عالمی ذرائع ابلاغ کا طریقہ واردات اور کشمیر سے چشم پوشی —- عثمان سہیل

0

رُوس میں ناکام جوہری مزائل کے تجربہ میں تابکاری کا اخراج ہو، ماسکو میں ہڑتال یا مظاہرہ ہو یا پھر ہانگ کانگ میں ہنگامے، مغربی ذرائع ابلاغ کا بیشتر وقت یہ سب دکھانے اور ان پہ تبصروں میں صرف ہوتا ہے جبکہ چینی اور روسی ذرائع ابلاغ میں اس کا ذکر سرے سے مفقود ہوتا ہے۔ دوسرے طرف فرانس میں سرمایہ داری معیشت کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے ہوں تو مغربی ذرائع ابلاغ اس معاملہ پر دم سادھ لیتے ہیں جبکہ روسی و چینی ذرائع ابلاغ زور و شور سے یہ خبریں چلارہے ہوتے ہیں۔ ایک باریک فرق یہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ اپنے ہاں سیاسی واقعات یا حادثات تو دکھا دیتے ہیں تاہم نظام معیشت کے اساسی ڈھانچے کے متضاد اور چیلنج کرنے والے واقعات سرے سے گول کر دیتے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع میں مسلمان ممالک کے ساتھ معاملہ تضاد سے بھرپور ہوتا ہے۔ اگر شورش کسی مسلمان ملک کے اندر ہو تب اس کی بھرپور کوریج کی جاتی ہے۔ انسانی جانوں کا اتلاف، شورش زدہ علاقوں میں شہری سہولتوں کے نظام کی ابتری اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے کام میں مُشکلات کا تذکرہ بھرپور انداز میں کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں مذہبی فرقہ بندی اور باہمی منافرت پر سیر حاصل گفتگو نشر کی جاتی ہے کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ دل بے اختیار مغربی ذرائع ابلاغ کی بلا تفریق مذہب انسان نوازی کا قائل ہو جاتا ہے اور کیوں نہ ہو۔ مسلمان ممالک کے روشن خیال اورشستہ انگریزی بولنے والے ماہرین سیاسیات اور انسانی ترقی کے ماہرین کی آراء بھی نشریوں میں جگہ پاتے اور عالمی ضمیر کو جگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اقوام متحدہ و دیگر ادارے جنگ بیشک نہ روک پائیں جیسا کہ اکثر ہوتا ہے لیکن فوجی اور طبی و ڈھانچہ جاتی بحالی کے لیے وسائل کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ان معاملات میں یورپی و امریکی دلچسپی اطراف کو صرف اسلحہ بیچنے میں ہوتی ہے۔ جی نہیں بحالی اور طبی امداد کے کاموں کے لیے سازوسامان بنانے والی صنعتیں بھی انسان نوازی کے ثبوت مہیا کرتی ہیں۔
تاہم معاملہ مسلمان آبادی اور غیر مسلم قوت کے بیچ ہو تو سب دم سادھ لیتے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اکا دکا خبر یا رپورٹ نشر کرکے ذمہ داری سے عہدہ براء ہو لیتے ہیں۔ ان میں بھی یہ خاص اہتمام ہوتا ہے کہ تشدد کا ذکر کرتے وقت بھی غیر جانبداری برقرار رہے۔ جارحانہ کاروائی کرنے والی (غیر مسلم) طاقت پر کوئی ذمہ داری عائد کیے بغیر فریقین پر پُر امن حل کیلیے زور دینا ان نشریات کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔

یہاں ایک مسلمان ملک اور غیر مسلم آبادی والی کسی جغرافیائی اکائی کے بیچ معاملہ کا تناظر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ ہندو اکثریتی آبادی پر مشتمل ریاست حیدر آباد کے حکمران کی طرف سے پاکستان میں شمولیت کے اعلان اور بھارت کا بزور طاقت قبضہ جس دور میں ہوا تب ذرائع ابلاغ اتنے برق رفتار نہ تھے اور ان کی ہر طبقہ تک پہنچ بھی اج کے مقابلہ میں کم تھی۔ چنانچہ مشرقی تیمور کی ریاست کا معاملہ بیسویں صدی کے اختتام کی بات ہے۔ انڈونیشیا کے نواحی جزیرہ تیمور کا مشرقی حصہ پندرہ ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ ریاست کی کل آبادی قریب بارہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں سے ستانوے فیصد ٪97 رومن کیتھولک ہیں۔ نومبر 1975 میں انقلابی محاذ کی طرف سے پرتگال کے دوصد سالہ قبضہ کے بعد آزادی کا اعلان کرنے کے چند ہی روز بعد انڈونیشیا کی افواج نے قبضہ کرلیا۔ قارئین کرام، عیسائی آبادی پر مشتمل مشرقی تیمور کی آزادی کے لیے مغربی ذرئع ابلاغ نے تب تک آسمان سر پر اٹھائے رکھا تاوفتیکہ اقوام متحدہ کے ماتحت قیام امن کے لیے فوجی دستے بھیج کر آزادی کا اہتمام نہ کر لیا گیا۔ یہاں راقم کا مقصد مشرقی تیمور میں ہونے والے مظالم یا علیحدہ ریاست کے قیام کے جواز پر رائے دینا نہیں ہے بلکہ فقط ذرائع ابلاغ کے ایک مسلمان ملک سے متعلقہ معاملہ پر رد عمل و طرز عمل کی طرف توجہ دلانا ہے۔ ضمنی طور پر اقوم متحدہ جو فلسطین پر اسرائیلی قبضہ ہر لاچار نظر آتی ہے کی مشرقی تیمور میں کامیابی پر بھی توجہ کیجیے۔

قارئین کرام اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی بھارتی کی طرف سے ناجائز سیاسی اور متشدد اقدامات پر ذرائع ابلاغ اسی حکمت عملی سے کام لے رہے ہیں۔ چنانچہ عالمی پیمانے پر مقبوضہ کشمیر کا ممقدمہ پیش کرنے کا فرض دنیا بھر میں پھیلے کشمیریوں اور پاکستانیوں پر عائد ہوتا ہے۔ پاکستان میں تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کا بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حالات پر واضح اور معقول موقف ہے۔ چنانچہ سماجی ذرائع ابلاغ social media پر مذکورہ سیاسی جماعتوں کے باقاعدہ سرگرم کارکنان اور کشمیریوں سے ہمدردی رکھنے والے دیگر گروہوں کو چاہیے کہ سماجی ذرائع ابلاغ پر موجود بین الاقوامی فورمز پر یہ بات واضح کریں کہ یہ معاملہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک غاصبانہ قبضہ ہے۔ بھارت کا دو طرفہ معاہدوں نیز اقوام متحدہ کی قراردادوں سے اِغماض برتتے ہوئے ضم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ ہے۔ چنانچہ وہاں موجود بھارتی مسلح افواج کے خلاف کشمیری حریت پسندوں کا کوئی بھی قدم اندرونی دہشت گردی نہیں بلکہ جائز اور مقامی تحریک آزادی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: