اکادمی ادبیات پاکستان کا چیئرمین کسے ہونا چاہیے —– قاسم یعقوب

0

اکادمی ادبیات پاکستان، ملک کا اہم ادارہ ہے جو ادب کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ اکادمی کے مینڈیٹ میں صرف اردو زبان ہی شامل نہیں دیگر مختلف علاقوں کی نمائندہ زبانوں کی ترویج و اشاعت کا ایجنڈا بھی شامل ہے۔

اکادمی ادبیات کی سربراہی ادبی حلقوں میں اہم خبر ہوتی ہے۔ اس ادارے کے سربراہان معروف مزاح نگار شفیق الرحمن، پریشان خٹک، احمد فراز، فخر زمان، نذیر ناجی، افتخار عارف اور قاسم بگھیو رہ چکے ہیں۔ ان ناموں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ادارے کی سربراہی کا انتخاب ایک دو کو چھوڑ کے ادب برادری سے ہوتا رہا ہے۔ سیاسی تقرریاں بھی اس ادارے پر نظرے جمائے ہوئے نظر آتی ہیں مگر ان کا دورانیہ بہت مختصر ہوتا رہا ہے۔ حال ہی میں ایک دفعہ پھر اکادمی ادبیات کی سربراہی کا معاملہ ایک اہم مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ سب کی نظریں اس بار ایسی شخصیت کی طرف لگی ہوئی ہیں جو واقعی اس ادارے کا اہل بھی ہو اوراس کا انتخاب پوری طرح قواعد کے مطابق بھی ہو۔

سب سے پہلے ہم اکادمی کے اشتہار پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔ اس اشتہار میں جن شرائط کو لازمی قرار دیا گیا ہے ان میں ایک؛ 62سال کی عمر اور دوسری؛ 5سال اعلیٰ ادارے میں سینئر مینجمنٹ کا تجربہ ہیں۔ عموماً کسی بھی طرح کا تجربہ مانگا جاتا ہے، یہاں بھی 15سال کا تجربہ مانگا گیا ہے مگر ساتھ ہی سینئر مینجمنٹ کا تجربہ، اضافی شرط رکھ دی گئی ہے۔

سرکاری سطح پر اکادمی جیسے اداروں کی اہمیت اس لیے زیادہ نہیں ہوتی کیوں کہ ان میں پیسا، طاقت اور میڈیا توجہ کا کوئی موقع میسر نہیں ہوتا۔ ادیبوں کو ویسے ہی ملک کا ناکارہ طبقہ قرار دے کے کونے میں پھینک دیا گیا ہے۔ اس وقت اکادمی ادبیات پاکستان سے زیادہ پیمرا یا اے پی پی کی اہمیت ہے۔ ان اداروں سے سیاست کی بساط اور مہروں کی تبدیلیوں کی خبریں جڑی ہوئی ہیں جو اس وقت ملک کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ لہٰذا ایسے تمام ادارے جن میں طاقت کا کھیل نہیں کھیلا جا سکتا ’’گھوسٹ ادارے‘‘ کہلائے جاتے ہیں۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیجیے کہ کون کون سے ادارے ادیبوں کے حصے میں آتے ہیں اور ان کی سماجی اور سرکاری سطح پرکیا اہمیت ہو سکتی ہے!

عرفان صدیقی صاحب نے ان اداروں کی طرف توجہ دلائی تھی، جو ان کی ذاتی کاوشوں سے ان اداروں کو الگ سے ایک وزارت سے جوڑ دیا گیا تھا مگر فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کی محنت رنگ نہ لاسکی۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر جب اردو سائنس بورڈ کے سربراہ بنائے گئے تو انھیں بھی فنڈز کا مسئلہ سب سے زیادہ تکلیف دہ لگا۔ انھوں نے اپنے تئیں ادیبوں کو رائلٹی دینے کا صرف اعلان نہیں کیا، عمل بھی کیا مگر اس سے کتاب کی قیمت بہت بڑھ گئی۔ یوں انھیں اپنے نئے فیصلوں سے دستبردار ہونا پڑا۔

ادب کی سطح پر اکادمی ادبیات پاکستان ہی وہ واحد ادارہ ہے جس کے پاس سرکاری سطح پر ادیبوں کی فلاح و بہبود، ادب کی ترویج و اشاعت، معیار ِادب کو قائم رکھنے کے لیے ایوراڈز، انعامات کی تقسیم اور سب سے بڑھ کے حق دار کے لیے ادب کے سرکاری اعزازات، سول ایوارڈز وغیرہ کی نامزدگی جیسی اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں علاقائی زبانوں کے ادب کو قومی دھارے میں لانا، ادب کی سطح پر ادیبوں اور زبانوں میں علاقائی تفاوت (Regional disparity) کو ختم کرنا بھی اکادمی کی اہم ذمہ داری ہے، مگر ان میں سے بیشتر مقاصد کو اکادمی ایک عرصے سے بھلا چکی ہے۔ وجہ صرف یہی بتائی جاتی ہے کہ حکومت اکادمی کو فنڈ مہیا نہیں کرتی، جس کی وجہ سے کوئی بھی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکتا۔ فخر زمان کے دور میں ایک بہت بڑی کانفرنس کروائی گئی تھی، جس میں ادب نواز سیاسی گھرانوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ادیب حضرات بھاگے بھاگے ایوان ِ صدر پہنچے تھے۔ رشید امجد صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے ڈکٹیٹر ضیا الحق کا بھی دور دیکھا، وہ بھی تقاریب میں آکر ادیبوں میں گھل مل جایا کرتا تھا، مگر آصف علی زرداری نے تو حد ہی کر دی۔ وہ سیدھا کمرے سے نکلے اور ڈائس پر آئے، تقریر کی اور فوراً حال سے نکل گئے، ایک منٹ کے لیے بھی تقریب میں نہیں بیٹھے۔ تو یہ تھا اس کانفرنس کا حاصل۔ بگھیو صاحب نے بھی ایک کانفرنس کروائی تھی، جس پر کروڑوں خرچ کئے گئے مگر حاصل صفر، بلکہ اعتراضات کی بارش شروع ہوگئی۔

اکادمی کے اب تک کامیاب بڑے منصوبوں میں افتخار عارف صاحب کا معمارِ ادب کا سلسلہ ہے۔ اس کے تحت اب تک ادیبوں کی یادگاری سوانحی کتابیں شائع کی جا رہی ہیں۔ اس سے پہلے ساہتیہ اکادمی ہندوستان بھی یہی کام کر چکی ہے۔ بلکہ اگر آپ مجھ سے رائے لیں تو اکادمی ادبیات پاکستان کا یہ سلسلہ زیادہ معیاری اور محققانہ ہے۔ میرے خیال میں، گذشتہ بیس برسوں میں (جب سے فنڈز کا مسئلہ شدید ہوگیا ہے) اکادمی کا کامیاب دور افتخار عارف کا دور تھا۔ افتخار صاحب ادیبوں کو عزت دینا جانتے ہیں۔ انھوں نے کم سے کم اخراجات میں بھی اہم کام کیے ہیں۔

اکادمی ادبیات کے رسائل میں پاکستانی لٹریچر، ادبیات اور ادبیاتِ اطفال شامل ہیں۔ ’’ادبیاتِ اطفال‘‘ کو حال ہی میں اختر رضا سلیمی صاحب نے شروع کیاہے، جو اس وقت کسی معجزے سے کم نہیں۔ سچی بات ہے کہ سلیمی صاحب نے ’’ادبیات‘‘ اور ’’ادبیات اطفال‘‘ کو جتنا معیاری اور توانا کر دیا ہے،یہ پوری اکادمی کی نمائندگی کا واحد چہرہ رہ گیا ہے۔

ایک وقت تھا جب اکادمی کے ایوارڈز کے اعلانات، سول ایوارڈز کی طرح اہمیت رکھتے تھے۔ مگر رفتہ رفتہ ان کی اہمیت ختم ہوتی گئی، اب تو سول ایوارڈز کی اہمیت بھی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ بے نظیر بھٹو کو جمہوریت کی بحالی کے لیے خدمات پر بیس لاکھ کا ایورڈ دے دیا گیا۔ اسی طرح فخر زمان کے دور میں ایک غیر ملکی ادیب کو بیس لاکھ کا انعام دے دیا گیا۔ اس ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا گیا کہ ملک بھر کے ادیبوں کے پاس حلقہ اربابِ ذوق میں آنے والے حاضرین کے لیے چائے کا بھی انتظام نہیں بھی ہوتا۔ ’’کمالِ فن ایوارڈ ‘‘ کبھی پرائڈ آف پرفارمنس کی طرح اہمیت رکھتا ہے مگرجب سے بند کمرے میں کچھ افراد بیٹھ کے فیصلے کرنے لگے تو سب کو پتا چل گیا کہ اب کس کس کو یہ انعام ملے گا۔ اکادمی کے خبرنامے کے مطابق: سال 1997سے اکادمی ادبیات پاکستان نے ملک کی نامور ادبی شخصیات کو ادب کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ’’کمال فن ایوارڈ‘‘ دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سلسلے کا پہلا انعام1997ء میں احمد ندیم قاسمی کو دیا گیا تھا۔ 1998کے لیے جناب انتظار حسین، 1999کے لیے جناب مشتاق احمد یوسفی، 2000کے لیے جناب احمد فراز،2001کے لیے جناب شوکت صدیقی،2002کے لیے جناب منیر نیازی، 2003ء کے لئے محترمہ ادا جعفری، 2004ء کے لیے جناب سوبھوگیان چندانی، 2005ء کے لیے ڈاکٹر نبی بخش خاں بلوچ، 2006کے لئے جناب جمیل الدین عالی، 2007ء کے لیے جناب محمد اجمل خان خٹک، 2008ء کے لیے جناب عبداللہ جان جمالدینی، 2009ء کے لیے جناب محمد لطف اللہ خاں،2010ء کے لئے محترمہ بانوقدسیہ 2011ء کے لیے جناب محمد ابراہیم جویو،2012کے لیے جناب عبداللہ حسین، 2013کے لیے جناب افضل احسن رندھاوا، 2014کے لیے محترمہ فہمیدہ ریاض، 2015 کے لیے محترمہ کشور ناہید، 2016 کے لیے جناب امر جلیل اور 2017 کے لیے ڈاکٹر جمیل جالبی کو اس اعزاز کا مستحق قرار دیا جاچکا ہے۔ اس انعام کی رقم مبلغ 1000000/-(دس لاکھ روپے) ہے۔

ایک عرصے کے بعد صاف ستھری حکومت کے لیے انصاف کی ندیاں بہانے کا وقت آگیا ہے۔ ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ اس سیٹ پر کوئی سربراہ نہیں۔ اس سے بڑی اور کیا ناانصافی ہوگی۔ حکومت کے بہت قریب ادیب بھی کچھ نہ کر سکے۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری ترجیحات میں ادب شامل ہی نہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ اکادمی کی سربراہی کے لیے نئے اصول بانئے جائیں اور ان اصولوں کو ادیبوں کی بڑی تعداد کی پذیرائی بھی حاصل ہو۔ مثلاً :

۱۔ اکادمی کا سربراہ اردو زبان سے وابستہ ادیب ہونا چاہیے اور ملک کے پانچوں مراکز(گلگت، پنجاب، بلوچستان، سندھ، کے پی کے) کے لیے ان کی نمائندہ بڑی زبانوں کے ادیبوں کا وائس چیئرمین لگایا جائے۔ پنجاب میں پنجابی ادیب کو سربراہ لگایا جائے، اسی طرح گلگت میں مقامی زبانوں، بلتی، گلگتی یا دوسری کسی زبان میں نمایاں ادیب کو موقع ملنا چاہیے۔ (یہ الگ بات کہ ابھی گلگت میں اکادمی کا مقامی دفتر بھی قائم نہیں سکا)۔

۲۔ کسی بھی سرکاری آفیسر کو کسی بھی حالت میں اکادمی کا سربراہ نہیں قائم کیا جانا چاہیے۔ کیوں کہ اس کا براہ راست تعلق ادب کی ترویج و اشاعت ہے، اس لیے کسی ادیب کو ہی موقع ملنا چاہیے۔

۳۔ اس کے سربراہ کی تقرری کی مدت پانچ سال ہونی چاہیے۔

۴۔ فنڈز کے سلسلے میں اکادمی کو کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اکادمی کے فنڈز اس طبقے کے لیے ہوتے ہیں جو قومی بیانیوں کی تشکیل میں اہم کردار اداکرتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو اس سلسلے میں اہم قانونی ترامیم کرنی چاہیے۔

۵۔ اکادمی ادبیات پاکستان کو ملک بھر کی ادبی انجمنوں کو رجسٹر کرنا چاہیے، جو اپنی ذاتی خرچے پر اہم ادبی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کو قومی سطح پر ایک دوسرے کے قریب لانا چاہیے۔ اسی طرح ادبی رسالوں کے لیے مختلف فنڈز مہیا کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کا کرداربھی ادا کرنا چاہیے۔

میں نے جب ’’نقاط‘‘ شروع کیا تو میں اکثر افتخار عارف صاحب سے اس سلسلے میں مشاورت کرتا رہتا تھا۔ میں نے ۲۰۰۷ء میں بھی یہ تجویز دی تھی کہ اکادمی ادبیات پاکستان کو ادبی رسالوں اور اشتہار دینے والی ملٹی نیشنل یا مقامی کمپنیوں کے درمیان باہمی رابطہ کروانا چاہیے تاکہ ان کو ایک طرح کی سرٹیفکیشن مل سکے۔ کسی بھی ادبی رسالے کی سفارش اس میں شامل نہیں۔

اکادمی ادبیات پاکستان کی سربراہی اتنا بڑا مسئلہ نہیں، جتنا اسے بنا دیا گیا ہے۔ 62 سال عمر، 5سال اعلیٰ مینجمنٹ کا تجربہ رکھنے کی شرائط کے بعد چند ایک نام ہی بچتے ہیں، جو اس سطح کے ادیب بھی ہوں اور ان شرائط پر پورا بھی اُترتے ہوں۔ میرے ذاتی خیال میں آصف اسلم فرخی اور محمد حمید شاہد سے زیادہ بہتر امیدوار نہیں ہو سکتے۔ آپ خود بھی ذرا اپنے اردگرد دیکھ لیجیے۔ ان دونوں کے نام پیش کر کے میں نے آپ کو مشکل سے نکال دیا ہے۔ اب آپ خود با آسانی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ان دونوں ناموں پر یقیناً اتفاقِ رائے بھی ہو سکتا ہے مگر یہ فیصلہ میں نے یا آپ نے نہیں کرنا۔
جی___ جنھوں نے کرنا ہے، وہ مجھے یا آپ کو کیوں پوچھیں گے!!

(Visited 1 times, 4 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: