عورت کا جذباتی استحصال: ہر زمانے کی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ کیانی

0

اس ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں چند خواتین گروپ کی صورت بیٹھی تھیں۔ ان کی توجہ کا مرکز ایک جوان خاتون تھی جو عمر میں بمشکل 30 برس کی نظر آتی تھی۔ وہ کوئی داستان سنا رہی تھی جسے بہت توجہ سے دیگر خواتین سن رہی تھیں۔ میزبان خاتون ہاتھ میں فائل لئے وقتا فوقتا اس پر کچھ لکھتی جاتی تھی جیسے اہم نکات نوٹ کر رہی ہو۔

میں خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئی۔

سمیرا آپ کا یہ تعلق کب سے ہے؟ میزبان نے سوال کیا۔
جوان خاتون جس کا نام سمیرا (فرضی) تھا کہنے لگی۔ اس مہینے ہماری دوستی کی دوسری سالگرہ ہے۔
سوچا شاید یہ کوئی محبت کی داستان ہے جسے ایسی توجہ سے ساری خواتین سن رہی تھیں۔
میزبان (عالیہ) کہنے لگی اور رویے میں تبدیلی کب محسوس کی آپ نے؟
سمیرا: تین ماہ پہلے۔

عالیہ: کوئی خاص واقعہ ہوا ہے پچھلے چھ ماہ میں جو آپ کے خیال میں غیر معمولی بات ہو۔
سمیرا نے ایک نگاہ دیگر خواتین پر ڈالی اور عالیہ کو بے بسی سے دیکھا۔ وہ سمجھ گئی کہ سمیرا سب کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتی۔ اس نے سوال پھر کیا۔

عالیہ: آپ نے شادی کی بات کی تھی یا انہوں نے خود کی تھی؟
سمیرا: جب ہم پہلے پہل تو وہ بہت اکسائٹڈ تھے۔ ہر دم مجھے میسج کرتے تھے میرے آفس کے باہر پہلے سے میرا انتظار کرتے تھے اور ہر روز ہم ساتھ لنچ کرتے تھے۔ انہیں دنوں وہ بار بار مجھ سے اپنی زندگی میں کسی اچھے پارٹنر کے نہ ہونے کا ذکر کرتے تھے۔ ان کی باتوں سے بالکل واضح تھا کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔

سمیرا کچھ دیر کو رک کر عالیہ کو دیکھنے لگی تو اس نے بات جاری رہنے کا اشارہ کیا۔ سمیرا پھر بولنے لگی۔

سمیرا: مجھے آہستہ آہستہ ان سے پیار ہونے لگا کبھی اگر وہ نہ آسکتے تو مجھے بے چینی ہونے لگتی تھی۔ لیکن جب اگلے روز ملتے تو وہ اس دن کی تلافی کر دیتے تھے۔ میرے لئے کوئی تحفہ لے آتے تھے کبھی مجھے شاپنگ کروا دیا کرتے تھے۔ اسلئے مجھے گلہ نہیں ہوتا تھا۔ پھر ہم اتنے قریب آگئے کہ۔۔

سمیرا نے دبے سے انداز سے کہا۔ ہم تنہائی میں ملنے لگے۔ وہ مجھے پیار کرتے تھے تو میرے اندر ان کی محبت اور پختہ ہونے لگی۔ مجھے یقین تھا کہ جس روز میں نے خود شادی کی بات کی وہ فوری تیار ہو جائیں گے۔ پتا نہیں کیوں میں نے ایسا سوچا۔۔ سمیرا کی آواز بھرا گئی تو عالیہ نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ دبایا اور کہا:

سمیرا میں یہاں تمہاری کہانی سننے بیٹھی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ تم ضرور اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ لو گی اور یہاں سے ان سب خواتین کی طرح کامیاب لوٹو گی۔

سمیرا نے ایک بار پھر ہمت جمع کی اور بولنے لگی۔ اب وہ ہفتے میں ایک دو بار ملنے لگے اور پہلے جیسی گرمجوشی بھی نہیں رہی تھی۔ میں نے ایک آدھ بار گلہ کیا تو کہنے لگے کہ میں آفس میں تھک جاتا ہوں تو کچھ دیر آرام کرنا میرا حق ہے۔ ان کی اس بات سے میرا دل بہت اداس ہوا کیونکہ پہلے کہتے تھے میں تمہیں دیکھ کر فریش ہو جاتا ہوں۔ لیکن میں نے گلہ نہ کیا۔ پھر ایک روز وہ مجھ سے اکھڑے اکھڑے سے بولنے لگے۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ میں ادھوری ملاقاتوں سے بیزار ہوں۔ تم سے بھرپور محبت چاہتا ہوں۔ مجھے اپنی بانہوں کا سہارا دو اور کسی روز میری پیاس بجھا دو۔

سمیرا خاموش ہو گئی۔ کمرے میں موجود خواتیں کے چہرے میں پڑھ چکی تھی۔ زیادہ تر سمیرا کی کہانی کو اپنی کہانی سمجھ کر اداس ہو رہی تھیں۔ مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ وہ خواتین کسی نہ کسی صورت مرد کی بیوفائی کا گلہ لئے کھڑی تھیں۔

عالیہ نے سمیرا سے پوچھا کہ اسے اگر بریک چاہیے تو چائے کا وقفہ کر لیتے ہیں۔ چائے کا وقفہ ہو گیا تو عالیہ نے مجھے ایک طرف لے جا کر کہا۔
عالیہ: آپ نے دیکھا میں کس طرح کام کرتی ہوں۔
میں نے کہا کہ جی ہاں۔ میں کچھ دیر پہلے آئی ہوں ساری بات تو سمجھ نہ پائی لیکن آپ شاید لو پرابلم کا کونسلنگ سیشن کروا رہی ہیں۔
عالیہ: نہیں کونسلنگ نہیں میں کوچنگ کر رہی ہوں وہی جو آپ اس روز کر رہی تھیں۔
مجھے ذرا حیرانی ہوئی۔ میں کب کروا رہی تھی کوئی سیشن؟
عالیہ: اس روز جو آپ وہاں کیفے پر خاتون کی باتیں سن کر سوالات کر رہی تھیں اور وہ جوابات میں ہی اپنے مسئلے کے حل کی طرف جا رہی تھی۔ وہی کوچنگ ہے۔ اسی لئے میں نے چاہا کہ آپ مجھے جوائن کر لیں۔ آپ نیچرل ہیں۔ مجھے بہت مدد ملے گی آپ سے۔

عالیہ کی باتیں اس وقت تو مجھے کچھ خاص سمجھ میں نہ آئیں لیکن پھر دوسرا راونڈ شروع ہوا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ دراصل میری لوگوں کے مسائل ہمدردی سے سننا اور پوری دیانت سے بہتری کی کوشش عالیہ کی نظر میں نیچرل کوچنگ تھی۔ بعض اوقات میں لوگوں کو مشورے بھی دیتی ہوں اور کئی دفع زبردستی وہ کام کرواتی ہوں جو میرے اندازے سے درست ہوتا ہے۔ بفضل تعالی کبھی بھی کوئی مسئلہ بگڑا نہیں بلکہ ہمیشہ حل کی طرف ہی گیا۔

اب کوچنگ میں شرط یہی ہوتی ہے کہ سامنے والے کو مشورہ نہیں دینا بلکہ اس کے اندر مخفی صلاحیت کو اس کی نگاہ میں ابھارنا ہے۔ فرد اپنی صلاحیت کو پہچان کر اپنی مدد آپ کرے یہی کوچنگ ہے۔

سمیرا اپنی کہانی شروع کر چکی تھی۔

سمیرا: مجھے یقین ہو چکا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور مجھے عنقریب پرپوز کرنے والے ہیں۔ اسی لئے میں نے ان سے۔۔۔
کچھ دیر رک کر سمیرا نے بات پھر شروع کر دی۔
سمیرا: میں نے ان کی خواہش اور خوشی کی خاطر اپنی عزت ان کے حوالے کر دی۔ میرے لئے نیا تجربہ تھا۔ میں بہت پریشان تھی۔ انہوں نے مجھے تسلی دی کہ یہ سب نارمل ہے۔ ایسا تو یہاں عام بات ہے۔

مردوں کے معاشرے میں یہی المیہ ہے کہ عورت شکایت لے کر بھی تو مرد کے پاس ہی جائے گی۔ وہاں بھی استحصال ہو گا۔ اسی لئے تو رنگ رنگ کی تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان کی سربراہان کے ساتھ بھی کوئی نہ کوئی سانحہ گزرا ہی ہوتا ہے۔ بعض کھل کر بتا دیتی ہیں اور بعض پردہ رکھتے ہوئے عورت کے حقوق کا نعرہ لگاتی ہیں۔

سمیرا کی آواز بدل رہی تھی۔ میں کچھ فاصلے پر بیٹھی تھی لیکن مجھے آدھا چہرہ نظر آرہا تھا۔ آنسو کی چمک بتا رہی تھی کہ اس کے ساتھ ایک مرد نما جانور نے زیادتی کی تھی۔ وہ مرد کہلانے والا کیسا مرد تھا جس نے ایک نازک جذبات رکھنے والی کو ورغلایا تھا۔ ایسے مردوں سے تو نامرد بھلے جو اپنی ہوس کے لئے پاک باز عورتوں کی عزتیں خراب کر دیتے ہیں۔ محض چند لمحوں کی لذت کی خاطر ایک معصوم عورت کو ہمیشہ تڑپنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ مردوں کے معاشرے میں یہی المیہ ہے کہ عورت شکایت لے کر بھی تو مرد کے پاس ہی جائے گی۔ وہاں بھی استحصال ہو گا۔ اسی لئے تو رنگ رنگ کی تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان کی سربراہان کے ساتھ بھی کوئی نہ کوئی سانحہ گزرا ہی ہوتا ہے۔ بعض کھل کر بتا دیتی ہیں اور بعض پردہ رکھتے ہوئے عورت کے حقوق کا نعرہ لگاتی ہیں۔ لیکن میری نگاہ میں تو سچ یہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مرد اب کم رہ گئے۔ مرد تو وہی جو زبان کا پکا ہو۔ جو وعدہ کر لے تو پھر دنیا یہاں سے وہاں ہو جائے وہ وعدے کی تکمیل کرے۔ جو محبت کا دعویٰ کرے تو پھر محبت کو عزت بھی دے اور اسباب بھی مہیا کرے۔ جو عورت کے نازک بدن سے کھیلنا چاہے تو اس کے جذبات کو بھی چوما کرے۔ لیکن فی زمانہ مرد میسر نہیں۔ معذرت ان چند مردوں سے جو صحیح معنوں میں اخلاقی جرآت رکھتے ہیں کہ جسے چاہیں اسے اپنا بھی لیں۔ جبکہ یہ کوئی ایسی مشکل بات بھی نہیں۔ میرے ایک عزیز نے تین شادیاں کیں اور تینوں کو اس بات کا یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ مرد ایک وقت میں کئی عورتوں سے محبت کر سکتا ہے اور اس کے پیار کی سچائی نکاح کی صورت سامنے آتی ہے۔

بحر حال سمیرا کی بات سن کر سب دکھی لگنے لگیں۔ عالیہ اس کا ہاتھ تھامے بیٹھی تھی۔ وہ باقی کہانی سنا رہی تھی۔

سمیرا: میں نے بہت مشکل سے وہ دن گزارے۔ گھر میں بھی کسی سے آنکھ نہ ملا سکتی تھی۔ چوروں کی طرح چھپتی پھرتی تھی۔ امی بچاری سمجھیں کی آفس کی پریشانی ہے۔ لیکن میری پریشانی تو یہ تھی کہ وہ غائب ہو گئے۔ میرا فون نہ اٹھاتے تھے۔ میسج کا جواب نہ دیتے تھے۔ مجھے یوں لگا جیسے مجھے کسی نے لوٹ لیا۔ پہلے مجھے انسلٹ اور دکھ تھا پھر غصہ آنے لگا اور ایک دن میں نے بہت سخت میسج کر دیا۔ اسی روز میرے آفس کے باہر وہ پھول ہاتھ میں لئے کھڑے تھے۔ میرے کچھ بھی کہنے سے پہلے انہوں نے کار کا دروازہ کھولا اور بولے۔ جلدی سے بیٹھ جاو کوئی دیکھ نہ لے۔ میں بہت پریشان ہوں۔ بیٹھ جاو تو ساری بات بتاوں۔

سمیرا مسلسل بول رہی تھی۔ خواتین مکمل توجہ سے اس کی داستان سن رہی تھیں۔

سمیرا: مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیا اور میں کار میں بیٹھ گئی۔ وہ بہت دیر خاموش رہے اور پھر کہنے لگے کہ ان کے کزن کی ڈیتھ ہو گئی تھی تو انہیں ایمرجنسی جانا پڑا۔ سب کچھ اچانک ہوا کہ بتانے کا ہوش نہ رہا۔

میں نے پوچھا کہ فون بھی تو کیا جاسکتا تھا تو کہنے لگے کہ جلدی میں فون دفتر رہ گیا اور کل واپس آیا تو دفتر سے لیا۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ہفتہ پورا فون دفتر میں رہا اور بیل بجتی رہی تو وہ کچھ پریشان ہوگئے۔ لیکن پھر کہنے لگے کہ وہ چارجنگ پہ تھا اسی لئے تو بھول گیا۔ بس انہوں نے ایسے بہانے بنائے کے مجھے ماننا پڑا۔ پھر وہی میرے حسن کی تعریف اور خود کو خوش نصیب کہنا۔ چند دن بعد انہوں پھر تنہائی میں ملنے کی بات کی تو میں نے شادی کی بات کی۔ کہنے لگے کہ ملو تو بات کرتے ہیں۔ میں ایک بار پھر جھانسے میں آ گئی۔ پھر وہی سب لیکن شادی کی بات واضح نہ ہوئی۔ ایک طرف وہ مجھے پسند کرتے تھے تو دوسری طرف اپنی مشکلات بیان کرتے تھے مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیا اور ایک بار میں اپنا استحصال کروا کر گھر لوٹ آئی۔

میں نے دیکھ لیا تھا کہ اس وقت وہاں موجود خواتین کے چہرے پر حیرانی کم اور اپنے درد کی جھلک صاف ظاہر تھی۔ مجھے دکھ تھا کہ ایسی کہانیاں اب عام تھیں۔ بہت سمجھدار اور اچھے گھرانوں کی لڑکیاں بھی ایسے چکروں میں پھنس جاتی ہیں۔ بلاشبہ چادر اور چار دیواری میں رہنے کے فائدے عورت کو ہی تھے کہ اسے جا بجا مردوں کے متھے لگنے اور ان کی ہوس بھری نگاہوں سے بچت تھی۔ پھر معاشی حالات اور انٹرنیٹ نے تبدیلی کا وہ منتر پھونکا کہ سادگی اور قناعت کو جلا کر بھسم کر دیا۔ ہر کوئی دولت شہرت اور مرتبے کے چکر میں پڑ گیا۔ کچھ بن جانے کے چکر میں انسان اپنی کھال سے ہی نکل گیا۔

سمیرا کی باتیں سن کر میری طبیعت بیزار ہو گئی۔ میں نے کافی بنائی اور عالیہ کی سٹڈی میں چلی گئی۔
بہت چاہا کہ ذہن جھٹک دوں لیکن ممکن نہ ہوا۔ کافی کا ذائقہ خون آلود تھا۔ ہوا میں عجیب بساند تھی اور ذہن چارہ کاٹتے ٹوکے کی طرح کٹ کٹ کٹ کر رہا تھا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: