علامہ ضیا حسین ضیا: شہرِ علم وادب کو سوگوار کر گئے —— قاسم یعقوب

0

علامہ ضیا حسین ضیا آج ہم سے بچھڑ گئے۔ ان پر لکھتے ہوئے میں شدید دکھ کی کیفیت میں ہوں۔ ضیا صاحب ادب، مذہب اور علمی حلقوں کی جان سمجھے جاتے تھے۔ ان کے بغیر ادبی و علمی محفلیں ادھوری ہوتیں۔ ان کی حیثیت شاعر، ناول نگار، ناقد کی تھی۔”مابین“ ان کا مشہور ناول تھا جسے ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی ملی۔ اس کے علاوہ تنقیدی اقوال اور شذرات پر مشتمل ”لوحِ غیر محفوظ“ کتاب نے ان کو شہرت عطا کی۔ ”ریگ رواں“ ان کی نظموں کا مجموعہ ہے جس نے سنجیدہ علمی و ادبی حلقوں میں ان کی پہچان بنائی۔ کتابی سلسلہ ”زرنگار“ ان کا علمی و ادبی دستاویزات پر مشتمل اہم جریدہ تھا، جس کے 17 شمارے شائع ہو چکے ہیں۔

ضیا حسین ضیا کا علمی و ادبی سفر لائل پور فیصل آباد سے شروع ہوا۔ میں ان کے، ان اولین قدر شناسوں میں شامل رہا ہوں جنھوں نے ضیا صاحب کو ادبی حلقوں میں آنے سے پہلے دیکھا ہے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں میرے اور شکیل احمد کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات ۲۰۰۲ میں ہوئی۔ اس یونیورسٹی میں ہماری ایک کولیگ سبین نے (جو عربی ادب کی استاد تھیں) ہماری پہلی ملاقات کروائی۔ ضیا صاحب ان دنوں جی سی فیصل آباد سے فارسی میں مقالہ لکھ رہے تھے۔ ضیا صاحب کو لائل پور کے ادبی حلقوں میں اس وقت کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ اپنی پہلی کتاب ”لوحِ غیر محفوظ“ چھپوانا چاہ رہے تھے۔ ہمارے ساتھ لمبی نشست ہوئی۔ انجم سلیمی صاحب نے ان دنوں اپنا ادارہ ”ہم خیال“ بنا رکھا تھا جس کے زیر اہتمام کچھ کتابیں شائع ہوتی رہتیں۔ ضیا صاحب انجم سلیمی کے ادارے سے اپنی کتاب لانا چاہ رہے تھے۔ مجھے یاد ہے، ہم نے وہ مسودہ وصول کر لیا اور اس پر گفتگو کرتے رہے۔ انجم سلیمی اور نذر جاوید اس نام پر ہی چونک گئے تھے کہ کیسا نایاب نام ہے: ”لوحِ غیر محفوظ“۔ اس میں علامہ صاحب کے فکری شذرات ہیں جو ان کے علمی تبحر کو عیاں کرتے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت کے فوراً بعد ان کی نظموں کی کتاب بھی ”ہم خیال“ فیصل آباد سے شائع ہوئی۔اس کے کچھ عرصے بعد انھوں نے اپنا اشاعتی ادارہ ”پیراگون“ بنا لیا تھا۔

ضیا صاحب نے اپنی ان دو کتابوں کی اشاعت کے بعد اپنے گھر میں علمی مجلسوں کا اہتمام کرنا شروع کر دیا۔ یونیورسٹی میں ہم ان سے روزانہ مکالمہ کرتے اور ہفتے میں ایک دن ان کے گھر پر بھی نشست ہو جایا کرتی۔میں ان کی ابتدائی ہر نشست میں شریک ہوتا۔ میرا گھر ان کے گھر کے بالکل قریب واقع ہے۔ لائل پور میں علامہ ضیا میرے گھر سے ایک دو گلیوں کے فرق کے ساتھ رہتے تھے، یوں وہ ایک طرح کے میرے محلے دار بھی تھے۔بہت جلد ان کی غزلوں اور نظموں کے کچھ اورمجموعے شائع ہوئے۔ ان کی علمی شخصیت سے تو کسی کو کلام نہیں تھا مگر ادبی حوالے سے وہ نوارد تھے۔یہ الگ بات کہ وہ دو دہائیوں سے لکھ رہے تھے مگر اپنی گوشہ نشینی کی وجہ سے سامنے نہیں آئے تھے۔انجم سلیمی نے ان کے لیے ایک بڑی مجلس کا اہتما م کیا اور ان کی کتابوں کی تقریب رونمائی کروائی۔

اپنی پہلی نظموں کی کتاب کی اشاعت پر وہ میرے ساتھ مکالمے کے دوران مجھ سے ناراض بھی ہوئے۔ان کی بے تکلف شخصیت اور سخی مزاج طبیعت کی وجہ سے ان سے ناراضی کا کوئی تاثر تادیر نہیں رہتا تھا۔وہ مذہبی حوالے سے ادبی حلقوں کے علاوہ بھی بہت جانے جاتے تھے مگر انھوں نے ہمیشہ ادب برادری کو ترجیح دی۔ وہ ادیبوں میں گھل مل کے رہنا پسند کرتے۔شہر کی ہر تقریب میں ان کو دیکھا جا سکتا تھا۔بہت معمولی قسم کے شعرا کی تقاریب میں بھی وہ شریک ہوتے۔ ایک دن میں نے حلقے کے اجلاس میں ان سے پوچھا کہ فلاں شاعر کی تقریب رونمائی میں آپ نے اسے بہت اہم بنا دیا، وہاں تو آپ جیسے آدمی کا جانے بھی نہیں بنتا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ میں ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔ شہر میں ادبی کلچر زندہ رہنا چاہیے۔ ان کی حوصلہ افزائی سے میرا کچھ نہیں جاتا۔ شہر میں کوئی بھی ان جیسے شعرا کو اہمیت نہیں دیتا۔ یہ ان کا بڑا پن تھا کہ وہ کسی کو ناراض نہیں کرتے تھے۔ان کا بیٹا جعفر، جی سی یونیورسٹی میں جب میرا طالب علم بنا تو انھوں نے خود مجھ سے اپنے بیٹے کا تعارف کروایا کہ ا س کا خیال رکھیں،یہ میرا بیٹا ہے۔

علامہ ضیا کی شہر کی ادبی انجمنوں میں شرکت۲۰۰۲ء سے شروع ہوئی۔ غالباً ۲۱۰۲ء تک حلقہ ارباب ِ ذوق کے اجلاس تھری سٹار ہوٹل چنیوٹ بازار میں ہی ہوا کرتے تھے۔ علامہ ضیا حلقے کے دو دفعہ سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔ اجلاس ختم ہوتے ہی علامہ صاحب سب کو لے کر منا دال چاول، امین پور بازار لے آتے۔ میں بھی اکثر ان محفلوں کا حصہ بنا۔ریاض مجید،فضل حسین راہی،ارشد جاوید،مقصود وفا، شاہد اشرف، خرم علیم، کوثر علی، اشرف یوسفی، ڈاکٹر فرخ بخاری، محمود رضا سید، خواجہ عتیق الرحمن، خاور جیلانی، عارف حسین عارف وغیرہ ہم سب ان کے ساتھ گفتگوکا ہالہ بنا لیتے۔منا دال چاول پر رات گئے تک محفل جمتی۔
حلقہ کی دربدری کے وقت وہ فٹ پاتھوں پر بھی حلقے کے جلسوں میں شریک ہوئے۔حلقہ کے پریس کلب آنے کے بعد بھی وہ مسلسل اس انجمن کا حصہ رہے۔ان کی گفتگو تنقیدی اجلاس کا حاصل سمجھی جاتی۔کسی تعصب اور خوشامدکے بغیروہ اپنی گفتگو کا اظہار کرتے۔ان کی شہر بھر میں کسی گروہ یا فریق سے مخالفت یارنجش نہیں تھی۔وہ بیک وقت سب کے اچھے دوست تھے۔انجم سلیمی صاحب کی چالیس سالہ کارگردگی پر ایوارڈ تقریب میں شہر کے سینئرز میں سے ثنا اللہ ظہیر کے علاوہ صرف علامہ ضیا تھے، جو پورے ذوق و شوق سے شریک تھے۔

۹۰۰۲ ء میں انھوں نے ادبی مجلے ”زرنگار“ کا اجرا کیا۔جب میں نے ۶۰۰۲ء میں ادبی مجلے ”نقاط“ کا پہلا شمارہ پیش کیا تو انھوں نے مجھے طویل فون کیا اور اس کاوش پرمیری حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ کچھ ہی برسوں بعد انھوں نے اپنے مجلے کا آغاز کیا تو شہر میں ادبی پرچوں کی بہار آگئی، کیوں کہ اس سے پہلے ”الکلام“ (خاور جیلانی/ عتیق بٹ)، ”آفرینش“ (مقصود وفا) اور ”خیال“ (انجم سلیمی) بھی اسی شہر سے نکلتے رہے تھے۔ ”زرنگار“ کی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں طویل مکالمے شائع کیے جاتے۔ گو علامہ ضیا کا مذہبی اور علمی تبحر اس پرچے پر چھایا ہوتا مگر وہ شعر فہمی کی اچھی خصوصیات کی بدولت بہت اچھی نظمیں اور غزلوں کا انتخاب کر لیتے۔ یوں اس پرچے میں تنقیدی ادب کے علاوہ تخلیقی ادب کا بھی معیاری انتخاب شائع ہوتا۔ اس مجلے کے اب تک ۷۱ شمارے شایع ہو چکے ہیں۔علامہ صاحب اپنے پرچے کی تازہ اشاعت کو حلقہ اربابِ ذوق فیصل آباد کے جلسے میں لے آتے اور سب میں مفت کاپیاں تقسیم کرتے۔ گذشتہ دنوں ایک طالبہ کے ایم فل موضوع کے سلسلے میں، میں نے علامہ ضیا سے درخواست کی کہ آپ کے پرچے پر تحقیقی و تنقیدی کام کروانا چاہ رہے ہیں تو انھوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور تمام شمارے بھی عنایت کیے، جس پر ابھی کام جاری ہے۔

علامہ ضیا کی نظموں کا مجموعہ ”دروازہ گل“ بہت خوبصورت نظموں کا انتخاب ہے۔ ان کو زبان کی دروبست پر کمال عبور حاصل تھا۔اشرف یوسفی اور شاہد اشرف سے ان کی زبان شناسی پر بہت گفتگو ہوا کرتی۔
ان کے ناول ”مابین“ کو بہت پذیرائی ملی۔ ”مابین“ ان کی پہچان بنا۔غالباً یہ ناول ۱۱۰۲ء میں شائع ہوا۔ اس ناول پر ادبی حلقوں میں خوب گفتگو ہوئی۔مجھے یاد ہے کہ پروفیسر ایوب نے اس ناول کی پہلی قرات کے بعد مجھ سے طویل مکالمہ کیا تھا۔”مابین“ قدرے مختلف اور مشکل ناول ہے۔ نجم آفندی کا کردار مذہبی فکریات سے اخذ کردہ نئی فکری و فلسفیانہ تشکیلات کو سامنے لاتا ہے۔اس ناول کی ایک خوبی ان کرداروں کی مجموعی فضا کے ساتھ اس کی زبان بھی ہے۔ چوں کہ یہ جنت کی فضا کو تخلیق کرتا ہے اس لیے اس کی زبان بھی ماورائی بناکے پیش کی گئی ہے:

”اس خاک بہ سر، ایک عجیب شخص کا ماجرا جو بہت ”خاص“ ہونے کے باوجود خود کو ”عام“  کہنے پر مصر تھا۔ جسے کائنات کے ذرّے ذرّے نے اپنے ہر نقش میں یوں ضم کر لیا تھا کہ وہ خود ہی زمان ومکان ہو گیا، لا متناہی اور بے حساب ہو گیا۔ کرہ ارض پہ تھا تو تصویرِ ازل رہا اور جب بالا نشین ہوا تو تصورِ ابد کا نقشِ اول ٹھہرا۔ عقل و وجدان کی ہم رکابی شیوہ ذات ہوئی تو کلامِ قدرت سے لے کر ذوقِ تسکینِ قدرت کا رقیب بن بیٹھا۔ خود سے کیا ڈرتا کہ زمین کی مٹی اور خاک سے عشق کرتا کرتا آسماں ہو چکا تھا اور پھر اس کے جذب وکشف نے کیف سرور کے ہر جذبے کی سمفنی سے ساتھ عشق و مستی کی ایسی دھمال ڈالی کہ ارض وسما کے مفہوم ہی بدل ڈالے اور سماں کچھ یوں بدلا کہ اِک نقش ادنی، نقش گرازل کی سلطنتِ ہمہ گیر کے نقوشِ دل پذیر کی ماہیت وہیت پر خندہ زن ہو بیٹھا۔ جسے اِذنِ معرفت بھی ہوا تو یوں کہ گریہ شبِ تار ہوا اور سوچیں پر توِ ُخر“

علامہ ضیا کی اچانک موت نے شہرِ ادب کو ایک اہم ادیب سے محروم کر دیا ہے۔ حق مغفرت کرے۔وہ اپنے آخری دنوں میں لاہور زیادہ رہنے لگے تھے۔لاہور میں بھی ان کی محفلوں کی طویل داستان ہے۔اشرف یوسفی صاحب نے بتایا ہے کہ ان کو لائل پور میں ہی سپردِخاک کیا جائے گا۔ وہ عمر کے اس مرحلے میں نہیں آئے تھے کہ موت ان کو اُچک کر خوش ہوتی۔ یقیناً موت کے لیے بھی یہ فیصلہ تکلیف دہ فیصلہ ہوگا۔ان کے علمی و ادبی سفر کو زندہ رکھا جانا چاہیے۔ ان کے کام پر تنقیدی مکالمہ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: