علاقائی زبانوں کے اردو شعرأ: ایک منفرد عمرانی تجربہ —- ادریس آزاد

0

ایک بات جو میری توجہ اکثر کھینچ لیتی ہے کہ پاکستان میں اُردو شاعری پر طبع آزمائی کرنے والے اکثر شعرأ، گھر میں اُردو نہیں بولتے۔ گھر میں اُردو نہ بولنے کی وجہ سے جہاں وہ روز مرّے اور محاورے کی مادر زاد روانی سے محروم ہیں وہاں اُن کے تفرّدات کی بدولت ایک جہانِ تراکیب بھی برآمد ہوتا ہے۔ پشتو، سندھی، سرائیکی، بلوچی اور پنجابی زبان بولنے والے اُردو کے شعرأ تو موجود ہیں ہی، پاکستان کی دیگر بولیاں، مثلاً بلتی، شنا، پہاڑی، پھوٹوہاری، براہوی اور ایسی ہی نہ جانے کتنی زبانوں کے بولنے والے اُردو شاعری میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے اور خاطرخواہ سُرخروئی سے ہمکنار ہوتے رہتے ہیں۔

اگرکبھی کسی ایک علاقائی زبان کے اردو شعرأ کا کسی دوسری علاقائی زبان کے اُردو شعرأ کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو خاصے دلچسپ نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ مثلاً اگر پشتو بولنے والے اردو شعرا اور پنجابی بولنے والے اردو شعرا کے فرق پر تحقیقی مقالہ لکھا جائے تو کیا دلچسپ لسانی تجربات کی توقع نہیں کی جاسکتی؟ عام طور پر پنجابی بولنے والے اردو شعرا ’’جاتی‘‘ اور ’’پڑتی‘‘ کا فرق نہیں کرپاتے۔ پشتو بولنے والے اردو شعرا بعض مذکر اسمأ کو مؤنث کی جگہ اور مؤنث کو مذکر کی جگہ بےدریغ استعمال کرلیتے ہیں۔ دراصل ہم جب کسی دوسری زبان میں کچھ کہنے لگتے ہیں تو ہم ساتھ ساتھ اپنی زبان میں سوچے گئے خیال کا ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم محاوروں اور روزمرّوں کو تیزی سے ترجمہ کرتے ہیں تو بعض اقات عجیب و غریب اور کبھی کبھار نہایت دلچسپ تصورات خودبخود وجود میں آجاتے ہیں۔ مثلاً سینے میں ٹھنڈ پڑنا، اب باقاعدہ اُردو محاورہ ہے لیکن ہم آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ پنجابی سے وارد ہوا ہوگا۔ پنجابی کے روزمرّے بھی بےساختہ تبدیلی کے وقت کبھی دلکش تو کبھی مضحکہ خیز بن جاتے ہیں۔ ’آپ ناراض ہوئے ہوئے ہو‘‘، ’’وہ چلنے لگ پڑاہے‘‘،’’ میں نے نہیں تھا کیا‘‘، ’’پروانے کو کیا آگ لگی ہوئی ہے یا اُس کو کیا مار پڑی ہوئی ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ

بات یہ ہے کہ جب ہم اپنی مادری زبان میں بات کرتے ہیں تو ہم اپنی ثقافت کے ساتھ جُڑے ہوتے ہیں اور جب ہم اُردو میں بات کرتےہیں تو ہم اپنی تہذیب کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں۔ ہم جس قدر بھی لبرل ہو جائیں، بطور پاکستانی ہم اپنے آبائی پس منظر سے فرار حاصل نہیں کرسکتے، نہ ہی ہمارے لیے اپنے تہذیبی اثاثے کو نظرانداز کرنا ممکن ہے۔ ہماری زندگی جن جن چھوٹے چھوٹے اعمال کا مجموعہ ہے وہ اپنی ماہیت میں نہ ہندی ہیں نہ عربی اور نہ ہی فارسی۔ بلکہ اِن تینوں کے امتزاج کی بھی ایک ایسی صورت ہیں کہ گویا ہمیں بالکل ایک نئی قوم بنا دیتے ہیں۔

اس پر مستزاد تہذیب و ثقافت کے معنوی ابہام کا قضیہ بھی ہمیشہ موجود رہا ہے۔ اردو میں تہذیب و ثقافت کے الفاظ بعض لکھاریوں کے لیے مماثل، بعض کے لیے معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی چیز اور بعض کے لیے دو مختلف اصطلاحات ہیں۔ لیکن اس بات پر لگ بھگ سب متفق ہیں کہ ثقافت چھوٹا جبکہ تہذیب بڑا سماج ہے۔ یوں گویا ایک تہذیب میں کئی ثقافتیں سما سکتی ہیں۔ اسی طرح تمدّن بھی ایک اصطلاح ہے۔ لیکن تمدّن شہریت ہے۔ تمدّن میں بڑی بڑی عمارتیں تصور میں لائی جاسکتی ہیں لیکن تہذیب کے تصور میں کسی بڑے سماج کی مشترکہ عادات و اطوار اور رسم و رواج کو تو دخل ہے لیکن بڑی بڑی عمارتوں یا سڑکوں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ غرض جب یوں کہاجائےگا تو غلط نہ ہوگا کہ ہمارے عہد کا اُردو شاعر جب اپنی مادری زبان میں شعر کہنے لگتا ہے تو اس کی تمام ترجیحات اس کی ثقافت اور زبان کے اردگرد ہی موجود رہتی ہیں، لیکن جب وہ اردو میں شعر کہتاہے تو اپنے آباؤاجداد کی ثقافت و روایت سے ماورا ہوکر اپنے حقیقی داخلی تجربے کی ترجمانی کرتا اور خود کو ایک بڑے سماج کا حصہ محسوس کرنے لگتاہے۔ اُردو میں شعر کہنا ہمارے لیے ایک جداگانہ عمل ہے۔ اردو کا شاعر اردو میں شعر کہتاہے تو وہ ایک مقدس یا اہم کام کرتاہے۔ چنانچہ اُردو کا شاعر داخلی تجربے کے اعتبارسے ایک فنکار جبکہ خارجی تجربے کے اعتبار سے ایک سائنسدان جیسا ہے۔ ایک سائنسدان کی طرح اُس کی تخلیق، ثقافتی دباؤ سے ماورأ بایں ہمہ زبان کی مخصوص روایتوں سے آزاد ہے۔ یوں گویا ایک ہی شاعر اپنی مادری زبان میں شعر کہے تو طبعاً معروضی اور اُردو میں شعر کہے تو موضوعی ہوجاتاہے۔

اگر صورتحال یہی ہے تو پھر ایک نئی اور نہایت دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ عہدِ حاضرکا منطقی فہم ہر طرح کی داخلی واردات کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اگر آج کے شاعر کا مخاطب وہی منطقی فہم ہے تو آج کے شاعر کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بیان کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ شاعری کسی کےمنطقی فہم کی تسکین کے لیے تو وجود میں آتی ہی نہیں ہے بلکہ اُس کی تخلیق اپنی کُنہ میں آزادانہ بایں ہمہ محدود مقدمات کی ذمہ داری سے ماورا ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ نئی حقیقت جو قابلِ فہم ہونے کے ساتھ ساتھ بیک وقت دلچسپ اور دنیا بھر کی شاعری کے لیے ایک چیلنج بھی ہے، یہ ہے کہ مخاطبین کےخوگرِ پیکر محسوس ہو جانے کی وجہ سے فی المعنی دنیا بھر کی شاعری گونگی ہوچکی ہے۔ شاعری داخلی واردات ہے اور شاعری کے مخاطبین خارج میں معنی کی موجودگی کے طلبگار ہیں۔ اب اگر بغور دیکھاجائے تو دنیا بھر کی شاعری میں فقط اُردو شاعری اور پھر پاکستانی اُردو شاعری وہ واحد سلسلہ ٔ ادب ہے، جو فی زمانہ شاعری ہونے کا فریضہ انجام دے رہاہے۔ کیونکہ ہم اُوپر دیکھ آئے ہیں کہ اُردو کا شاعر نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی واردات کے وقت طبعاً موضوعی ہوجاتاہے۔ وہی شاعر اپنی مادری زبان میں شعر کہے تو کسی بھی انگریزی کے شاعر کی طرح کہےگا اور حتی المقدور طبعاً معروضیت پسندی کا مظاہرہ کرےگا لیکن اُردو شاعری کےوقت وہ ایسا نہیں کرسکتا۔

ہمارے عہد کا اُردو شاعر جب اپنی مادری زبان میں شعرکہنے لگتا ہے تو اس کی تمام ترجیحات اس کی ثقافت اور زبان کے اردگرد ہی موجود رہتی ہیں، لیکن جب وہ اردو میں شعر کہتاہے تو اپنے آباؤاجداد کی ثقافت و روایت سے ماورا ہوکر اپنے حقیقی داخلی تجربے کی ترجمانی کرتا اور خود کو ایک بڑے سماج کا حصہ محسوس کرنے لگتاہے۔

انوکھے لسانی تجربے ہوں یا معروضیت سے موضوعیت اور موضوعیت سے معروضیت کی نفسیاتی ادلہ بدلی۔ پاکستانی اُردو شعرأ نے گزشتہ پون صدی میں شعری محاورے اور روزمرّے کو بہت کچھ بدلا ہے۔ اردو بولنے والے پاکستانی اس تمام عرصہ میں اس قسم کی تبدیلیوں سے نالاں رہے لیکن تبدیلی کو کوئی روک نہ سکا۔ اور تو اور غزل جس کے مزاج میں شامل ہی نہیں کہ کسی اجنبی کے لیے کبھی اپنے دروازے کھولے، علاقائی زبانیں بولنے والے اردو شعرأ کے معاملے میں کسی حدتک بے پرواہ ہوگئی۔

مختصراً یہ کہ جس لحاظ سے بھی دیکھا جائے پاکستانی ادب میں اردو شعر نے دنیا بھرکے ادب سے یکسر مختلف ماحول میں پرورش پائی اور ابھی تک پروان چڑھ رہا ہے۔ میری رائے ہے کہ مختلف زبانیں بولنے والے اردو شعرأ کے درمیان موازنے پر مشتمل ایم فل سطح کے کچھ مقالے لکھے جائیں۔ فی الحقیقت یہ کوئی کھیل کود جیسی سرگرمی نہیں ہوگی بلکہ اس طرح ہم اردو کے مزاج سے سائنسی بنیادوں پر واقفیت حاصل کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ دنیا میں ہرطرح کا ارتقائے حیات ہمہ وقت خود بخود جاری رہتاہے اور قدرت خود نئے نئے تجربات کے سامان ہمیشہ فراہم کرتی رہتی ہے۔ اول تو اردو زبان کی اپنی حیثیت بحیثیتِ مجموعی کچھ ایسی ہی ہے اس پر مستزاد پاکستانی اردو کی پرورش کا ماحول فطرت کا ایک نہایت منفرد تجربہ ہے، جسے نظرانداز کرنا ناشکری اورنا انصافی کے مترادف ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: مثالی اردو نصاب کی بنیادیں —— نجیبہ عارف
(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: