کراچی، بارش اور موت: روئیے زار زار کیا —- صبیغ ضو

0

وہ بجلی کے پول کے بالکل قریب پڑے تھے۔
رسہ پکڑو رسہ۔ ۔ “وحشت بھرا جملہ۔ ۔ ۔

لیکن اس خوبصورت جوان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس موٹے بانس کو پکڑ سکتا۔ بائیک اوندھی پڑی تھی۔ ایک جوان کیچڑ بھرے اس بارش کے دریا میں اوندھے منہ بے جان پڑا تھا۔ دوسرے کا جسد خاکی بھی مکمل اس غلاظت بھرے پانی کے اندر۔ ۔ ۔ ۔ صرف بازو باہر تھے۔ اور تیسرا نہایت بے بسی کے ساتھ زیست سے جسم کا تعلق قائم رکھنے کی کوشش میں تھا۔ ۔ اس نے بانس کو بےجان ہاتھوں سے تھاما، لیکن وہ لکڑی بھی سانسوں کی ڈور کی طرح اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی۔ اس نے مرنے سے پہلے ساتھی کی شرٹ کو پکڑتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی تھی۔ اور پھر پھر ٹوٹی ہوئی سانسوں کے درمیان کرب بھرے جملے اس کے بے دم ہوتے وجود نے سنے تھے۔ “اس میں بھی سانس نہیں یار” افففف کیسا وحشت و بے بسی سے بھرا لہجہ تھا۔ ۔

بارش کے کیچڑ بھرے پانی میں اس بجلی کے پول سے لٹکتی تاروں میں دوڑتا خطرناک کرنٹ اب پانی میں بھی تیر رہا تھا۔ ۔
اففف۔ ۔ ۔ یا میرے اللہ۔ اس وڈیو کو دیکھ کر میں نے نے اپنے وجود میں کیسی خوفناک سرسراہٹ محسوس کی۔ ۔ ۔ ۔ بیان نہیں کر سکتی۔ آنسو اور سسکیوں پر میرا اختیار نہیں تھا۔ مجھے یکدم بارش سے وحشت ہونے لگی۔ جانے بارش کے قہر نے ان کی جان لی تھی۔ ۔ ۔ یا سفاک انتظامیہ کی بے حسی نے۔ ۔ ۔ کیا بد قسمتی ہے کہ بارش کی چند بوندیں پڑنے کے بعد بارش کو ترستے اہل کراچی آیت کریمہ کا ورد اور بارش رکنے کی دعائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ شدید بارشوں کی پیشنگوئی کے بعد انتظامیہ نے جگہ جگہ دعائیہ کیمپ لگانے کے علاوہ ہنگامی طور پر کوئی عملی قدم کیوں نہیں اٹھایا؟؟؟
آخر انسانی جان اتنی ارزاں کیوں ہے؟؟

میرے بڑے بھائی عید سے ایک دن پہلے گھر والوں کے ساتھ عید کرنے کے لئے پنڈی سے کراچی آ رہے تھے۔ گاڑی لیٹ ہو جانے کی وجہ سے رات ڈھائی بجے سہراب گوٹھ سے پوری رات پیدل سفر کر کے گھر پہنچے۔ گرج چمک کے ساتھ شدید بارش جاری تھی۔ بھائی سمیت ہم نے وہ رات کس اذیت میں گزاری، اس کا اندازہ شاید ہی کوئی لگا سکے۔ کہیں گھٹنوں تک کہیں اس سے اوپر پانی جمع تھا۔ کسی درخت سے ایک شاخ توڑ کر کر ساتھ رکھی۔ اس گندے پانی کے دریا میں چلتے ہوئے گٹر وغیرہ چیک کرنے کے لیے وہ شاخ کام آتی رہی۔ اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے، رب کریم نے میرے بھائی کو محفوظ رکھا۔

بارش نے کئی اکلوتے چشم وچراغ نگل لئے اور انتظامیہ کے پتھر دلوں پر دراڑ تک نہیں آئی۔ اب تک کئی جگہوں پر بارش کا پانی جمع ہے۔ جگہ جگہ پہلے بھی کچراکنڈی کم نہیں تھی کہ اب جانوروں کی آلائشیں بھی۔ ۔ ۔ ۔ گھر سے نکلنا ایک عذاب ہی ہے۔ ایسے بدبو کے بھبھکے نتھنوں تک پہنچتے ہیں کہ آنتیں کھایا پیا اگل دینے کو بیتاب ہو جاتی ہیں۔

ابھی پچھلے دنوں سوشل میڈیا پہ دیکھا۔ ۔ ایبٹ آباد کے رہائشی تھے۔ عید سے ایک دن پہلے گھر کا دروازہ بجا۔ ۔ آنے والوں نے پوچھا کیا آپ قربانی کر رہے ہیں؟
بقول ان کے پہلے تو وہ سمجھے کہ یہ کھالیں سمیٹنے کے لیے پوچھتے پھر رہے، خیر جھجکتے ہوئے اعتراف کیا کہ جی قربانی کر رہے ہیں۔ ۔ انہیں ایک بڑا سا شاپر پکڑا گیا کہ جناب آلائشیں آپ اس میں ڈال کر گھر کے دروازے کی باہر رکھ دیں ہمارا عملہ آکر لے جائے گا۔

افسوس کراچی کے نصیب میں کبھی ایسا نظم و ضبط نہیں آسکتا۔ ۔ ۔ بے ہنگم ٹریفک، ٹوٹی ادھوری سڑکیں اور جگہ جگہ کچرے کی بھرمار۔ ۔ ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم کراچی کی شہری بھی اپنے گھروں کو صاف رکھنے کا خیال تو رکھتے ہیں۔ لیکن اپنے گھر کا گند ہم سڑکوں پر ڈال آتے ہیں۔ ۔ ۔ سفر کے دوران کچھ بھی کھاتے ہوئے ریپر سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں۔ اورذرا شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ ۔ یہاں کے رہائشیوں کو بھی شائد تربیت کی ضرورت ہے۔ اور یہاں کی انتظامیہ کی تو بالخصوص۔ ۔ ۔ ۔

خدارا سڑکوں کا انتظام بہتر کیا جائے اور کے الیکٹرک کو ان کی زمیداری ڈنڈے کے زور پر سمجھائی جائے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے مانتے بھی نہیں۔ اس بارش میں کتنے ہی قتل کر چکی۔ ۔ ۔ اور آگے بھی صورتحال ویسی ہی وحشت زدہ کرنے والی ہے۔
ایسا نہ ہو کہ پانی کی قلت کا شکار اہل کراچی خوف سے آئندہ بارش کے نہ ہونے کی دعا کرتے رہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: