یوٹیوب پر مولانا آزاد سے منسوب انٹرویو کی حقیقت —– محمد عبدہ

0

اس مضمون کے تین حصے ہیں، پہلے حصہ میں مولانا آزاد سے منسوب اس انٹرویو میں بیان کی گئی باتوں پر کچھ حقائق پیش کئیے گئے ہیں دوسرے حصے میں انٹرویو کی اصلیت کہ انٹرویو میں بیان ہوئی باتیں کہاں سے اکھٹی کی گئی ہیں اور پھر آخری حصہ میں انٹرویو کی آڈیو ریکارڈنگ کی تیاری اور آواز کی اصل حقیقت کہ یہ انٹرویو کس طرح وجود میں آیا ہے۔

کچھ لوگ اس بات پر سچے دل سے کاربند ہوتے ہیں کہ جھوٹ کو اتنی بار دہراؤ کہ وہ سچ لگنے لگے، انٹرنیٹ پر مولانا آزاد کا ایک مبینہ انٹرویو موجود ہے جو پہلی بار 1988 میں پتہ چلتا ہے کہ مجلس احرار اسلام کے آغا شورش کاشمیری کو اپریل 1946 میں دیا گیا تھا۔

اس انٹرویو کے بھی کچھ جملے متوقع طور پر مولانا آزاد کی کتاب “انڈیا ونز فریڈم” اور آزاد کے ایک مشہور جلسے سے منتخب شدہ تحریریں جوڑی گئی ہیں جو انڈیا میں رہ جانے والے مسلمانوں سے کیا گیا تھا۔ آزاد کی یہ تحریریں باآسانی دستیاب ہیں۔

مزے کی بات ہے شورش کی کتاب میں پایا جانے والا انٹرویو کافی لمبا ہے لیکن یو ٹیوب پر آڈیو ٹیپ جو مبینہ طور پر جامع مسجد کی تقریر کہی جاتی ہے اس میں آزاد کی پاکستان بارے پیش گوئیوں والی ایسی کوئی بات شامل نہیں ہے جو جامع مسجد دہلی والی تقریر میں موجود ہو (آزاد کی یہ تقریر ان کے کتابوں میں موجود ہے)، گویا یوٹیوب ریکارڈنگ کا متن اور پیش گوئیاں دو علیحدہ کہانیاں ہیں۔

اس سے پہلے کہ میں اس جھوٹ کا بھانڈا پھوڑوں، آئیے ایک مختصر جائزے میں یہ بات جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ مجلس احرار کیا شے تھی اور قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت اور پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں یہ کس قدر مستعد تھی کیونکہ ان کے نزدیک جناح ایک صریح کافر تھے۔

مجلس احرار اسلام، مذہبی انتہا پسندوں کا ایک ایسا گروہ تھا جو کانگریس کے گہرے اتحادی تھے اور پاکستان مخالف تحریکوں میں سب سے نفرت انگیز تحریک چلا رہے تھے۔

1946 کے انتخابات نے انہیں مکمل شکست سے دوچار کیا اور پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اس گروہ نے اپنی مذموم کاروائیوں کو ترک نہیں کیا بلکہ یہی وہ گروہ تھا جو ریاست کے خلاف سازشوں اور مجرمانہ اتحاد میں پیش پیش رہا، قیام پاکستان کے بعد یہاں تک کہا کہ

“اگر کوئی شریف گھرانے کا لڑکا زن بازاری کو بیاہ لائے تو شریف لوگ اسے بامر مجبوری قبول کرلیتے ہیں۔ ہم نے بھی پاکستان کو ایسے ہی تسلیم کیا ہے”۔
مولانا عطااللہ شاہ بخاری باغ بیرون دہلی دروازہ لاہور 1953

آغا شورش کاشمیری اسی گروہ کے ایک کارکن تھے۔

اسلام میں داخلی جدوجہد نے ہمیشہ اہل کلیسا کے خلاف مسلمانوں کو اکسایا اور خصوصا برصغیر میں یہ ایک عمومی چلن تھا۔ راج برطانیہ کے اختتامی دنوں میں معاملات حیرت انگیز طور پر پلٹا کھا کر سامنے آئے کہ سیکولر اور لبرل مسلمان قیادت یعنی کہ جناح ہندو قیادت گاندھی نہرو اور کانگریس سے علیحدہ ہوئے تو مذہبی انتہا پسند مسلمانوں کو کانگریسی لیڈروں نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ۔

مولانا آزاد نیلگوں آنکھوں والے اور علما کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان تھے جو مسلم لیگ کے واضح مخالف تھے۔

آزاد ایک نامی گرامی عالم دین تھے جن کا تعلق سلفی گروہ سے تھا اور وہ ابن تیمہ کے ماننے والوں میں سے تھے۔ احراریوں میں وہ بے حد مقبول تھے اور قوم پرستوں کی محبوب شخصیت مانے جاتے تھے۔ آزاد ایک چالاک سیاستدان بھی تھے اور اس کا ثبوت ان کی کیبنٹ مشن کی تائید و حمایت کرنا ہے، اور پھر کانگریس کی مخالفت کے باوجود نہرو و گاندھی کے ساتھ کھڑے رہنا بھی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک دوربین (پاکستان کے مستقبل کی خبریں) اور ذہین انسان تھے مگر قریب بین (ہندستان کے حالات سے بالکل بےخبر) نہیں تھے۔ ان پیشگوئیوں کے متعلق جو ہمیں اس انٹرویو میں ملتی ہیں انہوں نے اپنی کتاب میں ایسی کوئی بات نہیں کہی۔

آئیے اب اس مبینہ انٹرویو میں موجود اسقام اور غلطیوں پر تفصیلی نظر ڈالتے ہیں۔

1۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مولانا آزاد پر جس قدر بھی کام کیا گیا، اس میں اس انٹرویو کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ یہ ہمیں صرف شورش کاشمیری کی اس کتاب میں نظر آتا ہے۔

2۔ آزاد کے مطابق حسین شہید سہروردی کو جناح کی مطلق پرواہ نہ تھی اور وہ ان کی عزت و منزلت نہ کرتے تھے۔ دراصل جناح اور سہروردی کے تعلقات 1947 کے اواخر میں تلخ ہونا شروع ہوئے لیکن اپریل 1946 میں ان تلخیوں کے متعلق ہلکا سا اشارہ بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ 1947 میں حسین شہید سہروردی پاکستان کے پہلے وزیراعظم بننے کے متعلق اشارے ملنے شروع ہوئے۔ دراصل اپنی کتاب انڈیا ونز فریڈم میں آزاد نے ڈھکے چھپے الفاظ میں کہا تھا کہ جناح نے نظام الدین کو نظر انداز کیا کیونکہ نظام الدین باقیوں کی نسبت حکومت کے اتنے حامی یا وفا دار نہیں تھے۔

3- آزاد کے مطابق “مشرقی پاکستان کا اعتماد تب تک متزلزل نہیں ہو گا جب تک جناح اور لیاقت علی خان زندہ ہیں”

یہ تین مختلف زاویوں سے ایک انوکھی بات محسوس ہوتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ اپریل 1946 میں کوئی بھی مشرقی پاکستان کی اصطلاح کو استعمال نہیں کرتا تھا، دوئم لیاقت علی خان کو اس وقت تک اتنا اہم عہدہ یا اہمیت نہیں ملی تھی کہ ان کا نام ایسی کسی بات سے جوڑا جاتا اور تیسری اور آخری بات کہ جب جناح کی صحت اتنی خراب اور ناقابل یقین ہو گئی کہ سب کو معلوم ہو گیا وہ جلد یا بدیر اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تب لیاقت علی خان ان سے کافی چھوٹے تھے اور ظاہر ہے مولانا آزاد سے بھی کم عمر تھے۔
اس بیان میں ہماری مطالعہ پاکستان میں قائد اعظم اور لیاقت علی خان یعنی قائد ملت کے بارے میں بتائی گئی باتوں میں حیرت انگیز مماثلت موجود ہے۔

4- آزاد صوبوں اور صوبائی شناختوں کی بابت دعوی کرتے ہوئے “پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان” کا نام لیتے ہیں۔ ذرا لفظ “بلوچستان” کو دھیان میں رکھئیے گا۔ قلات توسیع سے قبل بلوچستان کا مسلہ موجود ہی نہیں تھا۔ کیونکہ بلوچستان ایک باقاعدہ صوبہ نہیں تھا تو 1946 میں اسے ایک شناختی مسلہ کیسے قرار دیا جا سکتا تھا؟

بلوچستان کے غیر منصفانہ مسائل مارچ 1948 اور اس کے بعد 1956 میں کی گئی قلات توسیع کے گرد گھومتے ہیں اور آزاد کسی بھی طرح 1948 میں بلوچستان کے متعلق گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔

5۔ آگے آزاد کہتے ہیں کہ نااہل قیادت فوج کی حکمرانی اور مارشل لاء کی راہ ہموار کرے گی جیسا کہ دوسرے بہت سے مسلمان ممالک میں ہوا ہے”۔

اپریل 1946 تک کسی مسلمان ملک میں ایسی کوئی بغاوت نہیں چل رہی تھی جو مارشل لاء کی نوبت لے آئے یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاید آزاد نے ترکی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی ہو مگر تب ترکی میں فوج کی حکومت نہیں تھی کیونکہ اتاترک نے فوج سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد الیکشن لڑا تھا اور منتخب ہوئے تھے ان کے وزیراعظم عصمت انونو اور صلال بائر بھی اسی طریقہ کار کے مطابق منتخب ہوئے۔

6۔ آزاد اپنے جام جہاں نما میں دیکھتے ہوئے ڈرامائی انداز میں بھاری غیر ملکی قرضوں کے بوجھ کا ذکر کرتے ہیں۔ 1960 تک پاکستان میں غیر ملکی قرضوں کا کوئی تصور تک نہیں تھا 1946 میں غیر ملکی قرضوں کا ذکر بعید از عقل ہے اس میں کوئی شک نہین کہ آزادی کے فورا بعد پاکستان نے امریکہ سے فوجی امداد طلب کی تھی مگر اس میں قرضے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

7۔ آزاد جناح کو ہندو مسلم اتحاد کے بہترین سفیر کہتے ہوئے ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں جبکہ اس طرز گفتگو کا ان کی کتاب میں مکمل طور پر غیاب پایا جاتا ہے اس جھوٹے انٹرویو کے علاوہ آزاد نے کانگریس کے لئیے جناح کی خدمات کا کہیں بھی اعتراف نہیں کیا ہے۔ یہ آزاد کے اسلوب کے مطابق نہیں ہے۔

یہ بیان دراصل ڈاکٹر بی آر امدیکار کی کتاب “پاکستان آر پارشن آف انڈیا” سے جناح کے متعلق لکھے گئے پیراگراف سے لیا گیا ہے۔ یہ کتاب اس وقت اگرچہ مختلف حلقوں میں گردش کر رہی تھی مگر قرین قیاس ہے کہ اسے آزاد نے نہیں، بلکہ شورش کاشمیری نے ہی پڑھا تھا-

8۔ آزاد آگے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ “جنگ جمل میں قران پاک کے نسخوں کو نیزوں اور بھالوں پر چڑھایا گیا”۔ یہ کس قدر بعید از قیاس اور احمقانہ بات ہے کہ ایک مذہبی سکالر اور مذہبی علم پر سند رکھنے والا انسان ایسی فاش اور بڑی غلطی کرے؟۔ یہ جنگ صفین تھی جو حضرت علی اور معاویہ کے درمیان ہوئی تھی اور جہاں قران کو نیزوں پہ لٹکایا گیا تھا میں اس بات پر بالکل یقین نہیں کر سکتا کہ مولانا جیسے ذہین اور مستند عالم دین جن کا اوڑھنا بچھونا دین کا علم تھا، ایسی احمقانہ غلطی کر سکتے ہیں۔

اب یوٹیوب پر مولانا آزاد سے منسوب تقریر کی حقیقت۔

یو ٹیوب پر مولانا ابوالکلام آزاد کی جامع مسجد دہلی میں کی گئی تقریر کی جعلی رکارڈنگ کو متعدد لوگوں نے طرح طرح سے اپلوڈ کر رکھا ہے، اور ہر جگہ اس پر خوب خیال آرائیاں ہو رہی ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے انٹرویو پر ہوئی تھیں، اور اب بھی ہوتی رہتی ہیں، جو احراری جرنلسٹ شورش کاشمیری نے ۱۹۴۶ میں کیا تھا اور پھر پہلی بار ۱۹۸۸ میں ابوالکلام آزاد سوانح و افکار” کے نام سے شورش کے بیٹوں نے مرتب کیا۔ بیچ کے ۴۲ سال یہ انٹرویو کہاں رہا اور کیوں سامنے نہیں آیا کوئی نہیں جانتا۔

تقسیم کے فوراً بعد مولانا نے دو بڑی اہم تقریریں کی تھیں۔ پہلی تقریر اکتوبر 1947 میں عیدالاضحی نماز کے موقعہ پر جامع مسجد دہلی میں، اور دوسری تقریر دسمبر 1947 میں لکھنو کے وکٹوریہ پارک میں۔ پہلی تقریر بےحد اہم اور متاثرکُن تھی۔ دوسری تقریر کی اہمیت سیاسی یا تنظیمی زیادہ تھی۔ چنانچہ اب وہ کسی کو یاد نہیں۔ کچھ سال بعد مولانا کی ایک تیسری تقریر بھی بہت مشہور ہوئی تھی جو انھوں نے بھارتی پارلیمنٹ میں کی تھی اور پرشوتم داس ٹنڈن کو براہ راست خطاب کیا تھا۔

یوٹیوب پر مہیا تقریر (رکارڈنگ اور متن) بھی اسی طرح کی جعل سازی ہے۔ اس کا متن ایک ملغوبہ ہے جس میں اصل تقریر کے ٹکڑے جگہ جگہ شامل ضرور ہیں لیکن ان کےآگے پیچھے شورش کاشمیری کی “یادوں” اور مولانا کی بعض دوسری تحریروں کے ٹکڑے لگا کر اپنا تنور گرم کیا ہے۔ آواز کسی ایسے شخص کی ہے جو بے ہنگام ذاکری کرکے کما کھا سکتا ہے لیکن جسے مولانا کی مدلّل خطابت کا ذوق نہیں، صرف چیخنے کا شوق ہے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ یہ رکارڈنگ کس نے کی تھی اور اب کس طرح دستیاب ہوئی ہے۔ 1947 میں ٹیپ رکارڈر عام نہیں تھے۔ اسٹوڈیو میں بھی تار والے آلات کے ساتھ ہی ممکن تھی جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہ تھی۔ اب اگر یہ ریکارڈنگ آل انڈیا ریڈیو نے کی تھی اور وہاں سے حاصل کی گئی ہے اور اب بھی ان کے پاس موجود ہے تو اعتراف میں کیا رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ اس میں کوئی ایسی منافقانہ یا فرقہ وارانہ بات نہیں ہے جسے بھارتی حکومت پوشیدہ رکھنا چاہتی۔ یوٹیوب پر آنے سے پہلے تک یہ ریکارڈنگ کہاں چھپی رہی کبھی کہیں سنائی نا دی۔

مولانا کی جامع مسجد دہلی میں کی گئی تقریر کا اصل متن کی تیاری میں تین کتابوں سے مدد لی گئی ہے

۱- مالک رام (مرتب) خطباتِ آزاد ( نئی دہلی ساہتیہ اکادمی، 1974
۲- عرش ملسیانی، ابوالکلام آزاد سوانح حیات (نئی دہلی پبلیکیشنز ڈویژن، وزارت اطلاعات و نشریات، 1974)
۳- عابد رضا بیدار، مولانا ابوالکلام آزاد رامپور انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل سٹڈیز، 1968

ان کے علاوہ دو تین دیگر کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے شدید افسوس ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے ماخذ کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ رشید احمد صدیقی صاحب نےایک جگہ لکھا ہے کہ یہ تقریر متعدد اردو اخباروں میں فوراً شائع ہوگئی تھی۔ میرےخیال میں ان جرائد میں تو ضرور چھپی ہوگی جن کا تعلق جمعیة العلما ہند یا انڈین نیشنل کانگریس سے تھا، جیسے الجمعیة (دہلی)، مدینہ (بجنور)، اور قومی آواز (لکھنئو)۔ لیکن کہاں شائع ہوئی تاریخ خاموش ہے (اگر کچھ مل جائے تو مزید پوشیدہ گوشے منظرعام پر آجائیں) اور کئی دہائیوں بعد اچانک آڈیو کی شکل میں یوٹیوب پر رونما ہوگئی۔ اس سے بھی حیران کن یہ کہ تقریر کا تحریری متن جو آج ملتا ہے اور آڈیو کے جملوں میں ترتیب کا فرق ہے بعض جگہ الفاظ کا تلفظ کچھ ایسا ہے کہ مولانا جیسی ادبی شخصیت سے متوقع نہیں اور بعض جگہ یوں محسوس ہوتا ہے لہجہ دہلی میں زندگی گزارنے والے کا نہیں ہے۔

اب تیسری بات کہ یہ انٹرویو کس نے کیسے تیار کیا تو اس کیلئے مولانا آزاد پر اتھارٹی سمجھے جانے والے ابو سلمان شاہجہان پوری کہتے ہیں

مولانا آزاد کے نام سے یوٹیوب پر موجود تقریر جھوٹی ہے اور فراڈ ہے میرے ایک شاگرد قاری یوسف نے مختلف تقریروں کے جملے جوڑ کر اور کچھ اپنے سے شامل کرکے یہ تقریر تیار کی ہے، کہیں دہلی، کلکتہ اور کہیں کانگریس سے جستہ جستہ چمن میں جڑی داستانیں اکٹھی کرکے اپنی آواز میں ریکارڈنگ کرلی ہے، مجھے سے بھی کہا گیا تھا آپ ایک مبسوط تقریر بنا لیں مگر میں نے صریح انکار کردیا کہ یہ قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی اور مولانا آزاد کی تضحیک بھی ہے، میں اس علمی فراڈ میں شامل نہیں ہوسکتا، قاری یوسف کو بھی روکا مگر وہ باز نا آئے اور یہ تقریر بنا ڈالی۔

اس مضمون کو پوسٹ کرنے کا مقصد اس جھوٹ اور پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنا ہے جو احراری آغا شورش کاشمیری نے بعد میں ان لوگوں کی مدد سے کھڑا کیا جن کا مقصد پاکستان کو غیر متحد دیکھنا تھا۔ مگر کہتے ہیں کہ نقل کے لئیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بھونڈی کوشش کے صلاح کاروں نے بھارتی نوٹرے ڈیمس یعنی مولانا آزاد کی جھوٹی عزت بنانے کے لئیے جس بے ڈھب انداز سے یہ نقلی انٹرویو ترتیب دیا ہے یہ درحقیقت خود ان کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ ہمارے لئیے اب ضروری ہے کہ ان بیکار اور بچگانہ شعبدے بازیوں سے متاثر ہوئے بغیر واقعات کو غیر جانبدارانہ حقیقت کی نگاہ سے دیکھنا شروع کریں۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: