جنازے، روح اور ماں —– اظہر عزمی

0

جنازے گیٹ سے نکلتے ہیں
لیکن روح تو گیٹ سے اندر نہیں آتی
مگر ایک ماں نہیں مانتی

(ایک اشتہاری کی باتیں)

یہ وقت بھی عجیب ہے۔ کہیں خوشیوں کے میلوں میں کھنکھناتی ہنسی ہوتی تو کہیں غموں کی صف ماتم میں نوحہ کناں چیخیں اور دل چیر دینے والی سسکیاں روح تک کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ وقت وہ کچھ کر گذرتا ہے کہ ہم سوچیں تو سانس رکی کی رکی رہ جائے مگر جب گذرتی ہے تو سانس چلتی رہتی ہے۔ یہی کارخانہ قدرت کی حکمت ہے۔

میری ایک عزیزہ ہیں۔ بیوہ ہیں۔ پہلے جوان بیٹا دو بیٹے چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سویا ہے اور دو تین سال میں باپ نے اسی قبرستان کی ایک قبر کو آباد کردیا۔

جب بیٹے کا انتقال ہوا تو ہماری یہ عزیزہ ہر جمعرات مغرب کے وقت گھر کے بڑے گیٹ کا چھوٹا پٹ ہلکا سا کھول کے بیٹھ جایا کرتی تھیں۔ ممکن ہے اب ابھی ایسا کرتی ہوں۔ ایک دن میں اسی وقت ان کے پاس بیٹھا تھا۔ میں نے بے پردگی کے خیال سے گیٹ کا پٹ بھیڑنا چاھا تو بولیں “نہ بیٹا یہ بند نہ کر وہ آتا ہوگا”۔

میں نے کہا “آئے گا تو دروازہ کھٹ کھٹا لے گا”۔

بہت اداس ہوگئیں اور ایک گہری سانس لے کر بولیں “اب دروازہ کہاں کھٹ کھٹاتا ہے”۔

میرا خیال تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کی بات کر رہی ہوں گی جس کے آفس سے آنے کا وقت ہو چلا تھا۔ چند لمحے خاموش رہ کر بولیں “آج جمعرات ہے۔ دیکھ میں نے بیڈ والا کمرہ بھی صاف ستھرا کردیا ہے”۔

میں نے کہا “کس کی بات کر رہی ہیں؟ چھوٹا بیٹا تو اوپر رہتا ہے”۔

چہرے پر ایک عجیب غمزدہ خوشی تھی جسے کم از کم مجھ جیسا لکھنے والا ضبط تحریر میں نہیں لا سکتا۔ بولیں “آج جمعرات ہے۔ اس (بڑے بیٹے) کی روح آئے گی۔ میں ہر جمعرات کو اسی طرح گیٹ کا پٹ کھلا رکھتی ہوں۔ دروازہ بند دیکھ کر کہیں چلی نہ جائے اور دیکھ اس کا بیڈ روم بھی صاف ستھرا کر کے رکھدیا ہے۔ آئے تو کچھ دیر آرام کر لے”۔

میں نے کہا “آپ اندر ہی بیٹھ جایا کریں”۔

بالکل بچوں کی سی معصومیت سے بولیں “نہیں میں چاھتی ہوں کہ جب وہ گیٹ سے اندر آئے تو سب سے پہلے مجھے دیکھے”۔ میں نے کہا کہ چلیں وہ دیکھ لیتا ہوگا مگر آپ کیسے دیکھتی ہوں گی؟

پہلی مرتبہ ایک مرحوم بیٹے کی ماں کے چہرے پر زندگی کے آثار ہویدا ہوئے۔ آواز بلند اور یقین سے پر تھی۔ بولیں “وہ جیسے ہی آتا ہے مجھے پتہ چل جاتا۔ ماں ہوں، خوشبو آجاتی ہے” لیکن اس کے بعد کے جو کہا اس سے پہلے آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ڈوپٹہ کے پلو سے آنسو پونچھتے ہوئے پھر ایک مرحوم بیٹے کی ماں گویا تھی۔ “چہرہ تو ہر وقت میری نگاہوں میں رہتا ہے۔ آخری بار وہ اسی گیٹ سے تو باہر گیا تھا۔‘‘

میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سوالیہ انداز میں کہنے لگیں “اب بتا میرے پاس نہیں آئے گا تو کہاں جائے گا”۔ میں نے سر کو ہلکے سے ہاں میں ہلا دیا۔

میں ان کو کیا بتاتا کہ جنازے گیٹ سے جایا کرتے ہیں۔ روح کو کسی گیٹ / دروازے کی کہاں ضرورت ہوتی ہے لیکن میں ایک ماں کی محبت کو گیٹ ہر روکنا نہیں چاھتا تھا۔ میرا صبر جواب دے رہا تھا۔ اس لئے خاموشی سے اٹھ کر آنے لگا۔

مجھے جاتا دیکھ کر کسی قدر ملتجیانہ انداز میں بولیں “ارے رک! کہاں جا رہا ہے۔ وہ آتا ہوگا۔ تجھے بھی دیکھے گا تو بہت خوش ہوگا۔ تیری تو بڑی دوستی تھی اس سے اور سن آتا جاتا رہا کر اس کی روح تجھے یہاں دیکھے گی تو بہت خوش ہوگی”۔

اب میں انہہں کیا بتاتا کہ یہاں آوں تو کمرے میں لگی اس کی تصویر مجھ سے باتیں کرنے لگتی ہے اور میرا دل بھر آتا ہے۔ انہوں نے اتنے پیار سے رکنے کا کہا کہ کچھ کہے بنا جانا بری بات تھی۔ میں نے بہانہ کیا کہ مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا۔ بولیں “دیکھ اب یہ جمعرات جائے گی تو اگلی جمعرات کی آس میں دن گنوں گی”۔

میں چاھتے ہوئے بھی نہ رک سکا اور نم آنکھوں کے ساتھ گلی میں آ کھڑا ہوا اور سوچنے لگا کہ جن کے بیٹے ان کی آنکھوں کے سامنے ابدی رخت سفر باندھ لیں وہ زندہ کیسے رہتی ہیں؟ سانس کیسے لیتی ہیں؟ جواب خود ہی آگیا ان کی یادوں کے سہارے جیتی اور سانس لیتی ہیں۔

کاش !
زندگی بھر پیٹے کے صدقے اتارنے والی ماں کو پیٹے کی میت کا صدقہ نہ دینا پڑے، کاش!
بیٹے کے سر پر سہرا سجانے والے باپ کو بیٹے کی قبر پر پھولوں کی چادر نہ چڑھانی پڑے۔

یہ ماں تو غم سے نڈھال ہے۔ وگرنہ بقول منور رانا:

خدا نے یہ صفت دنیا کی ہر عورت کو بخشی ہے
کہ وہ پاگل بھی ہو جائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں

مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: