گھی کی خوشبو —— زبیر عباسی

0

میرے اول پڑوس میں غیر منقسم کشمیر کے زمانے میں سردار لچھمن سنگھ اور سردار چندہ سنگھ کا خاندان رہتے تھے۔ وہ برہمن تھے اور ہم مسلمان لیکن پڑوس کا تعلق مثالی رہا۔ جب کبھی گڑ شکر یا “آگ” (دیا سلائی کی جگہ جلتے انگارے) ضرورت پڑتے تو بلا جھجک ایک دوسرے سے ادھار لے آتے۔ ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بلا تکلف تھا۔ ہم جانتے تھے کہ ان کے گھر جاتے سمے سیدھا ان کے ویڑے میں نہیں جانا بلکہ ذرا فاصلے سے انہیں مطلع کرنا ہے پھر جب وہ کچھ ضروری انتظام کر لیں اور اجازت دیں تو ہی اندر جانا ہے۔ اگر کوئی (مسلمان) بلا اجازت چلا جاتا تو وہ سمجھتے کہ گھر “پہٹا” (ناپاک) ہو گیا ہے۔ عجیب بات یہ تھی کہ ایسی صورت میں وہ گھر کے ویڑے میں جانوروں کے گوبر سے لیپ لگاتے اور گھر “پاک” کرتے جو ان کے بقول “مسلے” (مسلمان) کی بلا اجازت آمد سے ناپاک ہو گیا ہے۔ یہ ان کا اعتقاد تھا اس پر وہ سختی سے کاربند تھے اور ہمیں انکے اس عقیدے کا احترام تھا۔ اسی طرح وہ بھی ہمیں گائے کا گوشت بنانے سے منع نہیں کرتے تھے۔ 1947 سے قبل ہمارے ہاں گائے کا گوشت پکانا جرم تھا۔ ہمارے پڑوسی برہمن صاحب اقتدار تھے اور سردار گوپی چند کے قریبی عزیز تھے جو ہمارے گاوں چڑالہ کا ذمہ دار تھا۔ گائے گوشت کے معاملے پر ہمارے پڑوسی لچھو (لچھمن سنگھ) اور چندہ سنگھ کبھی گوپی چند یا اسکے بیٹوں برجو (برج لعل)، کرشن، مکھن، کانشی، وغیرہ سے اس کی شکایت کبھی نہیں کریں گے یہ طے تھا اور یہی ہمارے پڑوس کے بے لوث تعلق کی بنیاد تھا۔ ہمارا پڑوس پر امن بقائے باہمی کا بہترین نمونہ تھا۔ ہماری بھینسیں اگٹھے چرتیں اور ایک ہی “بن” (تالاب) سے پانی پیتیں۔ (یہ بن آج بھی موجود ہے)

آج میرے گھر کے بغل میں اس جگہ کھدائی ہو رہی تھی جہاں رائے بہادر سرداد لچھمن سنگھ کا گھر تھا۔ آجکل یہاں اقراء سائنس کالج ہے۔ اس جگہ سے ایک مٹی کے گھڑا برآمد ہوا جو دیسی گھی سے بھرا ہوا تھا اور ساتھ 4 عدد گھاس کاٹنے والی درانتیاں ملیں۔ قابل حیرت ہے کہ گھی بالکل صحیح سلامت ہے۔ لچھمن سنگھ جی اور اور انکا خاندان اگست 1947 میں یہاں سے باغ اور بعد ازاں پونچھ کی طرف نقل مکانی کر گئے تھے لیکن آج اگست 2019 کو ٹھیک 72 سال بعد بھی انکا بنا دیسی گھی سلامت ہے۔ گھی کے مٹکے کے قریب جاتے ہی خوشبو کے بھبھکے اٹھتے ہیں۔ دیسی گھی کی اس نایاب خوشبو کے احساس نے میری آنکھیں بند کر دیں۔ ۔ ۔ ۔ چشم تصور سے میں 72 سال پہلے کے حالات میں محو ہو گیا جو مجھ تک میرے دادا نے پہنچائے تھے۔ مجھے میرے پڑوسی بہت شدت سے یاد آئے جنہوں نے میرے لئے اپنے عقائد تک کو قربان کیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ میں چشم تصور سے ماضی کے کواڑ کھولتا چلا گیا۔ ۔ ۔ ۔ میں نے گوپی چند کے کمسن بیٹے کو پانی کے حوض میں ڈوب مرنے کے غم میں گاوں کے مسلمانوں کو بلک بلک کر روتے دیکھا۔ میں نے لچھو کی پتنی کو دیسی گھی مٹکے میں ڈالتے دیکھا۔ میں نے گوپی چند کے گھر میں رہتے سانولی رنگت کے موہن چند کو دیکھا جو ہو وقت مسکراتا رہتا تھا۔ میں نے بنسی لعل کو ریشمی رومال کے بنے بستے میں کتابیں ڈالے سکول جانے کے لئے اپنے پیارے دوست عباس خان کا انتظار کرتے اور سکول جاتے دیکھا۔ ۔ ۔ میں نے میرے (موجودہ) بازار کے نزدیک رہتے فقیر چند کو دیکھا جو صحیح معنوں میں ایک فقیر منش اور شرافت کا پیکر تھا۔ میں نے دیکھا کہ سرخ و سپید رنگت کے دو بچے محلے میں بہت شرارتی مشہور ہیں۔ ۔ ۔ کچے پھل پتھر مار کر گرا دیتے ہیں لوگوں کی ککڑیاں چھپاتے ہیں۔ ۔ ۔ بخاریاں اور آلے (مٹی کی الماریاں) خراب کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ محلے کی عورتیں ایک دوسرے کو آوازیں دیتے دیکھیں۔ ۔ ۔ خیال رکھنا۔ ۔ ۔ کھانا بچا رکھنا۔ ۔ ۔ برتن ڈھک کہ رکھنا۔ ۔ ۔ ۔ دیکھنا کہیں شام سنگھ اور گل حسین نہ آتے ہوں۔ ۔ جی ہاں محلے کے ان دو جگری دوستوں اور شرارتی بچوں کا نام شام سنگھ اور گل حسین تھا۔ میں نے دیکھا کہ گل اور شام کی طرح ہرنام سنگھ اور عباس خان ایک دوسرے پر جان چھوکتے ہیں اور ہر وقت ساتھ رہتے ہیں۔

میں چلتا گیا اور دیکھتا گیا۔ ۔ ۔ ایک جگہ چند بچے جمع تھے جو کبڈی کھیل رہے تھے مٹی اور گردے سے اٹے چہرے تھے معلوم نہیں پڑتا تھا کون بچہ کس کا ہے کون برہمن ہے کون سکھ ہے کون ہندو ہے اور کون مسلمان ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بچے بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہیں۔ ۔ ۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہ تو اپنے موہن چند، مکھن، عباس خان، ہرنام سنگھ، گل حسین اور شام سنگھ ہیں۔ ۔ ۔ کبڈی کبڈی کے شور میں مجھے چوکیدار لال چند کا شور سنائی دیا۔ ۔ ۔ ارے لوگو۔ ۔ ۔ میری بات غور سے سنو۔ ۔ ۔ ۔ کل شام حاکم آرہے ہیں سب لوگ چڑالہ باولی کے پاس گردتہ محل کے قریب جمع ہو جائیں حاکم کوئی خاص بات کریں گے۔ ۔ ۔ ۔ چوکیدار لال چند کا اعلان ختم ہوا۔ ۔ ۔ ۔ !!!

میں نے دیکھا کہ موہڑہ میں چند بچے سیمرو (لال چند چوکیدار کی ماں) کی دوکان کے پاس جا کر گالیاں دے رہے ہیں ان بچوں کو لیڈ کرنے والا قدرے بڑا بچہ سرور نام کا تھا۔ سرور نے دیگر بچوں کو بتایا کہ جب ہم سیمرو خالہ کے سامنے گالیاں دیں گے تو وہ ہمیں چپ کروانے کے لئے مٹھائی دیں گی۔ ۔ ۔ یہ کمال کا آئیڈیا تھا۔ ۔ ۔ سیمرو بچوں کے پاس آئیں پیار سے دلاسہ دیا اور بولیں۔ ۔ ۔ سرور میرے بیٹے۔ ۔ ۔ تم لوگ مٹھائی ایسے ہی لے جایا کرو۔ ۔ ۔ گالیاں کبھی نہ دینا۔ ۔ ۔ تم تو مسلمان ہو نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسلمان تو اس کے زیادہ خلاف ہیں۔ ۔ ۔ سرور میرے بچے۔ ۔ ۔ تم بڑے ہو نا۔ ۔ ۔ ان کو سمجھاو کہ گالیاں نہیں دیتے۔ ۔ ۔ !!! بچے ایک بڑے پتھر پر نیم برہنہ بیٹھے تھے اور سیمرو جھولی میں سے مٹھائی نکال کر دیتی گئی اور لائن میں بیٹھے آخری بچےایوب خان کو گال پر پیار دے کر نکل گئی کہ ایوب بہت خوبصورت اور سرخ و سپید تھا۔ ۔ ۔ ۔ !!!

لچھمن سنگھ جی کے گھر کے گھی کی خوشبو آج 72 سال گزرنے کے بعد بھی ویسی ہی ویسی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اس خوشبو نے مجھے میرے گاوں چڑالہ کی خوشبو اس کے پیارے لوگوں کی خوشبو سے روشناس کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ کاش وہ وقت لوٹ سکے۔ کاش یہ خونی لکیر “سیز فائر لائن” ختم ہو جائے۔ ۔ ۔ کاش شام سنگھ جان سکے کہ اسکا گل حسین جو اسکی آنکھ کا تارا تھا ہمیشہ کے لئے گل ہو گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کاش بنسی لعل جان سکے کہ عباس خان آج بھی 80 سال کی عمر میں زندگی کی جنگ جوانوں کی طرح لڑ رہا ہے۔ کاش سیمرو کے خاندان سے کوئی جان سکتا کہ نت نئی ترکیبوں سے مٹھائی بٹورنے والا نیم برہنہ بچہ سرور چند سال قبل راہ اجل کو ہو لیا ہے۔ اب کوئی ایسے مٹھائی دیتا ہے نہ کوئی خالہ بچی ہے جو گالیوں پر بھی مٹھائی دیتی ہو۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: