ذرا اک نظر مرے چارہ گر ——– سعدیہ بشیر

0

میرے سامنے برگد کے ایک درخت کی تصویر ہے جس کی مماثلت ایک نحیف و نزار بوڑھے سے ہے۔ اسے ہرا بھرا اور شادابیوں سے بھرپور ہونا چاہئے تھا لیکن المیہ یہ ہے کہ اس کے چہرے پر صدہا سلوٹیں ہیں جن سے بے بسی اور بے چارگی جھلکتی ہے۔ یہ بے بسی اس سفاکیت کے جواب میں ہے جو اس کے ساتھ برتی گئی۔ اس کی بجھی آنکھوں میں امید و یاس کے چراغ بیک وقت جھلملا رہے ہیں۔ یہ آنکھیں بینائی سے محروم نہیں لیکن بصارت کم زور پڑ رہی ہے۔ غور سے دیکھیں تو اس کے ایک گال پر چاند اور دوسرے پر ستارا بھی نظر آتا ہے۔ ستارے کے کونے ٹوٹ چکے ہیں۔ اس کی چمک مدھم پڑ گئی ہے۔ چاند کا حسن بھی گھائل اور روشنی دھندلی ہے۔ لیکن پس منظر میں سبز اور سفید رنگ پوری آب و تاب سے جگمگا رہا ہے اس کا لباس خون کے دھبوں سے بھرا ہوا ہے۔ ان دھبوں کو مٹانے کی جدوجہد کے آثار لباس کی حالت سے عیاں ہیں۔ لیکن سوکھے ہوئے خون کے نشان ابھی بے ضمیر نہیں ہوئے۔ شہیدوں کا یہ لہو کبھی بے رنگ نہیں ہو سکتا۔ تازہ لہو کے چھینٹے ان لازوال قربانیاں کو فراموش نہیں ہونے دیتے۔ اس برگد کی بنیادوں سازشوں کا پانی ہے جس سے ثمر بے ذائقہ رہتے ہیں لیکن مضبوطی میں اب تلک کوئی رخنہ نہیں آنے پایا۔ اس کے پاؤں میں چھالے سہی۔ اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ سہی مگر وہ تن کر کھڑا ہے۔ اس کے ایک پاؤں میں گرد آلود جوتا ہے اور دوسرا پاؤں….؟

اوہ اس کا دوسرا پاؤں تو شاید بے نشان سازشوں نے کاٹ ڈالا ہے۔ شاید اس کی لڑکھڑاہٹ کی وجہ بھی یہی ہو برگد کا یہ بوڑھا شاید پاکستان ہے۔ اس کی تصویر گلی محلوں اور ہر شاہراہ پر چسپاں ہے۔ میں نے غور سے نظر ڈالی تو تصویر کے نیچے کچھ لکھا تھا۔ اسے پڑھنے کے لئے رکنا پڑتا تھا۔ جبکہ ایک ہجوم اس پر نظریں ڈالے بغیر ہی رواں دواں تھا میں نے قریب جا کر پڑھا تو لکھا نظر آیا کہ یہ بوڑھا درحقیقت اتنا عمر رسیدہ نہیں جتنا اس پر گزرے ماہ و سال نے اثر ڈالا ہے۔ اس کے ساتھی درخت اس سے عمر میں چھوٹے لیکن بھرپور مضبوط اور شاداب ہیں۔ غور کیا تو یہ بات درست نظر آئی۔ اسے خون کی نہیں صرف دیکھ بھال اور توجہ کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ اپنا خون پسینہ دے کر اسے محفوظ رکھنے میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔

اوہ! تصویر پر دکھائی دینے والے چہرے کے نیچے تنومند تنا ہے۔ اس کی شاخیں دائیں بائیں اوپر نیچے ہر طرف سے سایہ دے رہی ہیں لیکن ہم یہ دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ یہ چھاؤں اور ثمر کا سلسلہ کہاں سے جاری ہے جو کسی بھی موسم کی سختیوں سے گھبرا کر رکتا ہے اور نہ ہی ختم ہوا ہے۔ اس کی کچھ شاخیں اور پتے مرجھائے ہوئے ہیں اور کچھ ثمر آور ہیں۔ اسے جہاں جہاں خلوص، دیانت داری اور محنت کا پانی ملتا ہے اس کے آثار نظر آ رہے ہیں اور جن مقامات سے اس کی جڑیں اور شاخیں کاٹنے اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ بظاہر نادیدہ ہاتھ بھی اپنا نقش چھوڑ گئے ہیں۔ ان نقوش کو اجاگر کرنے والوں کی قربانیاں بھی کم نہیں۔ کئی تو ان نقوش کی تہوں کو گنگھالنے اترے تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انسانی رویوں کے تضاد اور چشم پوشی پر ہر صاحب احساس کے سینے میں چنگاری جلتی ہے۔ دل میں درد بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم سب اس کی چھاؤں میں بیٹھے ہیں تو پانی دینے والے چند ہی ہاتھ کیوں ہیں؟ کتنے ہی گروہ اس کی ناتواں حالت کو نظر انداز کئے اس کے مادی و جذباتی وسائل سے فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔ کتنے ہی موسمی پرندے اس پر گھونسلا بناتے ہیں اور پھر نظر نہیں آتے۔ دکھاوے کی حب الوطنی منافقت کے جلو میں صرف اپنی شان دکھا سکتی ہے ۔ جسے بھی اس تصویر کا دکھ نظر آتا ہے۔ اس کا دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔ خدا جانے اس کے پیچھے کون لوگ ہیں جو اس کی درد مندی کے رنگ تو گہرے کرتے ہیں مگر اس کے لئے کی گئی کوششوں اور امداد کو غائب کر دیتے ہیں یہ لوگ ہر سطح پر منحرک ہیں۔ اسی لئے نہ تو امداد نہ افرادی محنت اور نہ ہی عملی کوششیں بار آور ہوتی ہیں۔ اتنے برسوں میں کی گئی صد ہا مثبت کوششیں نہاں ہیں اور چند ایک منفی عمل اس کو دیمک لگانے کی کوششیں کر رہے ہیں چوہوں اور موسمی پرندوں نے اس کے بدن پر جا بجا سوراخ کر دیئے ہیں لیکن یہ جڑیں اتنی کمزوری نہیں۔ اس کو پانی دینے والے ہاتھ ابھی تھکے نہیں ہیں۔ چند سال بعد یہی تصویر مختلف مندرجات کے ساتھ ایک بار پھر سب کی توجہ کھینچتی ہے۔ سب کی مدد چاہتی ہے۔ عام لوگ اسے پانی دیتے ہیں۔ اسے ہرا بھرا رکھنے کی جدوجہد میں دن رات مصروف ہیں مگر جو جو اس کے گھنے سائے میں آرام سے بیٹھے اس کے پھل سے خصوصی فائدہ اٹھاتے ہیں اسے عام لوگوں کی ہمدردی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ تاکہ وہ اپنی محنت کا خون پسینہ دے کر اس کی کمزوری رفع کرنے میں معاونت کریں۔ ہر آنے والا ٹولہ عوام کے خون سے اس تصویر کی مظلومیت گہرا کرتا ہے اور گھناؤنے چہروں پر سرجری کے ماسک لگائے پھر کرتب دکھانے موجود رہتا ہے۔ یہ پاکستان عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ان خواص کا بھی ہے جو اس کی معیشت، ساکھ اور ترقی کے لئے عام لوگوں کا تعاون چاہتے ہیں۔ اس کے لئے اپنا درد دکھا کر جھولیاں اور کشکول پھیلاتے ہیں لیکن نہ تو کشکول اور نہ ہی جھولیاں کبھی بھرتی ہیں کیو نکہ اسے توانا و مضبوط بنانے کے لئے محنت اور امداد سے زیادہ خلوص و دیانت کے معجزہ کی ضرورت ہے….اور ”بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں“ پھر یہ نقش ناتمام نہیں رہیں گے۔ ان کی رنگینی سب کے مردہ چہروں کو رنگین کر دے گی۔

آئیں مل کر اس کے رنگ بچاتے ہیں۔ کہ یہ ہمارا ماضی، حال اور مستقبل ہے اور ہم نے اسے دِلوں میں محفوظ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مذہب، ادب اور سیاست، پیشے نہیں —– قاسم یعقوب
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: