پہاڑوں کی سیر، سیاحت کا فلسفہ اور میاں طاہر (پہلی قسط) — قاسم یعقوب

0

میری زندگی کے مطمٔن لمحات وہ ہوتے ہیں جب میں کتابوں کے ساتھ تنہائی کاٹ رہا ہوتا ہوں۔ میں اپنے خواب نگر کے سبزہ گاہوں کا گڈریا بن جاتا ہوں اور جہاں چاہتا ہوں، اپنی بھیڑوں کو ہانکتا پھرتا ہوں۔ یہ آزادی مجھے ایک دم میسر نہیں ہوئی۔ میں نے اس کے لیے برسوں اُس کیفیت میں وقت گزارا ہے، جسے کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ ایک وقت کے بعد ان کتابوں کی طرح ہی مجھے کچھ دوست ملنا شروع ہو گئے جومیری مطمٔن کیفیات کا حاصل بنتے گئے۔ مارک ٹوئن نے بہت خوبصورت بات کہی تھی:

Good friends, good books, and a sleepy conscience: this is the ideal life.�

اب میری کیفیت اُس سوئے ہوئے شعوری لمحات کی طرح بنتی گئی جس میں میں خاموش ہوتا اور میری کتابیں اور دوست بولتے۔ جی؛ یہی سب سے اچھی زندگی ہے۔ آپ کے دوست آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیتے ہیں جن کو حاصل کرنے میں آپ کو اپنا دوست بننا پڑتا ہے۔ اپنا دوست بننا زندگی کا مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ اپنے ہمزاد کا وجود کھڑا کرنا بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

یہی کوئی ۲۰۰۷ء کی سخت گرمیوں کی رات کا ذکر ہے۔ میں اور زاہد امروز، پرویز انجم کو ڈھونڈتے ہوئے جھنڈا ٹی ہائوس کچہری بازار پہنچ گئے۔ جھنڈا، ان دنوں ذیل گھر، لائل پور کے سائے میں محفلیں جمایا کرتا۔ چھوٹے چھوٹے اکٹھ شام ہوتے ہی ذیل گھر کی پارکنگ والی خالی جگہ پر براجمان ہو جاتے اور محفلیں سجنا شروع ہو جاتیں۔ لوگ دکانیں بند کر کے گھروں کو بھاگ رہے ہوتے مگر’ جھنڈے ‘کے مستقل چائے خور سر شام گھروں سے نکل پڑتے اور اپنی کرسیوں کو اٹھائے مجمع بنانے میں جُت جاتے۔ ان مجمعوں کی دھیمی دھیمی گفتگو کا رس اتنا رسیلا ہوتا کہ زہریلے نشے کی طرح اثر کرتا۔بعض جھنڈے پر بیٹھنے والے احباب اپنی دکانیں بند کرکے سیدھا ادھر چلے آتے اور دو گھونٹ چائے اور بے ڈھنگی سیاسی گفتگو کرکے گھروں کو لوٹنے کی عادت یوں پوری کرتے جس طرح یہاں آنا ان کے رزق کاے حصول کی کوئی ذمے داری ہو۔ اصل میں سانس کی نالیوں کے ساتھ ساتھ ایک اور جگہ بھی گھٹن کا شکار ہو سکتی ہے، جسے دل کہتے ہیں۔

دل کی گھٹن سانس کی گھٹن سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر یہ مرض ہر کسی کو نہیں لگتا مگر جسے لگتا ہے وہ اس گھٹن میں مر بھی سکتا ہے۔ جھنڈا ٹی ہائوس کے ان مریضوں کی تعداد کوئی زیادہ نہیں ہوتی تھی، بس یہی کوئی چار پانچ مجمعے۔ اِدھر ماسٹر اقبال کا مجمع، اس طرف کیپٹن نثار اکبر کے سیاسی دلائل، ادھر ساتھ ہی اکرم ڈوگر اور افتخار صاحب کا ہالہ اورسامنے ایک اکٹھ میں میجر صاحب کی سیاسی بساط سجی ہوئی نظر آتی۔ چائے پہ چائے چل رہی ہوتی۔ ہاف سیٹ، پورا سیٹ، دودھ کی بوتلیں، انڈا آملیٹ ____ طرح طرح کی آوازیں ہوٹل مالک میر حسین کی طرف لپک رہی ہوتیں۔ انھی رونقوں میں ایک کونے میں پرویز انجم، میرزا ندیم، تنویر عالم، شاہد ندیم، شاہد اشرف، میاں طاہر اور پروفیسرایوب بھی بیٹھے ہوتے۔ ہم کسی کو نہیں جانتے تھے، بس پرویز انجم ہمارا راستہ بن جاتا، جہاں سے ہم بھی اپنی گفتگو کا قافلہ گزار لیتے۔ اس محفل میں میاں طاہر کی گفتگو سب سے بلند اور جوشیلی ہوتی، وہ جب بولتے تو ان کی آواز میں دلیل کی چاشنی کا پننیا رنگ نظر آتا۔ بے پروا اور بے لاگ گفتگو۔ غیر سنجیدہ مباحث کو جانچنا ہوتا تو میاں صاحب کی توجہ سے جانا جاتا۔ اگر بہت سنجیدہ گفتگو ہوتی یا مزید دلائل درکار ہوتے تو میاں طاہر کی طرف سب دیکھنے لگتے۔ ہر نیا آنے والا پہلے ادھر سے ہوکے گزرتا، میاں طاہریا پرویز انجم کوسلام کرتا اورپھر اپنی دوسری محفل کی طرف پلٹتا۔ ہم، جو بالکل نئے نئے ان محفلوں کا حصہ بننے لگے تھے، سوچتے کہ میاں طاہر واقعی اہم شخصیت ہیں۔ رفتہ رفتہ ہم پرویز انجم صاحب کی کمپنی میں ہردلعزیز میاں طاہر کے قریب ہوتے گئے۔ زاہد امروز میاں طاہر سے سوال کیا کرتا کہ آپ کی تعلیم کیا ہے؟ کیا مشاغل ہیں ؟فلاں ایشو پر آپ کی کیا رائے ہے؟ فلاں چیز کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ یا کسی کی گفتگو کا جواب میاں صاحب سے طلب کرتا۔ یوں ہم میاں طاہر کو سنتے اور وہ بولتے جاتے۔

شاہد اشرف اور پرویز انجم سے تو ہمارا پراناقلمی رشتہ موجود تھا، وہ ہمارے شہر کے معروفلکھاری کے طور پر متعارف تھے۔ آپ سمجھ لیجیے کہ جھنڈا ٹی ہائوس سے ہم نے اگر کسی کو بغیر بتائے اُچک لیا تو وہ صرف میاں طاہر تھے۔ میاں طاہر ’جھنڈے‘ کی رونق کہلائے جاتے اور یہ سلسلہ آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ میاں صاحب پوری آب و تاب سے رات کی تاریکی میں اپنے دن بھر کے معاشی بوجھ کو اتار کے جھنڈے کے باہر پڑی کرسیوں پر وارد ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ پورے ہوٹل کی محفلوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ میاں صاحب بلا کے سخی مزاج ہیں۔ آتے ہی وہ لوگوں سے چائے کا ایسے پوچھنے لگتے جیسے سب کی چائے ان پر فرض ہے۔ مجھے یاد ہے کہ کئی لوگ تو میاں طاہرکی آمد کا انتظار کر رہے ہوتے تھے کہ میاں صاحب آنے ہی والے ہوں گے، چائے پی کے گھر جائیں گے۔

میاں طاہر پر لکھتے ہوئے مجھے ان کے قلبی وارداتوں میں جھانکتا پڑے گا۔ میں نے میاں طاہر کے بہت قریب دن گزارے ہیں۔ میاں صاحب ایک نہیں بلکہ دو حصوں میں تقسیم شخصیت ہیں۔ شہر بھر میں شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ وہ بیک وقت دو حصوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ میاں طاہربہت کم جگہوں پر اپنی شخصی دوئی دبانے میں ناکام ہوئے ہیں، ورنہ ان کی شخصیت بہت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ وہ اپنی زندگی کا دوسرا رخ کسی پر نہیں کھولتے۔ شعوری اور غیر شعوری طور پر وہ کسی کو اپنی ذات کے حصار میں داخل نہیں ہونے دیتے۔ میں نے بھی ان کے دوسرے رخ کو ان سے چوری چوری چرایا ہے۔

میاں طاہر صاحب بلا کے ٹورسٹ ہیں۔ وہ جمال پرستی میں فطرت کو اپنے اندر اتار لینے کے قائل ہیں۔ وہ پہاڑوں کا سبزہ دیکھ کے، نئی فضا سونگھ کے بتا دیتے ہیں کہ یہ کیسا پُرفضامقام ہے۔ یہاں قیام کیسا رہے گا یا اس قیام میں ہمیں کیا کیا احتیاطی تدابیر کرنی ہیں؛ نیز اس سبزوادی سے ہم کیا کیا روحانی لذائذ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ میاں طاہر کی فطری خوبی ہے کہ وہ اپنی طبیعت اور پہاڑی علاقے کی موسمی اور جغرافیائی طبیعت کو بہت جلد تجزیاتی طور پر ملا کے دیکھ لیتے ہیںکہ کیا یہاں میں رہنے کے قابل بھی ہوں یا نہیں۔ وہ سیر کی غرض سے کبھی سیاحت نہیں کرتے، بلکہ پہاڑوں سے معانقہ کرنے جاتے ہیں۔ پانی سے دوستی کرنے اترتے ہیں۔ سفید پہاڑی بھیڑوں کا لمس لینے کے لیے اپنا وجودکا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف پہاڑوں کے سبزے کو دیکھتے رہنے، یا سبزے کی تراوت کو چھوکے ہی لطف لینے پر قدرت رکھتے ہیں۔ بعض اوقات پہاڑوں کے طویل لینڈ اسکیپ کے کسی خاص زاویے نے میاں صاحب کو متاثر کیا تو سمجھیے کہ سب کچھ ختم ہو گیا، اب سب کچھ وہی ہو چکا ہے۔ میں نے زندگی بھر میاں صاحب کی طرح کا سنجیدہ اور گہرا سیاح نہیں دیکھا، جس کا مسئلہ سیر نہیں بلکہ فطرت کی جمال آفرینی سے لطف اٹھانا ہو۔ پھر ساتھ پرویز انجم مل جائیں تو ہم جیسے طالب علموں کے لیے فطرت کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان دونوں روحانی بوڑھوں کے ساتھ بیٹھنا اور ان سے باتیں کرنا بھی ازلی مسرتوں کو یکجا کرنے کے برابر ٹھہرتا ہے۔

۲۰۰۷ ء ہی کی بات ہے کہ بیٹھے بیٹھے ہم نے پلان بنایا کہ پہاڑوں کی خنک شاموں میں اپنے رومان ساز دن گزارنے کا جتن کرتے ہیں۔ وہ خوبصورت شامیں، جن کو ہم پرویز انجم کے افسانوں میں تلاش کرتے ہیں، جنھیں انجم سلیمی کی شاعری اپنا خواب سناتی ہے، ڈھونڈتے ہیں۔ ہم نے مل بیٹھ کے پلان تیار کیا اور خانس پور کو اپنی آماجگاہ بنانے کے لیے نکل پڑے۔ روحانی مراقبے کے لیے سب کچھ تج کے نکلنا پڑتا ہے؛ سو ہم نکل پڑے۔ میں پہلے ہی اسلام آباد میں رہتا ہوں، مجھے یہاں راستے سے اپنے قافلے میں شامل کر لیا گیا۔ میاں طاہراور ان کا قافلہ اپنی چمکتی کار میں بہت سا کھانے کا سامان اٹھائے خانس پور کی طرف روانہ تھا۔  ہم جب خانس پور جا رہے تھے تو موسم نے انگڑائی لینا شروع کر دی تھی۔ پرویز صاحب کو شک تھا کہ کہیں راستے میں ہی بارش نہ ہو جائے۔ ہم یونہی سبزے میں گھرے اس اونچی پہاڑی مقام پر پہنچے تو بارش نے ہمیں آ لیا۔ جون کے اس مہینے میں بارش نے ہمارا سواگت کیا تو ہم نے بوندوں کو اپنی مسکراہٹوں کا لمس دیا۔ وہاں پہنچتے ہی میاں صاحب کی نظر کچھ ایسی جگہ کے انتخاب پر تھی جو عام لوگوں کی پہنچ سے کچھ دور ہو، تاکہ ہم لوگوں کی سیاحتی مصروفیات سے کچھ بچ بچا کے اپنے ساتھ وقت گزار سکیں۔ عموماً سیاحتی مقامات پرلوگ اپنے جیسے سیاحوں سے مل کرہی خوش رہتے ہیں مگر ہم نے سیاحوں سے دور رہنے کو ترجیح دی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میاں صاحب کس غرض سے اتنی دور جا کے کمرہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ وہ مجھے کہتے، بس تم میرے پیچھے چلتے جائو۔ بلاخر انھوں نے اونچی آواز میں مجھے پکارا اور کہا:

’’دیکھو! ادھر سے یہ منظر دیکھو؛ بادل کتنے قریب آ گئے ہیں اور____ سامنے دیکھو پہاڑوں نے سبزے کی چادر کس طرح پہنی ہوئی ہے۔ لگتا ہے پہاڑ کسی مراقبے میں غوطہ زن ہیں۔ ان میں بے ترتیب گھروں کی خوش ذوقی ملاحظہ کرو، کس طرح انجان بھیڑوں کی طرح چراہ گاہ میں نکلے ہوئے ہیں۔ مجھے فطرت کی بد ذوقی اچھی لگتی کیوں کہ فطرت ہوتی ہی بد ذوق ہے، یہ ہم تم خوامخواہ باذوق بنے رہتے ہیں مصنوعی باذوق۔ فطرت اپنے اصلی پن میں بے ترتیب ہی ہوتی ہے۔ فطرت میں بھی حسن تلاش کرنا پڑتا ہے بھائی۔ اب جائو پرویز انجم، شاہد اشرف اور زاہد امروز کو بلا لائو۔ ہم یہیں قیام کریں گے۔‘‘

کچھ ہی دیر بعد ہم کمرے میں مکمل سیٹ ہو چکے تھے۔ کھانا کھانے کے بعد ہم پہاڑی کھائی کے ایک کونے پر پڑی کرسیوں پر جا ٹکے اور سردی میں تیز ہوا کے شور کو سننے لگے۔ زاہد امروز نے اپنے موبائل پر مینا کماری پر فلمایا، رفیع اور لتا کا گیت لگا دیا، جو گہری شام کے سایوں کو خوف ناک حد تک گہرا کرنے لگا:

چلو دلدار چلوچاند کے پار چلو
ہم ہیں تیار چلو
چلو دلدار چلوچاند کے پار چلو
ہم ہیں تیار چلو
آؤ کھو جائیں ستاروں میں کہیں
چھوڑ دیں آج یہ دنیا یہ زمیں
دنیا یہ زمیں
چلو دلدار چلوچاند کے پار چلو
ہم ہیں تیار چلو
ہم نشے میں ہیں سنبھالو ہمیں تم
نیند آتی ہے جگا لو ہمیں تم
جگا لو ہمیں تم
چلو دلدار چلو
چاند کے پار چلو
ہم ہیں تیار چلو
زندگی ختم بھی ہو جائے اگر
نہ کبھی ختم ہو الفت کا سفر
الفت کا سفر
چلو دلدار چلو
چاند کے پار چلو
ہم ہیں تیار چلو

شام کے گہرے سائے تاریک رات کی چادر پہننے لگے، آہستہ آہستہ سردی نے ہمارے وجودوں کو یخ بستہ ہوائوں کے حوالے کر دیا۔

میاں طاہر کا فلسفۂ فطرت بہت پیچیدہ یا مشکل سوالات پر مشتمل نہیں۔ وہ فطرت کو بہت سیدھا سادھا اور متعین انداز میں دیکھتے ہیں۔ البتہ وہ فطرت تک رسائی کے لیے تگ دو کو لازمی سمجھتے ہیں۔ فطرت اپنی لذت کا سامان خود نہیں کرنے دیتی بلکہ ہمیں خود کو اس کام کے لیے تیار کرنا پڑتا ہے۔ میاں صاحب کنفیوشس کے اس مقولے کے حامی ہیں:

Everything has beauty, but not everyone sees it.

کوئی چیز بھی بری نہیں، برا یا اچھا انسانی آنکھ میں ہوتا ہے۔ انسانی آنکھ خوبصورتی کو علیحدہ کرتی ہے۔ خوبصورتی سبجیکٹو مسئلہ ہے۔ اس لیے خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے خوبصورت ہونا پڑتا ہے۔

میاں طاہر کسی بھی سیاحتی مقام کی خوبصورتی کو اس وقت تک یا اس انداز سے دیکھنے کے قائل ہیں کہ وہ فطرت خود آپ کی آنکھوں کے لیے جمال آفرینی سے آراستہ ہوجائے۔

سخت سردی نے منظر کو یک سر تبدیل کر دیاتھا۔ بارش سے پوری فضا دھل گئی تھی۔ ہمارے سامنے دیول شہر کے چھوٹے بڑے گھروں کے جلتے بجھتے چراغ نظر آ رہے تھے۔ پورا پہاڑ مشعل بردار قافلے کی شکل میں ہمارے سامنے ساکت و بے حرکت کھڑا تھا۔ ایسی بلا کی خاموشی تھی کہ ہوائوں کی ذرا سی جنبش بھی پورے منظر کو دہلا کے رکھ دیتی۔ میں نے میاں طاہر کے مراقبوں والے استغراق کو توڑتے ہوئے کچھ کہنا چاہا:

’’دیکھیے میاں صاحب کیسا خواب ناک منظر ہے۔ افسوس اس منظر نے کبھی یوں نہیں رہنا۔ ہم نے یا اس نے، کسی ایک نے اس کیفیت یا وجد کو ختم کر دینا ہے۔ بقا کسی کو نہیں، ہمیشگی ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ سب کچھ فنا ہو جانے والا ہے۔ افسوس یہ منظر بھی فنا ہو جائے گا۔ ‘‘

میاں صاحب نے کچھ توقف کے بعد جواب دیا :

’’نہیں ! ایسا نہیں سوچتے، خوبصورتی کو کبھی ایسے نہیں دیکھتے۔ جب جمالیات سے حظ اٹھانے لگو تو اس کے شکستہ یا منہدم شکلوں کو کبھی ذہن میں نہیں لاتے، یوں جمال آفرینی اپنے کُل میں قبیح شکل بھی شامل کر لیتی ہے۔ یوں جمالیات پیدا ہوتے ہی انسان کے اندر مر جاتی ہے۔ باہر کچھ نہیں، سب کچھ تمھارے اندر ہے، اسے اندر مکمل شکل میں اتارو۔ باہر یہ ادھورا ہے، تمھارے اندر جا کے جمال مکمل ہوجائے گا۔ جمال اپنی حدوں میںایک وقت میںمکمل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ مکمل ہوکے ملو۔ تم کو یہ لمحہ لازوال لگے گا، کبھی نہ ختم ہونے والا، ہمیشہ رہنے والا۔ جمالیات ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ فطرت کا حسن اپنے کل میں مکمل ہے، ہم اسے مکمل دیکھ سکتے ہیں، چھو سکتے ہیں، اپنے اندر اتار سکتے ہیں۔ جب ہم ڈھلنے یا کمزور ہونے لگتے ہیں یا فطرت کا یہ ’کُل‘ اپنی حدوں سے باہر نکلنے لگتا ہے، تب تک ہم اس جمال آفرینی سے مکمل لطف لے چکے ہوتے ہیں۔ اس طرح ہم فطرت کی منہدم شکلوں سے نا آشنا رہ سکتے ہیں۔ ابھی سے فطرت کی بیک وقت دو انتہائوں کو ملا کے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اب اس حسن کو دیکھو، ان قمقموں کو دیکھو، وہ ہوائوں کے شور سے درختوں کی بے ترتیب آواز کا مدھم آہنگ سنو، اور اپنے خاموش وجود کو اس فطرت کے سپرد کر دو۔ اس کی شکستہ رتوں کو اپنے دھیان میں مت لائو۔ یا اپنے وجود کی ریت کو مٹھی سے پھسلتے مت سوچو۔ سب کچھ، اسی ’سب کچھ‘ میں نظر آئے گا۔‘‘

میں میاں صاحب کی باتوں کو غور سے سنتے ہوئے اس فطرت کا ایک حصہ ہونے لگا۔ ایسا حصہ جو واقعی وجود میں پیوست ہو جائے، ہم اس کا حصہ ہو جائیں، ہم دونوں ایک دوسرے کے ہو جائیں۔ میں نے اردگرد دیکھا تومیاں صاحب نے اپنی آنکھ کا زاویہ پہاڑ کی اُس چوٹی کی طرح رکھا ہوا ہے جو شہر کو ساکت و بے حرکت صدیوں سے ایک ہی رخ سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔

کچھ ہی دیر کے بعد خنک سردی کے ہاتھوں مجبور ہو کے ہم اپنے اپنے کمروں کا رخ کرنے لگے۔

(جاری ہے)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: