حلال کو حرام سے جدا رکھیں —– سعدیہ کیانی

0

پہلی بار جب ہمیں مہمانوں کو سوات لے جانے کے لئے ڈرائیور چاہیے تھا تو تب محسن سے ملاقات ہوئی۔ کسی نے بتایا کہ اسے مہارت ہے اور قابل اعتبار ہے۔
جب اسے دیکھا تو پہلا خیال آیا کہ یہ ابھی نوعمر ہے۔ پوچھا کہ عمر کیا ہے تو اس نے کہا 17 سال کا ہوں۔ ساتھ ہی بولا کہ لائسنس بنوا رکھا ہے آپ فکر نہ کریں۔
میرے متعلق ایک بات سبھی جانتے تھے کہ اصول کے خلاف بات نہیں سنتی اسلئے جیسے ہی اس کی عمر کا سنا تو اسے منع کیا کہ تمہاری عمر تو ہے ہی نہیں تو کیسے لائسنس بنوا لیا۔
ہمارا تعارف جس نے کروایا وہ ایک عزیز تھا۔ اس نے جھٹ مداخلت کی اور کہا کہ یہ عمر میں زیادہ ہے بس کاغذوں میں کم لکھوایا تاکہ کسی جگہ سرکاری ملازمت کی مدت میں اضافہ کروایا جاسکے (اس سائنس سے مجھے واقفیت نہیں کہ کم عمری سے مدت ملازمت میں توسیع کیسے ہوتی ہے اسلئے ایسے لکھ رہی ہوں جیسے سنا)۔

بحرحال ان لوگوں نے اس وقت کہانی بنا لی۔ ہم سوات کے لئے روانہ ہوگئے مہمان بہت شوق سے آئے تھے کہ ابکہ وائٹ پیلس میں رہیں گے شوگراں جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ راستے بھر میں محسن کا انٹرویو کرتی گئی۔ ایک بات تو مجھے فوری سمجھ آگئی کہ وہ جتنی عمر بتا رہا ہے اس بھی کم عمر ہے اور بعد میں بھیدکھلا کہ وہ محض 15 سال کا تھا جب پہلی بار ہمیں سوات کی سیر کے لئے لے کر گیا۔
میری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ میاں اچھی پوزیشن پر تھے اس کی کہانی کچھ ایسی تھی کہ مجھے اس کی ملازمت کا بندوبست کرنا پڑا۔

محسن اپنے گھرانے کا واحد کفیل تھا اس کے والد کا انتقال ہوچکا تھا اور چار بہنوں کا بوجھ اکلوتے محسن کے کندھوں پر تھا۔وہ ٹیکسی چلا کر گزارہ کرتا تھا۔ مری، سوات وغیرہ کی دیہاڑ لگ جاتی تھی تو اس کا کام بن جاتا تھا۔ میرے لئے ایسے خطرناک راستے پر اتنے کم عمر بچے کا ڈرائیو کرنا بہت تشویشناک بات تھی۔اسلئے قطع نظر یہ کہ اس کی اصل عمر کیا ہے مجھے اپنے اصولوں پر انسانیت کی فلاح اہم نظر آرہی تھی۔ وہ کچھ پڑھا لکھا بھی نہ تھا کہ کوئی آفس کی جاب لگواتی۔ بس ڈرائیونگ وہ کرسکتا تھا تو اسے ایک بڑی آرگنائزیشن میں اچھی تنخواہ پر نوکری دلوا دی۔
آہستہ آہستہ وہ اپنی جگہ بناتا رہا۔ محنتی تو تھا ہی اب ذرا آسودگی آئی تو حلیہ بھی بدل گیا۔ پھر ایک روز احساس ہوا کہ وہ بہت اچھی اٹھان کے ساتھ خاصا خوش شکل نوجوان نظر آنے لگا ہے۔ اس نے اپنی جاذب نظر شخصیت کا فائدہ اٹھایا اور ساتھ ساتھ کاروبار بھی شروع کردیا۔
دس سال گزر گئے تو محسن اب ایک بڑی سی کار پر دفتر آتا جاتا تھا۔ اس کا ذاتی مکان تعمیر ہونے والا تھا۔ وہ بہت سے چھوٹے بڑے کاروبار مختلف پارٹنرزکے ساتھ کررہاتھا۔ مجھ سے جب بھی ملتا تھا وہ جھک کر ہی ملتا تھا۔ اس کی شادی ہوئی تو مہمان خصوصی کی طرح عزت ملی۔ اس کے بچے ہوتے تو میں ہمیشہ مبارک دینے جاتی تھی۔ وہ بھی سب سے پہلے مٹھائی لئے میرے دروازے پہ کھڑا نظر آتا۔ ہر جگہ اس نے ہمیں عزت دی اور جہاں کوئی اہم معاملہ ہوتا تو وہ ہمیشہ مجھ سے مشورہ مانگا کرتا تھا۔
گزشتہ چند سالوں میں محسن کے حالات بہت تیزی سے بدلنے لگے۔ میری طبیعت میں سفید و سیاہ کا فرق پہچاننے کی صلاحیت عام لوگوں سے زیادہ رکھی ہے اللہ نے۔ اسی لئے میں نے محسن کو بار بار ٹوکا کہ اپنے مال میں حرام مال کی ملاوٹ مت کرنا جو تھوڑا بہت ملتا ہے اسے پاک رکھو۔ لیکن بد قسمتی سے وہ غلط قسم کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے لگا تھا۔

پھر میں نے محسوس کیا کہ وہ اب ہم سے کترانے لگا ہے۔ ایک بار پھر بھرپور کوشش کی اور اپنی مثال دی۔ وہ جانتا تھا کہ ہمیں اللہ نے جو اختیارات دئیے تھے ہمارے لئے بہت مال و دولت جمع کرنا کچھ مشکل نہ تھا۔ جس عہدے پر میرے میاں تھے وہاں رشوت لینا اور ہیر پھیر کرنا عام بات ہوا کرتی تھی۔ ہماری اصول پسندی کے سبب وہاں سبھی دشمن بن چکے تھے۔ حتی کہ ہمیں بچوں سے متعلق دھمکیاں ملنے لگی تھیں کہ اگر خود چوری نہیں کرنی تو ہمارا حساب رکھنا بند کرو ہمیں کھانے دو۔اپنا منہ اور آنکھیں بند رکھو۔ محسن کو ساری صورتحال کا علم تھا کہ کس طرح ہمیں حلال رزق کی چاہت نے مشکلات میں ڈالا۔ خواہ مخواہ جرمانے عائد کرکے تنخواہ کاٹ لی جاتی۔ ترقی اور بونسز روک لئے گئے۔ سہولیات ختم اور ناجائز بل ڈالے گئے۔ کام بڑھا دیا گیا اور سب سے اہم بات کہ میاں کے آفس سٹاف کو خرید لیا گیا اور فائلیں غائب ہونے لگیں۔ اس بھی زیادہ سنگین باتیں ہوئیں۔مجھے تنگ کیا گیا۔ میرے بچوں کو اغوا کرنے کی سازش تیار کی گئی اور واللہ عالم کیا کیا تھا جو وہ اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے لئے نہیں کرتے رہے۔
میں نے بہت لمبی نشت کی اور اسے سمجھایا کہ ہم نے نقصان اٹھایا لیکن ایمان کا سودا نہ کیا بلکہ اب بھی اتنے مصائب کے باوجود میرے ایمان میں کمی نہیں آئی نہ ہی ایسا ممکن ہے کہ میں چند خواہشوں کی تکمیل کی خاطر دوسروں کا حق ماروں۔
بحرحال اس وقت محسن جس گھوڑے پہ سوار تھا وہ لکی ہورس کہلاتا تھا اسلئے محسن نے بھی جوا کھیلا۔
میرا رابطہ منقطع ہوگیا۔ میں اپنی زندگی کی مشکلات سے لڑتی رہی زندگی کے کئی برس انتہائی کٹھن گزرے لیکن دل نہ ڈولا تھا۔ ایسا وقت بھی آگیا جب اللہ نے مزید آزمائش میں ڈال دیا جیسے دھات کو بھٹی سے انگارے کی شکل نکال کر پانی میں ڈال دیں اور ہر طرف دھواں دھواں اٹھتا ہو۔ جیسے لوہار گرم لوہے پہ آخری چوٹ کرتا ہے تو پوری طاقت سے وار کرتا ہے جیسے۔۔۔۔

یہ کہانی پھر سہی۔ خبر ملی کہ محسن کے حالات بہت خراب ہیں۔ قرضوں میں ڈوبا ہے اور سب بک گیا۔ مجھ سے رہا نہ گیا اس سے رابطہ کیا۔ ساری داستان سنی۔ وہی جو میں سمجھتی تھی اور جس کام سے منع کیا۔ ان حرام خوروں نے اس کا مال ہڑپ کیا اور اس کی ساری جمع پونجی سمیٹ کر الگ ہوگئے۔ محسن اب شرمندہ تھا۔ ایک بار پھر میری مدد کا امیدوار تھا۔ کئی بار غلطیوں کے باوجود میں نے اسے موقع دیا تھا لیکن ابکہ تو وہ بہت دور سے پلٹا تھا۔ مجھے لگا جیسے میرے اندر مزید گنجائش نہیں کہ اسے معاف کیا جائے لیکن پھر جب کسی نے کہا۔ اب کیوں آیا ہے وہ ؟ تمہارے مشکل حالات میں تو اس نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ لاکھوں کی شاپنگ کرواتا پھرتا تھا دوستوں یاروں کو اور تمہارے بچوں کی عید بھی اداس گزرتی رہی۔تب وہ کیوں نہ آیا؟ خبردار اب بھگتنے دو اس کو۔ یہی ہونا چاہیے تھا اس کے ساتھ۔

انسان کو اللہ نے عجیب گارے سے بنایا ہے۔ کہاں تو وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت اعصاب رکھتا ہے اور کہاں وہ موم کی طرح ذرا سی حرارت سے پگھل کر بہہ جاتا ہے۔
میری طبیعت کی سختی سے بہت لوگ گھبراتے ہیں لیکن اللہ کا عطا کردہ شرف انسانیت انہیں لوگوں کے درد اور مصائب میں مجھے ان کی مدد پر مجبور کردیتا ہے۔ یقینا یہ کمال بھی اس رب العزت کا ہے ورنہ انسان کی اوقات تو چھینک روکنے کی بھی نہیں۔ میں نے سارے گلے شکوے کے جواب میں صرف یہی سوچا کہ وہ اس کا ظرف تھا۔وہ آسائیشوں میں مگن ہمارے حال سے بے خبر رہا۔ یہ میرا ظرف ہے کہ اس وقت وہ مصیبت میں گرفتار ہے۔ اس کی بیوی بیمار تھی اور بچے سکول سے فارغ تھے۔ اس کے دوست اسے چھوڑ چکے تھے اور قرض مانگنے والے اس کا پیچھا کررہے تھے۔ اس وقت کوئی بھی اس پہ اعتماد نہیں کررہا تھا۔ جب ایسے حالات ہوں تو اللہ اسباب پیدا کردیتا ہے بشرطیکہ صدق دل سے توبہ کی جائے۔ وہ توبہ کرچکا تھا اور آئندہ کے لئے محتاط ہوچکا تھا۔

محسن سے بہت دیر بات ہوئی اور اس کے مسائل کا حل نکالنے کے لئے پہلے پہل اسے کچھ ہدایات کیں۔ وہ اس کی توقع شاید نہیں کررہا تھا اسلئے جیسے ہی اسے سہارا ملا وہ یکدم کھل اٹھا۔ جلدی جلدی ہر وہ کام کرنے لگا جو میں اسے بتا رہی تھی۔

کچھ دن گزر گئے۔ وہ محنتی آدمی تھا بالآخر اس کا کام چل نکلا۔ ایک بار پھر تاکید کی اور اب کہ خبردار کردیا کہ بس مزید معافی یا درگزر کی گنجائش نہیں۔ حلال کمائی میں حرام کی ملاوٹ کی تو نتائج پہلے سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہوں گے۔وہ سمجھ گیا کہ میرے لہجے میں چھپی وارننگ کو ہلکا نہیں لے سکتا۔ وہ ڈرا ہوا تھا لیکن ابکہ عاجز نظر آیا شاید اسے سمجھ آگئی کہ رزق دینے والی ذات تو اس رب کریم کی ہے جس نے انسانیت کی فلاح کے لئے اصول بنا دئے اور جب کوئی ان اصولوں کو توڑ کر کسی دوسرے کا حق مارتا ہے تو دیر سے سہی لیکن اللہ کی لاٹھی اس کی کمر توڑ دیا کرتی ہے۔ اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں پہ بھی اللہ کی لاٹھی پڑرہی ہے۔ اپنے پاو بھر گوشت کیلئے پورا اونٹ ذبح کرنے والوں کا احتساب ہوگا۔ان کا بھی حساب ہوگا جو کسی نہ کسی صورت اب تک بچتے رہے۔ خانہ خراب ہوگا ان کا بھی جنہوں نے مقدس اداروں کو اپنی ہوس کے لئے پامال کیا۔ مجھے کسی حرام خور کی بچت نظر نہیں آتی۔ اللہ کا نظام ہے وہ عدل فرمائے گا۔ جس نے اپنی راہ کھوٹی کی، دوسروں کا حق مارا وہ خود بھی مارے جائیں گے کوئی اپنی اولاد کے ہاتھوں مارا جائے گا اور کوئی سر راہ کسی آفت کا شکار ہوگا۔کسی کو وباء آ پکڑے گی تو کوئی خود موت کو آسان جانے گا۔ بس ایک بات طے ہے۔ اللہ کی مخلوق کے لئے مشکلات پیدا کرنے والے خواہ کسی بھی شکل میں ہوں ان کی شکلیں بگاڑ دی جائیں گی۔ حلال کو حرام سے جدا رکھنے والوں کو دو جہاں میں سرخ رو کیا جائے گا۔

نوٹ: (حالات و واقعات اور کرداروں میں فرضیت اور امثال کا استعمال ضرورت کے تحت کیا ہے۔ مقصد سبق حاصل کرنا ہے کردار کشی نہیں)

(Visited 1 times, 5 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: