برساتی پانی اور نکاسی آب کا مسئلہ —— قانون فہم

0

1988 میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے الیکشن میں جانے سے پہلے الیکشن مینیفیسٹو کے طور پر نیو سوشل کنٹریکٹ پیش کیا. شہید محترمہ کے تصور اور حکومت کے تحت پاکستان کا پہلا گورننس کا نظام گل سڑ کر بیکار ہو چکا تھا۔ اس لیے الیکشن مینی فیسٹو میں یہ قرار دیا گیا کہ اس نظام کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا جائے ۔

نیو سوشل کنٹریکٹ کے ڈاکومنٹ میں سب سے پہلے پاکستان کو درپیش اس وقت کے مسائل کی تشخیص کی گئی تھی۔ اس وقت شہید محترمہ کے تصور زندگی کے مطابق پاکستان کو تین بڑے مسائل سنگین مسائل کی شکل میں ڈھل کر سامنے آ چکے تھے
1: دہشت گردی اور بم دھماکے
2: سینیٹیشن یعنی نکاسی آب کا مسئلہ
3: بےروزگاری کا عفریت

اس وقت شہید محترمہ نے پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ اور ملک کی کی بڑی جامعات کو پیشکش کی تھی کہ وہ اپنی اپنی حدود میں میں سینیٹیشن انجینئرنگ کی ڈگری پروگرام شروع کریں کیونکہ کم ازکم اس وقت تک پاکستان میں اور میری نظر میں آج بھی جامعات میں سینیٹیشن کو سول انجینیرنگ کے ایک مضمون کی حیثیت میں مختصر طور پر پڑھایا جاتا ہے اور این ای ڈی یونیورسٹی کے علاوہ پورے پاکستان میں اس مضمون کی سپیشلائزیشن یا اس پر ریسرچ کا کوئی انتظام موجود نہ ہے۔

بدقسمتی کی انتہا دیکھیے کہ 1988 میں بیان کردہ مسئلہ نمبر 1 آج بھی پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک ہی ہے بلکہ گھمبیر ترین شکل اختیار کر چکا ہے۔
یوں تو نکاسی آب اب پاکستان کے بڑے ہی نہیں چھوٹے شہروں میں بھی اچھا خاصا دردسر بن چکا ہے ۔

ترقی یافتہ معاشروں میں میں نکاسی آب کے ڈیزائن کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ایک کوڈومیسٹک سینیٹیشن یعنی گھروں میں استعمال کے بعد ضائع شدہ پانی کے نکاس کا بندوبست اور دوسرے کو سٹارم سینیٹیشن یعنی برسات میں یا بارش کے بعد نکاسی آب کا انتظام۔

پاکستان میں نصف سے زائد علاقوں میں برسات ایک معمول ہے اور بڑے شہر مثلا لاہور ،گوجرانوالہ ،سیالکوٹ، فیصل آباد راولپنڈی، اسلام آباد اور شمالی علاقہ جات میں ہر سال کثیر مقدار میں بارشیں ہوتی ہیں
پاکستان کا بقیہ حصہ ساہیوال ملتان سے شروع کر کے صوبہ سندھ اور بلوچستان مکمل اور کراچی شہر خصوصی طور پر پر جس خطہ میں واقع ہیں یہ موسمی اعتبار کے خشک علاقے سمجھے جاتے ہیں اور یہاں بارش ہونا اور کثیر مقدار میں بارش ہونا ایک غیرمعمولی صورتحال سمجھی جاتی ہے ۔
پوری دنیا میں جو علاقے بارشوں والے خطے میں واقع ہیں۔ ان میں بڑے شہروں میں ڈومیسٹک سینیٹیشن اور سٹارم سینیٹیشن کا الگ الگ بندوبست کیا جانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔قیام پاکستان سے قبل ہی لاہور گوجرانوالہ سیالکوٹ پنڈی اور مذکورہ بالا تمام شہروں میں برساتی پانی کے نکاس کا الگ سے مناسب اور موزوں انتظام موجود تھا اور شاید 1998-پہلا سال تھا جب برسات کی وجہ سے ان علاقوں میں نکاسی آب کا مسئلہ پیدا ہوا۔
لاہور میں اسٹارم سینیٹیشن کا نظام ناکام ہونے کی واحد وجہ یہ ہے کہ حکومت پنجاب نے لاہور میں برساتی پانی کو ڈومیسٹک سٹیشن کے نظام کے ذریعے شہر سے باہر نکالنے پر زور دیا اور اس پر بھاری اخراجات کئے گئے۔ اب یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ڈومیسٹک سینیٹیشن کا نظام شہر میں موجود 500 کے قریب واسا کے ٹیوب ویلز کے ذریعے حاصل شدہ پانی کے استعمال کے بعد اس کے نکاس کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اور لاہور میں ایک درمیانہ درجہ کی بارش کم از کم دس لاکھ ٹیوب ویل سے نکالے جانے والے پانی کے برابر پانی لاہور شہر میں پھینک رہی ہوتی ہے۔ جو بھی انجینئر یا ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ پائپوں کے ذریعے برساتی پانی سے نکالا جا سکتا ہے ۔ وہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق ہیں۔

ملک کے جنوب مغربی خطہ یعنی خشک علاقہ اور خصوصی طور پر کراچی شہر جس موسمیاتی زون میں واقع ہے اس میں موجود دنیا کے بڑے بڑے شہر دبئی، جدہ ،ریاض ان میں سے بھی کسی بھی شہر میں سٹارم سینیٹیشن کا بندوبست نہیں کیا گیا ہے ۔ان سب شہروں میں میں معمولی بارش بھی نکاسی آب کا سنگین مسئلہ پیدا کر دیتی ہے۔

اسلام آباد قدرتی طور پر سطح مرتفع پوٹوہارمیں واقع ہے اس لیے وہاں نکاسی آپ کا مسئلہ پیدا ہونا ممکن ہی نہیں تھا خدا کی شان دیکھیے کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے منگوائے گئے افسران اور ٹیکنیکل مشیران ان جو اسلام آباد میٹرو پر کام کرنے کے لئے بلائے گئے تھے ان کی محنت شاقہ کے بعد گزشتہ تین سال سے اسلام آباد کے بہت سارے علاقے برسات میں ڈوبتے ہیں۔

اب ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کراچی دبئی جدہ اور ریاض میں اسٹارم سینیٹیشن کا انتظام کرنا کیوں کر غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ان شہروں میں بارشیں 11 /12 سال کے وقفے کے بعد ہوتی ہیں۔ بفرض محال اگر ان شہروں میں سٹارم سینیٹیشن کا نظام بنا بھی دیا جائے تو گیارہ بارہ سال تک اسے مینٹین کرنا ممکن نہیں رہتا . اور ہر سال یا پیریوڈیکل صفائی اور مینٹیننس کے بغیر کھلے نالوں پر مشتمل اس نظام کو بچانا بذات خود اس کی افادیت سے زیادہ اخراجات کا سبب بنتا ہے۔

طوالت سے بچانے کی خاطر صرف کراچی کی حد تک حل عرض کیے دیتا ہوں کہ کراچی میں اسٹارم سینٹیشن کا نظام بنانے کی بجائے اگر کراچی کی ٹوپوگرافی کے خلاف آبادیاں بنانے کی پابندی لگا دی جائے تو برساتی پانی کا نکاس ایک خود کار طریقہ سے انجام پا سکتا ہے۔ کراچی کی سطح بھی اسلام آباد کی طرح سطح مرتفع پر مشتمل کراچی کو ڈومیسٹک سینیٹیشن کا نظام دینے کے لیے ہی سرمایہ دستیاب نہ ہے ایسے میں ہم بلندبانگ توقعات اور مطالبات کریں بھی تو انکے عملدرآمد کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اس لیے جہاں ہے جیسے ہے کی بنیاد پر حکومت یا انتظامی مشینری کے پاس ایک ہی آسان رستہ ہے کہ وہ کراچی کی فطری بلندیوں اور نشیبیوں کو برقرار رکھنے کا قانون بنائیں اور کسی بھی ہاؤسنگ پراجیکٹ کو سطح زمین کو مکمل طور پر ہموار اور برابر کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہ دیں۔ کراچی کی سول سوسائٹی کو اس ضمن میں آگے آنا چاہیے اور کراچی کی ٹوپوگرافی کو اور پانی کے بہاؤ کے فطری راستوں کو بچانے کی جدوجہد کرنی چاہئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: