قربانی پر اعتراض ———- بلال الرشید/ ماجرا

0

سیکولرحضرات عید پر جانور ذبح کرنے پہ تنقید کرتے ہیں۔ہر سال عید کے موقع پر مذہبی اور سیکولر لوگ ایک دوسرے پر طنز کرتے نظر آتے ہیں۔ایک صاحب نے اس عید پر یہ لکھا: (مذہبی لوگوں کے مطابق) پھول بانٹنے والے تہوار (ویلنٹائنز ڈے) سے توفحاشی اور بے حیائی پھیلتی ہے اور خون بہانے والے تہوار سے صلہ رحمی کو فروغ ملتاہے۔ بہت خوب!

ایک عام ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ خدا پھول دینے کا مخالف کیوں ہے اورانسان کو جانوروں کا خون بہانے کی اجازت کیوں دی گئی۔ اصل میں یہ پھول کی مخالفت نہیں بلکہ ناجائز رشتوں کی مخالفت ہے۔ انسانوں اور جانوروں میں ایک بنیادی فرق رشتوں کا احترام ہے۔ اگر کوئی مرد کسی عورت سے جسمانی تعلقات استوار کرنا چاہتاہے تو اسے لوگوں کو اکھٹا کر کے اعلانیہ اقرار کرنا ہوگا کہ وہ اس خاتون کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا عہد کر رہا ہے۔ اس اعلان کو شادی کہتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اسے گلاب کیا،گوبھی کا پھول بھی پیش کرے تو کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔البتہ اعتراض ان پھولوں پر ہوتاہے، جن میں یہ خواہش اور پیغام پوشیدہ ہوتاہے کہ کیوں نہ ہم دونوں شادی کے بغیر ہی تعلقات قائم کر لیں؟ خواتین کی ایک بہت بڑی اکثریت اسے اپنی سب سے بڑی تذلیل سمجھتی ہے۔

ویسے اگر جانوروں کو بھی دیکھا جائے تو خوراک کے بعد ان میں سب سے زیادہ لڑائیاں جنسِ نازک پر ہی ہوتی ہیں۔ سانپ اور مگر مچھ مادہ کو حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو قتل کر ڈالتے ہیں۔شیروں میں نر اور مادہ کا تعلق انتہائی خوفناک ہوتاہے۔ نر شیر بچہ جب بالغ ہوتاہے تو اسے لات مار کے گروہ سے نکال باہر کیا جاتاہے۔یہ نر بچّے پھراپنی بھرپور جوانی تک ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔ پھر وہ ایک ایسا گروہ ڈھونڈتے ہیں، جن میں نرمحافظ شیر کمزور ہو چکے ہوں۔ وہ اس پہ حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ نر محافظ شیروں کو قتل کر دیتے یا بھگا دیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ مادہ شیرنیوں کے پیچھے چھپے ہوئے ان کے ہر بچّے کو قتل کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ شیرنیاں مجبور ہو جاتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے قاتلوں سے جنسی تعلق قائم کریں۔

نر شتر مرغ مادہ کو اپنی جسمانی طاقت سے متاثر کرنے کے لیے ڈانس کرتاہے اور جذبات کی حدت سے اپنی گردن کو سرخ کر کے دکھاتا ہے۔ مور مورنی کو لبھانے کے لیے اپنے پر پھیلا کر ناچتا ہے۔ کئی مکڑے مادہ کو متاثر کرنے کے لیے ڈانس کرتے ہیں۔ جنگلی کتوں میں صرف سب سے طاقتور نر(الفا میل) اور سب سے طاقتور مادہ ہی کو بچّے پیدا کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

کتوں، بکروں اور بھینسوں میں جب مادہ میں جنسی خواہش پیدا ہوتی ہے تو وہ ایک بو پیدا کرتی ہے اور ایک آواز لگاتی ہے، جس سے سب کو اس کی خواہش کا علم ہو جاتاہے۔ جانوروں میں نر اور مادہ بالغ ہو جاتے ہیں، تو پھرا نہیں یہ بھی لحاظ نہیں رہتا کہ یہ میری ماں ہے یا یہ میرا باپ ہے۔
انسانوں میں اللہ نے شریعت نازل کی۔ نہ صرف یہ کہ ساری زندگی قائم رہنے والا رشتوں کا تقدس پیدا کیا بلکہ شادی کا بندھن بھی تخلیق کیا،جس میں یہ اعلان کر دیا جاتاہے کہ یہ لڑکا لڑکی اب میاں بیوی ہیں۔انسانوں میں جنسی خواہش کا کوئی خاص موسم ہے اور نہ مادہ کوئی بو پیدا کرتی ہے تاکہ ان کا پردہ رہے۔

جانور بھی کچھ اصولوں کے پابند ہیں۔ جب کہ انسانوں میں بغیر کسی رشتے کے بے حیائی کی پیشکش کرنا منع کیا گیا ہے۔ کچھ انسان ان چیزوں سے نکل چکے ہیں۔نہ صرف یہ کہ وہ باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کر لیتے ہیں بلکہ بغیر شادی کے بچّے پیدا کرنا بھی وہاں جائز ہے۔ ساحل پر سارے کپڑے اتار کر آپ لیٹنا چاہیں تو یہ آپ کا حق ہے جب کہ اس پر اعتراض کرنے والا مذہبی انتہا پسند۔ اس کے علاوہ ہم جنس شادیوں کی بھی اجازت ہے۔ دوسری طرف عورتوں /بیویوں کے حقوق اس حد تک بڑھا دیے گئے ہیں کہ مردشادی نہ کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ ایسے جوڑوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، جو شادی کر کے ساری زندگی ایک ساتھ گزارتے اور عمر بھر اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

کوئی پاگل ہی پھول کی خوبصورتی اور خوشبو سے نظر چرا سکتاہے لیکن یہاں یہ پھول علامتی طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ پھول ناجائز رشتہ قائم کرنے کی پیشکش ہیں۔ اب کون ہے جس کی بیٹی، بیوی، بہن اور ماں کو کوئی مرد اس کے سامنے یہ پیشکش کرے اور وہ اس مرد کی یہ جسارت بھول کر پھول کی خوبصورتی میں مگن ہو جائے۔آپ کو یقین نہیں آئے گا لیکن ایسی ہستیاں بھی دنیا میں موجود ہیں۔

یہ تو تھا پھولوں والا تہوار۔ اب آجائیے خون بہانے والے تہوار کی طرف۔ اللہ نے کچھ جانداروں کو سبزی خور بنایا ہے۔ وہ گوشت نہیں کھاتے ۔ کچھ کو خوشت خور بنایا ہے، وہ سبزی نہیں کھاتے۔ انسان اور بعض دوسرے جاندار بیج سے لے کر پھلوں اور جڑوں سے لے کر گوشت تک، ہر چیز کھا لیتے ہیں۔ مغرب میں خنزیر عام کھایا جاتاہے۔ جب کہ کتے کو ذبح کرنا بے رحمی کی انتہا سمجھی جاتی ہے۔

چین والے کچھ بھی نہیں چھوڑتے۔ ایک لمحے کے لیے فرض کریں کہ بنی نوع انسان گوشت کھانا چھوڑ دے لیکن کیا ریچھ، کتوں اور شیروں کو بھی ہم گوشت کھانے سے روک سکتے ہیں تاکہ خون بہنا بند ہو جائے؟ کبھی نہیں۔ فاسٹ فوڈ چینز میں ہم جو برگر مزے لے کر کھاتے ہیں، ان میں برائیلر مرغیوں کا گوشت ہوتاہے، جنہیں کیمیکلز کھلا کر چند دنوں میں بڑا کیا جاتاہے۔ اس میں آرسینک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو کینسر کا ایک بڑا سبب ہے۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ جانوروں کو ذبح کرنا، انہیں ایذا دینا غلط ہے۔جب کہ خدا کہتاہے کہ جو جانور میں نے حلال کیے ہیں، صرف انہیں تم کھا سکتے ہو۔اپنے سیکولر دوستوں سے میرا سوال یہ ہے کہ بکرے کو اگر ذبح نہ کیا جائے تو اس کا مستقبل کیا ہے؟ کیا بالاخر وہ بوڑھا اور بیمارہو کر ایک دن مر نہیں جائے گا؟ بڑھاپے اور موت سے بڑی miseryاور کیا ہو سکتی ہے۔ انسان سمیت ہر جاندار کو اس miseryسے ہر صورت میں گزرنا ہے۔ بعض لوگ تو بیس بیس سال بستر پہ پڑے موت کی آرزو کرتے رہتے ہیں۔

قربانی کے معاشی فوائد ایک الگ موضوع ہیں۔ صاحبِ استطاعت لوگوں کی جیب سے جمع شدہ روپیہ نکل کر جانور پالنے والے غریبوں تک جانا۔ اس سے زیادہ سرمائے کی گردش اور کسی چیز میں ہو ہی نہیں سکتی۔ قربانی کے دن ذبح ہونے والے جانوروں کا گوشت غریبوں تک پہنچ جاتاہے۔ انہیں قیمتی پروٹین ملتی ہے۔

جب انسان اس چیز پر تلا ہو کہ اس نے کسی پر طنز کرنا ہے تو اسے روکا نہیں جا سکتا۔ خواہ اس کا موقف کتنا ہی بچگانہ ہو لیکن حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ کچھ لوگوں کی زندگیوں میں ایسے حادثات اور محرومیاں پوشیدہ ہیں، جنہوں نے انہیں ساری زندگی کے لیے مذہب بیزار بنا دیا ہے۔ کچھ دوسرے ہیں، جو یہ چاہتے ہیں کہ گلیوں میں جب وہ ننگے ہو کر شراب پئیں اور اختلاط کریں تو انہیں روکنے والا کوئی نہ ہو۔لیکن افسوس، کہ اس موقع پر مولوی عبد الجبار اپنا گنڈاسا گھماتا ہوا نمودار ہو جاتاہے اور پھر ان کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: