’’وقت‘‘ Time پر تیرہ اہم کتب ——- اعجاز الحق اعجاز

0

وقت یا زماں کیا ہے؟ ہمیشہ ہی سے یہ ایک اہم اور پراسراریت سے لبریز مسئلہ رہا ہے۔ یونانی ہوں یا مسلم یا مغربی فلاسفہ اور سائنس دان بیشتر نے اس مسئلے کی عقدہ کشائی کی کوشش کی ہے۔ کسی نے کہا وقت حقیقی ہے، کسی اور نے کہا غیر حقیقی ہے، کسی نے کہا مطلق ہے، کسی اور نے کہا اضافی ہے، کسی نے کہا سیدھی لکیر ہے، کسی اور نے کہا دائرہ ہے۔ کسی نے کہا تکرار ابدی ہے، کسی اور نے کہا دوران ِ محض ہے۔ کسی نے کہا شمشیر ہے کسی اور نے کہا شعور ہے۔غرض اس کی متعدد تعبیرات ہیں۔ ابھی تک دانشور اس کی گرہ کشائی میں لگے ہوئے ہیں مگر کوئی بھی ابھی پوری طرح جان نہیں سکا کہ وقت کی اصل ماہیت ہے کیا؟ آئیے دیکھتے ہیں اس موضوع پر اب تک کون کون سی اچھی کتابیں منظرعام پہ آچکی ہیں۔ یہاں ان کتب کا مختصر احوال پیش کیا جا رہا ہے۔ زماں پہ صرف یہی کتب اہم نہیں بلکہ اور بھی بہت سی کتب ہیں جن کا ذکر پھر کبھی کیا جائے گا۔

طیمئیس (Timaeus)

یہ کتاب افلاطون کا مکالمہ ہے جس میں اس نے تصور کائنات کے ساتھ ساتھ وقت کے موضوع پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ افلاطون کے مطابق وقت غیر متحرک ابدیت (Eternity) کی ایک متحرک پر چھائی ہے۔ اس سے وہ وقت جس میں ہم زندگی گزارتے ہیں غیر حقیقی سا ہو کر رہ جاتا ہے۔ افلاطون کے مطابق کائنات اور وقت ایک ساتھ تخلیق کیے گئے۔ ماضی، حال اور مستقبل وقت کی اقسام ہیں جو دائمیت کی نقل کرتی ہیں اور یہ کہ کائنات جب ختم ہو گی تو وقت بھی اس کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا۔

2۔ المباحث المشرقیہ

نامور مسلمان فلسفی فخر الدین رازی کی اس کتاب میں وقت پر بھی بہت عمدگی سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب مسلمانوں کا قابل فخر علمی سرمایہ ہے۔ رازی کے نزدیک آن سیال ہی زمان ہے۔ آن بھی وجود ِ حقیقی ہے اور اس کی سیالیت بھی وجود حقیقی۔ زمان حادث تمام کا تمام آن سیال کی حرکیت ہے۔ آن سیال کے استمرار میں زمان گزران کے تمام آنات فرداً فرداً آن حاضر  بنتے ہیں اور پھر فنا ہو جاتے ہیں مگر اس سے یہ تصور نہیں ابھرتا کہ آن سیال جوہر اور آن گزران اس کے اعراض ہیں۔ آن سیال آگے کی طرف متحرک ہے اور اسی سے مستقبل کے لمحات ظاہر ہوتے ہیں۔

3۔ غایۃ الامکان فی درایۃ المکان

یہ عین القضاۃ ہمدانی کا رسالہ ہے جس میں اس نے زمان و مکاں کے مسئلے پر بحث کی ہے۔ اس میں زمان و مکاں کی زیادہ تر وحدت الوجودی تعبیرات کی گئی ہیں اور وقت کو فلسفیانہ سے زیادہ ایک صوفی کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔

4۔ غایۃ الامکان فی معرفۃ الزمان والمکان

یہ محمود اشنوی کا رسالہ ہے جس میں اس نے زمان و مکاں کی اضافیت کا تصور پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق زمان و مکاں کے مختلف مراتب ہیں۔ روحانی دنیا کے زمان و مکاں مادی دنیا کے زمان و مکاں سے مختلف ہوتے ہیں اور خدا کا مرتبہ زمان و مکاں انسانی مرتبہ زمان و مکاں سے مختلف ہے۔ خدا کا وقت گزرنے یا بہائو کی خاصیت سے مبرا ہے اس لیے جس زمان و مکاں میں ہم رہتے ہیں اس کا اطلاق خدا پر نہیں ہو سکتا۔

5۔ نظریہ اضافیت عمومی و خصوصی

آئن سٹائن نے اس کتاب میں نیوٹن کے مطلق تصور وقت کو رد کرتے ہوئے زمان و مکاں کی اضافیت کا تصو ر پیش کیا ہے۔ یہ کتاب 1916 میں شائع ہوئی اور اس میں آئن سٹائن نے اپنے پیش کردہ خصوصی و عمومی نظریہ اضافیت کو ذرا صراحت سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ ثابت کیا کہ زمان و مکاں دونوں مشاہدہ کرنے والے کی رفتار کے مرہون منت ہیں۔ اگر مشاہدہ کرنے والا روشنی کی رفتار سے سفر کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اسے وقت تھما ہوا محسوس ہو گا۔

6۔ وقت اور آزاد ارادہ (Time and Free Will)

برگساں نے اپنی اس کتاب میں دوران خالص کا تصور پیش کیا ہے۔ برگساں وقت کو انسان کے وجدان، اس کے شعور اور اس کی باطنی زندگی سے منسلک کرتا ہے۔ وہ وقت کو ایک خط مستقیم نہیں سمجھتا اور اس کی تقسیم کے خلاف ہے۔ اس نے وقت کے مقداری کثرتیت کے نظریے کی نفی کی ہے۔ وہ آنات کو شعور کی مختلف کیفیت سے منسلک کرتا ہے یعنی ہر آن شعور کی ایک الگ کیفیت سے جڑی ہوئی ہے لہذا ہر لمحہ دوسرے سے مختلف ہے اور اس کا تجربہ مختلف ہے۔

7۔ وقت کی مختصر تاریخ (A Brief History of Time)
سٹیفن ہاکنگ نے اپنی اس کتاب میں بگ بینگ، بلیک ہولز اور زمان و مکاں کے بارے میں اہم نظریات عام فہم انداز میں پیش کیے ہیں۔ وقت کے بارے میں نظریہ اضافیت کی وضاحت بہت موثر انداز سے کی گئی ہے۔ یہ کتاب جو پہلی دفعہ 1988 میں شائع ہوئی تھی سائنس کے عام قارئین میں بہت مقبول ہے کیوں کہ اس میں ہاکنگ نے عام سطح پہ آ کر سادہ مگر دلنشیں انداز میں دقیق سائنسی تصورات کی وضاحت کی ہے۔

8۔ ابن عربی کا تصور ِ زماں اور کونیات (Ibn Arabi- Time and Cosmology)

یہ محمد یوسف حاج کا ابن عربی کے تصور ِ زماں پہ ایک بہت گراں قدر کام ہے جس میں پہلی دفعہ ابن عربی کے تصورِ زماں پہ سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور ان کے اس تصور کا تقابل زماں کے جدید نظریات سے کیا گیا ہے۔

9۔ اقبال کا تصور ِ زمان و مکاں
یہ کتاب اقبال کے تصور زمان و مکاں کو سمجھنے کے لیے بہت اچھی کتاب ہے۔ یہ مجلس ترقی ادب سے شائع ہوئی تھی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ زمان کا مسئلہ اقبال کے نزدیک کس قدر اہمیت کا حامل ہے اور یہ کہ اقبال وقت کے وجدانی تجربے کو اہمیت دیتے ہیں۔ اقبال کا تصور ِ زمان برگساں کے تصورِ زماں سے کافی مماثلت رکھتا ہے مگر اقبال نے کئی مقامات پہ برگساں سے اختلاف بھی کیا ہے۔ وہ زمان کو خودی سے منسلک کرتے ہیں اور اسے غیر حقیقی نہیں سمجھتے۔ وہ نیوٹن کے مطلق تصور کی نفی کرتے ہیں اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی تائید۔

10۔ ابدیت سے لمحہ موجود تک (From Eternity to Here)
سین کیرل کی اس کتاب میں وقت کے بارے میں چند معروف سائنسی و فلسفیانہ نظریات کا جائزہ بہت دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہاں سائنس اور فلسفہ یکجا نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ حرکیات (Thermodynamics)، انٹروپی، بگ بینگ اور دیگر کائناتی تصورات کا بھی جامع احوال اس کتاب میں ملتا ہے۔

11۔ وقت کا تضاد (The Paradox of Time)
فلپ زمبارڈو نے اس کتاب میں وقت کے نفسیاتی مضمرات کو بہت عمدگی سے پیش کیا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ وقت کا درست ادراک کر کے ہم کس طرح اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔اس کے بقول ہماری خوشگوار زندگی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ ہم کس طرح اپنے ماضی کی تشکیل نو کر سکتے ہیں، موجودہ وقت کو کس طرح ترتیب دے سکتے ہیں اور مستقبل کی کس طرح پیش بندی کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم وقت کے تضادات کو اچھی طرح سمجھیں اور اس کے مطابق منصوبہ بندی کریں۔

12۔ وقت کی سمت (The Direction of Time)
اس کتاب میں ہینس رئیخنباخ نے وقت کے ما بعد الطبیعیاتی، سائنسی اور نفسیاتی پہلووں پہ روشنی ڈالی ہے۔ یہ وقت پہ ایک کم معروف مگر بہت مفید کتاب ہے۔

13۔ وقت کا تیر (Time’s Arrow)

ہیوپرائس کی اس کتاب میں اس بات پہ روشنی ڈالی گئی ہے کہ وقت کیوں بدل جاتا ہے اور مستقبل ماضی سے اتنا مختلف کیوں ہو تا ہے۔ ماضی ہی کیوں مستقبل کو بدلتا ہے اور اس کے برعکس کیوں نہیں ہوتا۔ کائنات کا آغاز تو بگ بینگ سے ہوا اس کا اختتام کیا بگ کرنچ پہ ہو گا ؟ اس کتاب میں طبیعیات کو ایک انوکھے اور منفرد زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: