نور نہایا رستہ، ایک ساختیاتی مطالعہ —– الیاس بابر اعوان

0

ساختیات کا آغاز ۱۹۵۰ کی دہائی میں فرانس میں ہوا جس کا بنیادی بیانیہ یہ ہے کہ چیزوں کو علاحدگی یا آئیسولیشن میں نہیں دیکھا یا سمجھا جا سکتا۔ عام طور پر ساختیاتی مفکرین کے نزدیک وہ تمام مہا آدرش جو تاریخی اور بیانیاتی اعتبار سے فکری نظام پر جبر کی صورت میں مسلط ہیں، ہی مل کر ہمارا تصورِ دنیا متشکل کرتے ہیں۔ گویا معنیاتی نظام بذاتِ خود کوئی شے نہیں بلکہ ہمارا تصورِ دنیا بیرون میں (دستیاب متنی یا مہابیانیاتی ساختیں) کوئی معروضی حقیقت تشکیل کرتی ہیں۔ کچھ زبان دانوں کا ماننا ہے کہ اس طریقِ کار سے ہم متن کے موجود علامتی اور معنیاتی نظام سے الگ ہر کر ایک بڑے منطقے میں داخل ہوجاتے ہیں اور دانستہ فلسفہ، تاریخ اور علمیاتی ڈسکورس سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نعتیہ ادب کا مرکزی ڈسکورس چونکہ ایک ہی ذاتِ بابرکات ہے اور جسے تاریخی ٹائم لائن سے کسی بھی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا کہ آپ ﷺ کوئی اساطیری کردار ہی نہ ہی آزاد فکر ذہن کی فکشن سازی بلکہ آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات اپنے تمام وجودی جمالیات کے ساتھ نوعِ انسان میں رہے اور اپنے کردار کی روشنی سے جہانِ رنگ و بُو کے معنیاتی نظام کو اعتبار بخشا۔ آپ ﷺ کے کرادرِ انور کی تمام جزئیات اور تفاصیل نہ صرف کلامِ الٰہی میں مذکور ہیں بلکہ آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس روشنی کو ہمیشہ کے لیے متن میں محفوظ کیا اور دو ساختوں میں رتی بھر بھی تضاد موجود نہیں۔ نعتیہ ادب کا اختصاص یہ ہے کہ کوئی بھی کوڈ جس کا اظہار متن میں کیا جاسکتا ہے، لسانی اشاہ جات کے صوبادیدی ہونے کا دعوٰی نہیں کرتا۔ اگرچہ کہ ساختیاتی مفکرین کا ماننا ہے کہ زبان کا اشارہ جاتی نظام صوابدیدی ہے تواس کے طفیل متشکل ہونے والے تصورات کو ہم ’’ہم درست عکس‘‘ یا ’’عینی سطح کا درست عکس‘‘ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے تو عرض یہ ہے نعتیہ ادب کو ہی یہ اعجاز شامل ہے کہ تخلیق کار کا جو سگنی فائر ہے، سگنی فائیڈ اس کی توسیع کرتا ہے نہ تشریح کہ حضورﷺ کی ذات ِ بابرکت ہر لحاظ سے ایک اکمل ترین ذات ہیں انسانی تخیل اور زبان کی اتنی سکت کے کہ آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات کی معنیاتی توسیع کرپائے چونکہ ایسا بنیادی قضیے سے متصادم ہے گویا تمام نعتیہ ادب اس ایک ہستی مبارک کا عین ہم درست عکس ہے لہٰذا نعت میں جب بھی فکشن سازی کی کوشش کی گئی وہ ایک لادرست اظہاریہ شمار ہُوا۔ اسی لیے تمام نعتیہ ادب میں ایسا کلام کبھی بھی معنیاتی تصادم کا شکار نظر نہیں آیا جس کا مرکز و محورعین آپﷺ کی ذات رہی۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک طے شدہ سگنی فائر موجود ہے تو سگنی فائیڈ یا متنی اظہاریے اتنے مختلف اور نویکلے کیوں ہیں تو اس ضمن میں عرض ہے یہ اعجاز بھی آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات کے طفیل ہے کہ کوئی بھی ایسی متنی لڑی معنوی اعتبار حاصل نہیں کرپاتی جو آپ ﷺ کی ذات بابرکات کے جمالیاتی منطقے سے ویری فائی نہ ہو۔ اور حسنِ شخصیت دیکھیے کہ کہیں قرآن لسانی لڑی کی معنوی توثیق کرتا دکھائی دیتا ہے اور کہیں حدیث اور یوں ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا جو حضورِ ﷺ کی نعت کو متن کرتا رہے گا۔ میمون بن قیس دورِ جاہلیت کا ایک معروف شاعر تھا جو اعشیٰ قیس کے نام سے بھی جاتا جاتا تھا نے آپﷺ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں ایک نعتیہ قصیدہ تحریر کیا جسے قدیم ترین صحیفہ تسلیم کیا جاتا ہے ملاحظہ فرمائیں:

نَبِیٌّ یرَی مَا لَا تَرَوْنَ، وَذِکْرُہٗ
اَغَارَ، لَعَمْرِیْ، فِیْ الْبِلَادِ وَانْجَدَا

معنی: یعنی وہ ایسے نبی ﷺ ہیں جو ایسی چیزیں ملاحظہ کرتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھتے اورمیں اپنی عمر کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ آپﷺ کی شہرت پست و بلند شہروں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اب اس شعر کو دیکھیے کہ ایک غیر مسلم شاعر آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات کے خصائصِ اطہار کو کس طرح متن کررہا ہے کہ آپ سگنی فائر کو کسی اور کے ساتھ بدل نہیں سکتے، اگر آپ سگنی فائر کو تبدیل کریں گے تو یہ تمام تفاصیل اور اجمالی خصائص باطل ٹھیر جائیں گے کہ ماسوائے آپ ﷺ کے کوئی ہستی ایسی نہیں جس نے وہ چیزیں دیکھی ہوں جو عام انسان نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی کوئی ایسا ہوا ہے نہ ہوگا جس کا ذکر تمام جہانوں میں اتنا سربلند ہوا۔ زیرِ مطالعہ نعتیہ مجموعہ سینئر شاعر جلیل عالی صاحب کا ایسا متنی اظہاریہ ہے جس میں ان کی آپﷺ کی ذاتِ اقدس سے عقیدت اور محبت متن ہوتی دکھائی دیتی ہے بلکہ آپ نے نہایت محتاط انداز میں اس کا اظہار کیا ہے۔ یہ شعر دیکھیے:

منکشف کر سوچ سے پہلے کی بات
لفظ سے آگے رسائی دے مجھے

یہ شعر لسانی حدود اور اس کے عدم تکمیلیت کو مدِ نظر رکھ کر ہی متن کیا گیا ہے۔ معروف ماہرِ لسانیات سوسیئر نے کہا تھا ’’کہ زبان ہماری دنیا تشکیل کرتی ہے، مستعار لیتی ہے نہ ہی اسم کاری کرتی ہے معنی ہمیشہ کسی شے یا تصور کا وصف ہوتے ہیں جنہیں دماغ متشکل کرتا ہے اور زبان کے ذریعے اس کا اظہار کرتا ہے‘‘۔ گویا ہماری دنیا یا تصورِ دنیا اتنا ہی ہے جتنی ہماری لسانی کائنات اوریاد رہے کہ لسانی کائنات ہم میں سے ہر شخص کی علمی، معنوی اور ساختی سطح پر مختلف ہوتی ہے۔ اور اگر یہ طے بھی کرلیا جائے کہ کہیں پر زبان کے تمام ممکنہ زاویوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرلیا گیا ہے تو بھی ہم یہ دعوٰی نہیں کرسکتے ہیں ہم اپنی زبان سے کائنات کو متن کرسکتے ہیں تو جو ہستی وجہِ کائنات یعنی حضورﷺ کی ذاتِ بابرکات ہے ان کو ہم محدود زبان کی نسبت سے کہاں متن میں پرو سکتے ہیں۔ عالی صاحب اس بات سے آگاہ ہیں لسانی اکائی دراصل سوچ یا تخیل سے بعد کی ترتیب ہے اور شاعر جو کچھ اپنے تخیل سے دیکھ اور محسوس کررہا ہے اسے زبان میں بیان کرنے سے عاجز ہے اس لیے وہ اپنی دنیا کی توسیع کا خواہاں ہے۔

ایک اور شعر دیکھیے:
اُسی صورت سے نکلیں حسن کی ساری شبیہیں
اُسی سیرت سے ابھرے خیر کے معیار سارے

سوسیئر نے دو اصطلاحوں کا استعمال کیا ایک Langue یعنی روایتی زبان اور Parole یعنی انفرادی استعمال یعنی زبان بطورِ نظام اور ساخت کے ایک طرف اور بطورِ کلامی ادائیگی یا اظہاریہ ایک طرف۔ لہٰذا نعتیہ ادب کا کوئی انفرادی اظہاریہ آپ کو تب تک سمجھ میں نہیں آئے گا جب تک آپ کلی لسانی قواتین، روایات اور ان رویہ جات سے آگاہ نہ ہوں جو اس رویے کی تشکیل کرتی ہیں جسے ہم زبان یا Language کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ڈن کی ایک نظم پڑھتے ہیں Good Morrow ( یعنی عمدہ کل)۔ اس کا ساختیاتی مطالعہ کرتے ہوئے ہمارا فوری ردِ عمل یہ ہوگا کہ ہم اسے سمجھنے کے لیے پہلے اس صنف کے بارے میں معلوم کریں گے۔ ڈن کی یہ نظم بارہویں صدی عیسوی میں لکھی جانے والی ایک شعری صنف Dawn Song جسے Alba کہا جاتا تھا پر مبنی ہے جو بنیادی طور صبح ِ صادق ہونے پر عشاق کے بچھڑنے کا نوحہ متن کرتی تھی۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ آپ ایک مجازی استعاراتی نظام کی تفہیم کے لیے اسے ایک بڑے منطقے سے جوڑیں گے تو نعتیہ ادب کو کیسے آئی سو لیشن میں سمجھ سکیں گے۔ عالی صاحب کا مذکورہ بالا شعر اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فی زمانہ یا تمام آنے والے زمانوں میں اگر مابعد جدیدی اثرات یا اس کے بعد کی کوئی فلسفیانہ فکر کے تحت حسن کے معیارات کی کوئی صورت سامنے آتی ہے تو وہ اس صورت میں باطل ہوگی اگر اس کا مرکز اور محور آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات یا آپ ﷺ کی تعلیمات نہ ہوں ایسے ہی Subjectivity کو بھی رد کیا جائے گا اور اس کی معنوی تفسیرمرکزِ اطہرﷺ نہ ہو۔ اس کی ایک بڑی منطقی وجہ ہے جس کا میں اوپر کہیں ذکر کر چکا ہوں کہ آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات ایک حقیقی زندگی میں ہمارے سامنے موجود ہے سیکولر سے سیکولر ذہن بھی اگر تاریخی یا نوتاریخی عددی یا منطقی استدلال کا حامی ہے تو بھی آپ ﷺ کی شخصیت، جمالیات اور معاشرتی زندگی کا انکار نہیں کرسکتا۔ جس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ جلیل عالی صاحب کی شاعری کا عمومی رویہ لسانی اور معنوی لحاظ سے محتاط ہوتا ہے اور نعت جیس مقدس صنف کے حوالے سے آپ محتاط ترین دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے لسانی عُجب اور کم مائیگی سے آگاہ ہیں۔ ان کا یہ شعر:

یہ نعت کا اعجاز ہے لکھتے ہیں تو خود ہی
بنتی ہے کوئی بات عبارت سے زیادہ

یاک لاکاں ایک فرانسیسی ماہرِ نفسیات تھا جس سے کلاڈ لیویس اسٹراس، فرڈی نینڈ ڈی سوسیئر اور رومن جیکب سن متاثر تھے، کے نزدیک نفسیاتی مطالعہ جات میں زبان کو ہی مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس لیے کہ لاشعور کی کھوج میں تجزیہ کار ہمیشہ زبان کا ہی مشاہدہ کررہا ہوتاہے۔ یعنی ہم زبان کے ذریعے ہی کسی کے شعوری رویے تلک پہنچ سکتے ہیں۔ فروئڈین نفسیات ایک مکمل زبانی سائنس ہے اور لاشعرو بکھرے ہوئے غیر متبادل یا مشروط مواد کا ڈھر نہیں ہوتا جیسے کہ فرائوڈین نفسیات سمجھتی ہے بلکہ یہ ایک ترتیب سے بنا ہوا جال ہوتا ہے۔ گویا لاکاں لاشعرو زبان کی طرح کا ڈھانچہ یا ساخت ہوتی ہے (۶)۔ یعنی یوں سمجھے کہ جس طرح ہم زبان کی ساخت اور کسی ادبی اظہاریے کو اس سے بڑی ساخت کے ساتھ رکھ کر اس منطقے میں رکھ کر سمجھ رہے ہوتے ہیں تو ہم اس منطقے کی وضاحت نہیں کررہے ہوتے ہیں بلکہ اس منطقے کے طفیل اپنے لسانی اظہاریے کی توثیق کروا رہے ہوتے ہیں۔ لاکانی مباحث میں لفظ اور معانی کے درمیان ایک جنگ ہوتی ہے اس لحاظ سے جنگ میں لفظ یا معانی میں سے کسی ایک وقت میں کسی ایک ’’شے‘‘ کا پلڑا بھاری ہوسکتا ہے لیکن نعتیہ ادب کے حوالے سے یہ بات سب سے منفر دہے تخلیق کار کے سامنے زبان کے اختراع کردہ معانی نہیں ہوتے بلکہ وہ معانی ہوتے ہیں جو مہابیانیہ (مہا آدرش) کی طرف سے بیان کیے گئے ہیں یا ان کی روشنی میں رہنما اصول مرتب کیے گئے ہیں ان کے مطابق ہوں۔ عالی صاحب کے مذکورہ بالا شعر کی تفہیم کچھ یوں ہے کہ متن تخلیق کار کے ذہن اور قلم سے ایک لسانی لڑی کا ھصہ بنتے ہیں اورلسانی حوالے سے عام سے لفظ نظر آنے والے لفظ عام نہیں ہوتے بلکہ ان کی جمالیات ان سے کہیں ارفع ہوتی ہیں جن تک رسائی متن کو نعت (بطورِ ساخت یا صنف) کے رکھ کے ہی سمجھ میں آسکتا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ عالی صاحب اپنے عمیق مطالعے کو سپردِ متن کرتے ہیں جس تلک پہنچنے کے فلسفیانہ پوزیشنز کی ردِ تشکیل کرکے لسانی مباحث کی سائنس کو بھی سامنے رکھا جائے تو بھی آپ اس سے اسی طرح سے عقیدت بھرا لطف کشید کرسکتے ہیں جس کے لیے آپ کو ایک خاص دل کی ضرورت پڑتی ہے جو محبت بھرا ہو۔ صبیح رحمانی صاحب کی مرتب کردہ کتاب ’’ اردو نعت کی شعری روایت‘‘ میں شامل ڈاکٹرسید رفیع الدین اشفاق کے مضمون نعت کی تعریف میں نعت کی حوالے سے الحافظ ابو موسیٰ کو نقل کرتے ہیں کہ’’نعت وصفِ محمود ہے کو کہیں گے۔ اگر بہ تکلف اس میں وصفِ مذموم کا مفہوم پیداکرنا ہو تو ’’ نعت سوء‘‘ سے اسے ظاہر کریں گے۔ نعت جب وصفِ محمود ہے تو وصف کیا ؟ وصف کے معنی ہیں کشف اور اظہار۔ شاعرانہ اصطلاح میں وصف کسی چیز کے عوارض اور اس کی خصوصیات کو نمایاں کرنے کو کہتے ہیں۔ ‘‘(۷) ابنِ رثیق نے جو وصف کی تعریف کی ہے وہ نہایت بلیغ اور جامع ہے :

البلع الوصف ما قلب المسع بصرا
بلیغ ترین وصف وہ ہے جو کان کو آنکھ بنا دے۔
اب میں نور نہایا رستہ کی دوسری ساخت کی طرف آئوں گا یعنی شمائلِ مبارکہ کی طرف۔
وہﷺ کراں تابہ کراں پھیلتے منظر کی طرح
اُسﷺ کو لفظوں کے دریچوں میں سجائیں کیا کیا
۔ ۔
اک صورتِ تعمیر جو جھلکی سرِ قرآں
روشن ہوئی مینارہِ سیرت سے زیادہ
۔ ۔ ۔
اور خاص کر ان کی نعتیہ نظم ’’وہ دل زمینوں میں فصلِ صدق و صفا اگاتا ہوا تکلم‘‘ درج بالا اشعار اور یہ نعتیہ نظم پڑھنے کے بعدشمائل ترمذی سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٰ کے ایہ الفاظ یاد آتے ہیں کہ ’’ آپ پر یکایک جس کی نظر پڑ جاتی ہے، ہیبت کھاتا ہے، جو آپ سے تعلقات بڑھاتا ہے، محبت کرتا ہے۔ آپ کا وصف کرنے والا یہی کہتا ہے کہ آپ سے پہلے نہ آپ کے جیسا دیکھا اور نہ آپ کے بعد آپ جیسا دیکھا‘‘۔ (شائلِ ترمذی۔ ص ۵۶۷)

ان کوٹ : حضورﷺ کی ذاتِ بابرکات کے حوالے سے یہ بات بہت ہی خاص ہے کہ انہیں دیکھنے والوں نے ہمیشہ اور مسلسل یہ دعویٰ کیا ان کی آنکھوں سے نہ آپ ﷺ جیسا پہلے کبھی دیکھا نہ بعدمیں۔ اس کا ثبوت خوابوں کے حوالے سے بھی ہے کہ جن لوگوں نے خواب میں رسول کریم ﷺ کی زیارت کی اگر ان سے چہرہِ انور کی تفاصیل جمع کی جائیں تو یہ بات بہت واضح ہوگی کہ ان سب کا بنیادی ماخذ ایک ہی چہرہ ہے۔ گویا خواب (یا فروئیڈین اصطلاح میں لاشعور) بھی ایک بڑی ساخت سے جڑا ہے۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کے حسنِ مبارک کو جس طرح منظوم کیا وہ سب آپ کی نظر سے گزرا ہی ہوگا۔

وَ احْسْنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِی
وَ اجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النَِّسَاء ُ
خُلِقْتَ مُبَرَّئً ا مِنْ کُلَِّ عَیْبٍ
کاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاء ُ

ترجمہ:یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حسین تر میری آنکھ نے دیکھا ہی نہیں اور نہ کبھی کسی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حسین و جمیل تر پیدا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق ہر عیب اور نقص سے پاک کی گئی۔ گویا کہ آپ کے رب نے آپ کی خواہش کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت بنائی۔ ایسے ہی کوئی بھی نعت شریف دیکھ لیجیے سب کے سب لسانی تخلیقی اظہاریے اسی ایک ہستی کی طرف رخ کیے کھڑے نظر آئیں گے۔ اور جیسے کہ ساختیاتی مفکر متن کو بڑی ساختوں جیسے کہ:

۱۔ کسی خاص ادبی صنف کی روایات یا اصولوں سے؎
۲۔ بین المتنی تعلق اور نسبت سے
۳۔ کسی متوقع نمونہ سے جو ممکنہ آفاقی بیانیہ یا ساخت ہو وغیرہ جوڑ کر کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا تاریخی امثال میں آپ کو بین المتنی تعلق واضح نظر آئے گا، شیخ سعدی نے کہا تھاکہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر، قتیل شفائی نے کہا کہ ذاتِ نبی ﷺ بلند ہے ذات ِ خدا کے بعد۔ بالکل ایسا معاملہ عالی صاحب کہ نعتیہ نظم ہوہ دل زمینوں والی نعتیہ نظم کے ساتھ ہی اس کا ایک ایک بند دیکھ لیجیے وہ آپؐ کی ذات و صفاتِ عالیہ کو ہم درست عکس ہوگا۔ ایک بند پیشِ خدمت کرکے اجازت چاہوں گا۔

ہوا سے
رفتار کے توازن کا بھید کہتا
خرامِ موزوں

اب سے تصور میں لائیے کہ حضور ِپاکﷺ کیسے چلتے تھے جیسا کہ روایات میں آتا ہے بالکل ویسا ہی ساخت آپ کے سامنے متشکل ہوگی۔ عالی صاحب کے اس نعتیہ مجموعے کا مختلف تنقیدی تناظرات میںمطالعہ کیا جاسکتا ہے اور میرا دعوٰی ہے کہ آپ کو ان کے ہاں اپنے محبوب کے حوالے سے فکشن نظر آئے گا نہ ہی پوزیشنل کانفلکٹ اور یہ ماسوائے توفیق کے ممکن نہیں۔ عالی صاحب کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ:

خجل ہیں لفظ کہ شایانِ مدحِ شاہ ﷺنہیں
پہ بن لکھے بھی تو تالیفِ دل کی راہ نہیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: