تعلیم، ڈگری اور کرپشن: ہم ایک آزاد قوم ہیں — احمد اقبال

0

بلا شبہ یہ موضوع وقت کی ضرورت ہے۔ خصوصاََ ہمارے آنے والے وقت کی۔ اور اظہار خیال کرنے والےاپنی آنے والی نسل کیلئے معیاری تعلیم کا جذبہ رکھتے ہیں تو در حقیقت وہ ان میں علم کی وہ برتر و اعلیٰ صفات دیکھنے کی فطری مخلصانہ خواہش رکھتے ہیں جو درسی نظام کا کتابی علم ان کی ذات میں بدرجہ اتم پیدا نہ کر سکا۔

یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہمدم
وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

جب آپ کی اپنی حکومت آگاہی اور شعور دینے والے نظام تعلیم کی بیخ کنی کے پروگرام پر عمل پیرا ہو۔۔ بلکہ اس میں کامیاب بھی ہو چکی ہو تو آپ انفرادی سطح پربہتری کیلئے کچھ کر ہی نہیں سکتے۔

(الف) پرائمری کی سطح پر حاصل کردہ نمبروں کو معیار بنادیا گیا۔۔ بچے امتحان میں اسی، نوے، پچانوے فیصد نمبر لینے لگے۔ آرٹ پیپر پر بنائےگئے درجن بھر خوبصورت سرٹیفکٹ رزلٹ کارڈ کے ہمراہ۔ یہ باقاعدگی کا، یہ ڈسپلن کا، یہ صفائی پسندی کا، یہ اچھے رویے کا، یہ اسپورٹس کا، یہ جنرل ایکٹوٹی کا۔۔۔ آپ کا بچہ سب میں اول، والدین کا سر فخر سے بلند، دنیا کو دکھاتے پھرتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ سب ماشاللہ ایسی ہی محیرالعقل کار کردگی کی سند رکھتے ہیں۔۔۔۔ در اصل اس سے ثابت ہوتا تھا کہ اسکول کی پڑھائی بہت اچھی ہے۔۔ چنانچہ وہ فیس بڑھانے پر بلکل اعتراض نہیں کرتے۔

(ب) ۔۔ سیکنڈری یا میٹرک تک کی تعلیم کے معیار کا انہدام اورنصاب میں سے اصل حقایق کی جگہ پسندیدہ حقایق شامل کرنے کا کام ضیا دور سے شروع ہوا۔ وزیر تعلیم کا عہدہ ایک ریٹائرڈ عسکری ڈایریکٹر جنرل کو دیا گیا۔ ان سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اس تقرری سے کچھ عرصہ قبل وہ ریلوے کے وزیر تھے تو انہوں نے ایک کارنامہ یہ سر انجام دیا تھا کہ تمام ریلوے لائبریریوں کو ریلوے پولیس اسٹیشن بنا دیا تھا۔ تب سے ابتک حکو مت کرنے/ کرانے والوں کی تمام تر کوشش یہ رہی ہے کہ ابتدائی سطح سے ہی تعلیم اور ثانوی سظح تک جوعلم دیا جائے اس میں ناپختہ نوجوانوں کی برین واشنگ ہو جائے اورکورے کاغذ جیسے دماغ کیلئے سرکاری نقطہ نظرہی واحد صداقت بن جائے۔ تاریخ کا مضمون ختم کردیا گیا جو تاریخ 1975 تک پڑھایؑ گی اس میں وید، راماین، اشوک چندر گپت موریا کے بارے میں بتانا تو کفر سے کم نہ تھا۔۔ ہندوستان پر اسلامی اور انگریز دور حکومت بھی خارج کر دئے گئے کیونکہ اس سے اسلامی حکمراں عیش اور ناہل ثابت ہوتے تھے۔ پاکستان کے ابتدائی دور کے بارے مین بھی اتنا بتانا کافی تھا کہ وہ سیاسی انتشار اور بد عنوانی کا دور تھا۔۔ گویا تاریخ کا سنہرا دور 1958 سے شروع کیا گیا۔

(ج) اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ایک کتابی مضمون تک محدود ہوگئے۔۔ ایک ایم اے ایم ایس سی والا اپنی درسی کتابوں سے باہر تحقیق کی خواہش ہی نہیں رکھتا تھا کیونکہ پاکستان، اس کی تاریخ اور سیاسی نظام کے بارے میں جو سرکاری “حقایق” فراہم کر دے گےؑ تھے کافی تھے۔ پھر اس کو بہتر تعلیم کیلۓ پی ایچ ڈی کی ڈگری قیمتاََ حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے گئے۔ ایک سرکاری وڈیرا بنکارا “ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا نقلی”۔۔ اس نے جھوٹ نہیں بولا تھا۔ ریسرچ کرنے والا بھی سوچ میں پڑ گیا کہ بھئی کیا ضرورت ہے دن رات کی دماغ سوزی کی۔ آسان کام کو مشکل طریقے سے کرنا سراسر بے وقوفی ہوگی۔۔ مزید آسانی کیلئے “بول” ٹی وی چینل کے بارہ جماعت پاس مالک کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں فراہم کرنے کا ٹھیکہ دے دیا گیا۔۔دروغ بر گردن راوی، اس نے چودہ ہزار ڈگریاں فروخت کر کے زر کثیر کمایا۔ زیادہ تر خریدار بے زر تھے۔ زر دار باہر سے مستند ڈگریاں لائے۔ یہاں اس کار خیر کا آغاز عامر لیاقت جیسی دیندار عوامی شخصیت نے کیا اور دوسرے نمبر پر ملک کے ایک نامور قانون داں رہے۔ ستم ظریفی حالات دیکھئے کہ دونوں ہی دو چینلز پراسلامی تعلیمات کا درس بھی دیتے رہے۔۔ لالچ میں جعلی اسناد فروش کا حوصلہ اتنا بڑھا ( یا بڑھایا گیا) کہ اس نے جعلی ڈگری کو ولایتی بنایا اور باہر بھی بیچنا شروع کردیا۔۔ لیکن باہر والے آنکھیں اور کان کھلے رکھتے ہیں۔۔ ملزم کی نشاندہی ہوگئی۔۔ پتا چلا وہ سوفٹ ویر کا ماہرجعلساز تھا۔۔ پہلے امریک میں کامیاب ہیکر تھا۔۔ اسے کہا گیا کہ جرم چھوڑو۔ پیسہ چاہیے تو ہمارے لئے کام کرو لیکن یہ بات مصدقہ نہیں۔۔ تاہم اس کی جعلسازی کا قصہ عام ہوا تویہاں اس کی گرفتاری کا ڈراما بھی رچایا گیا۔ ایف آئی آر، مقدمہ، پیشی سب ہوا۔ عام خیال تھا کہ اب وہ زندگی بھر کیلئے گیا اندر۔۔ لیکن وہ کیس اسی طرح سرد خانے میں گیا جیسے راو انوار کا کیس۔ وہ بھی بہت جلد مسکراتا ہوا اپنے ڈیفنس کے کثیرالمنزلہ آفس میں جا بیٹھا۔۔ اسے بیرون ملک کب کی سزا ہو چکی۔۔ یہاں اس نے اپنا چینل بیچ دیا۔  کار آمد کتابی یا فارمل ایجو کیشن کا یہ انہدام جس منصوبہ بندی کا حاصل تھا اس کی تباہ کن جڑیں تقریبا” پورے ملک میں پھیل چکی ہیں۔ میرے جیسے 47 سل قبل ایم اے کرنے والے، میرے بچے، ہموطن، سب تصدیق کے ٹھیکیدار”ہائر ایجوکیشن کمیشن” سے تصدیق نہ کرائیں تو ان کی ڈگری محض کاغذ کا پرزہ۔ وہ خوار ہوں نذرانے پیش کریں یا سفارش سے اپنا کام کرائیں۔ کوئی سوچتا بھی نہیں کہ یہ پرانےلوگ اس وقت کے تعلیم یافتہ ہیں جب دیسی گھی اور خالص دودھ جیسی اصطلاحات بے معنی نہیں ہوئی تھیں۔ جعلی ڈگری کو یہ کیا جانیں۔

اب تھیسس کی خرید و فروخت عام ہے۔ طالب علم کیش سودا کرنے پر مجبور ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ استاد تو بڑا مقدس پیشہ ہوا کرتا تھا۔۔ دو سال قبل بھارت کے ایک مشہور افسانہ نگار شیمویل احمد نے ایک افسانہ “لنگی” لکھا تو بڑا شور مچا۔ حال ہی میں بنی گالا پیلس کے سامنے پولیس نے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز پر لاتھی چارج کیا اور انہیں ٹرک میں ڈال کے لے گئی۔

جب فارمل ایجو کیشن کا یہ حال ہو تو انفارمل کی کیا بات کرنا۔۔ یہ معاشرے کا کام ہے اور معاشرہ ۔۔۔ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔۔۔ ایک ہجوم ہے جو سیاسی، معاشی، مذہبی، اخلاقی، فکری انتشار اور پولرائزیشن کی زبوں حالی میں مبتلا ہے۔ اب ہم ایک ریوڑ ہیں جو ہانکا جاتا ہے۔ ہمیں دنیا سے الگ کرکے ایک زنداں میں رکھا گیا ہے۔۔

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی،،  کچھ ہماری خبر نہیں آتی

جیسے ایک لازول فلم “بین حر” میں دکھایا گیا تھا۔ لاعلاج سمجھے جانے والے برص کے مریضوں کو شہر سے باہر کنویں میں ڈال دیا جاتا تھا جس کی دیواریں آسمان تک اونچی تھیں۔۔ ہم بھی تو کرپشن کے لا علاج مرض میں مبتلا ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: