استعارا یا فراریت ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد الیاس بابر

0

’’علم ِبیان کی اصطلاح میں ایک شے کو بعینہِ دوسری شے قرار دے دیا جائے اور اس دوسری شے کے لوازمات پہلی شے سے منسوب کر دیے جائیںتو اسے استعارا کہتے ہیں۔ استعارا مجاز کی ایک شکل ہے جس میں ایک لفظ کی معنوی صلاحیت یا نسبت کی وجہ سے دوسرے کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے‘‘۔ مثال کے طور پر یہ شعر دیکھیے:

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا

اس شعر میں ایک ذہین آدمی یا باعلم آدمی کے وجود کو چراغ کہا گیا۔ دیکھنا یہ ہے تخلیق کار استعارا کا استعمال کیو ں کرتے ہیں؟ علمِ بیا ن کی رُو سے بیانوی اصطلاحات حسنِ بیان اور معنوی ترفع کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس سے ایک بات یہ بھی سامنے آتی ہے کہ ہماری زبا ن براہِ راست معنوی ترسیل کے حوالے سے کم جمالیاتی ہے۔ یعنی ایک براہِ راست معنوی اکائی کی تفہیم کے لیے ہمیں استعارے کی ضرورت پڑتی ہے جو ہماری دانست میں معنی کو ’’واضح‘‘ کر دیتا ہے۔مذکورہ بالا شعر کو ہی دیکھ لیتے ہیں ۔ پہلا مصرع ہے کہ

’’ ایک روشن دماغ تھا، نہ رہا‘‘

یعنی اس جملے کے اظہار کے بعد شاعر نے یہ طے کرلیا کہ بات سمجھ نہیں آئے گی لہٰذا قابلِ دماغ کی روشنی کو واضح کرنے کے لیے ’’چراغ‘‘ کی ضرورت پڑی۔ گویا زبان براہِ راست معنوی استحکام کے لیے ایک کمزول ’’ٹول‘‘ ہے، بہ جائے اس کی کمزوری کو دور کرنے کے تخلیق کار بات کو کثیر الوضاحتی بنا دیتے ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں استعارے کا استعمال بطورِ فرارکے ہو رہا ہے؟ جب متکلم یا تخلیق کار استعارا استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو دراصل وہ جمالیاتی حظ کشید کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تخلیق کار کسی ایسی بات یا میسج کو euphemism کے پیرائے میں استعاراتی سطح پر پیش کر رہے ہو ں کہ جس کو براہِ راست پیش کیا جائے تو وہ قابلِ گرفت ٹھہرے۔ یو ں بھی بقول مشتاق احمد یوسفی شاعر جو بات آسانی سے شعر میں کہہ جاتے ہیں اگر نثر میں کہیں تو اس کے بات دست و گریبان تک جا پہنچے۔

اردو کے حوالے سے دو مختلف نکتہ ہائے نظر ادبی کلامیے کا حصہ ہیں ۔ ایک وہ جو زبان کے خالص پن کی وکالت کرتے ہیںاور زبان کے خالص پن کو تاریخ ورانہ افقیت سے نتھی کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو زبان کے خالص پن کے بیانیے کو ہی غلط سمجھتے ہیں کہ زبان کبھی بھی خالص نہیں رہی زبان ہمیشہ سے دیگر زبانوں سے اپنے اجزا لیتی رہی اور اردو سمیت کوئی بھی زبان خالص پن کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ رہی بات میر، غالب، داغ، مومن کے عہد میں مروج لسانی پیرائے اور اظہاری رویہ جات کی حتمیت کی تو یہ بھی ایک تاریخی بوجھ ہے جسے ہم نے اختیاری طور پر اپنے شانوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ مجھے لگتاہے کہاکہ اردو زبان پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس میں سوائے ’’حروفِ جار‘‘ کے باقی سب دیگر زبانوں کے الفاظ در آئیں گے جن میں سے ہندی اور انگریزی نمایاں ہیں۔ جو لوگ اس بات پہ معترض ہیں ان سے گزارش ہے کہ تاریخ کو کھلے بازئوں اور کھلے آستین کی قمیص کے ساتھ خوش آمدید کہنا چاہیے نہ کہ گھٹن اور خوف میں مبتلا ہو کر اس کا استقبال کرنا چاہیے۔ ایسے ہی زبان اب براہِ راست ہو گئی ہے، مچندا بانی، ظفر اقبال وغیرہ نے غزل کو غیر مفرس و غیر معرب کرنے اور اس کے براہِ راست استعمال کے چلن کو عام کیا اور خاص کر ظفر اقبال کی غزل نے غزل کی گھٹی گھٹی روایت اور تاریخ کے جبر اور بوجھ کو اتار پھینکا اور اب ایک انبوہِ کثیر ہے جو ظفر اقبال کی تتبع میں عدم مرکبات اور استعارے سے اجنتاب کی شاعری کر رہا ہے۔ استعارا دراصل ایک غیر ضروری جمالیاتی توسیع کا نام ہے اگرچہ شاعری کے بارے میں عمومی رویہ یہی ہے کہ یہ جمالیاتی حظ فراہم کرتی ہے لیکن جمالیاتی حظ فنون لطیفہ کے کسی بھی اظہاریے کا ایک پہلو ہو سکتا ہے کلی مجموعی صورتِ حال نہیں۔

میر تقی میر کا یہ شعر دیکھیے :

شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہے گویا چراغ مفلس کا

اس شعر میں دل کو چراغ کے استعارے میں تبدیل کیا گیا۔ گویا ایک غریب آدمی کے چراغ میں چونکہ غربت کی وجہ سے تیل نہیں ہوتا لہٰذا غریب آدمی چراغ نہیں جلا سکتا گویا شاعر کا دل غریب کا چراغ ہے جو بجھا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وضاحت دل کی مطلوب تھی یا چراغ کی۔ ظاہر ہے علم ِبیان کی رُو سے مستعارلہ دل ہے اور مستعار منہ چراغ اور وجہ جامع دونوں کا بجھا ہوا ہونا ہے۔ تا ہم معنوی اعتبار سے چراغ کو مجسم کیا گیا ہے تو دل کی بجائے چراغ زیادہ واضح اور ارفع دکھائی دینے لگا۔ گویا سببِ حقیقی ہی فوت ہو گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ جمالیات و لسانیات کے پیمانے ہی تبدیل ہو چکے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ میں حنوط شدہ جمالیات کو ہم کہاں تک برتیں گے اور وہ معاصر لسانی منظر نامے میں کتنی درست معلوم ہوں گی۔ مثال کے طور پرایک شعردیکھیے:

پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح
زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں

یعنی چاند نکلنے کے منظر کو واضح کرنے کے لیے خاتون نے چہرے سے زلفوں کو جھٹکا اور یوں چاند کی تقریبِ رُونمائی ہو گئی۔ ما بعد جدیدیت کے تناظر میں جمالیات کے مرکز (سینٹر) پر سوال اٹھ چکا ہے۔ اور فرض کیجیے کہ آج سے سو سال بعد خواتین کے ہاں لمبے بالوں کا چلن ہی ختم ہو جائے اور ہم رنگ کے حوالے سے نو آبادیاتی جبر سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں تو چاند کی معنویت اردو ادب میں چیلنج ہو جائے گی اور چاند کے نکلنے کا زلفوں کے جھٹکنے سے تعلق بھی کہیں اپنی موت پر جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ استعارا معنوی اور لسانی لکنت کے اخفا کا نام ہے جب ہم معنوی ترسیل میں براہِ راست ہونے میں ناکام ہو جاتے ہیں یا کسی سیاسی سماجی جبر کا شکار ہوتے ہیں اور براہِ راست کہنے سے خوف زدہ ہوتے ہیں تو استعارے کا سہارا لیتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ نثر میں استعارا شاعری کی نسبت کم ہے۔ وہ تخلیق کار جو اپنے بیانیوں میں راست گوئی اور براہِ راست گوئی کا پر چار کرتے ہیں ان کے ہاں شاعری میں استعاراتی نظا م زیادہ ہوتا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ اردو ادب پر اداراتی جبر کا بھی ہے۔ میرے نزدیک نظامِ عروض بھی مروج جمالیاتی پیمانوں کی طرح کا ایک اداراتی جبر ہے۔ غزل بذاتِ خود اپنی ہیئت میں ایک جبر کا استعارا ہے۔ ہمارے ہاں غزل کو ’’مہابیانیہ ‘‘بنا دیا گیا ہے اس پر انگشت نمائی سے یہی مراد لی جائے گی کہ انگلی اٹھانے والا شاید خود نظامِ عروض سے آگاہ نہیں، یا شاید غزل نہیں کہہ سکتا یا استعارے کے خلاف بات کرنے والے کے پاس استعارے میں بات کرنے کا ڈھنگ نہیں وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ میں خود غزل اور نظم کا طالبِ علم ہوں تو میں نے اپنی معروضات اپنی شاعری کو بھی سامنے رکھ کر پیش کی ہیں۔ ہر بڑے شاعر کے ہاں استعاراتی نظام موجود ہے، ہر بڑا شاعر اسی اداراتی اور تاریخ ورانہ جبر کا شکار ہے جو اردو ادب میں ہیئت سازی کے رجحان کو فروغ دیتا ہے۔ دوسری طرف فکشن نے نئی تبدیلیوں کو نہ صرف خوش آمدید کہا ہے بلکہ ان کو خودمیں اتارا ہے اورہیئتی تبدیلیوں کے عمل سے بھی گزرا ہے ۔ہم نے زبان کے خالص پن، ہیئت اور عروض کے جبرکو سینے سے لگایا ہے اور غزل کو محض تفننِ جمالیات کے لیے رکھ چھوڑا ہے۔ ڈر ہے کہ استعارے کی طرح کہیں غزل کہ بھی موت نہ ہو جائے ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: