‘‘مطالعہ پاکستان کا مذہب آلود آموختہ’’‎ —- عزیز ابن الحسن

0

ابکے مسئلہ جناب وجاہت مسعود کی درج ذیل ایک ٹویٹ سے پیدا:

’’اگر سلامتی کونسل کو مطالعہ پاکستان کا مذہب آلود آموختہ سنایا گیا تو دو طرفہ الزامات کی گرد میں مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام گم ہو جائیں گے۔ مودی حکومت کامیاب لوٹے گی اور ہم اپنی ناکامی کسی مفروضہ دشمن کے دروازے پر رکھ آئیں گے‘‘۔

وجاہت مسعود کے متن میں “مطالعہ پاکستان کا مذہب آلود آموختہ” کا کلمہ یقیناً ایک بےاحتیاطی ہے مگر غلط یا صحیح طور پر “مطالعہ پاکستان” سے پیدا ہونے والے مزاج اور اس رد عمل میں وجاہت مسعود اور ان جیسے چند اور احباب کے پورے ذہنی پس منظر کو دیکھتے ہوئے یہ کچھ اتنا تعجب انگیز بھی نہیں۔ سیکولر ذہن کے اندر مذہب کے معاملے میں ویسے ہی ایک تعصب موجود رہتا ہے جس کا اظہار خواہی نہ خواہی ہوتا رہتا ہے جو یہاں بھی ہے۔ لیکن بطور خاص محولہ بالا جملے کا پس منظر دیکھنے کے لیے میں نے مسئلہ کشمیر پر وجاہت صاحب کی پچھلی ایک دو تحریریں پھر سے دیکھیں اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مذکورہ بالا جملہ جس ماحول میں لکھا گیا ہے اس پورے تناظر کو دیکھتے ہوئے اس کلمے کا شاید وہ عندیہ نہیں ہے جو عموماً مذہبی لوگوں کی دل آزاری کا سبب بنا کرتا ہے۔

وجاہت صاحب کا مقصود صرف اتنا لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر مذہب کے نام کے استعمال سے جس طرح پاکستان کے لوگوں کو جذباتی کرکے مقصدبراری کی جاتی ہے، یہ طریقہ واردات سلامتی کونسل میں کام نہیں آئے گا بلکہ شاید وہاں یہ الٹے نتائج پیدا کرے لہذا وہاں زیادہ ہوشمندی کی ضرورت ہے۔

مذہب کو آلودگی قرار دینا بہرحال بالکل غلط ہے۔ مذہب اگر “آلودگی” ہے بھی تو تاریخ انسانی کا بڑا حصہ اسی “آلودگی” کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی اس کا کوئی امکان نہیں کہ دنیا مذہب کے ماننے والوں سے بالکل خالی ہوجائے گی۔ کیرن آرم سٹرانگ کے ایک دلچسپ مطالعے کے نتائج کے مطابق آج بھی دنیا کی ہر قوم کے اندر مذہب کی کوئی نہ کوئی صورت پھر سے زندہ ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

پچھلی دو تین دہائیوں سے راقم کا مشاہدہ تو یہ ہے کہ مذہب کی صحیح ترین صورتیں دنیا سے ختم اور اس کی مسخ ترین شدہ صورتوں کو زندہ و فعال کرکے اس سے اپنی مقصدبراری کرنا دنیا کی کارپردازی پر قابض قوتوں کا من پسند اور مفید مطلب مشغلہ بن چکا ہے۔ کوئی زمانہ تھا کہ مذہب کی مخالفت جدیدیت کا خاص وطیرہ تھا مگر مابعد جدید دور میں اب مذہب مخالفت کے بجائے جعلی مذاہب ایجاد کرکے اس سے حقیقی مذہبی روح کا قلعہ قمع کیا جاتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اپنی مذکورہ ٹویٹ میں وجاہت صاحب نے مذہب کو “آلودگی” بہرحال نہیں کہا۔

مغربی معاشروں میں مذہب کے خلاف اگر ردعمل ہوا ہے تو اس کے پیچھے کلیسا اور ریاست کی کشمکش اور حسیت پرستانہ فلسفہ و سائنس کی صدیوں پر محیط ایک تاریخ ہے جس کے اثرات گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی سے ہمارے ہاں بھی پہنچ رہے ہیں۔ لیکن خاص پاکستانی تناظر میں کچھ دانشور طبقوں کے اندر مذہب مخالف یا مذہب بیزار مزاج پیدا ہونے کا ایک اور سبب بھی ہے۔ اور وہ ہے ہمارے عمومی رویوں میں بالعموم اور سیاست میں بالخصوص جا و بےجا طور پر “مذہب کا استعمال”۔ گزشتہ ساٹھ ستر سال کے دوران مذہب کو اس شے نے جتنا نقصان پہنچایا ہے افسوس کہ اس کا اندازہ اچھے بھلے مذہبی ذہنوں کو بھی کم ہی ہے۔

ہمارا مجموعی مزاج کچھ ایسا ہو چکا ہے ہم مذہب کو اس کے درست ترین مفہوم میں سمجھنے، اعتدال اور توازن کے ساتھ صحیح ترین محل میں اسے برتنے اور اپنی انفرادی زندگی و اجتماعی اداروں میں اس کی روح پر عمل کرنے کے بجائے اپنے مزعومہ مفادات کے تحفظ کے لئے اس کا “استعمال” بہت وافر طور پر کرتے ہیں۔ ہماری عملی زندگی میں مذہب اور اس کے حقیقی تقاضوں کے مابین فاصلہ جتنا بڑھ رہا ہے ہم اتنا ہی زیادہ مذہب کو “جذباتی فضا” پیدا کرنے کے لیے کام میں لاتے ہیں اور اس طرح گویا اس “احساس گناہ” کی تلافی کرتے ہیں جو ہماری بد اطواریوں اور بے عملیوں کی وجہ سے ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے۔ مذہب کے کچھ ظواہر اور چند رسمیات کو اپنی عملی زندگی میں اگر ہم نے باقی رکھا بھی ہوا ہے تو صرف اس حد تک کہ وہ ہماری تن آسانیوں، خواہشات اور مفادات کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ مذہب سے اب ہمارے دلوں میں نہ تو نرمی پیدا ہوتی ہے اور نہ دوسرے کیلیے دلسوزی۔ بے روح عبادات تو ہمارے ہاں پھر بھی کسی نہ کسی درجے میں موجود ہیں مگر حسنِ معاشرت کے سب سے اہم جز یعنی معاملات سے ہم مجموعی طور پر مکمل صرفِ نظر کیے رہتے ہیں۔ غصے، درشتی، کرودھ، بدکلامی اور ایذارسانی کا کوئی موقع ہم ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ گھر پڑوس اور گلی محلے میں دوسروں کی جائز تکلیف کا خیال کرکے اپنے وقتی فائدے کی قربانی ہمارے نزدیک مذہبی تعلیمات کا گویا حصہ ہی نہیں ہے۔ ہم اپنی ہر شخصی بدخصلتی کے جواز کےلیے ایک خود ساختہ قسم کے “اپنے حق” کی آڑ لیتے ہیں مگر اپنے فرائض کا ہمارے ہاں کوئی تصور نہیں۔ مذہب جہاں ہماری خواہشات مفادات کی راہ میں رکاوٹ بنے وہاں ہم اسے کسی نہ کسی بہانے سے الگ کرکے اپنا آپ بچا کر نکل جاتے ہیں۔ مگر چونکہ ہم اپنی نظر میں “مذہبی” بھی ہوتے ہیں اور آئندہ بھی رہنا چاہتے ہیں اس لئے اپنی منافقت کے احساس سے پیدا ہونے والی اندر کی کشمکش سے بچنے کے لیے مذہب کے عنوان کا کوئی ایسا جذباتی سہارا ضرور “ایجاد” کرتے ہیں جس سے دوسروں کو یہ گمان اور ہمیں یہ تسلی رہے کہ مذہب سے ہمارا ناطہ منقطع نہیں ہے۔ اس “مذہبی پن” کے مظاہرے کے لئے ضروری نہیں کہ مذہب کی درست ترین صورت ہی سامنے آئے بلکہ اس سے اکثر و بیشتر، اور لازمی طور پر، مذہب سے وابستگی کی مسخ شدہ صورتوں ہی کا اظہار ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا میں مذہب کے جو نتائج پیدا ہوا کرتے ہیں وہ کتابوں میں بند مذہب کی صحیح ترین صورت کی بجائے اس کی مقبول عام اور مروجہ صورتوں سے سامنے آیا کرتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہمارے یہاں مذہب کے سماجی اظہار کی مروجہ صورتیں اکثروبیشتر مسخ شدہ اور جذباتی ہیں۔ اسی لئے ان کے نتائج اور اثرات بھی منفی ہیں۔

یہ آئے روز مذہبی علامات، تصورات اور مقدسات کے عنوان سے ہم جو نعرے بازی کرتے ہوئے جلسے جلوس نکالنے، راستے اور سڑکیں بند کرکے دوسروں کیلئے آزار پیدا کرنے لگتے ہیں یا مخالف فرد، جماعت یا گروہ کو توہینِ فلاں فلاں کا مرتکب قرار دیتے ہوئے دھرنے دینے لگتے ہیں، ان سب کا جواز اور سبب ہماری اسی بے عمل اور بدخصلت منافقت میں ہوتا ہے جسے پھر ہر دور کا کوئ مذہبی و سیاسی گروہ، اشرافی ٹولہ، اسٹبلشمنٹی جتھا اور حکمران طبقہ اپنے مذموم و مکروہ مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے کیونکہ اس طبقے کو بھی مذہب سے اپنی وابستگی کی کوئی نہ کوئی جذباتی صورت دکھانی ہوتی ہے۔ انفرادی سطح سے لے کے اجتماعی سطح تک اور حکومتی معاملات سے لے کر ریاستی سطح تک یہ ہماری اسی مسخ مذہبی خود تسکینی کی مختلف صورتیں ہیں۔

ہمارے ملک کی حکومتی سیاسی و سماجی تاریخ کے بڑے حصے میں ہمیں یہی کچھ ہوتا نظر آیا ہے: اسلام اور پاکستان کے سہانے عنوان پر جذباتیت پیدا کرکے اپنے مخالف کو ناپسندیدہ نام دینا، ملک دشمن، غدار، (ایم آر ڈی ڈی تحریک کے دوران) ڈاکو، دہشتگرد، ہندوستان دوست اور مودی کا یار قرار دے کر اس کے سینے کو تمغۂ ذلت سے داغنا اور اس کے بارے میں نفرت پیدا کرنے کے جملہ حربے استعمال کرکے اپنے ناپاک مقاصد حاصل کرنا، یہ سب اسی مذہبی یا حب الوطنی جذباتیت کو کام میں لا کر ممکن ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تیربہدف نسخہ ہے جو اپنے سماجی ثقافتی اور معاشی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں سے نپٹنے سے لیکر اپنے سیاسی مخالفین کو درے مارنے، احتسابی عدالتوں میں گھسیٹنے اور کال کوٹھیوں میں سڑانے تک نہایت کامیاب اور مفید مطلب نتائج دیتا ہے۔

جدید دنیا میں جتنا بڑا مسئلہ سیکولرائزیشن اور الحاد کا فروغ ہے کچھ ویساہی اور نتائج کے اعتبار سے شاید ایسا ہی خطرناک مسئلہ مذہب کو اپنے مزعومہ مفادات کے لئے استعمال کرنا اور عملی طور پر مذہب سے دور رہنا ہے۔ ہمارے ہاں اہلِ دانش میں تیزی سے فروغ پاتی لامذہبیت اور نظریۂ پاکستان سے بیزاری کا ایک اہم سبب مذہبی مقدسات و علامات اور حب الوطنی کے نام پر گھڑے جانے والے ’’سچ‘‘ کی میڈیائی تشکیل ہی ہے۔

قائداعظم کی کسمپرس موت، لیاقت علی خان کا قتل، فاطمہ جناح کی ہندوستانی ایجنٹی اور پراسرار حالات میں مردہ پایا جانا، 65 کی جنگ میں ہندوستان کا پہل کرنا، سبز پوشوں کا پکڑ پکڑ کر ہندوستان کی طرف بم اچھالنا، بنگالیوں کا ’’غدار‘‘ ہونا، حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کو سزا دینا، سیاچن پر ایک تنکہ گھاس نہ رکنے کے سبب اسے دشمن کے حوالے کر دینا، ایم آر ڈی تحریک میں ڈاکوؤں کا ہونا، لال قلعہ پر فتح کے جھنڈے گاڑنے کے لئے کارگل پر چڑھائی کرنا، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے وقوعے پر کمشن بنانا، مشرف کو دہری آئین شکنی پر نشانہ عبرت بنا ڈالنا، پانامہ میں ملوث چار سو مجرمین کو بلاامتیاز پکڑ کر نااہل کرنا، نواز شریف کی فیکٹریوں میں ہندوستانی جاسوسوں کا کام کرنا اور فیض آباد دھرنے میں ختم نبوت کے نام پر لوگوں کے جذبات مشتعل کرنے کے اصل ذمہ داروں کو عدالتی فیصلے کے مطابق کیفر کردار تک پہنچانے کے معاماملات، یہ تو محض سرکاری ٹوکرے میں رکھے اس “سچ” کے چند نمونے ہیں جسے کبھی حب الوطنی مذعومات اور کبھی انصاف و احقاق کے مذہبی حیلوں کے نام پر فروغ دیا جاتا رہا ہے۔ “حق اور سچ” کی یہ وہ صورتیں ہیں جن میں سے اکثر پر اب مجھ جیسی وہ نسلیں بھی اپنا اعتبار گم کرتی جارہی ہیں جنہوں نے چالیس پچاس برس برس پہلے کی درسی کتب سے ان باتوں کو اپنے ایمان کا حصہ بنایا تھا۔

یاد رکھیے کہ سچ اور حق اتنی مقدس شے ہے کہ جس کا پاؤ پونا حصہ بھی چھپانا یا خود ساختہ مفادات کے تحفظ کے لیے اس میں رنگ آمیزی کرنا اتنا خطرناک ثابت ہوتا ہے کہ پھر یہ پورے کا پورا میڈیائی دشمن کے ہتھے چڑھ کر ہمیشہ کے لئے مشتبہ ہو جاتا ہے۔ یہی حال کرپشن کے نام پر کھلواڑ بنائی جانے والی، احتساب، عدل و انصاف جیسی عظیم انسانی و مذہبی اقدار کا ہے۔ خود ساختہ تصورِ حق اور سچ کے رنگین شیشوں سے گزر کر یہ اقدار بھی بے اعتبار ہوجاتی ہیں۔ جس کا نتیجہ ایک طرف ان مقدس اقدار کی بےاعتباری کی صورت میں نکلتا ہے اور دوسری طرف عامۃ الناس میں ان سے لاتعلقی اور مایوسی پیدا ہونے لگتی ہے۔ جس معاشرے میں یہ کام وافر طور پر ہونے لگے اس معاشرے کی تباہی کے لیے باہر کے کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔

پاکستان کی ساٹھ ستر سالہ تاریخ میں حب الوطنی اور مذہب کے اس سوءِ استعمال کا افسوسناک نتیجہ اب یہ ہے کہ ہماری نئی پڑھی لکھی نسل نہایت تیزی سے لامذہبیت اور سیکولرزم کی طرف مائل ہوتی جارہی ہے۔ مذہبی طبقہ اور حکمران اشرافیہ دونوں نہایت تیزی سے بے اعتبار ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے کہے کو اب کوئی سچ نہیں مانتا اور ان کیے کو اب عزت کی نگاہ سے کوئی نہیں دیکھتا۔ معاشرے کے لیے ان کی اصل خدمات اور وطن کے لیے ان کی حقیقی قربانیاں بھی اب نشانۂ تضحیک بننے لگی ہیں۔ کسی سماج میں اہل مذہب کی آواز، ملک میں حکمران کی بات اور سرحدوں پر سپاہی کی قربانی اگر بے توقیر ہو جائے تو ریاست کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدیں تادیر غیر مسخر نہیں رہ سکتیں۔

کسی ملک کے اندر کے ایسے حالات پر کڑی نظر رکھنے والی بیرونی قوتیں ایسے ہی موقعے کی طاق میں بیٹھی ہوتی ہیں۔ وہ وہاں کے لوگوں کے “علاقائی معاشی ثقافتی حقوق” کے مسئلے کو مبالغہ آمیز اعدادوشمار دکھا کر ایکسپلائٹ کر کے کبھی بنگلہ دیش بنواتی ہیں، کبھی سندھودیش اور عظیم بلوچستان کا نعرہ لگواتی ہیں اور کبھی پشتون تحفظ تحریک کا روپ دھارن کرواتی ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی رہتی ہے کہ حب الوطنی اور پاسدارئ مذہب کے چمپئن بڑی سنجیدگی سے اس تشویشناک صورتحال پر غور کرتے رہیں۔ مگر افسوس کہ سماج اور ریاست کی ان مقتدر قوتوں کے پاس ہر مسئلے کا حل مخالف رائے کو بزورِ تادیب خاموش کرنے اور من پسند بیانیے کو بذریعہ پروپیگنڈا فروغ دینے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر حاشیے میں پڑے “محروم طبقات” کی نوجوان نسل میں یہ تاثر بھی جڑ پکڑ لے کہ مذہبی قوتیں عوام کے مسائل کے ساتھ جڑنے کے بجائے ہمیشہ مقتدر قوتوں کا آلہ کار بن کر رہتی ہیں تو اس کا نتیجہ مذہب سے مزید دوری کی صورت میں نکلتا ہے۔ مذہبی اشرافیہ اور مقتدر قوتوں کے اس طریق کار کے نتائج نہ ماضی میں کبھی مثبت نکل سکے ہیں اور نہ مستقبل میں ان ہتھکنڈوں سے کچھ بہتری کی امید ہے۔

ویسے بھی اب وہ زمانہ آ چکا ہے کہ دنیا میں جو بڑے بڑے فتنے پیدا ہو رہے ہیں ان میں سے سب سے ہلاکت خیز فتنہ وہ ہوتا ہے جو مذہب کے عنوان سے پھیلایا جاتا ہے۔ اس دور کے عالمی پیچیدہ اقتداری قویٰ اور حرکیات کے پاس ایک نہایت کامیاب حربہ یہ ہے کہ مذہب، اور خاص طور پر اسلام، جو دنیا میں آیا ہی امن و سلامتی قائم کرنے کے لیے تھا اسے عالم کا سب سے بڑا فتنہ بنا دیا جائے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض نادان مذہب دوست انجانے میں اس کے آلۂ کار بن کر انہی کے مقاصد پورے کرتے ہیں۔

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغِ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی

احادیث میں دورِآخر کی جو منظر کشی کی گئی ہے اس کا سب سےخطرناک پہلو حق اور باطل کے امتیاز کا مٹ جانا ہے، اور یہی باطل کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ باطل بطور باطل کبھی قائم نہیں رہ سکتا، اس کا سب سے موثر طریقۂ واردات خود کو حق کے پردوں میں چھپا لینا اور حق کی جگہ لے لینا ہے۔ یہی دجالیت ہے اور یہی اس کی تلبیس ہے۔ ایسے میں کرنے کا واحد اور سب سے مشکل کام یہی ہے کہ حق کو باطل کی جملہ الائشوں سے الگ کرکے اسے اس کی درست ترین اور خالص ترین صورت پر قائم کر دیا جائے۔ لیکن اگر ہم خود ہی کچھ وقتی مصلحتوں اور حب الوطنی وغیرہ کے خود ساختہ تصور کی آڑ میں حق اور سچ کو چھپانا اور ان کی من چاہی شکل دکھانا شروع کر دیں گے تو یہ نہ مذہب کی خدمت ہوگی اور نہ اس سے حقیقی حب الوطنی پیدا ہوگی۔ حق + باطل کا آمیزہ کبھی حق نہیں ہوتا بلکہ وہ باطل کی بدترین شکل ہوتا ہے۔

قیامِ پاکستان کےابتدائی برسوں میں محمد حسن عسکری نے پاکستانی ادب کی جو بحثیں چھڑی تھیں ان میں انہوں نے پاکستانی ادب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ بتائی تھی کہ پاکستانی ادب کو ہمیشہ سچا ہونا ہوگا۔ اسے حق کی گواہی دینی ہوگی خواہ یہ گواہی اپنے گروہی مفادات کے خلاف ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ اس سچے اور کھرے پاکستانی ادب کے ابتدائی نمونے انہوں نے منٹو اور قدرت اللہ شہاب کے افسانوں ’’کھول دو‘‘ اور ’’یاخدا‘‘ کو قرار دیا تھا جس میں مسلمان رضاکاروں کے خلاف گواہی دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ حق لاشریک ہوتا ہے، وہ بے آمیزہے۔ اس کی بے رنگی ہی اس کا رنگ ہے۔ وہ اپنے پرائے کی تمیز کیے بغیر اپنا احقاق چاہتا ہے۔ وہ نا انسان پرستانہ مقدسات کو مانتا ہے، نہ خود ساختہ مذہبی عصبیت پر قائم جذباتیت کو اور نہ کسی مخصوص رنگ کی حب الوطنی کو تسلیم کرتا ہے۔ بایں معنی حق کا متضاد مذہب یا کفر نہیں بلکہ ظلم ہے۔ ابتدائی دورِ اسلام میں بے شمار ایسی نظیریں ملتی ہیں کہ جس میں حق نے نام نہاد مسلمان کے بجائے بلاتمیزِ رنگ و مذہب ایک غیرمسلم کا ساتھ دیا تھا، جہاں سچ نے آگے بڑھ کر خلیفۂ وقت کے گھوڑے کی لگامیں تھام لیں اور محض بے خبری میں حملہ کرنے کے سبب اس نے مسلمانوں کے خلیفہ سے رومیوں سے چھینی ہوئی زمین واپس کرادیں تھیں۔ آج کے پڑھے لکھے پاکستانی ضمیر کو بھی سچ کی ایسی ہی گواہی دینی ہوگی۔ اس گواہی کا فریضہ اگر پاکستانی شناخت رکھنے والا مذہبی مزاج ادا نہیں کرے گا تو پھر یہ میدان سیکولر ذہن کے سپرد ہی رہے گا اور وہ اس سے اپنا من پسند تشکیلیہ ایجاد کرکے نوجوان ذہنوں کو مسخر کرتا رہیا گا۔

اس تحریر کا آغاز ’’مطالعۂ پاکستان کا مذہب آلود آموختہ‘‘ کے عنوان سے مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ہوا ہے۔ ہم اس بحث کو معروف مسلم+مسیحی مناظرہ کار شیخ احمد دیدات کے ایک واقعے کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس زمانے میں سلمان رشدی کا ناول ’’شیطانی آیات‘‘ آیا تھا، مسلم دنیا میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ مغربی دنیا میں بھی اس احتجاج کی صدائے بازگشت گئی مگر اکثر و بیشتر غیرمؤثر رہی تھی۔ ایسے میں شیخ احمد دیدات نے اپنی ایک خاص حکمتِ عملی سے جنوبی افریقہ میں اس ناول پر سب سے پہلے پابندی لگوائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے موقعوں پر مسلمانوں کا جذباتی ردِّعمل عموماً منفی نتائج پیدا کرتا ہے۔ مغرب میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں شے سے مسلمانوں کے پیغمبر کی توہین ہوئی ہے تو چونکہ یہ بات وہاں کوئی معنی ہی نہیں رکھتی کہ وہ تو خود حضرت عیسیٰ سے بھی چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ کچھ تو اس سبب سے اور کچھ اس وجہ سے کہ مسلمانوں کی جذباتی تکلیف اور جنونی ردِّعمل سے وہ لوگ ایک گونہ لذت بھی کشید کرتے ہیں، مغرب پر مسلمانوں کی ان ہنگامہ آرائیوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس تناظر میں شیخ احمد دیدات نے رشدی کے ناول کے معاملے میں ایک بالکل مختلف انداز کا مقدمہ لڑا تھا۔ انہوں نے جنوبی افریقہ اور انگلستان میں لوگوں کو یہ بتلانا شروع کیا کہ ’’شیطانی آیات‘‘ کے فلاں فلاں صفحات پر مارگریٹ تھیچر اور ملکۂ برطانیہ کے لیے نہایت غلیظ زبان استعمال کی گئی ہے۔ وہ ناول کے متعقلہ اقتباس اور الفاظ نمایاں کر کر کے مجمعے میں سنائے۔ وہ کہتے کہ اس ناول پر صرف اسی لیے پابندی نہیں لگانی چاہیے کہ یہ مسلمانوں کے نبی کی اہانت کرتا ہے بلکہ اسلئے بھی کہ اس میں آپ کے مقدسات و محرمات کے لیے گندے الفاظ لکھے گئے ہیں۔ یوں انہوں نے جنوبی افریقہ میں اس ناول پر سب سے پہلے پابندی لگوا دی تھی۔

مسئلۂ کشمیر پر بھی اگر ہم محض ’’مسلمان نقطۂ نظر‘‘ سے جذباتی ردِّعمل دینے کی بجائے اس آتش فشاں سے نکلنے والے لاوے میں مغرب کی ہنستی بستی زندگی کو بھی بھسم ہوتا دکھا سکیں تو اقوام عالم میں کامیابی کی امید نسبتاً زیادہ ہے۔ ورنہ کسی مفروضہ “عالمی ضمیر” سے ایسی کوئی توقع رکھنا کے وہ کسی مسئلے کو محض مسلمانوں کا مسئلہ جان کر اس پر کان دھرے گا، بالکل عبث توقع ہے۔

اب ایک آخری بات۔
پیچھے ہم نے کہا تھا کہ مغرب میں مذہب کی مخالفت جدیدیت کے دور کا خاصہ تھا مگر مابعد جدید دور کا غالب رجحان مذہب کی مخالفت کے بجائے جعلی مذاہب ایجاد کرکے انہیں اصلی مذہب کا متبادل بنا کر پیش کرنے کا ہے۔ لاطینی امریکی روایات اور قدیم اساطیری رسوم سے اخذ کردہ جعلی روحانیات، یوگا، نشہ آور ادویات اور مراقبوں سے حاصل ہونے والی رنگ برنگی دنیا کی تسکین آور سیر اور جعلی اسلامی تصوف کی طرف اہل مغرب کی رغبت اس دور کا خاصہ ہے۔ شدہ شدہ یہ خبریں ہمارے لبرلز تک بھی پہنچی ہیں۔ یوں تو وہ مذہب مخالف اور انسان دوست (ہیومنسٹ) ہوتے ہیں مگر اوپر دی گئی ’’روحانیت‘‘ کے کرشمیں ان کی طبع آزادہ رو کو اکثر بہت خوش آتے ہیں۔ اس لیے انہیں “مولوی کے اسلام” سے چڑ اور نام نہاد “صوفی اسلام” سے زیادہ دلبستگی محسوس ہوتی ہے۔ اور باقی جہاں تک جعلی مذاہب کا تعلق ہے تو یہ مظہر بھی تمام لبرلز اور سیکولرز کی خاص دلچسپی کی شے ہوتا ہے۔ یقین نہ آئے تو مرزائیت/ قادیانیت کے بارے میں ان کی ہمدردانہ وکالت کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔

ایسی صورت میں خود متصورہ حب الوطنی کے وکیلوں اہل مذہب کو چاہئے کہ وہ اپنی جذباتیت کی پینک سے نکلییں اور حب الوطنی اور مذہبی حق کی سچی اور کھری صورت سے اپنا عملی رشتہ قائم کریں۔ اس کے فوری نتائج اگر ان کے بعض مفادات کو نقصان پہنچانے کی صورت میں بھی نکلیں تب بھی یقین رکھیں کہ دور رس اور آخری کامیابی انہی کی ہے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: