’’بابائے اردو‘‘ حمیدہ اختر حسین رائے پوری کی نظر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0

مولوی عبدالحق بیس اپریل اٹھارہ سو ستر کو ہاپوڑ ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اٹھارہ سو چورانوے میں علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کیا اور انگریز حکومت میں چیف ٹرانسلیٹر اور سول سروس میں انسپکٹر آف اسکول کی حیثیت سے کام کیا۔ وہ سر سیدکی طرح مسلمانوں کے علم حاصل کرنے کے حق میں تھے لیکن سر سید کے برخلاف مادری زبان اردو میں تمام علوم و فنون کی تعلیم کو فروغ دینا چاہتے تھے۔ اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے انیس سو تین میں انجمن ترقی اردو کی بنیاد رکھی۔ پھر حیدر آباد دکن کے نظام عثمان علی خان کی زیر سرپرستی اورنگ آباد کے عثمانیہ کالج استاد کا منصب سنبھالا۔ انیس سو تیس میں چیئرمین اردو فیکلٹی کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ مولوی عبد الحق نے اپنی پوری زندگی اردو کے فروغ، ترویج اور ترقی کے لیے وقف کر دی۔ اردو ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔ جس پر انہیں بابائے اردو کا خطاب دیا گیا۔ انیس سو اڑتالیس میں بابائے اردو ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے اور پاکستان میں بھی اردو زبان کے فروغ اور اشاعت کے لیے انیس سو اکسٹھ میں اپنی وفات تک اس طرح کام کرتے رہے کہ اردو اور مولوی عبد الحق لازم و ملزوم بن گئے۔ اردو زبان کے لیے ان کی بے مثال خدمات پر مولانا عبد الماجد دریا بادی نے انہیں محسن اعظم کا نام دیا۔

بابائے اردو کے ادبی کارناموں میں ’’انگلش اردو‘‘ ڈکشنری سمیت بے شمار خدمات شامل ہیں۔ ان کی شخصیت کا تاثر سنجیدہ فرد کا ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے ساری عمر شادی نہیں کی۔ جو ساری زندگی کام اور اردو کے فروغ ہی میں مصروف رہا۔ ان کی تحریروں سے بھی سنجیدگی عیاں ہے۔ خاکوں کے مجموعے ’’چند ہم عصر‘‘ میں گڈری کا لعل نور خان اور نام دیو مالی جیسے خاکے بھی زندگی کی تلخیوں اور مسائل اور جیتے جاگتے کرداروں پر مبنی ہیں۔ ان کے مکتوبات اور بے شمار دوسرے ادبی کاموں سے بھی ایک سیریس اور اپنے کام سے کام رکھنے والی شخصیت کا تاثر ابھرتا ہے۔ لیکن حمیدہ اختر حسین رائے پوری نے اپنی آپ بیتی ’’ہم سفر‘‘ میں بابائے اردو مولوی عبد الحق کی ایک بالکل نئی اور منفرد شخصیت پیش کی ہے۔ اختر حسین رائے پوری نے بھی اپنی خود نوشت ’’گردِ راہ‘‘ میں مولوی صاحب کے قدرے مختلف اور شوخ کردار کی جھلک دکھائی ہے۔ لیکن حمیدہ اختر کی تحریر میں مولوی صاحب کا ایک ہنستا، کھیلتا، چلبلا اور شراتی کردار اجاگر کیا ہے۔

مشفق خواجہ ’’ہم سفر‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ’’ اس کتاب میں بہت سی نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ حیرت بابائے اردو مولوی عبد الحق سے مل کر ہوتی ہے۔ مولوی صاحب کی شخصیت پر عِلم اور سنجیدگی کے جو دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں، انہیں ہٹا کر مصنفہ نے ہمیں ایک ایسے شخص سے مِلوایا ہے جس کی خوش مزاجی اور زندہ دلی لڑکپن کی شوخیوں کو بھی مات کر دیتی ہے۔ یہ شخص اپنے چھوٹوں میں، انہیں کی سطح پر آ کر اور سِن و سال کا فرق مٹا کر، اس طرح گھُل مِل جاتا ہے کہ عِلمی و تحقیقی کاموں میں مصروف رہنے والے مولوی عبد الحق سے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ اس کتاب میں مولوی عبد الحق کی بڑی نادر تصویر نظر آتی ہے۔ کہیں وہ چہرہ بگاڑ کر بچوں کو ڈرا رہے ہیں، کہیں براتیوںکے ساتھ مل کر گا رہے ہیں اور کہیں بیڈ منٹن، تاش اور پچیسی کھیل رہے ہیں۔ یہ کھلنڈرے مولوی عبد الحق اس کتاب کے سِوا کسی دوسری جگہ دکھائی نہیں دیتے۔‘‘

حمیدہ اختر انیس سو بانوے میں اختر رائے پوری کے انتقال اور نصف صدی کا تعلق ختم ہونے پر پریشان تھیں۔ انہوں نے اپنی پریشانی کا ذکر موحوم شوہر کے دوست ڈاکٹر جمیل جالبی سے کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھئی میرے دماغ میں ماضی کی جو فلمیں سوتے جاگتے چل رہی ہیں۔ ان کا کیا کروں؟۔‘‘ تو جمیل جالبی نے انہیں کہا کہ ’’ان یادوں کو قلم بند کرنا شروع کر دیں۔‘‘ اس طرح پچھہتر سالہ حمیدہ اختر نے تحریر سے ناطہ جوڑا اور کیا خوب تحریریں اس عمر میں اردو ادب کو دیں۔ لیکن ان کی آپ بیتی ’’ہم سفر‘‘ اور یادوں کا خاکوں پر مبنی ’’چہرے اور مہرے‘‘ میں بابائے اردو کا منفرد اور انوکھا روپ قارئین کے سامنے پیش کیا۔ لکھتی ہیں۔

’’جس لڑکی کے براتی، دولہا اور بزرگوار مولوی عبد الحق اسٹیشن سے اترتے وقت یہ گا کر اعلان کر رہے ہوں۔

لائق دولہا لایوں ہیں ۔۔۔ جاہل لڑکی لے لیں گے۔

شاید یوں اپنی جہالت کا احساس میرے دماغ میں بیٹھ گیا۔‘‘

حمیدہ اخترکے والد ظفر عمر اس دور کے مسلمان سپریٹنڈنٹ پولیس آفیسر تھے۔ شیر کے شکار کے شوقین ظفر عمر کی ایک ٹانگ اسی شوق کی نذر ہوئی تو انہوں نے تحریر سے رشتہ جوڑا اور ’’نیلی چھتری‘‘ اور چند اور ناول لکھے اور اردو کے پہلے جاسوسی ناول نگار قرار پائے۔ اختر حسین رائے پوری، مولوی عبد الحق کے ساتھ اردو انگریزی لغت پر کام کر رہے تھے اور انہی کے ساتھ رہتے تھے۔ جو مولوی صاحب کی مانند اپنے خاندان سے الگ تنہا زندگی گزار رہے تھے۔ ماہر لسانیات، افسانہ نگار، دانش ور اور کئی زبانیں جاننے والے اختر حسین نے خط کے ذریعے ظفر عمر سے ان کی صاحبزادی کا رشتہ مانگ لیا۔ جس پر ظفر عمر چراغ پا ہو گئے۔ انہوں نے خط کی نقل اپنے بیٹے شوکت کوبھیج دی۔ جنہوں نے جواب میں لکھا کہ ’’یہ لڑکا صرف اختر نام کا ہی نہیں ہے بلکہ وقت کے ساتھ در حقیقت ایک روشن ستارہ اور بخت کا اختر بن کر رہے گا۔ یہ مولوی عبد الحق کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ ان سے دریافت کر لیں اور پھر فیصلہ کریں۔‘‘

پھر مولوی عبد الحق جو اختر کو اپنے بیٹے کی طرح چاہتے تھے۔ انہوں نے رشتے کی پر زور سفارش کر دی۔ مولوی صاحب کی سفارش کے بعد حمیدہ اختر کے والد نے مزید کسی تصدیق کی ضرورت نہیں سمجھی۔

تیس دسمبر انیس سو پینتیس کو ٹرین کے ذریعے برات پہنچی۔ پلیٹ فارم پر فرسٹ کلاس ڈبے کے سامنے لال قالین بچھے تھے۔ دونوں جانب شہر کے معززین پیشوائی کے لیے کھڑے تھے۔ سب سے پہلے کود کر مولوی صاحب پھر ان کے پیچھے اختر نمودار ہوئے پھر ڈاکٹر اشرف، سبط حسن، مجاز، ذکاء اللہ، شرف اطہر علی، علی گڑھ یونیورسٹی کے لائبریرین بشیر صاحب اختر کے دو بنگالی دوست مہندرا ور رام لعل برآمد ہوئے اور با آوازبلند گا رہے تھے۔ ابا، چچا، ماموں کی گردنیں جھک گئیں۔ مگر شوکت بھائی مسکرا رہے تھے۔ باقی لوگ حق حیران، ان انوکھے براتیوں کو دیکھ رہے تھے۔ برات کے ساتھ کوئی خاتون نہیں تھی۔

معلوم ہوا کہ گاڑی رکنے سے چند منٹ قبل مولوی صاحب نے خود تُک بندی کی، ذکی اور مجاز نے دھن نکالی۔ پھر ان ہی کی رائے سے سب گاتے ہوئے اترے۔ در اصل ظفر عمر صاحب نے مولوی صاحب کو ہزار روپے کا چیک شیروانی کپڑوں کے لیے بھیجا تھا۔ جسے چار ٹکڑے کر کے یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ ’’تم نے مجھے اختر کے سامنے شرمسار کیا۔ کیا ان کے پاس اپنے جوتے کپڑے نہیں ہیں؟‘‘

تو یہ گانا اسٹیشن پر ظفر عمر کو شرمندہ کرنے کی ترکیب تھی۔ برات کے لیے انگلش طرز کا کھانا میز پر سجایا گیا۔ ہر شخص کے سامنے ایک ایک ٹماٹر سوس کی بوتل تھی۔ بیرے مودب کھڑے تھے۔ بینڈ بج رہا تھا۔ تو مولوی صاحب نے براتیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’اس توں، توں پی پی میں کھانا کیوں کر کھایا جا سکتا ہے۔ چلو تو پھر پی ہی لیں۔‘‘ یہ کہہ کر ٹماٹر ساس کی بوتل اٹھا کر پینا شروع کر دی۔ ان کی دیکھا دیکھی ہر براتی اور اختر نے بھی یہی حرکت کی۔ ظفر صاحب نے بینڈ کو باہر جانے کا اشارہ کیا تو بوتلیں واپس رکھی گئیں۔ یوں ظفر عمر کو ایک مرتبہ پھر مہمانوں کے سامنے شرمسار ہونا پڑا۔

یہ اور اس طرح کے کئی تماشے شادی میں مولوی صاحب نے کئے۔ جہیز کا سامان دکھایا گیا تو انہوں نے کہا کہ بھئی کیا ہمارے گھر برتن بستر وغیرہ نہیں ہیں۔ ڈرتے ڈرتے کہا کہ یہ سب چیزیں تو ہر لڑکی کو دی جاتی ہیں۔ جس کا جواب مولوی صاحب نے دیا کہ ’’تمہارے گھر میں جو دسیوں لڑکیاں ہیں ان کے لیے رکھ لو۔ جس کے بعد آخر کار حمیدہ اخترکی رخصتی ہوئی۔

حمیدہ اختر دیر تک سونے کی عادی تھیں۔ حیدر آباد میں اختر اور مولوی صاحب کے ساتھ گھر میں بھی وہی انداز جاری تھا۔ مولوی صاحب کمرے میں جھانک کر دیکھتے۔ یہ سونا ضرور ناگوار گذرتا ہو گا۔ تو اٹھانے کی یہ ترکیب کی کہ ڈھیر ساری موٹی موٹی کتابیں ان کے اوپر لاد دیں۔ پھر بھی نہ جاگی تو ایک صندوقچہ کمر پر رکھ دیا، پھر نہ اٹھی تورائٹنگ پیڈ کی کرسی بڑی احتیاط سے رکھ دی اور خود غائب ہو گئے۔ حمیدہ لیٹی ہوئی تھیں، انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ سانس رُکی جاتی تھی، نہ ہاتھ پاؤں ہلتے تھے۔ اختر نہا رہے تھے۔ زور لگا کر اٹھنے کی کوشش کی تو دھڑام سے صندوقچہ گرا اور پھر کرسی، کتابیں دھماکے سے گرنا شروع ہوئیں۔ اختر نے چیخ کے پوچھا کہ آپ کیا توڑ رہی ہیں۔ میں بگڑ کر بولی یہ جو آپ کتابیں، کرسی، صندوقچہ میرے اوپر لاد گئے ہیں۔ انہیں گرا رہی ہوں۔ یہ کس قسم کا بیہودہ مذاق ہے سوتے ہوئے انسان کے ساتھ۔‘‘ اختر غسل خانے سے نکل ڈریسنگ روم میں آئے۔ بکھری چیزوں پر نظر ڈالی اور بھناتے ہوئے مولوی صاحب کے کمرے کی طرف گئے۔ وہاں غصے سے کھڑے تھے کہ حمیدہ کو خیال آ گیا اور دوڑ کر اختر سے کہا کہ آپ بھی حد کرتے ہیں میں توآپ سے مذاق کر رہی تھی اور آپ سمجھ بیٹھے کہ یہ سب کچھ مولوی صاحب نے کیا ہے۔ آپ لوگ خود محفلوں میں الٹے سیدھے مذاق کریں تو ٹھیک۔ دوسرے کا مذاق برداشت ہی نہیں۔ اتنی سی بات کا بتنگڑ بنا کر مولوی صاحب کے پاس شکایت کرنے آ گئے۔ اب مولوی صاحب بولے کہا کہ ’’ٹھیک تو کہہ رہی ہے۔ ہم لوگوں نے بھی تو کوئی حد نہ چھوڑی تھی۔ جب تم لوگ آپس میں لڑو جھگڑو تو میرے پاس شکایت نہ لانا۔‘‘ پھر حمیدہ کی جانب معصومانہ انداز سے دیکھا جس میں بڑے معنی پنہاں تھے۔ ہم تم دوست دوست۔ ناشتے پر مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ ’’تم نے بڑے مزے سے مجھے بچا لیا، ورنہ وہ باگڑ بلا تو میری جان کو آ جاتا۔‘‘

حمیدہ اختر لکھتی ہیں کہ ساری عمر جب بھی میں نے نئی نویلی دلہن کے ناشتے کی تیاریوں کو دیکھا تو اپنی پہلی صبح یاد آ جاتی ہے اور بے اختیار ہنسی آتی ہے۔ مولوی صاحب نے ایک بار پوچھا کہ تم شام کو اپنے گھر پر کیا کرتی تھیں۔ میں نے کہا کہ ہم سب بیڈ منٹن، تاش اور کبھی پچیسی کھیلتے تھے۔ تو بولے کہ تم یہاں بھی یہی کرنا، پوچھا کس کے ساتھ۔ تو بولے میرے اور اختر کے ساتھ۔

کھانے کے بعد مولوی صاحب نے کہا کہ ’’کیا خیال ہے اب کچھ دیر تاش یاپچیسی کھیلیں‘‘۔ اختر بولے ’’میں توآج کی ڈاک سے آئے اخبار پڑھوں گا‘‘۔ بولے ’’بھئی تم بڑے ہی بد مذاق ہو۔ میں نے بھی تو زندگی بھر ایسی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔ ہر وقت پڑھ پڑھ کر اور لکھ کر بھیجا اور آنکھیں دونوں ہی پلپلائی جاتی ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر تاش کو ڈبے سے نکال کر بیٹھ گئے۔ بتاؤ ہم کویہ کیسے کھیلتے ہیں؟ میری جان خشک ہونے لگی کہ اگر تاش کبھی چھوئے ہی نہیں اور پچیسی کبھی کھیلی نہیں تو دونوں بات بات پر میری جان ضیق کریں گے اور ہوا بھی یہی۔ مولوی صاحب بچوں کی طرح کھیل کے اصول سمجھتے رہے۔ اتفاق سے اچھے پتے آنے پر اختر جیت گئے۔ تو مولوی صاحب کی تیوری پر بل پڑ گئے کہ تم نے جان کر اختر کو جتا دیا۔ دوبارہ جب وہ خود جیتے تو بالکل بچوں والی خوشی ان کے چہرے پر تھی اور لگے اختر کو چڑانے۔

بعد میں اختر نے حمیدہ سے کہا کہ ’’یہ تم نے برا لپکا ڈال دیا۔ مولوی صاحب اوپر سے کچھ اور ہیں مگر ان کے اندر ایک چھپا ہوا بچہ رہتا ہے۔ دیکھ لینا اب وہ ہر روز کھیلیں گے۔ مشکل سے سیکھیں گے اور جب بھی ہاریں گے۔ قیامت برپا کر دیں گے۔‘‘

جلد ہی بیٹن منٹن کے پول لگ گئے اور بیڈ منٹن بھی شروع ہو گیا یہ اور مولوی صاحب کی ایسی بے شمار دلچسپ باتیں اور شرارتیں، حمیدہ اختر کو ایک ایسے گھر میں جہاں ان کے علاوہ کوئی عورت نہیں تھی۔ ان کا دل بہلانے کے نت نئے شغل اور دیگر دلچسپیوں سے ہم سفر بھری ہوئی ہے اور حمیدہ اختر کی نظر سے قارئین ایک بالکل نئے اور منفرد مولوی عبد الحق کو دیکھتے ہیں۔ حمیدہ اختر کی دوسری کتاب ’’چہرے اور مہرے‘‘ میں بھی بابائے اردو کا ایک انوکھا روپ سامنے آتاہے۔ جو قدرے تفصیلی ہے۔ یہ دونوں کتابیں اور حمیدہ اختر کی تیسری کتاب ’’وہ کون تھی‘‘ کافی عرصے سے نایاب ہے۔ ان کی بچوں کی کہانیوں کی بھی کئی کتابیں ہیں۔ جو اے آر خاتون کی کہانیوں کی مانند انتہائی دلچسپ اور پرلطف ہیں۔ ان کتب کو چار سے سو سال کے بچے یکساں دلچسپی سے پڑھ سکتے ہیں۔ حمیدہ اختر حسین رائے پوری کی کتابیں دوبارہ شائع ہونا چاہئیں تا کہ بابائے اردو مولوی عبد الحق کو حمیدہ اختر حسین کی نظر سے بھی دیکھا جا سکے اور ان کی شخصیت کے نئے پہلو سامنے آ سکیں۔

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: