مطالعہ پاکستان کی مذہب آلودگی —— لالہ صحرائی

0

ایک فلمساز نے دکھایا کہ رات کی تاریکی میں انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا ہے، سنسر بورڈ کے ایک انسانیت نواز رکن نے کہا کہ اس میں سے انڈیا کا نام ہٹا دیں تو فلم پاس کر دیتے ہیں تاکہ انڈیا کی دل آزاری نہ ہو، اس پر فلمساز نے پوچھا کہ پھر کس کا نام ڈالوں، کوئی اچھا سا نام بھی تجویز کر دیں۔

اب ایسی ہی صورتحال ان لوگوں نے بنا رکھی ہے جنہوں نے نام نہاد انسانیت کا مذہب قبول کرکے نیا نیا آؤٹ آف بوکس سوچنا شروع کیا ہے، مختلف مذہبی شعار پر سوچ سوچ کے یہ ہر بار اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان چیزوں کو مذہب سے نکال دیا جائے کیونکہ یہ مطالعہ پاکستان کی پھیلائی ہوئی مذہب آلودگی ہے، اس سے نوع انسان کی دل آزاری ہوتی ہے۔

قبلہ گزارش یہ ہے کہ مذہب ہمارے اوپر تو ودیعت نہیں ہوا تھا، یہ جس قوم پر ودیعت ہوا تھا وہ ایک طرف زبان و بیان کی ادبی معراج پر متمکن تھی اور دوسری طرف جنگ و جدل میں ایسی سخت تھی کہ معمولی سی بات پر شروع ہونے والی لڑائی کو چالیس سال تک بڑے آرام سے کھینچ جاتی تھی۔

یہ مذہب ایسی ادبی اور مردانہ قابلیت رکھنے والی قوم پر اس چیلنج کیساتھ ودیعت ہوا تھا کہ اس کے زبان و بیان اور نظریئے کے مقابل اگر کچھ لا سکتے ہو تو بیشک لے آؤ…!

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ البقرہ 23۔
اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلالو اگر تم سچے ہو۔

پھر نکلا کوئی؟

عرب کی تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی ایسی ڈھونڈ کے لا دے تو اسے تاریخ پر اتھارٹی مان لوں گا کہ عربوں نے کوئی حمایتی تلاش کرنے کی کوشش ہی کی ہو، کیونکہ وہ بہت اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔

قرآن کے مقابلے میں نوع انسان کا یہ عجز تاقیامت قائم رہے گا، بہت سے نظریات آئیں گے اور جائیں گے جن کی عمریں پچاس سے سو سال تک ضرور ہوں گی مگر اس سے زیادہ کوئی زندہ رہا ہے نہ رہے گا۔

بقا صرف خدا کو ہے، ہم اپنی بقا کیلئے اس کی راہ میں فنا ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہماری ہر چیز پر خدا کے نام کا راج ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا مطلب لاالہٰ الااللہ ہے
اس کلمے کو نیچا دکھانے والے بہت آئے اور بہت گئے یہ کلمہ نہیں دبتا کسی سے، نہ ہی اس کیساتھ جڑی ہوئی چیز دبائی جا سکتی ہے۔
۔۔۔

اب ایک روشن خیال سنسر بورڈ دن رات اس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کسی طرح سے یہ کلمہ ہٹا دیا جائے، کیونکہ اس کے پیچھے جہاد کا حکم ہے، اسی کے پیچھے قربانیاں دینے والے کھڑے ہو جاتے ہیں، اسی سے ساری مذہبی توانائیاں پیدا ہوتی ہیں، قرآن سے تو جہاد کو ہٹایا نہیں جا سکتا البتہ قوم کے گلے سے یہ کلمہ اتار دیا جائے تو پھر ٹھیک ہے، یہ قوم اپنی موت آپ مر جائے گی۔
۔۔۔

چلئے تھوڑی دیر کیلئے مان لیتے ہیں کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہٰ الا اللہ‘‘ یہ تحریک پاکستان کا نعرہ نہیں تھا۔
اور یہ بھی مان لیتے ہیں کہ تحریک پاکستان کا یہ نعرہ سیالکوٹ کے مایہ ناز سپوت پروفیسر اصغر سودائی صاحب کا مرتب کردہ بھی نہیں ہے۔
اور یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس نعرے نے تحریک پاکستان کو جو مہمیز عطا کی تھی اس کی بنیاد پر قیام پاکستان کی جدوجہد میں اکیلے اصغر سودائی صاحب کا جو 25 فیصد حصہ مانا جاتا ہے یہ بھی غلط روایت ہے۔
یعنی پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، یہ صرف مطالعہ پاکستان کا پھیلایا ہوا مغالطہ ہے۔
اور یہ بھی مان لیتے ہیں کہ نفاذ اسلام کا نعرہ شہید ضیاءالحق نے لگایا تھا جس کی وجہ سے ملک میں مذہبی قوتوں کو پنپنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اپنے اپنے کارٹلز بنا لئے، اینڈ سو آن ٹو سو اینڈ سو…

مگر تحریک پاکستان کے منشور کی وہ ایسی کونسی شق ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ پاکستان کسی سوشلزم، سیکولرزم، لبرلزم، ماڈرن ازم، لال بتی، پیلی بتی، فلاں پٹکے، فلاں ٹوپی، فلاں مفلر، قوم پرستی، اسلامی سوشلزم یا اس جیسی کسی اور پنچایت کیلئے بنا تھا؟

جب کچھ خواص اپنے ویسٹڈ انٹریسٹ کے تحت ایسے رنگ برنگے تجربے کر رہے تھے تب ضیاءالحق نے آکے اسلامی نعرہ مار دیا اور عوام کو بھاء گیا تو اس میں اتنا سیخ پا ہونے کی ضرورت کیا ہے؟

سماجی قوانین میں اسلامائزیشن کوئی بری بات تو نہیں، نفاذ اسلام بس اتنا ہی ہے کہ عوام اپنے سماجی تعلیمی، طبی اور عدالتی نظام جیسی گوورنینس کو ازروئے شریعت منظم کر سکیں، باقی نیکی اور عبادت کرنا نہ کرنا ہر کسی کا انفرادی مسئلہ ہے، اس پر کوئی جبر نہیں لیکن دعوت نیکی کا حق باقی رہے گا اس سنتِ اقدس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

اس ٹرانزیشن کے درمیان میں اگر کوئی فرد یا گروہ نفاذ اسلام کی تعبیر قتل و غارت اور شدت پسندی کرتا ہے تو یہ اس کا انفرادی یا گروہی مسئلہ ہے اس کا حقیقی اسلامی روح سے تو کوئی واسطہ نہیں، نہ ہی یہ ضیاءالحق کا قصور ہے۔

اس دور میں جن لوگوں کی دال گلنا بند ہوگئی ان کا چیخنا چلانا ان کی ذاتی مجبوری ہے، جس کا جی چاہتا ہے چیختا رہے اس میں بھی ضیاءالحق کا کیا قصور؟

ضیاءالحق تو صرف ایک بہانہ ہے، اصل ٹارگیٹ کچھ اور ہے، بدیسی اثرات کی حامل عقول کو تو مغربی تہذیب کے مقابل اسلامی تشخص کا نام لینے والے ترکی جیسے لبرل معاشرے بھی ایک آنکھ نہیں بھاتے، حالانکہ ترکی کا مطلب کیا لاالہٰ الا اللہ، یہ ان کا نعرہ بھی نہیں، نہ ہی وہاں ضیاءالحق کی وجہ سے کوئی شدت پسند مذہبی تنظیمیں موجود ہیں، نہ ہی وہاں کوئی دہشت گردی ہے۔

ترکی ہو یا پاکستان، عراق و یمن ہوں یا شام، دیسی بدیسی روشن عقلیت کا مسئلہ صرف آپ کا اسلامی تشخص اور وہ کلمہ ہے جس کے پیچھے جہاد جیسی الٹیمیٹ قوت موجود ہے اور کچھ بھی نہیں۔

ضیاءالحق بلاشبہ ایک عہد ساز شخصیت تھے، انہیں اپنے مدمقابل دیسی بدیسی ہرقسم کی عقلوں کو گھاس چرانا بخوبی آتا تھا، وہ ناگہانی حادثہ نہ ہوتا تو آج کے حالات بھی بہت مختلف ہوتے۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔

ایک وقت تھا جب ہم ایک عالمی طاقت سے لڑ رہے تھے، اس وقت کی ہماری معاشی اور فوجی قوت آج کی نسبت تو نہ ہونے کے برابر تھی پھر بھی اگر ہمارے ہاں ایک بم پھٹتا تھا تو اگلے دن ایک بم دلی میں بھی پھٹتا تھا، وہ ہمارے سفیر کو مار پیٹ کے نکال دیتے تھے تو شام تک ان کا سفیر بھی وہیل چئیر پر بٹھا کے بھیج دیا جاتا تھا، وہ کشمیریوں پر حملہ کرتے تھے تو اگلے دن ان کی چوکیاں بھی الٹ دی جاتی تھیں حالانکہ انڈیا اس وقت اعلانیہ ایٹمی قوت تھا اور ہم نہیں تھے۔

بعد میں آنے والی سیاسی دانش نے ہمارے لئے مفت میں لڑنے والی ایک بریگیڈ فوج کی مخبری کرکے جو نقصان پہنچایا تھا وہ اب تک پورا نہیں ہو سکا، کیا اس روشن خیال سیاسی مہربانی کے بعد انڈیا نے بھی اپنی اینٹی پاکستان ڈاکٹرائن رول بیک کرلی تھی، کیا وہی سیاسی دانشمند آج بدلے کے طور پہ انڈین سول گورمنٹ سے بلوچستان میں ان کے عسکری آپریٹیوز کی لسٹیں مانگ سکتے ہیں؟

جی نہیں،
کیونکہ آپ کی سیاسی دانش احمق تھی یا موقع پرست جبکہ دشمن انسانیت کی خاطر اتنے بیوقوف بننے کو ہرگز تیار نہیں۔

ان حالات میں ہم بھی آپ کی خوشنودی کیلئے یہ فرض کرنے کو ہرگز تیار نہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ یہ مطالعہ پاکستان کی مذہب آلودگی ہے۔

پاکستان کا مطلب کیا لاالہٰ الااللہ
یہ تحریک پاکستان کی بنیاد ہے جو پروفیسر اصغر سودائی صاحب نے رکھی تھی، اور اسی بنیاد پر قیام پاکستان میں اس اکیلے فرد کا حصہ 25 فیصد مانا جاتا ہے۔

ان کے بعد ضیاءالحق نے ایک قدم اور اٹھا کے افواج پاکستان کو ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کا ماٹو دے کر کلمے سے ملحقہ وہ سرُنگ کھول کے دکھائی تھی جس سے دنیا خوف کھاتی ہے، کیونکہ وہ ہماری قابلیت اور تجربے سے بہت اچھی طرح واقف ہے، انہیں پتا ہے کہ ہم کمزور قوم ضرور ہیں مگر سَرنگوں ہونے کی بجائے گھسیٹ کر سرُنگوں میں لے جایا کرتے ہیں۔

محمد بن قاسم سے ایک بدھ راہب نے کہا تھا کہ اگر قلعے کے اوپر لگا جھنڈا گرا دو تو تھوڑی دیر میں دیبل فتح ہو جائے گا۔

پاکستان اور مذہب لازم و ملزوم ہیں، یہ جھنڈا نہیں گرایا جا سکتا، جن کی کوشش ہے کہ یہ جھنڈا گرا کے قلعہ فتح کرلو ان کو مذہب آلودگی کا طعنہ تو ضرور سوجھے گا مگر لاحاصل رہے گا۔

پاکستان زندہ باد ہے
اور ہمیشہ زندہ باد رہے گا
جس نے سڑنا ہے وہ سڑتا رہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: