ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔ اسماء ظفر

0

اسی کی دہائی میں ہمارے نانا کے گھر لینڈ لائن فون لگا اس زمانے میں کسی کے گھر لینڈ لائن فون لگنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوتا تھا۔ مثل مشہور تھی کہ دادا درخواست دے تو پوتے کو ٹیلی فون نصیب ہوتا تھا ہمارے ماموں جان چونکہ وکیل تھے تو چند ماہ میں فون کنیکشن مل گیا ڈاکٹرز اور وکلا حضرات کو ترجیحی بنیادوں پر کنیکشن دے دیا جاتا تھا انکے کام کی نوعیت کی وجہ سے۔

خیر فون تو لگ گیا مگر اصل دقت نانی کو ہیلو کہنا سکھانے میں ہوئی نانی فون اٹھا کر کہتی تھیں ہاں خیر صلا خیر عافیت کیسے فون کیا 🙂 وہ سمجھتی تھیں کہ تار اور ٹیلی گرام کی طرح فون کال بھی بس ایمرجنسی کی صورت میں ہی کی جاتی ہے آہستہ آہستہ انہیں بھی سمجھ آگیا کہ خیریت پوچھنے حال چال جاننے اور کبھی کبھی گپیں مارنے کے لیئے بھی فون کیا جاتا ہے۔

آج کے دور کے بیس اکیس برس کے بچے حیران ہوتے ہیں سنکر یہ سب باتیں کہ محلے کے ایک گھر میں فون ہونا مطلب سب کا فون ہونا تھا جانے کہاں کہاں آپکا نمبر پہنچا ہوتا تھا اور گھر کے بچوں کی ڈیوٹی ہوتی تھی کہ پڑوس کی خالہ کو بلائیں کہ انکی بہن نے ناظم آباد سے فون کیا ہے اور ہم بچے بھاگ بھاگ کر یہ ڈیوٹی بخوشی انجام دیتے تھے۔

سب سے مزیدار کالز انڈیا سے آتی تھیں مشکل سے لائن ملتی تھی تیر کی طرح بھاگ کر محلے کے سب سے آخری کونے سے ملٹری والے انکل کی بیگم کو بلانا ہوتا تھا (وہ آرمی میں کوئی کانٹریکٹر وغیرہ تھے کسی زمانے میں اسی نسبت سے ملٹری والے کہلاتے تھے🙂) جو فون پکڑ کر بات کم کرتی اور روتی زیادہ تھیں یہی صورتحال دوسری طرف بھی ہوتی تھی کیونکہ برسوں بعد آنے والی کال میں کئ لوگوں کے مرنے کی اطلاع ہوتی تھی کسی کے بیاہ کی کسی کے گھر بچے کی پیدائش کی یہ آنسو کبھی خوشی اور کبھی غم کے ہوتے تھے کبھی ملے جلے احساسات کےجو رنگ ملٹری والی خالہ کے چہرے پر آتے جاتے تھے آج بھی یاد ہیں مجھے اور کال ختم ہونے کے بعد یہ کہنا اللہ میاں فوٹو والا فون بھی بنادے کوئی آواز کے ساتھ اپنوں کی تصویر بھی دیکھ لوں معصوم خالہ کی یہ دعا اب قبول ہوئی جب انہیں دنیا سے رخصت ہوئے عرصہ گزر گیا۔

آج کے دور میں ہمیں کتنی سہولیات مل گئی ہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے شخص سے منٹوں بلکہ سیکنڈوں میں باتصویر ملاقات کوئی مسئلہ ہی نہیں مگر ہم برسوں اپنوں سے بات نہیں کرتے پڑوس میں کون کس حال میں ہے ہم بے خبر رہتے ہیں جبکہ یہ دور تیز ترین ٹیکنالوجی والا ہے اب کسی بچے کو بھاگ کر کونے والی خالہ کو بلانا نہیں پڑتا سب کچھ ہماری انگلیوں کی ایک جنبش پر ہمارے سامنے ہوتا ہے مگر ہم اتنے ہی ایک دوجے سے دور اور انجان ہیں وہ وقت یاد آتا ہے جب بنا فون کیئے بھی سب ایک دوسرے کی خوشی غمی سے واقف ہوتے تھے گھر میں گاڑی نا ہونے کے باوجود بسوں ٹیکسیوں میں سوار رشتے داروں دوستوں سے ملنے پہنچ جاتے تھے آج دو دو گاڑیاں ہمارے دروازے پر کھڑی ہوتی ہیں مگر ہمیں فرصت ہی نہیں۔

آج پتہ نہیں کیوں یہ خیال بار بار آرہا ہے کہ سہولیات کی دستیابی جتنی آسان ہوگئی ہے ہم نے اپنی زندگی کو اتنا ہی سمیٹ کر محدود کرلیا ہے ہم سے پتہ نہیں کب مروت رواداری اور محبت چپکے سے رخصت ہوگئیں اور اسکی جگہ بے حسی اور بے گانگی نے لے لی 😞
چلیں سیل فون اٹھاکر کسی بھولے بسرے کو بولیں ” ہیلو ”
کیسے ہو آج تمھاری بہت یاد آرہی تھی۔۔۔۔۔📞

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20