ہمارا انڈین فلموں کا “مرحوم” شوق —- اظہر عزمی

0

(ایک اشتہاری کی باتیں)

یہ 80 کی دھائی کے ابتدائی سال تھے۔ VCR کس نعمت کا نام ہے۔ صرف سنا تھا۔ کبھی زیارت کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ اگر محلے یا کالج میں آپ انڈین فلموں سے ناواقف ہیں۔ آپ نے اگر کوئی انڈین فلم نہیں دیکھی یے تو آپ سے بڑ اجڈ، گنوار، جاہل اور out dated کوئی بھی نہیں۔ فلم دیکھنا اس زمانہ میں زندہ و جاوید ہونے کی علامت تھی۔ آپ کی شخصیت میں رومانس کی چاشنی اس وقت محسوس ہوتی جب آپ کسی لڑکی کو دیکھ کر کوئی نیا نویلا انڈین گانا گاتے۔ آواز اچھی ہو تو سونے پر سہاگہ (ویسے کچھ بے سرے مگر محبت بھرا دل رکھنے والے جب اپنی بھونڈی اور تپڑ دار آواز کا زہر گھولتے تو نہ صرف لڑکی مسکراتی ہوئی چلی جاتی بلکہ کافی دیر تک دوستوں میں چھی چھی ہوتی رہتی) اس زمانے میں بہت سے عشق اس لئے پروان چڑھے کہ لڑکے کی آواز اچھی ہے۔ اچھے گانے والے لڑکے محلے اور خاندا ن کی شادیوں میں اکثر بلائے جاتے۔

دیکھئے! انڈین فلموں پر آنے سے پہلے گانوں نے مجھے گھیر لیا اور بات کہاں کی کہاں نکل گئی۔1977 کی بھٹو مخالف تحریک میں جب پورے ملک میں پہیہ جام ہوتا۔ کرفیو لگتا تو ان تمام نامساعد حالات کے باوجود رات میں روزانہ رنچھوڑ لائن میں انڈین فلمیں چلا کرتیں اور ان فلموں کے عاشق سر پر کفن تو نہیں لیکن فوجیوں سے بچتے بچاتے چپل ہاتھوں میں لے کر فلم دیکھنے جاتے۔

ہمارے سب سے چھوٹے چچا مرحوم دلیپ کمار، محمد رفیع اور لتا منگیشکر کا انسائیکلو پیڈیا تھے۔ محمد رفیع سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کے یوم وفات پر زور دے پر فاتحہ دلاتے۔ جس زمانے میں ٹیپ ریکارڈ ہی سب کچھ تھا۔ ایک مرتبہ ایک فقیر محمد رفیع کا کوئی مذہیی کلام پڑھتا ہوا ان کی گلی میں آگیا۔ آپ نے اسے گھر بلایا۔ ٹیپ ریکارڈ کھولا اور جو کچھ رفیع کا گایا ہوا یاد تھا، ریکارڈ کر لیا۔ بعد میں چلتے وقت پیسے دیئے۔

ہمارے چاچا اپنے دوستوں کے ساتھ ان کرفیو کے دنوں میں رات کو انڈین فلم دیکھنے رنچھوڑ لائن جاتے اور پھر صبح پیدل گھر آتے۔ یہ الگ بات پھر ایک فلم ہمارے والد صاحب چلاتے جس کو دیکھنے اور سننے والے اکیلے ہمارے چاچا ہوتے مگر وہی بات ہے کہ شوق کا کوئی مول نہیں۔ چاچا سے اس زمانے میں ہم نے فلم کٹی پتنگ کی تعریف سنی جس کے ہیرو راجیش کھنہ تھے جو اس زمانے کے سپر اسٹار ہوا کرتے تھے۔ چاچا کے پاس ان تمام انڈین رسالوں کا ذخیرہ موجود تھا جس میں دلیپ کمار کا ذکر ہوتا۔

اس سے ہمیں یہ فائدہ ہوا کہ ہم نوعمری میں اس زمانے کی انڈین فلمی نگری سے واقف ہوگئے۔ شمع رسالہ دہلی سے شائع ہوتا۔ ہماری شمع سے علیک سلیک چاچا کے ذریعے ہوئئ۔ چاچا کا خیال تھا کہ شمع رسالہ دلیپ کمار کے مخالف کیمپ کا ہے۔

شمع کے پھر ہم رسیا یوگئے۔ کالج اور اس کے بعد کے دنوں میں ردی پیپر والوں اور پرانی کتابوں کے ٹھیلوں پر شمع پر نظر رکھتے کہ یہ دن میں کہاں جل رہا ہے۔ شمع میں مسافر کی ڈائری آیا کرتی جو اس کے مالک ادریس دہلوی لکھتے جس میں سیٹ پر موجود فلموں کا حال احوال اور فلمی ستاروں سے گفتگو ہوتی۔ اس کے علاوہ بھی ستاروں کے انٹرویوز ہوتے۔ آنے والی فلموں کے اشتہار ہوتے۔ جو بات ہمارے لئے اضافی طور پر فائدہ مند رہی وہ یہ کہ اس میں مشہور ادیبوں کے افسانے اور کہانیاں بھی ہوتیں۔ چاچا کے بقول شمع دلیپ کمار مخالف تھا لیکن ایک مکمل رسالہ تھا۔ انڈین فلم انڈسٹری سے واقفیت کے لئے شمع کا کردار ہمارے لئے راہنما کا درجہ رکھتا ہے۔ آج جو ہم ماضی کے فلمی ستاروں کی پول پٹی کھولتے ہیں تو یقین جانیں یہ سب شمع کی کرنیں ہیں جن سے ہم ایسی تمام محفلوں میں آج بھی جگمگا رہے ہوتے ہیں۔ بس ایک مسئلہ یہ آتا ہے کہ لوگ ہمیں 1945 کے آس پاس کی پیدائش سمجھتے ہیں۔

Image may contain: one or more people, people sitting and textباتیں اتنی کر لیں مگر یقین جانیں پہلی انڈین فلم /فلمیں اس وقت دیکھیں جب ہم انٹر کا ٹیوشن پڑھنے بلاک 17 فیڈرل بی ایریا جایا کرتے تھے۔ بس ہماری کچھ نیکیاں ہمارے کام آگئیں جو یہ ثواب سمیٹنے کی سعادت نصیب ہوئئ۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ہم جہاں انٹر میں ٹیوشن پڑھنے جاتے تھے۔ اس گلی کا ایک لڑکا خرم بھی ساتھ ٹیوشن پڑھتا تھا۔ پھر یہ کہ جن سے ٹیوشن پڑھتے تھے ان کا کزن بھی ساتھ ہوتا تھا۔ ایک دن انہوں نے بتایا کہ ہم دو انڈین فلمیں چلا رہے ہیں۔لڑکوں کا انتظام کرو۔ فی فلم (اگر صحیح یاد ہے) 5 روپے کا ریٹ مقرر ہوا یعنی ایک لڑکا 10 روپے۔ ہم نے بھی لڑکوں کا انتظام کیا اور ان کو 2 روپے اپنے رکھکر 12 روپےبتائے۔ خرم سے صاف صاف کہہ دیا کہ میں فلمیں فری میں دیکھوں گا۔ پہلے تو وہ مانا نہیں۔ میں نے کہا پھر میرے بندے بھی نہیں آئیں گے۔ بالاخر وہ راضی ہو ہی گیا۔ اب صاحب جب 120 گز کے مکان کے کمرے میں دوپہر کو میں لڑکے لے کر پہنچا تو کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ بیٹھنے کیا سانس لینے کو ہوا ملنا مشکل تھی۔ جن لڑکوں کو میں لے گیا تھا اور کہا تھا کہ بڑے آرام سے ٹانگیں پھیلا کر فلم دیکھیں گے، ان میں سے ایک لڑکا ہتھے سے اکھڑ گیا۔ رقم پہلے لی جاچکی تھی۔ اس نے پیسوں کی واپسی کا تقاضا کردیا۔ میں خود حیران تھا کہ بیٹھیں گے کہاں؟ لیکن پھر وہی بات کے دل میں جگہ ہونی چاہیئے۔ گھس گھسا کر پیٹھ گئے مگر 6 گھنٹے بعد جس جگہ جیسے پیٹھے تھے ویسے ہی اٹھے۔

جتنا ہم فلمیں دیکھ کر نہیں اکڑے تھے اس سے کہیں زیادہ ٹانگیں اکڑ چکی تھیں۔ پہلی فلم جو دیکھی وہ دو اور دو پانچ تھی۔ امیتابھ بچن۔ ششی کپور۔ ہیما مالنی۔ پروین بابی اس کے ستارے تھے۔ دوسری فلم رشی کپور اور ریتک روشن کے راکیش کی تھی۔ دونوں فلم کے ہیرو تھے۔ یہ فلم دیکھ کر جب باہر نکلے تو رات ہو چکی تھی مگر یماری زندگی میں انڈین فلموں کا اجالا پھیل چکا تھا اور خود کو معاشرے کا باعزت فرد سمجھ چکے تھے۔ امیتابھ کی سحر انگیز شخصیت نے پوری اور بری طرح جکڑ لیا تھا۔ اب اپنی فلموں سے “ایمان” پوری طرح اٹھ چکا تھا۔ امیتابھ کے آگے پیچھے کچھ دکھائئ نہ دیتا تھا۔ ہماری چاچا سے خوب ہی گفتگو ہوتی۔ چاچا دلیپ کے اور ہم امیتابھ کے دیوانے تھے۔ چاچا کہتے امیتابھ دلیپ کے آگے کچھ بھی نہیں اور واقعی جب کچھ بڑھے ہوئے اور دلیپ کمار کی اداکاری دیکھی تو اندازہ ہوا کہ دلیپ کمار دلیپ کمار ہے۔ چاچا بھی امیتابھ کو اداکار مانتے تھے مگر دلیپ کمار کے بعد۔ جب فلم شکتی میں دلیپ کمار اور امیتابھ کو آمنے سامنے دیکھا تو حقیقت اور بھی عیاں ہوگئ۔

بعد میں کافی فلمیں دیکھیں مگر اب عرصہ ہوا کہ یہ سب ختم ہوچکا ہے۔ آخری فلم جو پوری دل، دماغ اور چشم جمعی سے دیکھی وہ لگان تھی۔ یوں سمجھ لیں کہ ہم نے انڈین فلمیں دیکھنے کا یہ آخری لگان ادا کیا تھا۔ بعد میں اکا دکا فلمیں دیکھیں۔ اچھی بھی لگیں مگر دیکھنے میں انہماک برائے نام ہی تھا۔ بس یہ تھا کہ جلدی ختم ہوں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دلیپ کمار اور امیتابھ کے بعد یا تو کوئی دل کو جچا نہیں یا پھر ہمارا شوق ہی مرحوم ہو گیا۔


مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: