علی سجاد شاہ سے ایک مکالمہ ۔۔۔۔۔۔ خرم سہیل

0
  • 4
    Shares

تعارف
پاکستانی سینما میں سجاد علی شاہ بطور پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور رائٹر ایک عمدہ اضافہ ہیں۔ یہ پیشے کے لحاظ سے صحافی، بلاگر اور کہانی نویس ہیں۔ سوشل میڈیا پر ابو علیحہ کے نام سے متحرک ہیں اور سیاسی طنز و مزاح لکھنے میں ان کو مہارت حاصل ہے۔ ان کی ایک کتاب ’’میں خمیازہ ساحل کا‘‘ شایع ہونے کے بعد مقبول ہوئی، اب تک اس کے دو ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔ اس کتاب میں مضامین، کہانیاں، شاعری اور دیگر نوعیت کی تحریریں ہیں۔ انہوں نے بطور پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور رائٹر پہلی فلم ’’عارفہ‘‘ بنائی، جس کا نام بدل کر ’’تیور‘‘ رکھا گیا ہے، یہ فلم عنقریب ریلیز ہو جائے گی۔ اس کے بعد ان کی تیسری فلم ’’پٹاخے‘‘ ایک مزاحیہ فلم ہے، جو مکمل ہونے کے بعد بالترتیب ریلیز ہوگی۔

ابھی حال ہی میں ان کی ریلیز ہونے والی فلم ’’کتا کشا‘‘ کو باکس آفس پر بہت کامیابی ملی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام میں ان کی بنائی ہوئی فلم پسند کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کئی فلمیں پروڈکشن کے مراحل میں ہیں۔ علی سجاد شاہ کی سینما کے لیے بے چینی یہ بتاتی ہے کہ مستقبل قریب میں یہ پاکستانی سینما میں مزید مصروف ہونے والے ہیں، جس کا اندازہ ان کی حالیہ فلموں سے ہوتا ہے، جن کو مختصر بجٹ میں بنا کر فوری طور پر ریلیز کرنا ہے۔

بطور فلم ساز یہ ان کا پہلا اور تفصیلی انٹرویو ہے، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے پیشہ ورانہ اور ذاتی گوشوں پر کھل کر بات کی ہے۔ اس مکالمے کو پڑھ کر یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک نیا فلم ساز کیا سوچ رہا ہے۔ یہ مکالمہ آپ کے لیے حاضرِ خدمت ہے۔

س: آپ کی شہرت فلمی دنیا میں ایک ایسی فلم سے ہے، آج تک جو ریلیز ہی نہیں ہوئی، جس کا نام’’عارفہ ‘‘ہے، تو آپ اس شہرت سے کیسے لطف اندوز ہوئے؟

ج: یہ شہرت سے زیادہ بدنامی تھی اور اس کو کیا کہہ سکتے ہیں۔ میری وہ فلم اور اس کی کہانی بہت ہی عمدہ ہے، لیکن اس کے متعلق کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں، جس کی وجہ سے اس فلم کا تاثر منفی ہو گیا، ورنہ درحقیقت فلم میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ میں بہت کم عمری سے پاگلوں کی طرح فلمیں دیکھتا آیا ہوں پھر میں نے لکھنے پڑھنے کے شعبے میں اپنا کیرئیر بنانے کا ارادہ کیا، اس لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد لکھنے کی پیشہ ورانہ ابتدا کی۔ میں نے شوبز کی زندگی میں بہت کچھ لکھا، مگر اس لکھے ہوئے متن پر میرا نام زیادہ تر شایع نہ ہوا، جس کی وجہ یہ تھی، مجھے پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی اور جو کام دیتے تھے ان کو تخلیقی متن کی، اب چاہے وہ ڈراما ہو، کوئی کہانی ہو یا کچھ اور ہو، تو اس لیے مجھے معاوضہ تو مل جاتا تھا لیکن کسی بھی تحریر پر میرا نام نہیں ہوتا تھا۔ اسی عرصے میں صحافت سے بھی وابستہ رہا، سب سے اہم بات یہ تھی، میں جس حلقہ احباب میں بیٹھتا تھا، ان میں مختلف شعبوں کے لوگ شامل تھے، جن میں صحافی، ادیب، شاعر اور دیگر لوگ تھے، لیکن ان سب میں ایک بات مشترک تھی کہ ہر کوئی فلم بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ مجھے بھی اس شعبے کی طرف آنا تھا، اس لیے میں نے ان لوگوں کے دائرے میں خود کو اچھی طرح ضم کر لیا، اب چاہے یہ فلم ساز سید عاطف علی یا نوشاد انور تھے یا ڈرامانگار غزالہ آپا اور دیگر تھے، تو میں جب اسلام آباد سے کراچی آتا تو ان لوگوں کے ساتھ رہتا تھا، اگر کسی کا کوئی ڈراما بن رہا ہے، تو میں وہاں چلا جاتا تھا، شوٹنگ دیکھتا تھا، اس  طرح میں نے بھی ذہن بنا لیا تھا، مجھے اب اپنا کام کرنا ہے۔ اس لیے میں ان کے ساتھ رہتے ہوئے ہر شعبے میں کام سیکھنا شروع کیا تاکہ میں پروڈکشن کے تمام مراحل سے واقفیت حاصل کرسکوں۔ عالم یہ تھا کہ دوران شوٹنگ کسی کو سگریٹ کی ڈبی چاہیے تو وہ بھی بھاگ کرمیں ہی لا دیتا تھا۔ میں نے اپنی توجہ اس طرح مرکوز کر رکھی تھی، لیکن جو بات میں نے واضح طور پر محسوس کی، وہ یہ تھی، یہاں کراچی میںجتنے بھی لوگ کام کر رہے تھے، بالخصوص فلم کے شعبے میں، وہ سب بڑے بجٹ کے ساتھ کام کر رہے تھے، کم بجٹ میں اچھی فلم بنانے کا ایک خلا تھا، جس کو میں نے پرُ کرنے کا سوچا۔ اس موقع پر میں نے ایک فلم لکھی، اس کا نام’’عارفہ‘‘ تھا۔ اس فلم کو بناتے وقت میرے ذہن میں یہی تھا، میں بڑے بڑے اداکاروں سے کام لینے کی بجائے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس سے کچھ طلبا کو فلم میں لے کر ایک چھوٹی سی فلم بنائوں  لیکن کچھ وقت اورحالات نے ساتھ دیا اور اچھے اسپانسرز مل گئے۔ میں نے اس فلم میں اکبر سبحانی کو کاسٹ کیا، تو مجھے بہت سارے لوگوں نے کہا، ان کی طبیعت ناساز رہتی ہے، پھر ان کی یادداشت بھی متاثر ہے تو ان کو فلم میں مت لیں، وہ آپ کو پریشان کریں گے، لیکن میں نے تو فلم میں وہ کردار انہی کو سوچ کر لکھا تھا، اس لیے میں نے ان کو کاسٹ کیا اور ان سے کام بھی لیا۔ انہوں نے مجھے کئی بار کہا، شاید میرا دل ہی رکھنے کے لیے کہا ہو، لیکن وہ کہتے ہیں ’’جو کام میں نے تمہاری فلم میں کیا ہے، وہ میری پیشہ ورانہ زندگی کا منفرد کام ہے۔‘‘ میرے لیے بھی ان کے ساتھ کام کرنا ایک بہت خوشگوار تجربہ تھا، میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔

س: آپ کی ایک خواہش یہ بھی تھی، آپ کالے جادو پر فلم بنائیں، تو کیا آپ کے دل میں یہ خیال سید عاطف علی کی صحبت میں رہ کرآیا، یا آپ پہلے سے چاہتے تھے کہ اس نوعیت کی کوئی فلم بنانی چاہیے؟

ج: عاطف بھائی کی فلم جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بنی ہے، میرے پاس تو اتنے پیسے نہیں تھے کہ میں الیگزا پر فلم بنا پاتا پھر میں نے عارفہ یا کتاکشاکی کاسٹ کا حساب کتاب کیا تو پتہ چلا کوئی بھی فلم دوتین کروڑ سے کم میں بن ہی نہیں سکتی۔ میں نے جب اس تناظر میں تحقیق کی، تو پتہ چلا اگر سادے فارمیٹ پر فلم بنائی جائے تو ذرا لائٹنگ کا فرق پڑتا ہے، باقی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس پہلوسے میں اپنی دونوں فلموں کے لیے جن کا موضوع کالا جادو ہے، اس پہلو کا خیال رکھا، اپنی فلم عارفہ کے لیے میں نے ملک یوسف کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے نامعلوم افراد ون ٹو اور لوڈ ویڈنگ جیسی فلموں کی لائٹنگ کرچکے ہیں جبکہ فلم کتاکشا کے لیے راکھابھائی ہیں، جنہوں نے دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے لیے اپنی خدمات فراہم کی ہیں۔ فلم کتاکشا میں جس طرح فریم ورک کیا گیا ہے لائٹنگ کے ساتھ ،وہ ایک مشکل کام تھا، مگر ہم نے کیا ہے، آپ فلم میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیمرہ کون سا ہے، لیکن لائٹنگ سے بہت فرق پڑتا ہے، میری فلم کتاکشا میں سب سے زیادہ کمال لائٹنگ کا ہی ہے۔

س: حال ہی میں ریلیز ہونے والی آپ کی پہلی فلم’’کتاکشا‘‘ کی عکس بندی کے لیے’’کٹاس راج‘‘ کاا نتخاب کس کا فیصلہ تھا؟

ج: ایک ایسی فلم بنانے کی خواہش تھی، جس میں ایسا مقام ہو، جو کہانی میں جان ڈال دے۔ کٹاس راج کی اپنی تاریخ تو چار ہزار سال پرانی ہے، لیکن اس کی طرف جانے کے راستے ہرے بھرے ہیں اور ان میں ایک فطری حسن دکھائی دیتا ہے، جس سے ہماری کہانی کو مزید مضبوطی مل سکتی تھی، اس لیے وہاں کا انتخاب کیا۔ فلم کی عکس بندی میں کلر کہار، سون وادی، کوبیکی جھیل وغیرہ کے مقامات بھی استعمال ہوئے ہیں۔ فلم کی شوٹنگ کے لیے کٹاس راج کا مقام تو مرکزی مقام تھا، مگردوسرے علاقوں میں عکس بندی کرنے سے فلم میں مزید حسن پیدا ہوگیا۔

س: فلم کا نام کتاکشا کیوں رکھا؟

ج: اس کا پس منظر یہ ہے، جو لوگ میرے اردگرد تھے، ان میں سے دو میرے بہت اچھے دوست ہیں، جن کے نام عاطف علی اور علی معین ہیں۔ عاطف بھائی نے فلم ’’پری‘‘ بنائی اور بہت عام سا نام رکھا۔ اسی طرح علی معین نے ایک فلم کا اسکرپٹ مکمل کرکے اس کا اعلان کیا اور اس کا نام عاشق رکھا۔ اب اس دوران میں بھی اپنی فلم کے لیے نام سوچ رہا تھا مگر میں کوئی عامیانہ نام نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ میری خواہش تھی کہ ایسانام رکھوںجوکسی کو سمجھ ہی نہ آئے۔ میری فلم کا مرکز کٹاس راج تھا، تو جب میں نے اس کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کی، تو پتہ چلا اس میں جو تالاب ہے، اس کا نام چشم ِالم یعنی آنسوئوں بھری جھیل ہے۔ مغل حکمرانوں نے اسے یہ نام دیا تھا۔ یہ تالاب کیسے بنا، یہ مندر کیسے بنے، اس کی میتھالوجی یہ ہے کہ ہندو بھگوان شیو کی بیوی ستی تھی، وہ مرگئی، تو وہ اس کی یاد میں اتناروئے کہ وہ تالاب آنسوئوں سے بھرگیا، ہندوروایات کے مطابق ایسا تھا اور یوں اس کا نام کتاکشا پڑگیا جو خالص شدھ سنسکرت زبان میں اس تالاب کا نام ہے۔

س: کیا تجربات رہے کٹاس راج پر شوٹنگ کرتے ہوئے، جب آپ نے صبح وشام اور رات میں بھی وہاں عکس بندی کی؟

ج: ہماری فلم کا مرکزی خیال بھی ڈر تھا، لیکن جب ہم نے وہاں شوٹنگ کی، تو کٹاس راج کے احاطے سے کچھ فاصلے پر ایک ہاسٹل تھا، جہاں ہم سب اپنی فلم کی ٹیم کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے اور کوئی چالیس پچاس لوگ تھے، مگر مجال ہے، رات کے وقت کوئی اکیلا آدمی باہر نکلنے کی جرات بھی کرسکا ہو، سب ٹولیوں کی شکل میں باہر نکلتے، ڈر کا یہی احساس ہماری فلم کا محور بھی تھا کیونکہ اس فلم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کوئی بھی مقام یا جگہ ڈرائونی نہیں ہوتی، نہ ہی وہاں کوئی بھوت پریت ہوتا ہے، لیکن ہر انسان کی زندگی میں اس کی اپنی پریشانیاں، محرومیاں ہوتی ہیںاور کچھ ڈر ہوتے ہیں، جو اس کے اندر سے ہی باہر آتے ہیں، اسی ڈر کے ہاتھوں فلم کے مرکزی چاروں کردار وں کی موت ہوتی ہے، ان کی موت کا سبب یکساں ہوتاہے کہ ان کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوتی ہے۔ ہماری فلم میں نفسیاتی ڈر کی صورتحال کو بیان کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں ڈرائونی فلم بھی رومانوی انداز میں بنائی جاتی ہے، اس میں گانے بھی شامل ہوتے ہیں جبکہ ڈرائونی فلم کا فارمیٹ یہ نہیں ہے کیونکہ اس کو عالمی سینما کے لیجنڈ جاپانی فلم ساز’’ آکیرا کوروساوا‘‘ نے طے کیا، ان کے فارمیٹ کو پوری دنیا میں تسلیم بھی کیا گیا۔ فلم کی کہانی کیا ہونی چاہیے اور کرداروں کی تقسیم، حتیٰ کہ ہیرو ہیروئن اور ولن کے تین مرکزی کرداروں کی تکون بھی انہی کی دی ہوئی ہے۔ اسی طرح مختلف ایکٹس بھی کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ پہلا ایکٹ ہے تو آپ کے کردار زیادہ جانتے ہیں، فلم بین کم جانتا ہے، دوسرے ایکٹ میں جتنا آپ کے کردار جانتے ہیں، اتنا ہی فلم بین بھی جانتے ہیں جبکہ تیسرے ایکٹ میں فلم بین زیادہ اور کردار کم جانتے ہیں۔ میری فلم میں ہر پہلو رومانوی ہے مگر کردار وں کی سمت دوسری ہے۔ چاندنی رات، رومانوی مقام، جھیل کے کنارے دوٹینٹ لگے ہوئے ہیں، چار کردار ہیں، دو خوبصورت لڑکیاں اور دو جاذب نظر لڑکے، مگر لڑکے الگ اور لڑکیاں الگ دکھائی گئی ہیں، اس لیے میں کہتاہوں کہ میری فلم آوٹ آف بوکس ہے۔ لیکن میں نے اٹھانوے لاکھ میں فلم بنائی ہے، جس کے ویژولز اور پوسٹ پروڈکشن کا معیار کافی بلند ہے، مزید بلند ہوسکتا تھا اگر پچاس لاکھ یا کروڑ روپیہ مزید اس پر لگا دیا جاتا لیکن میں اگر یہ مزید پیسے ڈھونڈنے مارکیٹ جاتا تو شاید فلم ریلیز ہی نہ ہوپاتی، میں نے فلم ایک کروڑ کے بجٹ میں بنا کر ریلیز کردی، اس ہمت کی داد توہونی چاہیے۔ میری فلم پر جتنی مرضی تنقید کرلی جائے لیکن کیا میری فلم کا آئیڈیا اوریجنل تھا کہ نہیں؟ اس کو پرکھنے کے لیے فلم بین ضرور میری فلم دیکھیں۔

س: آپ کی شہرت ایک بلاگر، جملہ باز سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ کی بھی ہے، جس کی گفتگو میں طنزومزاح کا پہلو ہوتا ہے، تو کیا آپ مستقبل میں بھی ڈرائونی فلمیں ہی بنائیں گے یا مزاحیہ فلمیں بنانے کی خواہش بھی رکھتے ہیں ؟

ج: میری ترجیح تو مزاحیہ فلم بنانا ہی ہے مگر فی الحال حالات نے مجھ سے دو ڈرائونی فلمیں بنوا دیں۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے، میں نے مالی مشکلات کے باوجود یہ فلمیں بنائیں، آپ سوچیں، فلم عارفہ میں اکبر سبحانی کا شوٹ چل رہا ہے، میں ری ٹیک پر ری ٹیک کروا رہا ہوں یہ مسئلہ نہیں ہے کہ اکبر صاحب کی پرفارمنس ٹھیک نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے، جیسے ہی میں سین اوکے کروں گا تو لنچ بریک ہو جائے گا، چالیس لوگوں کو کھانا کھلانا ہوگا، جس کے پیسے میری جیب میں نہیں اور میں نے ایک دوست کو بولا ہوا ہے، وہ کچھ دیر میں پیسے بجھوائے گا تو پھر لنچ کھلانا ممکن ہوسکے گا، یہ حالات بھی میرے ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں، جب مجھے کوئی ایسا پروڈیوسر مل جائے گا جو ہر پہلو سے میرے ساتھ تعاون کرے تو پھر میں بہت سہولت سے اپنی من پسند مزاحیہ فلم بنائوں گا۔ میں اپنے حالات چھپاتا نہیں ہوں، کیونکہ میں عملی طور پروڈیوسر نہیں ہوں، فلم ساز ہوں، میرے دوستوں نے مجھ پر بھروسہ کیا، میری مدد کی، مختلف دوستوں کی مدد سے میں نے فلمیں بنائی ہیں۔ آنے والے وقت میں میری تیسری فلم جومزاحیہ فلم’ ’پٹاخے‘‘ ہوگی، جس کا اسکرپٹ بالکل اوریجنل ہوگا۔

س: آپ کی فلم’’عارفہ‘‘ کا مرکزی خیال کیا ہے، ابھی فلم تو ریلیز نہیں ہوئی، لیکن اگراس کے بارے میں کچھ آپ بتانا چاہیں ؟

ج: کچھ عرصہ پہلے عامر لیاقت حسین نے اپنے ٹیلی وژن کے پروگرام میں پوری کہانی بتاہی دی تھی، اب وہ پروگرام یوٹیوب پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس فلم کا نام اب عارفہ سے تیور ہوگیا ہے۔ ایک مرتبہ جب میں اسلام آباد سے کراچی اپنے ماموں سے ملنے آیا، تو جب بے نظیر بھٹوکا سانحہ ہوا، اس وقت جو حالات ہوئے، وہ میں نے دیکھے ہیں، میرے ماموں کا کسی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، مگر وہ جس علاقے میں رہتے تھے، وہ علاقہ یرغمال بن چکا تھا، وہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہاں سے اس فلم کا خیال آیا، اس طرح کے حالات میں ایک وہ لوگ ہوتے ہیں، جو بلوے کو جنم دیتے ہیں اور حملہ آور ہوتے ہیں، دوسرے وہ ہوتے ہیں، جو اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور تیسرے متاثرین ہوتے ہیں۔ 16 دسمبر 1986 کے ایک دن کی کہانی ہے، جب کراچی میں اورنگی ٹائون میں ایک حادثہ ہوتا ہے اور لسانی فسادات پھوٹ پڑتے ہیں، ان حالات میں ایک گھر میں ہونے والے واقعات کو میں نے موضوع بنایا ہے، جس سے شہر کے سیاسی حالات کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ فلم میں دو گانے بھی ہیں، ایک گانا ساجد عباس نے گایا ہے، جو امیر خسرو کا کلام ’’موہے رنگ دے‘‘  ہے۔ دوسرا گانا ’’مستی کا چیمبر‘‘ گینگسٹر نوعیت کا گیت ہے، جسے گلوکار اسرار نے گایا ہے، یہ دونوں گانے بھی یو ٹیوب پر موجود ہیں۔

س: لیکن آپ نے تو حالات بے نظیر کے حادثے والے دیکھے تو پھر کہانی لکھتے وقت اورنگی ٹائون کے واقعہ کو موضوع کیوں بنایا، کیا آپ کامقصد اس شہر کی  ایک بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے حالات وواقعات کوکیش کرنا بھی تھا؟

ج: سچی بات یہی ہے کہ میں اس سیاسی جماعت کی حیثیت کو بھی بیان کرنا چاہتا تھا۔ میں صحافت کے زمانے میں ایم کیوایم کی خبروں پر کام کیا کرتا تھا، یہ میری صحافتی ڈیوٹی تھی، اس حوالے سے میں اس جماعت کے رہنمائوں سے بھی ملتا تھا۔ اسلام آباد میں ان سے ملاقات کرنا آسان ہوتا تھا۔ یہ لوگ بہت خیال رکھتے تھے، ان لوگوں میں بہت رکھ رکھائو تھا، اس لیے میری ان سے دوستی تھی پھر یہ بولتے بھی بہت تھے، اس لیے کچھ لوگوں سے دوستی بھی ہوگئی، جیسے علی رضا عابدی میرے بہت اچھے دوست تھے۔ میں نے سوچا کیوں نا میں 80کی دہائی کے تناظرمیں ایک اچھا اسکرپٹ لکھوں۔ عامر لیاقت حسین نے اپنے پروگرام میں منفی پروپیگنڈا کیا کہ یہ فلم سانحہ اورنگی ٹائون پر ہے، جبکہ یہ فلم اس دن ہونے والے ایک واقعہ پر ہے، جس میں چار لوگوں کا ایک مجرمانہ گروہ ہے، جو واردت کرنے کی نیت سے اپنے اپنے گھر سے نکلتے ہیں، ایک مڈل کلاس گھرانہ دکھایا گیا ہے، جہاں وہ ڈاکو آگئے ہیں اور فلم میں کہیں کوئی لسانی تعلق، حوالہ یا نام نہیں ہے۔ یہ فلم خراب حالات میں انسانی بقااور انتقام کی کہانی ہے۔

س: عامر لیاقت حسین کو آپ سے کیا شکوہ تھا، انہوں نے اتنی محنت سے آپ کی فلم کا ریویو اپنے لائیو پروگرام میں کر دکھایا؟

ج: مجھے ان سے اور انہیں مجھ سے کوئی شکوہ نہیں تھا، ہم ٹیوٹر کے ذریعے ایک دوسرے پر جملے کسا کرتے تھے۔ وہ عمران خان کو سپورٹ کرتے تھے، جبکہ میری شہرت ابوعلیحہ کے نام سے تھی اور میں تحریک انصاف کے ناقد کے طور پر مشہو ر تھا، خان صاحب کے سپورٹر مخالفین کو بہت گندی گندی گالیاں دیتے ہیں۔ میں نے اپنا اور انہوں نے اپنا کام جاری رکھا۔ عابدی صاحب کا اسلام آباد میں ایک ڈیرہ تھا، وہاں کراچی کے تمام لوگ آتے تھے۔ وہ ریستوران تھا، وہاں سب سے ملاقات ہوجاتی تھی، صحافی اور فلم ساز سب وہاں آتے تھے۔ ان کا اگر اس فلم سے کوئی تعلق ہوتا تو یہ فلم نہ بنتی نہ کبھی ریلیز ہوتی۔ عامر لیاقت کے پروگرام کے بعد میں خفیہ اداروں کا مہمان بنا، لیکن پھر مجھے رہا کر دیا گیا کیونکہ اس میں کچھ ایسا نہیں تھا جو قومی مفاد کے خلاف ہوتا، تو یہ حقیقت تھی۔ وہ فلم میں نے پاکستانی سینمائوں کے لیے بنائی تھی، جو تین سینسر بورڈز کو دکھانا تھی، پھر ایساکیسے ہوتا کہ میں اس میں ملکی مفاد کے خلاف کوئی فلم بناکر ریلیز کرپاتا۔

س: آپ کے افسانوں کی ایک کتاب’’میں خمیازہ ساحل کا‘‘ شائع ہوکر بہت مقبول ہوئی، ادب کے حوالے سے آپ کی دلچسپیاں کیا ہیں؟

ج: میں بچپن سے ادب پڑھ رہا ہوں، ٹارزن، عمرو عیار سے لے کر ابن صفی اور اردو ادب کے تمام ادیبوں کو پڑھ چکا ہوں۔ مجھے کلاسیکی عالمی ادب بہت پسند ہے، ان دنوں مجھے سب سے زیادہ جو ادیب پسند ہیں، ان کے نام فرانسیسی ادیب میلان کنڈیرا اورجاپانی ناول نگار مورا کامی ہروکی ہیں۔ مجھے ان کو پڑھ کر بہت مزا آتا ہے، اپنے افسانوں میں جو کچھ لکھا، یہ ان دنوں کی یاد ہے جب میں ذہنی طور پر پریشان رہتا تھا اور مجھے رات کو نیند نہیں آتی تھی۔ میری افسانوں کی کتاب بالخصوص اس میں شامل کہانی’’میں خمیازہ ساحل کا‘‘ میرے ناکام عشق کی کہانی ہے۔ ایک ناول بھی لکھ رہا ہوں، اس کا نام ’’راکھ رکابی‘‘ ہے، وہ مکمل ہوگیا ہے، مگر ابھی شایع نہیں کروں گا کیونکہ رضاعلی عابدی جوبڑے ادیب ہیں، میں ان کو بڑا لیجنڈ مانتا ہوں، انہوں نے کہا، اس کو کچھ عرصے کے لیے رکھ دو اور پھر اس کو دوبارہ پڑھو، اس طرح پھروہ بعد میں شایع کروں گا۔

س: آپ فلم کے شعبے میں کسی خاص فلم ساز سے متاثر رہے ہوں؟

ج: میں ہر طرح کا سینما دیکھتا ہوں۔ میں بڑے ناموں سے متاثر نہیں ہوتا، مثال کے طور پر سنجے لیلیٰ بھنسالی ہے تو میں اس سے متاثرنہیں ہوتا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ جب وہ سوکروڑ کی فلم بنا رہے ہیں تو ان کے پاس بہترین ٹیم ہے اور بجٹ ہے ، تو پھر یہ ان کا کمال تونہ ہوا، اس لیے آنے والے وقت میں کم بجٹ کی فلمیں زیادہ بنیں گی، اب تو موبائل کے کیمرے پر فلمیں بن رہی ہیں۔

س: آپ جو باتیں کر رہے ہیں، اس سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ پیررل سینما کی جانب جانا چاہتے ہیں؟

ج: نہیں، ہمارے ہاں پیررل سینما سے مراد ایسی فلم ہے جس کو دیکھتے ہوئے سو جائیں، لیکن ایسا نہیں ہے، میری فلم عارفہ اور کتاکشا پیررل سینما ہی ہیں، میری فلمیں دیکھ کر آپ کو نیند نہیں آئے گی۔ بالی ووڈ میں انوراگ کشپ اور رام گوپال ورما کا مداح ہوں، جو مختلف نوعیت کی فلمیں بناتے ہیں، یہ لوگ وہاں کے کمرشل سینما کے فلم سازوں سے بہت بہتر ہیں۔ ہمارے ہاں بھی کمرشل سینما والے یہی کچھ کر رہے ہیں، مثال کے طور پر اگر ہم جیسے لوگ اپنا کام نہیں کریں گے تو پھر بیس سال بعد بھی اے آروائی ایک فلم بنا رہا ہوگا، جس کے ہدایت کار ندیم بیگ جیسے بڑے کمرشل ڈائریکٹر ہوں گے اور فلم کا نام ہوگا’’میں پنجاب میں ہی نہائوں گی۔‘‘ اس میں وہ مہوش حیات کی پوتی کولے کر فلم بنارہے ہوں گے، مگر ہمایوں سعید ہی ان کے مقابل ہوں گے، یہ لوگ اپنے دائرے سے باہر ہی نہیں نکلناچاہتے ہیں۔ یہ وہی ہدایت کار ہیں، جنہوں نے پیارے افضل جیسا ڈراما بنایا ہے مگرفلم کے شعبے میں وہ صرف کمرشل سینما میں محفوظ طور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کچھ بھی بنائیں، لیکن آپ کا اسکرپٹ اور موضوع بہت مضبوط ہونا چاہیے، اب جو فلم میں بنا رہا ہوں مزاحیہ فلم پٹاخے تو اب میں اس میں مہوش حیات کو لینا چاہتا ہوں، وہ میرے کردار کے قریب ہیں لیکن میں ان کو افورڈ نہیں کرسکتا، وہ ایک اچھی اداکارہ ہیں، میں اس بارے میں سوچتاہوں اور ان کو ایک بہتر اداکارہ سمجھتا ہوں، اب چونکہ وہ حکومتی تمغہ حاصل کرنے کے بعد تنقید کی زد میں ہیں، لیکن جو بات سچ ہے وہ ہے۔ سلیم معراج کے بتیس سال کا کام جو پیررل سینما کے کام سے قریب ہے، وہ ایک طرف اور نامعلوم افراد میں ایک چھچھورا سا سین ایک طرف، اس کی وجہ سے وہ فلمی دنیا میں مقبول ہوئے، یہی ظلم ہے کہ پیررل سینما کی تعریف و توصیف کو ڈرائنگ روم کی حد تک محدود رکھا گیا ہے۔ ہمارے فلم بین اب ہرطرح کی فلمیں دیکھ رہے ہیں۔ میں بھی اگر سینما پر فلم دیکھنے جائوں تو ایک طرف میری فلم کتاکشا ہے اور دوسری طرف اینابل کی فلم ہے تو میں اینابل کی فلم ہی دیکھوں گا۔

س:تو پھر اگر یہی حالات ہیں تو آپ لوگ فلمیں بنانا چھوڑ دیں، جب آپ خود اتنے مرعوب ہیں توفلم بینوں سے کیا توقع رکھیں گے؟

ج: میرا یہ کہنا ہے، آپ اچھی فلم دیکھنے کے بعد نقل کرنے کی بجائے کچھ اچھی فلم بنانے کی کوشش کریں، اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے متن کو ذہن میں رکھ کر فلم بنائیں۔ میں عدنان سرور کا فین ہوں، اس نے کم بجٹ میں عمدہ فلمیں بنائیں، فلم شاہ اور موٹر بائیک گرل بطور نمونہ آپ کے سامنے ہے۔ اس سے کسی نے  پوچھا کہ آپ اپنی فلم میں ہیرو کیوں آئے، تو اس نے کہا’’یا تو میں فلم نہ بناتا یا پھر میں خود اس میں کام کرتا، تو اس لیے میں نے خود محنت کرکے فلم بنائی۔‘‘ یہ اس کا کمال تھا، اس نے یہ فلم بنائی۔ جامی جیسے فلم ساز نے پھر اس کو اپنا تعاون فراہم کیا، سوہائے علی ابڑو نے اس کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کی اور پھر کام کر بھی لیا۔ یہ اچھے کام کی برکت ہے۔ ہمیں فلمیں بناتے ہوئے کم بجٹ اور اچھے متن کو ذہن میں رکھنا چاہیے، فلم بن ہی جائے گی۔ پاکستان میں ڈرامے کی بجائے اگر ایڈواٹائزنگ کے لوگ آگے آئیں گے تو وہ کم وقت میں زیادہ بات کہنا جانتے ہیں، ان کی فریمنگ بہت مضبوط ہے، ان کو سامنے لانا چاہیے۔

س: آپ کی ذاتی زندگی کے دریچے کیا ہیں، کچھ ہمارے قارئین کے لیے وا کیجیے۔

ج: میرا تعلق ایبٹ آباد سے ہے، ہم پانچ بہن بھائی ہیں، میں ان سب میں بڑا ہوں۔ پندرہ سال کا تھا تو والد کا انتقال ہو گیا۔ میں نے والد کی جگہ ملازمت کی۔ چھ سال میں نے سرکاری دفتر میں ایک نائب قاصد کے طور پر کام کیا۔ میٹرک اور گریجویشن کرنے کے بعد جونئیر کلرک بن گیا، پھر صحافت میں ماسٹرز کرکے عملی صحافت میں آگیا۔ مجھے میڈیا میں آنے کا بہت شوق تھا۔ میں نے صحافت میں بہت سارے تجربات کیے۔ سوشل میڈیا پر بھی بہت متحرک ہو گیا۔ اسی صورتحال میں میں پہلی مرتبہ عاطف علی سے ملا اور انہوں نے مجھے فلم اور شوبز کی طرف راغب کیا۔ غزالہ آپا اور دیگر لوگوں نے مجھے سکھایا۔ اب یہ دو فلمیں آپ کے سامنے ہیں، باقی کام بھی میں کر رہا ہوں جو عنقریب آپ دیکھ سکیں گے، پھر فیصلہ کیجیے گا، میں نے اپنے کام کے ذریعے کس حد تک انصاف کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کی ملازمت: مجبوری اور استحصال ——– محمد مدثر احمد
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: