انسان نہیں ہے‘‘ بلکہ ’’وہ انسان اور حیوان کے درمیان کی کوئی چیز ہے‘‘ اُس میں ’’نفس ناطقہ بھی موجود نہیں‘‘ وہ اتنی سست اور پست ہے کہ ’’کسی طور بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گی‘‘ کبھی مذہب اور کلیسا کی زبان سے اُسے یہ سننا پڑتا ہے: چونکہ وہ عورت ہے اس لیے اُسے شرمندہ ہی ہونا چاہیے۔ یہ بہت بھاری اعتقاد ہے۔ ایسا لگتا ہے تہذیبی ناکامی اور عمرانی تعطل کے سارے اسباب عورت پر بار کر دیے گئے ہیں، اُس کی شخصیت ناقابلِ اعتبار اور حقیر ہے، اُسے ایک ایسی ہستی سمجھا جاتا ہے جس کے بال لمبے، عقل چھوٹی ہوتی ہے۔ یہ بھی یقین کیا جاتا ہے کہ وہ آخری جنگلی حیوان ہے جسے مرد نے سدھایا ہے۔ یہ بہت حقیر اعتقاد ہے اس قول میں عورت کی خلقی خامی تو ہویدا ہے ہی مرد کی صیاد فطرت کا اعتراف بھی پایا جاتا ہے۔ اگر یہ قول کوئی حقیقت بھی ہو تو مرد کی سب سے زیادہ موزوں دریافت اُس کی آخری دریافت ہی تھی، اگرچہ اس قول میں کوئی عقل نظر نہیں آتی۔

شاید ایسے ہی شواہد اور اطلاعات تھیں جنہوں نے ایشلے مونٹا گو کو ’’عورت جنس برتر‘‘ کے عنوان سے پوری کتاب لکھ دینے پر اُکسایا۔ ایشلے نے اس کتاب میں عورت کو مرد کے مقابلے میں بہتر انسان بتانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اپنے اپنے مذاق کی بات ہے۔ وہ مرد برتری کے امتیازات کو عواملِ تاریخی میں سے سمجھتا ہے نہ کہ عواملِ طبیعی میں سے ہاں اُس کے مطالعات اور فراہم کیے ہوئے اعداد و شمار قابلِ لحاظ ہیں۔

کتاب ’’اثناء عشریہ‘‘ میں ایک افسانہ لکھا ہے ’’نو شیروان کے خزانے میں زبر جد کی ایک لوح دریافت ہوئی اُس پر پانچ سطریں لکھی ہوئی تھیں۔ جس کے بیٹا نہ ہو اُس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان نہیں۔ جس کا بھائی نہ ہو اُس کی قوتِ بازو نہیں۔ جس کے پاس مال نہ ہو اُس کے پاس جاہ و جلال نہیں ہوتا۔ جس کی عورت نہ ہو اُس کی زندگی میں عیش و آرام کے اسباب نہیں اور جس کے پاس ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ ہو اُس میں کوئی غم اور خوف بھی نہیں ہوتا‘‘۔

ایران میں مزدکی تعلیم کی باقیات کے اثرات نے عورت کے تصور کو زیادہ گدلا نہیں ہونے دیا۔ غیر محدود جنسی اباحیت نے عورت کے وجود کے جواز کو مضبوطی عطا کی۔ ورود اسلام کے ساتھ جب اس رائج قبلی رسم کے امتناع یا اس سے اجتناب کی تنبیہہ وارد ہوئی تو ملت ایران نے ماضی کے تجربات سے گہری حساسیت ظاہر کی ایسی حساسیت اور بے اعتمادی نے وسیع معاشرت کے تصور کو اگرچہ مسترد کر دیا لیکن پھر بھی مجھے ایسا لگتا ہے اسلامی ایران میں موقت شادی کا رواج دوسری وجہوں کے علاوہ ماضی سے ہموار رہ چکی عادت سے قوی جواز حاصل کرتا ہے۔

عورت اور مرد کے تعلق کی تاریخ ہماری دُرست معلومات اور حافظے سے زیادہ پرانی ہے۔ جتنا پرانا یہ تعلق ہے اُتنا پرانا تعارف بھی ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے یہ طے شدہ سوال ثابت نہیں ہو سکا۔ ایک غیر معمولی انسانی شرف جسے ہم نامور عقل کے نام سے یاد رکھتے ہیں خصوصاً جب وہ معمولی ذہانت سے آگے نکل جاتی ہے اتنی آگے کہ ہم اُس پر عرفانی کی اصطلاح لاگو کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ نسوانی حیثیت کی خامی اور اُس کی فضول ہستی کا قائل کرنے کی کوشش کرنے لگتی ہے۔ آپ مانیے یہ آواز بہت مئوثر ہو جاتی ہے عورت کے متعلق ایسے منفی اظہارات کی گونج بھی بہت پیدا ہوتی ہے۔ میں نے جب کہا تھا کہ میرے نزدیک عورت بنیادی کی بجائے ایک ذیلی اور طفیلی ہستی ہے تو میرے سامنے تیرتا ہوا منظر کچھ ایسا ہی تھا جب مردانہ معاشرت کی ملکیت تسلیم ہو چکی تھی۔ کب سے؟ جب صیاد انسان نے اُس نام نہاد اعتبار کے مطابق اس آخری جنگلی حیوان کو شکار کر کے پالتو بنا لیا تھا۔ ہو سکتا ہے مرد انسان کو اسے اہلی بنانے کے لیے اتنے جتن کرنے پڑے ہوں کہ وہ اس سے کبھی غافل نہ ہو سکا ہو یا اُس کا یہ آخری شکار اتنا مفید ثابت ہوا ہو کہ اُس کا ضروری ساتھ بننے کے لائق ثابت ہو گیا ہو۔ پھر بھی مردانہ مصروفیت اگر وہ بہت شاعرانہ نہیں ہے تو مرد کو ہمیشہ ہی لبھا نہیں سکتی۔ کبھی کبھی اُس کی موجودگی جتنی ضروری ہوتی ہے کبھی کبھی اُس کی غیر موجودگی اتنی ہی ضروری بھی ہو جاتی ہے۔ شاید عورت مرد کو اپنے انداز میں مصروف رکھنا چاہتی ہے۔ مرد کے مصروفیت کے متعلق اپنے اندازے ہیں جن کے آگے اور پیچھے تو عورت ہو سکتی ہے درمیان میں اُس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب کہ عورت یہ سمجھتی ہے کہ اُس کی جگہ آگے پیچھے کی بجائے درمیان میں ہے۔ مرد کے مرکز میں عورت بیٹھ تو سکتی ہے رہ نہیں سکتی۔ مجھے ایسا لگتا ہے مرد عورت کو اپنے انداز میں استعمال کرنا چاہتا ہے جب کہ عورت کا کارآمد ہونے کا اپنا طریقہ ہے۔

خصوصاً مردانہ مذہبی منہاج میں عورت کے لیے کوئی گنجائش نہیں تقریباً سبھی جگہوں پر مذاہب کے معلموں اور پُرجوش مرتاضیوں نے اس ہستی کی فصیحت کرتے ہوئے اس تباہ کن نامزد کیا ہے۔ مجھے خوشی ہے مذہبیوں کو کم از کم اس شخصیت کی گہری تاثیر کا علم ہو گیا تھا وہ سمجھ چکے تھے کہ اُن کے مکاشفے میں لگے انہماک کو وہ مختل کر سکتی ہے۔ تقریباً ساری ہی گیانی ایک ہی بنیادی مغالطے کی وجہ سے ایک ہی طرح کے انکار کے مرتکب ہوئے ہیں وہ مغالطہ جسمانی لذیذ کی صورت میں روحانی فاصلے میں زیادتی اور گراوٹ کا تھا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی تذبذب درپیش نہیں کہ تمام ہی عرفانی مذاہب اور اُن کے سرگرم پیر و کار، ہستی کی تقسیم کی بنیادی غلطی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ لیکن پھر اس منقسم ہستی میں عورت کی طرف کوئی حصہ نہیں آیا۔ آج بھی روایتی عرفانیوں میں اور اُن کے ناظروں، قدردانوں اور مداحوں میں یہ رجحان شائع ہے۔

انہوں نے شادی نہیں کی، یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے عورت سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔ وہ یہ سمجھتے تھے ’’یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو غیر مستقل چیزوں (رشتوں) کو مستقل اور مستحکم بنا دیتا ہے‘‘۔ صاف لگتا ہے کہ شادی کے ایسے مخالفین محض عورت کی ذمہ داری کو سنبھالنے سے خائف رہے ہیں۔ اُن کے پاس دوسرا بڑا عذر یہ تھا ’’شادی مرد کی جرأت اور دماغی صلاحیتوں کو بٹہ لگا دیتی ہے‘‘ رومین رولان نے لکھا ’’شاید شدہ مرد کو آدھا مرد ہی سمجھیے‘‘ بات یہیں ختم نہیں ہوئی سمجھا گیا کہ ’’شادی رومانی محبت کی قاتل ہے جبکہ رومانی محبت ہی شادی کا واحد جواز ہو سکتی ہے‘‘ چاہا یہ گیا کہ رومان چلتا رہے مگر ہدف بدلتے رہنے کی آزادی برقرار رہے۔ صاف لگتا ہے یہ صنعت کے دور کے اُس انسان کی سوچ ہے جو پرانی چیزوں کو نئی چیزوں سے بدلنے کی طرح پرانی عورت کو نئی عورت سے بدلنا چاہتا ہے۔

مشہور سیاستدان وائن برائن کا خیال ہے کہ سیاستدان کو کبھی شادی نہیں کرتی چاہیے وہ کہتا ہے ’’ذرا حقائق پر نظر دوڑائیں اتنی طویل اور مشکل سیاسی زندگی کے طوفانوں میں، میں اپنی سلامت طبع کس طرح قائم رکھ سکا ہوں۔ اس لیے ہر شام کو دن بھر کی مشقت کے بعد میں سب کچھ بھول سکنے پر قادر تھا۔ میرے گھر میں ایسی بیوی موجود نہیں تھی جسے دنیاوی شان و شوکت کی ہوس ہو اور جو فطرتاً حاسد ہو، جو مجھے ہمیشہ یہ یاد دلائے کہ میرے ساتھی میرے مقابلے میں کتنے کامیاب انسان ہیں یا یہ کہ لوگ میرے بعد میرے بارے میں کیا باتیں کرتے ہیں۔ بَس یہی اصل بات ہے اور یہ جیت صرف انہیں لوگوں کا حصہ ہے جو مجرد ہوں‘‘۔

اس تقریر میں میرے لیے اصل بات یہ ہے کہ ہستی آپ سے یہ سب کچھ کہہ سکتی ہے اور آپ اُس سے سُن بھی سکتے ہیں وہ محض عورت نہیں بیوی ہی ہو سکتی ہے جو صرف شادی کے نتیجے میں ہی حاصل ہو سکتی ہے۔

شادی جب کئی الجھنوں کی وجہ ہے تو کئی الجھنوں کا علاج بھی ہے۔ اگر شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کی صورت حال کا صحیح تجزیہ نہ ہو سکے تو کہا جا سکتا ہے کہ شادی کرنا بھی بہتر ہے اور شادی نہ کرنا بھی بہتر ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ زندہ رہنا بھی بہتر ہے اور زندہ نہ رہنا بھی بہتر ہے۔ اپنے اپنے خیالات ہوتے ہیں۔ لیکن ہی خیالات ذہنی ہی ہوتے ہیں، زندگی کے مسائل اور مطالبے ہیں مگر مواقع اور لطف اندوزیاں بھی ہیں۔ فنا ایک عدم کلی کبھی بھی تصور میں نہ آ سکنے والا جہان ہے۔ جبکہ ہستی کو اشتہار چاہیے اور اشتہار کے لیے زندگی کے نازک انتخاب، بہت لطیف آبگینے کو کف دست پر قبول کرنا ہی پڑتا ہے لیکن شادی کے بغیر مکان گھر نہیں بنتا، شخصیت کا شیرازہ مجتمع نہیں ہوتا۔

جاپان کے شاہ ہیٹو کی اکلوتی بیٹی سیاکو نے ایک عام شخص کے ساتھ شادی کر کے شاہی اعزازات سے محرومی اختیار کر لی یہ شاہی خاندان میں اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ یہ شادی کی اہمیت سے انکار ہی کا شاخسانہ ہے کہ وطن عزیز میں 2003ء سے 2005ء کے دوران عصمت دری کے 5786 واقعات منظر عام پر آئے۔

پھر بھی ماہرین اخلاقیات کا کوئی کیا کرے جو کہتے نہیں تھکتے ’’شادی شدہ فلسفی کا وجود بڑی ہی خلاف عقل بات ہے‘‘۔ میری رائے میں عورت کی جنسی شخصیت کو نظر انداز کرنے والی دنیا کبھی بھی عورت کے صحیح مفہوم کو دریافت نہیں کر سکتی۔ صرف ناکام محبت کا ماتم کرتی ہوئی کتنی عورتوں کو آپ فلسفی بنا سکتے ہیں جبکہ زندگی فلسفوں سے نہیں عورت کی بدولت رائج ہے۔

نپولین کا یہ کہا اگر صحیح بھی مان لیا جائے ’’نہ جانے کتنے لوگ ہیں جو عورت کے لیے اپنی کمزوری کے باعث اَن گنت مسائل میں پھنس جاتے ہیں‘‘۔ تو پھر بھی یہ مردانہ بینش اور تجربہ کہلا سکتا ہے۔ جو صرف ایک فریق کا نقطۂ نظر منعکس کر سکتا ہے۔ درست یہ ہے کہ عورت مسائل پیدا نہیں کرتی۔ قراردادیں اور عرفی قانون پیچیدگی پیدا کرتے ہیں جن کے واضع مرد ہی ہوتے ہیں۔

مثلاً پچھلے دنوں مجھے ایک لڑکے نے فون کیا! سائیں جی تین چار دن پہلے رات کو اُسے کوئی چیز دیتے ہوئے دکھائی دے گیا ہوں، بات پھیل گئی ہے۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی ہے۔ ڈرتی ہے اُس کا باپ اُسے مارے گا۔ آپ اُس کے باپ کو سمجھائیں۔

دیوانگی کی باتوں کے معنی صاف ہوتے ہیں۔ سائیں جی کے لیے ان میں سمجھانے کے لیے کیا چیز ہے؟ جو بات مجھے سمجھ آتی ہے وہ کہنا چاہتا ہوں۔ یہ لڑکیوں کو چیزیں کیوں اتنی چاہیے ہوتی ہیں؟ پھر ان نالائق لڑکوں کو کس نے بتایا چیزیں لڑکیوں کی کمزوری ہوتی ہیں؟ آپ ٹھیک کہتے ہیں معاشرت نے۔ تو اس کا مطلب ہے معاشرت صرف اوٹ پٹانگ سکھا سکتی ہے۔ صاف لگتا ہے اس میں یہی رائج ہے۔ معاشرے کے پاس اعلیٰ اخلاق نہیں ہیں۔ وہ اُنہیں چھپ چھپ کر ملنے سے بھی نہیں روک سکتا۔ اس میں دورائے ہو سکتی ہیں کہ کسی لڑکے اور لڑکی کا چھپ چھپ کر ملنا کیسا ہے یا اخلاق کا کونسا درجہ ہے؟ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ کسی معاشرے کی قرارداد حرام ہے تو اُس معاشرے کے افراد کو حرمت کا احترام کرنا چاہیے۔ یہ بات تو کوئی حرامی زادہ ہی کہہ سکتا ہے کہ عورت کو بلی کر دو لیکن وہ معاشرے کتنے بُرے ہیں جو اچھی بھلی رائج رہ سکنے والی باتوں کو جھٹلا کر اُن کو رازداری اور بھید کی شکل دے دیتے ہیں۔ ایک سچی بات یہ ہے کہ ہم انسان، کیا عورت کیا مرد، بہت ہچکچانے والے لوگ ہیں۔ تول تول کر جنس کر گھٹا دیتے ہیں پھر کہیں خریدنے پر آمادہ ہوتے ہیں پھر بھی تقریباً ہمیشہ ہی ہماری سوچی سمجھی خریداری بہترین خریداری نہیں ہوتی کیونکہ ہمیشہ ہی بہترین قدر دستیابی ہے جو قیمت بڑھا دیتی ہے۔

فطری فیصلے غیر فطری انداز میں کرنا اُمور کو غیر فطری انداز میں چلانے کا سبب بنتا ہے یہ ہم روز دیکھتے ہیں۔ ایسے میں ہم ایک قساوت کے رجحان کی طرف چل پڑتے ہیں۔ قساوت بھی ایک اجتماعی عمل ہے جو معاشروں کی تصدیق بلکہ مئوثر افراد کی تائید سے جاری رہتا ہے اور ایک جانشین قساوت کے لیے جگہ چھوڑ جاتا ہے۔ میں نے دنیا کے حالات کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قساوت کو قساوت ہی سے بدلا جاتا ہے۔ انسانی دنیا کی معلوم تاریخ میں حجاز کی سرزمین میں محمدﷺ عربی نے پہلی بار لیکن آخری بار کے لیے نہیں انتقام خواہ متوازی نظام کو رائج نہیں کیا اور نہ ہی قساوت کے اعمال کا ہمیشہ ہی تشدد سے مواخذہ کیا۔

مجھے تو ایسا لگتا ہے مرد کو محبت کرنا نہیں آتا صرف تصرف کرنا آتا ہے۔ اُس کے مسائل بھی یہیں سے شروع ہوتے ہیں جو عورت کو اپنی لپیٹ میں لے کر اُس پر الزام کی طرح ثابت ہو جاتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: