ایک چھوٹا سا پسماندہ دیس، مگر۔۔۔۔۔۔ محمد مدثر احمد

0

کچھ تو خاص ہے اس ملک کے بارے میں۔

بظاہر یہ ایک چھوٹا سا پسماندہ ملک ہے۔ قرضوں میں جکڑا ہوا۔ توانائی کا بحران ہے۔ معیشت کے سارے اشارے منفی ہیں۔ درآمدات اور بر آمدات میں کوئی توازن نہیں۔ امن وامان کی صورتحال ایک عرصے سے غیر تسلّی بخش ہے۔ معاشرہ میں انتہا پسندی فروغ پا رہی ہے۔ ملک کی نظریاتی بنیادوں پر سوال اُٹھائے جارہے ہیں۔ سفارتی محاذ پر ہم مستقل معذرت خواہانہ روّیہ اپنائے رکھتے ہیں۔ تعلیمی معیار بین الاقوامی سطح کا نہیں۔ صحت کی سہولیات ناکافی ہیں۔ مختلف مافیا وسائل پر اپنی گرفت مضبوط کرتے جارہے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ عام ہے۔ سرکاری کاروباری ادارے خسارے میں جا رہے ہیں۔

اکثریتی ملکی آبادی کے پاس پینے کے صاف پانی کی سہولت نہیں۔ کرپشن اور اقرباء پروری ٹھوس حقیقتیں ہیں۔ عدالتوں میں ہزاروں مقدمات زیرِ التویٰ ہیں۔ فرقہ ورانہ، لسانی اور صوبائی بنیادوں پر ہم مختلف گروہوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ اسلام، پاکستان، جمہوریت اور تبدیلی کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنایا جارہا ہے۔ کسانوں کو فصلوں کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ تاجر ٹیکس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ عوام گرانی کی شکایت کرتے ہیں۔

پھر بھی۔ ۔ ۔

ان ساری باتوں کے باوجود کچھ تو خاص ہے اس ملک کے بارے میں جو اس کے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ نظر آتا ہے۔ دوست بھی بدلے بدلے نظر آتے ہیں۔ بعض مسئلوں پر دوست اور دشمن ایک جیسی رائے رکھتے ہیں۔ ہمارے خلاف صف آرائیاں ہو رہی ہیں۔ ملامت کی جاتی ہے۔ دھمکایا جاتا ہے۔ کبھی ترغیب دی جاتی ہے کبھی ڈرایا جاتا ہے۔ ہم تنقید اور الزامات کی زد میں رہتے ہیں۔ پابندیوں سے ڈرایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم پر اتنی توجہ کیوں دی جارہی ہے؟ ایک چھوٹا پسماندہ مُلک بڑے طاقتور ملکوں کے اعصاب پر کیوں سوار ہے؟ کافی غوروحوض کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس صورتِ حال کی ذمّہ دار مغرب کی علمی برتری ہے۔ مغرب اپنے گہرے کثیرالجہتی علم کے بل بوتے پر یہ اخذ کر چُکا ہے کہ یہ خطّہ ارض ایک عالم گیر تحریک کا مرکز ہوسکتا ہے۔ اس ملک کا معجزاتی قیام اور معجزاتی بقا، جوہری قوت، محل ِوقوع اور جغرافیائی اہمّیت، انسانی وسائل کی بعض حساس شعبوں میں حیران کن ترقی، علاقائی تشخص اور لسانی عصبیت کے چنگل سے آزاد ہوتا ہوا قومی یکجہتی کا تصور، آسمانی صحیفوں کے اشارے، مذہبی روایات کا تسلسل، قوموں کے نفسیاتی تجزیے اور سیاسی زاویے ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

میں یہ سطور پاکستان کے دارالحکومت میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں۔ میرے گھر سے چند میل کی مسافت پر ایک درویش کا مزار ہے جو اس شہر اور اس کی اہمیت کے بارے آج سے سینکڑوں سال پہلے پیش گوئی کر گیا تھا۔

مجھے اس موقع پر اشفاق احمد صاحب کا وہ بیان یاد آرہا ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ’’پاکستان حضرت یونس ؑ کی اونٹنی ہے۔‘‘ مفتی جی اور شہاب صاحب بھی اس دیس کے گن گاتے رہے۔

مدینہ اور پاکستان کی ریاست کے قیام اور مقاصد میں کئی باتیں مشترک ہیں۔

یوں دکھائی دیتا ہے کہ جن بابوں کی باتیں ہم محض تصوراتی، دقیانوسی یا افسانوی ٹھہراکر نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ مغرب نے ان کو سچ مان لیا ہے۔ اور آپ کے دیس پر نظریں جمادی ہیں۔ میدان سجنے میں شاید کچھ دیر ہے۔ لیکن وقت بڑی تیزی سے گزرتا ہے۔

آگ ہے اولادِابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے

مصنف کی کتاب ’سوچ سرائے‘ سے لیا گیا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: