شادی: آخر مقصد کیا ہے —– احمد الیاس

0

ایسا ہے کہ
۱۔ شادی کے مقاصد کے حصول ایک بہت اہم حصہ اور ذریعہ جنسی تسکین ضرور ہے، لیکن بنیادی مقصد ہرگز یہ نہیں ہے۔ بنیادی مقصد اگر یہ ہوتا تو شادی کا ادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کسی بھی من پسند انسان کو دو طرفہ رضا مندی سے معشوق یا معشوقہ بنا کر یا ون نائٹ سٹینڈ سے بھی کام چلایا جاسکتا تھا۔

۲۔ شادی کا مقصد کھانا بنانے، صفائی کرنے اور کپڑے دھونے کے لیے ایک عورت یا کمائی کرنے کے لیے ایک مرد فراہم کرنا بھی نہیں ہے۔ کسی صحیفے یا حدیث میں ایسا نہیں لکھا کہ گھر کے یہ سب کام عورت کی ذمہ دار میں شامل ہیں۔ جو پیسہ شادی کرنے اور بیوی کی کفالت پر خرچ کرنا ہے اس سے کم میں نوکر یا نوکرانی رکھی جاسکتی ہے جو یہ سب کام کرسکتی ہے اور وقت آنے پر آسانی سے بدلی جاسکتی ہے۔ اسی طرح عورتیں بھی کئی طریقوں سے کما سکتی ہیں۔

۳۔ شادی کا مقصد “محبت” بھی نہیں ہے۔ روحانی محبت کو جسمانی وصل اور قربت کی کوئی خاص حاجت ہی نہیں ہوتی، اس میں تو عقیدت کا رنگ غالب ہوتا ہے اور انسان سے محبوب کے سامنے کھل کر بولا جاتا ہے نا اسے نظر بھر کر دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ رومانوی محبت کبھی چڑھتی ہے اور کبھی اترتی ہے، اس کا تعلق حسن سے ہوتا ہے اور حسن بھی پائیدار نہیں ہے۔ ایک غیر پائیدار اور غیر مستقل جذبے کے لیے ایک زندگی بھر کا مستقل معاہدہ کرلینا اور اس سے مستقل بالذات بچے تک پیدا کرلینا بے تکی حرکت ہے۔ باقی جہاں تک عام انسانی محبت کا تعلق ہے تو وہ کسی بھی انسان (بہن بھائیوں، دوستوں، ہمسایوں، کلاس فیلوز، کولیگز وغیرہ) کے ساتھ کچھ وقت گزارنے یا نسبت پیدا ہوجانے سے پیدا ہوہی جاتی ہے۔ بلکہ انسان تو کیا وطن۔ نظریات اور سیاسی و مذہبی جماعتوں وغیرہ تک سے بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ شریکِ حیات کے ساتھ تو پھر بہت قریب کا تعلق ہوتا ہے۔

۴۔ شادی کا مقصد صرف انا کی تسکین، سماجی شناخت یا بڑھاپے کے لیے سہارا (بچے) تیار کرلینا بھی نہیں ہے۔اگرچہ شادی یہ فوائد بھی حاصل ہوجاتے ہیں لیکن اچھی شادی کی بنیاد یہ مقاصد فراہم نہیں کرسکتے۔

تو پھر آخر شادی کا کیا مقصد ہے؟
انسان سماجی مخلوق ہے اور شادی بنیادی طور پر ایک سماجی کاروائی ہے۔ لہذا شادی کے مقاصد بھی سماجی ہی ہیں۔ یہ ایکٹویٹی ایک سماجی ادارے کو جنم دیتی ہے جسے خاندان کہتے ہیں۔ خاندان کا ادارہ کسی بھی سماج کی جڑوں کی مانند ہوتا ہے۔ خاندان کے مقاصد کیا ہیں ؟ بنیادی طور پر ہر شئے ایک مرکز یا محور مانگتی ہے۔ مرکز یا محور کے بغیر ہر شئے بکھرنے لگتی ہے او جب بہت سے انسان بکھرتے ہیں تو معاشرہ بھی بکھر جاتا ہے۔ جدید دور میں وجودی بحران کا مسئلہ بڑی حد تک جدید معاشرے میں مختلف مراکز اور محور ٹوٹنے سے ہی پیدا ہوا ہے۔ خاندان بھی انسان کی توانائیوں اور جذبات کو ایک مرکز اور محور فراہم کردیتا ہے اور اسے مختلف جذباتی بحرانوں سے حتی الامکان تحفظ فراہم کرتا ہے۔ گویا سماج کے لیے ایک ادارہ بنا کر بھی ہم بلواسطہ اپنے استحکام ہی کی کاوش کرتے ہیں۔

یہ عمل کئی سطح پر ہوتا ہے۔ شوہر کی سطح پر، بیوی کی سطح پر اور بچوں کی سطح پر۔ شادی کی بات کرتے ہوئے اس کو اکثر صرف میاں بیوی تک محدود کردیا جاتا ہے حالانکہ اس کے نتیجے میں آنے والے بچے اس میں برابر کے سٹیک ہولڈر ہیں۔ اگر شادی سے قائم ہونے والا خاندان ان کو مرکز اور محور نہ دے سکے تو شادی اور خاندان اتنا ہی بلکہ شاید اس سے زیادہ ناکام ہے جتنا میاں یا بیوی کو مرکز یا محور نہ دینے پانے پر۔ کیونکہ بچوں کے لیے خاندان صرف جذباتی سٹیبلائزر نہیں بلکہ ایک درسگاہ بھی ہوتی ہے۔ گویا جذباتی مرکز کے ساتھ خاندان کا دوسرا مقصد بنیادی درسگاہ کا قیام ہوتا ہے۔

خاندان کا ایک تیسرا مقصد بھی ہے اور وہ وہی ہے جو کسی فلاحی ریاست کا ہوتا ہے۔ یعنی ارکان کی مادی ضروریات کی دیکھ بھال۔ اس میں معاشی ضروریات اور کفالت بھی ہیں اور گھر کے اندر کا نظم و نسق یعنی کھانا پکانا، صفائی اور دیگر بندوبست وغیرہ بھی۔ ہر انسان مختلف ہے اور اس کے میلانات اور صلاحیتیں مختلف ہیں۔ اس میں مرد اور عورت کی قید نہیں۔ خاندان کی ان فلاحی خدمات کو بھی بہترین طریقے سے تبھی ممکن بنایا جاسکتا ہے جب خاندان کے دونوں بنیادی ایگزیکٹو ممبرز یعنی شوہر اور بیوی اپنے اپنے میلانات اور صلاحیتوں کے مطابق ان ذمہ داریوں کو تقسیم کریں۔ اس سلسلے میں کوئی یونیورسل ماڈل نہیں دیا جاسکتا کہ شوہر یہی کرے گا اور بیوی یہی کرے گی۔ ہر جوڑے کو اپنے حالات اور مزاج کے مطابق یہ بندوبست طئے کرنا چاہیے۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ چونکہ مردوں کے میلانات اور صلاحیتوں میں کافی حد تک ایک یکسانیت ہے اور اسی طرح عورتوں کے میلانات اور صلاحیتوں میں، اس کیے اکثر خاندانوں میں مردوں کے حصے میں ایک جیسے کام (مثلاً کمانا وغیرہ) اور عورتوں کے حصے میں ایک جیسے کام (امورِ داخلہ) ہی آئیں گے۔ تاہم یہ کوئی ایسا لگا بندھا اصول نہیں ہے اور اس سے ہٹ کر بندوبست بھی ممکن ہیں اور خاندان باہمی مشاورت اور رضا مندی سے ایسا exceptional بندوبست کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ایک اچھا خاندان وہی ہے جس میں شوہر بیوی کے کاموں میں اور بیوی شوہر کے کاموں میں ہاتھ بٹائے۔

ہمیں مرد و عورت کی جنگ، فیمینسٹ اور اینٹی فیمینسٹ کی سطحی بحث اور صرف جنسیات، معاشیات یا رومانیت جیسی کسی ایک جہت ہی کے تناظر میں شادی اور خاندان کو دیکھنے کی بجائے بڑی تصویر میں اسے بہ طور ایک کثیر الجہتی سماجی ادارے کے طور پر دیکھنا ہوگا جس کا مقصد انسانوں کی مشترکہ فلاح و بہبود ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: