یادوں کی دستک ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0

اردو میں خواتین قلم کاروں نے بہت کم آپ بیتیاں لکھی ہیں۔ خواتین کی چند دلچسپ آپ بیتیوں میں قرۃ العین حیدر کی ’’کارِ جہاں دراز ہے ‘‘ نثار عزیز بٹ کی ’’گئے دنوں کا سراغ ‘‘ش فرخ کی ’’جینے کا جرم‘‘ عطیہ داؤد کی ’’آئینے کے سامنے‘‘ شاعرہ اور کالم نگار کشور ناہید کی ’’مٹھی بھر یادیں‘‘ سیاسی کارکن فرخندہ بخاری کی ’’یہ بازی عشق کی بازی ہے‘‘ مشہور شاعرہ ادا جعفری کی ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ صحافی شمیم اختر کی ’’دل میں چبھے کانٹے‘‘ سعیدہ بانو احمد کی ’’ڈگر سے ہٹ کر‘‘ مسز خلیق انجم کی ’’کہاں کہاں سے گزر گئے‘‘ بیگم اختر حسین رائے پوری کی ستر سال کی عمر میں لکھی ’’ہم سفر‘‘ بھو پال کی شہزادی عابدہ سلطان کی آپ بیتی ’’عابدہ سلطان‘‘ اور شوکت کیفی کی ’’یاد کی رہ گزر‘‘ شامل ہیں۔ ان میں صوفیہ انجم تاج کی ’’یادوں کی دستک‘‘ ایک اچھا اضافہ ہے۔

امریکا میں مقیم بھارتی افسانہ نگار اور شاعرہ صوفیہ انجم تاج کی خود نوشت ’یادوں کی دستک‘ فیصل آباد کے مثال پبلشر نے اپنے روایتی انداز اور آب و تاب سے شائع کی ہے۔ دو سو چھپن صفحات اور اٹھائیس صفحات پر رنگین اور بلیک اینڈ وائٹ تصاویر سے مزین کتاب کی قیمت پانچ سو روپے انتہائی مناسب ہے۔ بھارت کے مشہور ادیب و شاعر ڈاکٹر ستیہ پال آنند کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ

’’صوفیہ انجم تاج اس کتاب کو لکھتے ہوئے بیک وقت دو دنیاؤں میں سانس لیتی ہیں۔ کوئی کارِ دیگر ممکن ہی نہیں تھا۔ جب لاشعور کی برقی رو شعور پر اپنا دبیز پردہ ڈال کر اسے یوں ڈھک دیتی ہے کہ یہ تمیز کرنا مشکل ہو جا تا ہے کہ ماضی کیا ہے اور حال کیا ہے۔ دونوں میں کہاں تفاوت ہے اور کہاں مطابقت۔ ان کے اپنے الفاظ میں تخلیقی قوت کی کارکردگی میں یہ ایک عجیب کیفیت ہے۔ ‘‘

کلیم عاجز کا صوفیہ کے تحریروں کے بارے میں کہنا ہے کہ

’’گاؤں کی فضا پھولوں کی نکہت، رنگ، امنگ، آواز، موسیقی، تان کی پکار، ملہار سب چلے گئے۔ داغ اور میرکی غزلوں پر جھومنے والے اب کہاں۔ اب یہ جائیں تو کہاں جائیں۔ آؤ، بیچاری ایک دُکھیاری ہے اسی کے دل میں سما جاؤ۔ اس کے قلم کو حرکت دو اور اپنی تصویریں بنواؤ۔ اس کے لبوں کو جنبش دو اور اپنے نغمے گنگناؤ۔ صوفیہ انجم تاج کی کہانیوں، غزلوں اور نظموں میں یہی سرمایہ مختلف رنگ و آہنگ، بناؤ سنگھار اور سجاوٹ سے ملتا ہے۔ یہ ایسا سرمایہ ہے کہ جب تک یہ نیلا آسمان سر پر ہے اور دو دھیالی زمین قدموں کے نیچے ہے، یہ ہوائیں اور چاند تارے ہیں۔ یہ کہانیاں کبھی بھی نہ بھلائی جائیں گی۔‘‘

ہمارے کئی اہل قلم تلاشِ معاش میں یا کسی اور مجبوری کی بنا پر نسبتاً نو عمری کے زمانے میں اپنا ملک چھوڑ کر غیر ملکوں میں بس گئے ہیں۔ ایسے لکھنے والوں کے لیے چھوڑی ہوئی منزلوں کی یاد محبت اور رفاقت کے گلابی رنگوں کے پردوں کے پیچھے سے جھانکتی ہے اور انہیں گھر کی ہر وہ چیز جو گھر میں چھوٹ گئی رنگین اور بامعنی نظر آنے لگتی ہے۔ ایسے میں زمانی اور مکانی فاصلے کی بنا پر پیدا ہونے والی محبت یادوں کے حقائق پر حاوی ہو جاتی ہے۔

بھارت کے نامور ادیب و شاعر شمس الرحمٰن فاروقی نے صوفیہ انجم تاج کا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے۔

’’یادیں ہم سب کی شخصیت کا حصہ ہوتی ہیں لیکن یادوں کو الفاظ اور تصویر کی شکل دے دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے اور فرض کیجیے کہ انہیں الفاظ کی شکل دے بھی دی جائے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ الفاظ دوسروں کے لیے بھی دلچسپی یا گرمی کا حامل ہوں گے؟ یادیں اتنی شخصی اور ذاتی چیزیں ہیں کہ ایک تو ان کا فنی اظہار بہت مشکل ہے اور پھر یہ کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کی داخلی زندگی کسی ایسی گہرائی یا رنگا رنگی کی حامل نہیں ہوتی کہ ہمارے حافظے کے محفوظ نہاں خانوں میں سے باہر نکالی جائے تو بھی دلکش اور توجہ انگیز رہ سکے۔ یہ سب باتیں ایک طرف، لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر یادوں کو مرتب اور منظم طور پر پیش کیا جانا ہے تو پھر خود نوشت ہی کیوں نہ لکھ دی جائے؟ یادوں کو خود نوشت میں بدلنے سے محفوظ رکھنے کا کام آسان نہیں۔ یہ ایسا ہی مشکل کام ہے جیسا یادوں کو تخلیقی نثر یا نظم کا روپ دے کر اس طرح پیش کرنا کہ وہ دوسروں کے لیے بھی بامعنی ہو سکیں۔ گذشتہ چند برس میں ایک نئی صورت بھی سامنے آئی ہے۔ ہمارے کئی اہل قلم تلاشِ معاش میں یا کسی اور مجبوری کی بنا پر نسبتاً نو عمری کے زمانے میں اپنا ملک چھوڑ کر غیر ملکوں میں بس گئے ہیں۔ ایسے لکھنے والوں کے لیے چھوڑی ہوئی منزلوں کی یاد محبت اور رفاقت کے گلابی رنگوں کے پردوں کے پیچھے سے جھانکتی ہے اور انہیں گھر کی ہر وہ چیز جو گھر میں چھوٹ گئی رنگین اور بامعنی نظر آنے لگتی ہے۔ ایسے میں زمانی اور مکانی فاصلے کی بنا پر پیدا ہونے والی محبت یادوں کے حقائق پر حاوی ہو جاتی ہے۔ صوفیہ انجم تاج نے نو عمری میں اپنا وطن چھوڑا اور امریکا میں بس گئیں۔ جیسا کہ میں نے ابھی کہا، ایسا تو بہتوں کے ساتھ ہوا ہو گا، لیکن صوفیہ انجم تاج کی اس کتاب ’یادوں کی دستک‘ میں چھوڑی ہوئی منزلوں کے رنگ خود یاد نویس کی شخصیت کی خوشبو کا لباس پہن کر سامنے آئے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ ان کے وطن صوبہ بہار کے شمالی علاقے میں یوپی جانے والی زبان کا ترنم اور اس کا آہنگ، اس کی لطافت اور اس کی شیرینی، جگہ جگہ مکالموں میں اور خود بیانیہ میں چمک جاتی ہے۔ اس بیانیہ میں بعض شخصیتیں ایسی ہیں جن سے ہم واقف ہیں، یعنی وہ ملک کی سیاسی یا ادبی زندگی میں کسی مقام کی مالک ہیں لیکن زیادہ تر شخصیتیں ایسی ہیں جو بیانیہ نگار کے لیے تو اہم ہیں لیکن وہ بیانیہ نگارکی زندگی کی دھڑکن بن کر کتاب کے صفحے صفحے پر جلوہ نما ہیں۔ صوفیہ انجم تاج ہمارے شکریہ کی مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنی یادوں کے پردے میں ایک پوری زندگی اور ایک پوری تہذیب بیان کر دی ہے۔ ‘‘

راشد اشرف صاحب نے چند باتیں میں لکھا ہے کہ

’’اردو زبان میں خواتین کی خود نوشت آپ بیتیاں کم تعداد میں ہیں اور ان میں ایسی آپ بیتیاں تو خال خال ہی ہیں جو دلچسپ کہلانے کے قابل ہوں۔ زیر نظرخود نوشت زبان و بیان اور دلچسپی کے اعتبار سے بلاشبہ ایک اہم آپ بیتی ہے۔ صوفیہ صاحبہ ادیبہ ہونے کے ساتھ ایک اچھی شاعرہ بھی ہیں۔ ان کے انداز تحریر میں زبان کی چاشنی کا لطف بھی ملتا ہے اور شاعرہ ہونے کے سبب بات کہنے کا سلیقہ بھی۔ مجھے خوشی ہے کہ انجم صاحبہ کی یہ کتاب زندہ کتابیں کے تحت شائع ہو رہی ہے۔ آپ کو آپ بیتی کے اندازِ تحریر میں یاس کی ایک کیفیت ملے گی۔ تیزی سے امتدادِ زمانہ کی نذر ہوتا ہمارا معاشرہ، گزرے کل اور آج میں ایک لرزا دینے والا فرق، معاشرتی اقدار کی زوال پذیری۔ ان تمام کیفیات کا تقابلی جائزہ کس عمدگی سے انجم صاحبہ نے اس کتاب میں پیش کیا ہے۔ یقینا آپ بھی دورانِ مطالعہ اسی کیفیت سے دوچار ہوں گے‘‘۔ مقصد الہ آبادی نے ’انجم تاج اور ان کے فن ‘ کے بارے میں اظہارِ خیال کچھ یوں کیا ہے۔ ’’انجم تاج کو سب سے پہلے میں نے ایک شاعرہ کی حیثیت سے دیکھا، پھر ایک مصورہ کی حیثیت سے اور اب ایک مضمون نگار کی حیثیت سے دیکھ رہا ہوں گویا انہوں نے تین قسطوں میں اپنے آپ کو مجھ سے روشناس کرایا لیکن عجیب اتفاق ہے کہ تینوں حیثیتوں میں ان کی شخصیت میں کہیں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا۔ وہی نسوانی جذبات کی موثر ادائیگی، وہی اندازِ بیان کی شستگی و شائستگی، وہی پرانی قدروں کی پاسداری، ہر چیز، ہر تخلیق میں کار فرما نظر آئیگی۔ ان نگارشات سے کوئی شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ اپنے ماضی سے ایک لمحہ کے لیے بھی دور نہیں ہوتیں یا یوں کہیے کہ ہونا نہیں چاہتیں ان کی خوشی، ان کا اصل سرمایہ ہی ان کے ماضی کی خوش گوار یادیں ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی پینٹنگ جو میں نے دیکھیں، جو شعر میں نے سنے یا جو بھی مضمون میں نے پڑھا، سب میں ہندوستان کی کسی دور افتادہ گاؤں کی تازہ ہوا کے جھونکے محسوس ہوئے۔ مٹی کی سوندھی خوشبو آئی اور بے نام معصوم رشتوں کی پرخلوص اپنائیت اور یگانگت کی جھلک دکھلائی دی۔ ‘‘

سادہ اور پراثر اسلوب میں صوفیہ انجم تاج نے اپنی یادوں میں قارئین کو شریک کیا ہے۔ روزمرہ کے واقعات، خاندان، احباب، دوستوں اور زندگی میں ملنے جلنے والوں کو تذکرہ بھر پور محبت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جس میں کئی کردار ہمیں ارد گرد نظر آتے ہیں۔ ایک عام خاتون کی خود نوشت میں اپنی زندگی کی بھی جھلک نظر آتی ہے۔ خصوصاً دور جدید میں کئی ملکوں میں پھیلے ہوئے ایک ہی گھرانے کے افراد کا برسوں ایک دوسرے سے دور رہنا تو اب عام بات ہے۔

صوفیہ انجم تاج بہت اچھی شاعرہ اور ان کا اسلوب تحریر انتہائی سادہ اور پراثر ہے۔ وہ ایک عام سی بات اس طرح بیان کرتی ہیں کہ قاری کے دل میں اترجائے۔ وہ اپنے اور ارد گرد کے لوگوں کے بارے میں کس طرح سوچتی ہیں۔

’’ ہاں یہ میں ہی ہوں۔ میں ہی تو ہوں جو اپنے دل کی گہرائیوں سے چاہتی ہوں کہ میں ان حسین جگمگاتے ہوئے لمحوں کو قلم بندکروں، جن لمحموں نے مجھے ان ہستیوں سے ملنے کا شرف بخشا جو میرے شعور کی دنیا میں چاند تاروں سے کم نہیں ہیں۔ ان کی شفقت اور محبت کی مہکی مہکی، ٹھنڈی ٹھنڈی پھواروں سے میرا وجود ہمیشہ مہکا مہکا اور میری رُوح ہمیشہ ٹھنڈی رہتی ہے۔ ان ہستیوں کی باتوں کا دِلکش لہجہ اپنی پنکھڑی جیسی اُنگلیوں سے مجھے ہمیشہ چھوتا ہے اور میرے اندر ہزاروں ہزار کرنوں کو جنم دیتا ہے۔ کبھی تو مجھے یقین نہیں آتا کہ اس دولت سے میرا دامن کیسے بھر گیا، لیکن یہ سچ ہے کہ اس بے رنگ فضا میں دھنک کے ساتوں رنگوں کی بوچھار مجھ پر ہر پل ہوتی رہتی ہے۔ جس وقت بھی چاہتی ہوں ان رنگوں سے خود کو بھگو لیتی ہوں اور اس انمول دولت کو سینے سے لگا لیتی ہوں۔ پھر مجھے اُٹھنے بیٹھنے میں بھی لذت ملتی ہے، چلنے پھرنے میں بھی آرام ملتا ہے، سونے جاگنے میں بھی سکون ملتا ہے، لکھنے پڑھنے میں بھی قوت اور توانائی ملتی ہے۔ ‘‘

غالب شیریں لبوں سے گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوئے تھے۔ صوفیہ انجم کہتی ہیں کہ

’’ کسی کی ڈانٹ میں پیارکا پہلو تلاش کرنا اور یہ پہلو مل جائے تو ڈانٹ کی شیرینی کا مزا لے کر ڈانٹ پلانے والے کو میٹھی نگاہوں سے دیکھنا، کسی کی معصوم باتوں میں روحانی لطف حاصل کرنا، یہ شعور اب کہاں۔ اس شعور کی تعلیم مجھے بھی نہیں دی گئی۔ یہ شعور تو جیسے خود بہ خود چپکے چپکے میرے اندر آ گیا۔ میں کیا، میری ساری ہمجولیاں، محلے کی چھوٹی بڑی سہیلیاں، اسکول کی ہندو مسلمان سب لڑکیوں کی گھٹّی میں ہی یہ شعور پیوست تھا۔ کوٹ کوٹ کر یہ تعلیم دے دی گئی تھی۔ ایسی تعلیم جو فطرت، مزاج اور میلان کا جزو بن کر رہ گئی تھی۔ وہ تو دنیا ہی دوسری تھی۔ اُس دنیا کے لوگ ہی دوسرے تھے۔ اس کا رنگ، اس کی خوشبو ہی دوسری تھی۔ ہم سب ایک طرح سے سوچتے تھے، ہنستے تھے، روتے تھے، گاتے تھے۔ بے فکر رہ کر بھی دوسروں کی فکر کرتے تھے۔ ‘‘

کہتی ہیں۔

’’میں نے جو محسوس کیا، میں لوگوں میں جو خوبیاں دیکھی ہیں وہ میں بیان کرنے جا رہی ہوں۔ جن خوبیوں کو اور جس حُسن کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، وہ چاہے میرے اپنوں میں ہوں یا غیروں میں ہوں، ان کی خوبیوں کو اور ان کے حُسن کو بیان کرنے کی ایک معمولی سے کوشش کی ہے۔ ‘‘

صوفیہ انجم خود ہی اپنا شاہکار بن جاتی ہیں۔ خود ہی اپنی غزل بن جاتی ہیں اور خود ہی گنگنانے لگتی ہیں۔

خوں سے گُل کا سنگار کرتی ہوں
میں خزاں کو بہار کرتی ہوں
پیار کا ایک ذخیرہ ہے مرے پاس
میں یہی کاروبار کرتی ہوں

وہ کہتی ہیں۔ یہ ہے میری شاعری، میری نثر نگاری، میری مصوری کا خلاصہ اور اس کی روح! مجھے میرے پڑھنے والے اور کہیں تلاش نہ کریں، میں ان ہی سطروں میں ملوں گی۔ ان ہی سطروں کی بھٹی سے نکلی ہوئی غزلوں میں، نظموں میں، نثر پاروں میں ملوں گی۔ میری داخلی زندگی اور کچھ نہیں! میری خارجی زندگی میں امریکا ہے۔ امریکا کی سجی ہوئی زندگی ہے، گاڑیاں ہیں، مکان ہیں، لیکن باطن میں، اپنے خمیر میں، اپنی اساس میں مجھے پانا ہوا تو کوئی امریکا کی زندگی میں نہ پا سکے گا۔ میں اپنے ماضی کی خاک ہوں، اپنی ڈیوڑھی کی دھول ہوں۔ اپنے ماضی کے گزرے لوگوں کی یادگار ہوں۔ اس نئے عہد کے لوگ، نئے دور کی آنکھوں سے، نئے زمانے کی عینک لگا کر مجھے ڈھونڈنا چاہیں گے تو۔

’’ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں، نایاب ہیں ہم‘‘

اس سے بہتر اور پر اثر تعارف کوئی مصنف اپنا کیا کرا سکتا ہے۔ امریکا میں مقیم صوفیہ انجم تاج اپنے ننھالی گاؤں شخپورہ کی مسافت کا ذکر جس دل نشین انداز میں کراتی ہیں۔ وہ راستے اور وہ سفر قاری ان کے ساتھ ساتھ کرتا ہے۔

’’وہاں جانے کے لیے کوئی ٹرین تھی نہ بس اور نہ رکشا۔ سوائے ٹم ٹم یابیل گاڑی کے کئی اور سواری جاہی نہیں سکتی تھی۔ اس ٹم ٹم کی ہوش ہاش اور بیل گاڑی کی چوں چاں کے نغمے فضا میں کچھ اس طرح لہراتے کہ اسی دھن پر ہم لوگ بیل گاڑی میں بیٹھے ہی بیٹھے جھومتے رہتے اور آنے والی منزل کی خوشیوں سے سرشار ہو جاتے۔ شیخپورہ جانے کا موقع صرف گرمیوں کی چھٹیوں میں ملتا تھا۔ ایسی شدید گرمی کہ خدا کی پناہ لیکن جہان آباد اسٹیشن سے ایک بار ہم لوگ جب بیل گاڑی پر سوار ہو جاتے اور کچی سڑک پر اُتر جاتے تو بس ایک دوسری ہی دنیا دیکھنے کو ملتی تھی۔ کبھی کوئل کی کوکو، چڑیوں کی چہچہاہٹ، کبوتروں کی غٹرغوں میں پوی فضا کچھ اس طرح تحلیل ہو کر دل و دماغ کو سکون بخشتی کہ شہرکی گہما گہمی، بھاگ دوڑ اور گندگی کا جو دماغ پر اثر ہوتا وہ فوراً زائل ہو جاتا اور سکون کا ایک جادو بھرا نغمہ آبشار کی طرح بہہ کر دل و دماغ کو تر و تازہ کر دیتا۔ ‘‘

اس دور کی زندگی آج بظاہر بہت دشوار نظر آتی ہے۔ لیکن وہ لوگ کتنے مطمئن اور پرسکون تھے۔ آج کے دور میں وہ سکون کسی کو میسر نہیں۔

’’ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے کی جدید سہولیات کہاں میسر تھیں اُن دنوں؟ کوئی لاری، کوئی بس، کوئی کار، کوئی موٹرسائیکل تک نہیں تھی۔ گاؤں کے لوگوں نے تو صرف ان چیزوں کے نام ہی سنے تھے، انہیں دیکھا نہیں تھا۔ اب سوچتی ہوں کہ یہ سب سہولیات کس کے لیے ہیں؟ وقت کی بچت کے لیے؟ وقت کی بچت کس کے لیے ہے؟ اور پیسہ کمانے کے لیے؟اور پیسہ کس لیے کمایا جاتا ہے؟ زیادہ عیش و عشرت کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے؟ وقت، وقت، وقت ؟آخر اس کا مصرف کیا ہے؟ ابا اور بھائیوں کا کچی سڑک پر بیل گاڑی کے ساتھ ساتھ چلنا، باتیں کرنا، موسم کی، فصل کی، قبیل داری کی۔ ۔ کیا یہ وقت گزارنے کا طریقہ نہیں تھا؟ یقیناً تھا اور ایک اچھا طریقہ تھا۔ ‘‘

ماضی کی ایسی یاد آوری اور منظر کشی ہر چیز آنکھوں میں تصویر ہو جاتی ہے۔ پھولوں میں اب بھی خوشبو ہے لیکن اس سے وہ زمین وابستہ نہیں۔ اب سو میل کی رفتار سے موٹروں میں ہم سفر کرتے ہیں، ہزار کلو میٹر کی رفتار سے ہوائی جہاز پر تیزی سے گزر جاتے ہیں۔ لیکن بیل گاڑی کی تین میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین پرکھسکتی رہتی۔ زمین کی خاک دھول جس سے ہمارا وجود تیار ہوا تھا، وہ بھی ہمارے ساتھ ساتھ چلتی تھی۔ وہ رشتہ اب نہ رہا۔ اس رشتہ کی پیاس اُ س لذت کی طرف صوفیہ انجم اب بھی دوڑنا چاہتی ہیں۔ لیکن وہ تو بہت دور چلی گئی ہیں۔

سفید ساری میں لپٹا ہوا نامی اماں کا سراپا، ان کی مسکراہٹ، ان کی چیخ و پکار، ڈانٹ ڈپٹ، سب یکے بعد دیگرے جیسے ان کی نظروں کے سامنے پردے پر آتے رہتے ہیں۔ گاؤں کا ایک ایک فرچ، جو کہ سگے سمبندھیوں سے بھی بڑھ کر ہوتا تھا، رشتوں اور تعلق کا وہ احترام اب کہاں ہے، وہ سب نہ جانے اس بھری دنیا میں کہاں کہاں ہوں گے، سب یاد آنے لگتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو تو جیسے اپنے قابو ہی میں نہیں رہتے۔ بہتے ہی جاتے ہیں۔

ان ہی یادوں پر ان کی شاعری کا انحصار ہے۔ ان ہی دھاگوں کو پرو کر تو وہ اپنے ماضی کی چادر ایسے ہی بُنتی ہیں، جیسے ایک ماہر جولاہا کھڈی پر کپڑا بُنتا ہے۔ ان کے اشعار میں بھی ان ہی مناظر کا خون دوڑتا ہے۔

وہ گھر کے لوگ، وہ معصوم سیدھے سادھے لوگ
وہ ہنستے کھیلتے، شرماتے، مسکراتے لوگ
وہ صاف لوگ، وہ بے لوث لوگ، سچے لوگ
کہاں گئے وہ چمن کے بہار والے لوگ
نہ جانے کب ملیں، کس گھر میں کس بچھونے میں
نگاہیں ڈھونڈتی پھرتی ہیں کونے کونے میں

ایسے ہی سادہ و پرکار اسلوب میں ماضی کی یادوں کو دہراتی صوفیہ انجم تاج کی آپ بیتی’’یادوں کی دستک‘‘ پڑھنے والوں کو بھی اپنا ماضی یاد دلاتی ہے۔ بھارت، پاکستان اور امریکا میں بٹی ہوئی نسل کہا ں کہاں اپنے پیاروں کی تلاش میں پھرتی اور انہیں یاد کرتی ہے۔ اپنوں سے دوری کا کرب آج کے انسان کا المیہ ہے۔ اس آپ بیتی میں تین ممالک کی تہذیب و ثقافت بھی نظر آتی ہے۔ سفرنامہ کا رنگ بھی اس میں موجود ہے۔ خاکہ نگاری کا انداز بھی کہیں کہیں جھلکتا ہے۔ ایک خاتون کی نظر سے اس تمام دور، افراد اور علاقوں کو دیکھنا قاری کے لیے ایک اچھا تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ راشد اشرف زندہ کتابیں کے تحت ایک اور اچھی آپ بیتی شائع کرنے پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ خاص طور پر اس لیے کہ صوفیہ انجم تاج کا تعلق بھارت سے ہے۔ پاکستان کے قارئین ان سے کچھ زیادہ آشنا نہیں ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: