’’جزیرہ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عبد اللہ

0

بہار ہو یا خزاں، دھوپ کا راج ہو یا بادلوں کی آوارگی، اس جزیرے کا ہر موسم اسے بے انتہا خوش رکھتا تھا۔ تنگ راستے اور لوگوں کی بھیڑ، جزیرے میں موجود ہریالی اور پھر اس کا اپنا ایک سائبان، یہ سب اسے ایک ناقابل بیان طمانیت کا احساس دلاتے تھے۔ یہ جزیرہ آج سے نہیں بلکہ کئی زمانوں سے اس کے اباؤ اجداد کا وطن تھا اور یہاں بسی قدیم روحیں اسے ہمیشہ اپنے اردگرد محسوس ہوا کرتی تھیں۔ بعض اوقات تو وہ تنہائی میں ان سے گفتگو بھی کر لیتا تھا۔ کسی بلبل کی مانند، وہ روز اپنے اس چمن میں گیت گاتا اور اٹھکیلیاں کرتا زندگی کو جیتا چلا جا رہا تھا۔

ایک روز جزیرے کے بڑوں نے بتایا کہ کسی دن اسے یہاں سے نکلنا ہو گا۔ کیونکہ یہ جزیرہ سوائے موسموں کے بدلاؤ اور روح کو سکون و راحت کے، کچھ ایسا نہیں دیتا جس سے لوگ متاثر ہو سکیں۔ انہوں نے  یہ بھی بتایا کہ اس کے پاس جتنی زیادہ اشرفیاں اور خزانے ہوں گے، وہ لوگوں میں اتنا ہی مقبول و معروف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو متاثر کرنے کے قابل بھی ہو پائے گا۔ ایک بڑے نے یہ بھی کہا کہ یہاں صرف چند سکے ہی ہیں جو اردگرد کے لوگوں کو متاثر نہیں کر سکتے، کیونکہ نمود و نمائش اشرفیوں اور خزانوں سے ہی ظاہر ہوا کرتی ہے۔ یہ باتیں سن کر اسے حیرت بھی ہوئی اور افسردگی بھی۔ چونکہ اس کے لیے روح کا چین اور دل کا سکون ہی سب سے بڑھ کر تھا اور اس سے بھی زیادہ عزیز  وہ آزادی تھی جو اس کے دل و دماغ کو مادیت پسندی اور دکھاوے  سے دور رکھتی تھی۔ اس نے کچھ پل سوچا اور پھر فیصلہ کیا کہ دل و روح کا سکون، اباؤاجداد سے گفتگو کے لمحے اور جزیرے کی ہریالی ہی سب سے بہتر ہیں۔ وہ انہی چند سکوں کے ساتھ  رہے گا، کیونکہ اشرفیاں عموماً قدرت کے حقیقی لطف کو ماند کر دیا کرتی ہیں اور جذبات سراب بن کر دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پہلے بھی وہ انہی سکوں کے بل بوتے پر اپنی ضروریات احسن طریقے سے پوری کرتا چلا آیا تھا۔

دن تیزی سے گزرتے چلے گئے لیکن وہ بڑے جو اشرفیوں کو آزادی اور سکون پر ترجیح دینا پسند کرتے تھے، ان کی باتوں نے اسے مکمل خاموش اور افسردہ کر دیا تھا۔ آخر آزادی اور من کا سکون ہی تو حقیقی خوشی کہلاتا ہے وہ اکثر سوچتا، اور پھر دعا کرتا کہ وہ ہمیشہ آزاد اور پر سکون رہے، تاکہ قدرت کا سحر مکمل طور پر وہ اپنے اندر محسوس کر سکے۔ ایک رات وہ سویا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ اڑ رہا ہے۔ نجانے کب تک وہ اندھیرے میں اڑتا رہا اور پھر جب رکا تو دیکھا کہ ایک اجنبی جزیرہ سامنے تھا۔ اس نے واپس مڑنا چاہا مگر اندھیرے میں کچھ نظر نہ آیا۔ اس نے دیکھا کہ یہ جزیرہ بے حسی اور مادیت کی دھول سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے پھر سے واپس بھاگنے کی کوشش کی مگر اس کے پاؤں میں ان دیکھی بیڑیاں اسے روکے ہوئی تھیں۔ گو کے یہاں اور لوگ بھی تھے، مگر وہ سب  زندگی سے دور، تھکے ہوئے چہروں اور بے بس آنکھیں لیے ہوئے تھے۔ اس نے وہاں کچھ لوگوں سے بات کرنا چاہی مگر وہ سب اس سے صرف ایک سنہرے ٹیلے کا ہی ذکر کرتے اور گزر جاتے۔ اب وہ تھکنے لگا تھا، اپنے جزیرے  کی یادیں اور مناظر اسے سونے نہ دیتے اور بار بار واپس بھاگنے پر مجبور کرتے، لیکن وہ بیڑیوں کے باعث کبھی بھاگ نہ پایا۔ دھیرے دھیرے وہ اس جزیرے کی ویرانی اور وحشت کا عادی ہونے لگا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ وحشت اور ویرانی اس کی روح میں حلول کر کے من میں موجود سرشاری، آزادی اور تخلیقی پن کو کھاتی چلی جا رہی ہو۔

دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور وہ یونہی وحشت زدہ وجود لیے صبح سے شام اور شام سے صبح کرتا چلا گیا۔ یہاں اسے کہا گیا تھا کہ اسے ایک اشرفیاں اگلتے سنہری ٹیلے پر چڑھنا ہے جہاں ہر قدم پر اسے ایک اشرفی ملے گی۔ اور جب وہ اوپر پہنچ گیا تو بے شمار خزانے اس کے منتظر ہوں گے جسے پا کر وہ واپس اپنے جزیرے کے لوگوں میں مشہور ہو جائے گا ۔ لیکن اس ٹیلے پر چڑھنا آسان نہ تھا، پھر بھی وہ بد دلی سے دن بھر اس ٹیلے پرچڑھنے کی تگ ودو کرتا اور شام کو تھکا ہارا واپس لوٹ آتا۔ جزیرے کے ان سنہری ٹیلوں کے آس پاس چھونپڑوں میں رہنے والے بوڑھے اسے دیکھتے، مسکراتے اور پھر اپنے کام میں مشغول ہو جاتے۔ اس نے ادھر کئی لوگ دیکھے جو اپنے جزیروں کو بھول کر یہاں موجود سنہرے ٹیلے اور خوبصورت نخلستانوں میں کھو چکے تھے۔ انھیں یہاں چلنے والی سرد ہواؤں، کھلنے والے گلابوں، چہچہاتے پرندوں اور آوارہ گزرتے بادلوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ دن بھر اس سنہرے ٹیلے پر چڑھنے کی منصوبہ بندی ہی کرتے رہتے تھے۔ اس نے بھی بھرپور کوشش کی اور اس سنہرے ٹیلے کو ہی ہدف بنانا چاہا، مگر وہ کبھی اس جانب مکمل متوجہ نہ ہو سکا۔ وہ سوچتا تھا کہ آخر یہ اشرفیاں اور خزانے لینے والے بھی تو اسی جزیرے میں ہی مقید ہیں۔ جزیرے سے باہر نکل جانا تو ان کے لیے ممکن نہ تھا اور جو نکل جاتا وہ اشرفیوں کی بجائے سکے ہی اپنے پاس موجود پاتا۔

اک رات اس نے دیکھا کہ اس کے پاؤں کی وہ بیڑیاں رکاوٹ نہیں بن رہیں اور وہ اپنے جزیرے کی جانب بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ گرد و پیش سے بے نیاز، نخلستانوں سے گزرتے ہوئے، سنہرے ٹیلوں کو قدموں تلے روندتے ہوئے اندھا دھند وہ بھاگتا چلا گیا۔ اچانک اس کے قدم رک گئے کیونکہ سامنے بحر بیکراں اپنی وسعتوں کے ساتھ موجود تھا۔ اس نے سمندر سے کہا مجھے مت روکو،میرا جزیرہ بس اس پار مجھے آواز دے رہا ہے، مجھے آزاد ہونے دو بدلے میں یہ سب  تمہاری۔ یہ کہتے ہی اس نے حاصل کی ہوئی تمام اشرفیاں سمندر میں اچھال دیں اور کود گیا، کھارا پانی اس کی آنکھوں میں چبھنے لگا اور اچانک اس کی آنکھ کھل گئی، خواب ٹوٹ گیا۔ اس نے اردگرد دیکھا تو وہی سائبان، اس کا جزیرہ اور ہر سو ہریالی اس کی منتظر تھی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: