مذہب، ادب اور سیاست، پیشے نہیں —– قاسم یعقوب

0

سیاست ایک علیحدہ اور مکمل شعبۂ حیات ہے۔ جس طرح زندگی کے دیگر شعبہ جات زندگی میں اپنا تعمیری حصہ ڈالتے ہیں بالکل اسی طرح سیاست بھی ایک شعبہ ہے جو اپنی ڈائنامکس رکھتا ہے، جس کے مسائل بھی ہیں اور اصول بھی۔ ہم شاید صرف اُسے ہی شعبۂ حیات کہتے ہیں جو اپنی نیچر کے اعتبار سے ’’پیشہ‘‘ ہو یعنی جس میں محنت اور وقت دے کے پیسا کمایا جاتا ہو جیسے ڈاکٹر، انجینئر نگ، استاد، بزنس مین، فوجی، صحافی وغیرہ۔ ہمارے ہاں ایسے شعبوں کو شعبہ ہی نہیں سمجھا جاتا جس میں پیسہ اور روایتی اصول کارفرما نہ ہو ان میں ادیب، سیاست دان اور مذہبی علما شامل ہیں۔ یہاں فرق کرنے کی کچھ ضرورت ہے جس کی وجہ سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ یہ تینوں شعبہ جات اپنی نیچر کے اعتبار سے مکمل شعبے ہیں مگر ان کو دیگر شعبہ جات کی طرح نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

یہ تینوں شعبے پورا وقت مانگتے ہیں، ان میں کام کرنے والا اپنی زندگی کا مکمل نظریہ حیات رکھتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہ تینوں شعبے اپنے شعبے سے پیسہ نہیں کماتے یا ان کا براہ راست اور لازمی ذریعہ اپنے شعبے سے روزی کمانا نہیں ہوتا۔ خرابی ہی یہ ہوئی کہ جب یہ شعبے اپنی ڈائنامکس بدلتے ہیں، ان میں روزی رزق شامل ہوتی ہے۔ علما اور سیاست دان تو علی الاعلان پیسہ کمانے اس طرف راغب ہوئے جب کہ ادیب چاہتے ہوئے بھی اپنے شعبے کو پیشہ نہیں بنا پائے۔

یہ تینوں شعبے بنیادی طور پر وقف ادارے تھے جن میں کام کرنے والے روزی رزق کا سامان کہیں اور کرتے جب کہ ان شعبوں میں اپنی صرف خدمات انجام دیتے۔ آج بھی (برائے نام ہی سہی) ان شعبوں میں کام کرنے والے (فل ٹائم) ادیب، علما اور سیاست دان روزی رزق اور پیسا کمانے کا کہیں اور بندوبست کرتے ہیں جب کہ ان میدانوں میں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ اس لیے ان شعبوں کی بے توقیری سامنے آنے لگی، ہر وہ فرد جو مالی طور پر ان اداروں اور شعبوں کا مرہونِ منت نہیں تھا، اُٹھا اور ان شعبوں میں قدم رکھنے لگا۔ ہر کس و ناکس نے سیاست، ادب اور مذہب معاملات میں ہاتھ ڈالنا ضروری سمجھا۔

جن شعبوں کو ہم روزی رزق کا حصہ قرار دے رہے ہیں ان میں بھی واضح تفریق موجود تھی۔ ان میں ’خدمات‘ اور’ محنت‘ کا فرق رکھا جاتا تھا۔ آپ تاریخ کے صفحات کھول کے دیکھ سکتے ہیں کہ خدمات پیش کرنے والے افراد معاشرے کے مختلف افراد ہوتے، معاشرہ بھی انھیں ایک الگ مقام دیتا، ان میں استاد، طبیب اور منصف شامل تھے۔ یہ تینوں شعبے بھی وقت کے ساتھ ساتھ باقاعدہ شعبے بن گئے اور ان کو بھی ذریعہ آمدن بنایا جانے لگا۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان شعبوں میں خدمات پیش کرنے والے افراد اب باقاعدہ ایک ’پیشے‘ سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ تینوں شعبے اپنی ڈائنامکس کے اعتبار سے خدمت اور وقف کردینے والے ہیں مگر ان میں خدمت اور وقف کر دینے والی کوئی خصوصت باقی نہیں رہی۔ مفاد، طاقت اور پیسہ ان شعبوں کو اپنی لپیٹ میںلے چکا ہے۔ بلکہ استاد، منصف اور طبیب بہت سے شعبوں سے زیادہ طاقت ور اور زیادہ آمدنی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ اس سے فرق یہ پڑا کہ ان شعبوں میں’ خدمت‘ والا تصور ختم ہوتا گیا۔ یہ شعبے بھی مکمل پیشے (Professions) بن گئے ہیں۔

اب ایک پیراڈائم شفٹ والا انداز سیاست دان، عالم اور ادیب شعبوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں سے یہ رواج بہت زور پکڑ چکا ہے کہ مذہبی مبلغ، سیاست دان اور ادبا باقاعدہ شہرت، طاقت اور پیسے کے لیے ان شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ جن سے ان اداروں کی بے توقیری سامنے آئی ہے۔ اب اس امر میں کوئی مانع نہیں کہ بہت جلد یہ شعبے ایک پیشے کا روپ دھار لیں گے۔ یہ خدشہ علما کی شکل میں مکمل ہو چکا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: