یوسفی کی ’آب گم‘ کا بشارت:مسرت علی صدیقی سُرور

0

آبِ گم کے مرکزی کردار بشارت: مسرت علی سرورؔ

مشتاق احمد یوسفی کی شہرہ آفاق کتاب “آبِ گم” کے مرکزی کردار بشارت تھے۔ کتاب کے پانچ مضامین میں پہلے مضمون میں بشارت کے خسر بزرگوار کا ذکر ہے، دوسرے میں بشارت صاحب کے سواری یعنی ایک عدد گھوڑا خریدنے کا بیان ہے، تیسرے میں موٹر کار اور پشاور کے خان صاحب، چوتھے میں ان کے آبائی شہر کان پور کی یاترا اور ایک ہم جماعت کا احوال اور آخری مضمون میں ان کی ملازمت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ یہ کردار، بشارت صاحب دراصل یوسفی صاحب کے عزیز دوست مسرت علی صدیقی تھے جو سرورؔ تخلص رکھتے تھے۔
مسرت علی سرورؔ 1917 میں قصبہ سمبھل ضلع مراد آباد میں پیدا ہوئے مگر 1930 سے ان کا مستقل قیام کان پور میں رہا۔ تعلیمی قابلیت ایم اے اردو تھی۔ ابتداََ تدریس کا شعبہ اپنایا مگر بعد ازاں اپنا آبائی کام یعنی لکڑی کی تجارت شروع کی اورپاکستان آنے کے بعد “ایجوکیشن ٹمبر ورکس” کے نام سے لی مارکیٹ میں کاروبارشروع کیا۔ ان کا تخلص “سرورؔ” ان کے استادِ گرامی معروف شاعر نشور واحدی کا عطا کردہ تھا۔ ان کے دو شعری مجموعے “نوائے بے نوا” اور “نقشِ سرورؔ” کے نام سے شائع ہوئے۔ پہلا مجموعہ 1983 میں شائع ہوا اور اس مجموعے میں ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، پروفیسر مجتبیٰ حسین کے مضامین اور مجنوں گورکھ پوری اور رئیس امروہوی کے فلیپ اور پسِ ورق پر کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ کی رائے شامل ہے۔
“دانش” کے قاریئن کے لیے اس کتاب میں شامل مسرت علی سرورؔ کا تحریر کردہ پیش لفظ پیش خدمت ہے۔

 


’’بیاں اپنا‘‘

نام: مسرت علی صدیقی
تخلص: سُرور (عطا کردہ مُحبِ گرامی نشور واحدی)
جائے پیدائش: قصبہ سمبھل، ضلع مراد آباد۔
سنہ ولادت: جون 1917
تعلیم: منشی کامل (فارسی) اردو اعلیٰ قابلیت ایم اے اردو۔

1930ء سے مستقل قیام کانپور میں رہا۔ خاندانی بزرگوں میں عندلیب شادانی ایک مقتدر ادبی شخصیت تھے جن کے خرمِ علم و ادب کا خوشہ چین رہا ہوں۔
نویں جماعت سے شعر گوئی کا چسکا منہ کو لگ گیا تھا جو باوجود مکروہاتِ زمانہ جھپٹ نہ سکا اور تادمِ تحریر جاری و ساری ہے۔ ہر چند کہ دورِ حیات میں ’’دو چار بہت سخت مقام‘‘ بھی آئے۔ مگر بحمد اللہ یہی ذوقِ جگر کاوی ’’طبیتِ جملہ عِلّت ہائے ما‘‘ ثابت ہوا۔

1938ء میں سلسلۂ تعلیم ختم ہوا تو پیشۂ تدریس اختیار کیا جو اگست 1943ء تک جاری رہا۔ اس دوران میں دو سال سندیلہ سکول میں گزرے جہاں کی تین چیزیں قابلِ تذکرہ ہیں۔ تعلقہ داران، لڈّو اور طوائفیں۔

میری پسندیدہ اشیاء میں چار چیزیں قابل ذکر ہیں۔ عطر، سفید پوشی، شاعری اور موسیقی، اس میں ذرہ برابر مبالغہ نہیں کہ یہ میرا جدّی ورثہ ہیں۔ اپنے حالاتِ زندگی کے متعلق صرف دو واقعات کی طرف اشارہ کروں گا کیونکہ ان کا تعلق میری شخصیت اور شاعری سے ہے۔ اول یہ کہ

راہ مجنونی و فرہاد دیم آمد درپیش
رفتم ایں راہ ولیکن نہ چوایشاں رفتم

غمِ دوراں اور غمِ جاناں دونوں سے مجھے شاعری اور موسیقی ہی میں پناہ ملی ہے۔ دوم یہ کہ شغل تدریس ترک کر کے پیشہ ٔتجارت اپنانے میں کیا عوامل کار فرما تھے تو اس ضمن میں صرف اس شعر پر اکتفا کروں گا کہ

من از بیگا نگاں ہرگز نہ نالم
کہ بامن اُنچہ کرد آں آشنا کرد

یہ آشنا وہی ہیں یعنی جناب فضل حسن کہ جن کے نام کے ساتھ اس احقر کا نام بھی جناب مشتاق احمد یوسفی کی ’’زرگزشت‘‘ کے انتساب میں شامل ہے۔

فضل صاحب چونکہ خود ایک بلند پایہ تاجر گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے مجھے بھی اسی رنگ میں رنگ دیا۔ چنانچہ اس طرح ان کا ’’قتیل شیوۂ تاجری‘‘ ہوا اور ملازمت ترک کر کے پیشۂ تجارت سے منسلک ہو گیا۔

آخر میں اپنی روپوشی کی وجہ بھی عرض کر دوں۔ وہ یہ کہ چونکہ میں نے شاعری کو ہمیشہ ایک ذاتی، نجی، غم آمیز و غم انگیز مشغلہ سمجھا اور اسی لیے اس سے بلا شرکتِ غیرے لطف اندوز ہونا پسند کیا۔ اسی باعث اپنے اشعار کی اشاعت کو درخور اعتنا نہیں سمجھا، لیکن انجام کار اپنے حبیب لبیب مشتاق احمد یوسفی کے اصرار پیہم کے سامنے میری ایک نہ چلی اور سپر انداختہ ہونا پڑا اور یوں میری یہ حقیر سی شعری کاوش آپ کے لیے باعثِ زحمت ملا حظہ ہوئی۔

حدیثِ حُسن و مشتاقی دورانِ پردہ پنہاں بُود
برآمد شوق از خلوت نہاد ایں راز بر صحرا

اس مجموعہ غزلیات کی کتابت، طباعت اور اشاعت کے مراحل سے عہدہ برآ ہونا تنہا میرے بس کا روگ نہ تھا لہٰذا یہاں بھی دوستوں کی دوستی، رہنمائی اور شوق میرے لیے مشعل راہ ثابت ہوا۔ چنانچہ
مردے از پردہ بروں آید و کارے بکند
کے مصداق جناب فضل حسن کے برادر نسبتی اور میرے عزیز دوست میاں شفیق سلّمہ، نے اس کام میں اتنے شوق و انہماک کا ثبوت دیا اور سخنے قدمے ہر مرحلے پر اس کام کی تکمیل میں میرا ہاتھ بٹایا کہ میری یہ مشکل آسان ہو گئی۔ اس ضمن میں میرے ایک دیرینہ دوست اور ہمدم و دم ساز جناب منصور احمد خان ایڈووکیٹ بھی میرے دلی شکریے کے مستحق ہیں۔ علاوہ از ایں جناب راغب مراد آبادی، جناب صہبا لکھنوی اور جناب ادیب سہیل کا بھی بے حد ممنون ہوں کہ جنہوں نے بمجرّد استدعا وقتاً فوقتاً اپنے مفید مشوروں سے نوازا اور اس مجموعے کی نوک پلک کی دُرستی میں میری رہنمائی فرمائی۔ میں جناب ملک نورانی صاحب کا بھی احسان مند ہوں کہ جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت کی ذمہ داری سنبھال کر مجھے سبک دوش فرمایا۔

آخر میں اپنے ملک کی اُن پلند پایا اور مقتدر ہستیوں کا سپاس گزار ہوں جنہوں نے اپنی گراں قدر آراء کا اظہار فرما کر نہ صرف مجھ جیسے گم نام شخص کا ادبی دنیا سے تعارف کرایا بلکہ میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ لہٰذا میں جناب محترم مجنوں گورکھپوری، جناب ڈاکٹر فرمان فتحپوری، جناب ڈاکٹر جمیل جالبی، جناب پروفیسر مجتبیٰ حسین اور جناب رئیس امروہی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

گر قبول افتد زہے عزّ و شرف
سراپا نیاز
مسرت علی صدیقی سُرور

اس مضمون کی دستیابی اور انتخاب کے لیے ادارہ محمد فیصل کا شکر گزار ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کریں:  اضداد کی ہم آغوشی: جوش ملیح آبادی
(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: