:پاکستانی سماج اورعورت معاشی خود مختاری کاجھانسہ — نجیبہ عارف

0

(۳)

ایک طرف مذہب کے نام پر عورت کا استحصال ہوتا ہے تو دوسری طرف روشن خیالی اور ترقی پسندی کے نام پر۔ اس کی ایک مثال عورت کی ملازمت ہے۔ ملازمت پیشہ عورت کے بارے میں جو سنہری خواب ہمیں دکھائے جاتے ہیں، ان میں سے اکثر کاملمع بہت جلد اتر جاتا ہے۔ ان میں سے ایک خواب تو یہ ہے کہ  ملازمت سے عورت معاشی طور پر خود مختار ہو جاتی ہے اور یوں مرد کے زیر تسلط نہیں رہتی۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مرد عورت کو معاشی خود مختاری کا جھانسا دے کر خود اپنی تمام ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاتا ہے۔ جوں ہی کوئی عورت ملازمت اختیار کرتی ہے، اس کی ضروریات پوری کرنے سے پہلو تہی کرنے لگتا  ہے۔

ملازمت پیشہ یا کماؤ عورت ہمارے معاشرے میں دہری اذیت کا شکار ہے۔ ایک طرف اس پر گھر داری کا بوجھ جوں کا توں ہے اور دوسری طرف کمائی کی ذمہ داری بھی لاحق ہے۔ اس کمائی سے عورت کرتی کیا ہے؟ میرا ااندازہ ہے کہ کم وبیش ننانوے فی صد عورتیں اپنی کمائی کا بیشتر حصہ اپنے بچوں اور گھر کی ضروریات پوری کرنے میں خرچ کر دیتی ہیں۔ اس دہری محنت کے باوجود وہ مسلسل زیر عتاب رہتی ہیں ۔ سسرال والوں کو شکوہ ہے کہ بہو خدمت نہیں کرتی، شوہر کو شکایت ہے کہ پوری توجہ نہیں ملتی، بچوں کو گلہ ہے کہ  امی ہر وقت مصروف رہتی ہیں۔ دوست احباب، عزیز رشتے دار بھی خوش نہیں، کوئی نہ کوئی غفلت شعاری کا الزام عائد کر ہی دیتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان سب شاکی طبقوں میں سے کوئی بھی دل سے یہ نہیں چاہتا کہ عورت سچ مچ کام کاج چھوڑ کر، اچھی بھلی کمائی کو لات مار کر گھر بیٹھ جائے۔ اس کے باوجود عورت کی کمائی اور اس کی آمدنی کی اہمیت کو تسلیم کرنا مردانہ انا کے لیے عار کا باعث ہے۔ جب بھی کسی محفل میں ذکر آتا ہے، شوہر حضرات بڑے دھڑلے سے یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ہماری بیگم صاحبہ تو اپنے شوق کے لیے نوکری کرتی ہیں، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔یہ منافقانہ روش اتنی عام ہو گئی ہے کہ کوئی اسے جھٹلانے تک کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ عورت بھی مسکرا کر کہہ دیتی ہے، جی ہاں، یہ میرا شوق ہے۔ ملازمت پیشہ عورت خاندان کی معاشی زندگی میں توازن قائم رکھنے میں جو کردار ادا کرتی ہے، اس کی تحسین و تائید تو کجا، اس کا اعتراف بھی نہیں کیا جاتا۔

اس کا دوسرا اہم پہلو، جسے بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے،  یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو جو معاشی خود مختاری دی ہے اس کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ایک طرف تو باپ کی جائیداد میں بیٹی کو حصہ دینے سے کھلم کھلا گریز کیا جاتا ہے اور دوسری طرف شوہر پر اپنی معاشی حیثیت کے مطابق عورت کو، نان نفقے کے علاوہ،  جیب خرچ دینے کی جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے وہ سرے سے بھلا دی گئی ہے۔یہاں جیب خرچ سے مراد وہ رقم ہے جو عورت خود اپنی مرضی سے، کہیں بھی، کبھی بھی خرچ کر سکتی ہے۔ ہمارے ہاں تو  حالت یہ ہے کہ  بیوی کوحق مہر کی رقم ادا کرنا بھی بوجھ محسوس ہوتا ہے اور عموماً اچھے بھلے صاحبِ حیثیت افراد مہر مقرر کرتے ہوئے اپنی مالی حیثیت کے بجائے ’’شرعی مہر ‘‘کے پردے میں چھپ جاتے ہیں۔حالانکہ شرعی مہر بھی حیثیت کے مطابق ہوتا ہے، نہ کہ بتیس روپے چھے آنے۔ اگر یہ دونوں حقوق عورت کو مل جائیں تو بہت سی عورتیں ملازمت کے جھمیلوں کو ترک کرکے، اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنی خدمات وقف کر سکتی ہیں جو عورت کی ذمہ داری ہی نہیں، اس کی جذباتی ضرورت اور دلی مسرت بھی ہے۔

 ہر عورت ماں بن کر خوشی محسوس کرتی ہے اور مادرانہ کردار ادا کر کے اپنی ذات کی توسیع و تجلیل کرتی ہے۔مغرب میں بھی معاشی جد و جہد کے کئی مراحل طے کرنے کے بعد بالآخر عورت نے اپنے مادرانہ کردار کے اثبات کا ارادہ کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ماں بننے والی عورت کو ایک اور بعض صورتوں میں دو سال تک تمام مراعات اور تنخواہ سمیت ملازمت سے چھٹی ملتی ہے تاکہ وہ بچے کی، جو صرف ایک فرد یا جوڑے کی اولاد نہیں، ایک قوم کا نووارد فرد بھی ہوتا ہے، مناسب اور مکمل دیکھ بھال کر سکے۔ ہمارے ہاں یہ دستور الٹا ہے۔ ماں بننے والی ملازمت پیشہ عورت کو مراعات تو کجا، الٹا مسلسل طعن و تشنیع اور کڑی نگرانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے کہ کہیں وہ اپنے بچے کی محبت میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے غفلت تو نہیں برت رہی۔ یہ ایک مجرمانہ عمل ہے اور ایسا سلوک ماں اور بچے کی حق تلفی ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین کے لیے میٹرنٹی لیوصرف نوے دن تک محدود ہوتی ہے جس پر یہ شرط بھی لاگو ہوتی ہے کہ  بچے کی ولادت سے ۴۵ دن پہلے شروع ہو جائے اور ۴۵ دن بعدختم ہو ۔  عام طور پر ممتا کی ماری مائیں ڈاکٹروں سے غلط سرٹیفکیٹ بنوا کر حمل کے آخری دن تک  نوکری پر حاضر رہتی ہیں تاکہ اس مختصر چھٹی کے زیادہ سے زیادہ دن اپنے بچے کے ساتھ گزار سکیں۔  نوے دن کی چھٹی دے کر عورت پر احسان نہیں کیا جاتا بلکہ اسے ایک معاشرتی فریضہ ادا کرنے کی مہلت دی جاتی ہے۔ یہ فریضہ بذاتہ اتنا عظیم ہے کہ اس مقصد کے لیے کم از کم ایک سال کی چھٹی دی جانی چاہیے۔ ہم ہر معاملے میں مغرب کی تقلید کرتے ہیں تو اس معاملے میں بھی ان کی روش اختیارکرلی جائے۔ وہاں تو باپ کو بھی بچے کی دیکھ بھال کے لیے چھٹی مل سکتی ہے۔

 

اس سلسلہ کی پہلی تحریر یہاں اوردوسری کے لیے یہاں کلک کریں۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: