امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے —— سعدیہ کیانی

0
بھارت کا خطہ کے امن کے لئے پاکستان کی مثبت کوشش کا بار بار منفی جواب آیا ۔جس ملک میں غربت اور ناانصافی کی یہ انتہا ہو کہ غریب نچلی ذات کا بھارتی اپنی بیوی دوسرے بھارتی کو کرائے پہ دے دیتا ہے کہ ماہانہ خرچ آئے گا تو بچے روٹی کھائیں گے۔ وہاں مودی حکومت کو جنگ میں جانے کا جنون سوار ہوا۔ نالائق کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں کہ امن و امان اس خطے کی اشد ضرورت ہے ۔ ورنہ بھوک ان کے عوام کو خونخوار بنا دے گی وہ انہیں کی بوٹیاں نوچ ڈالیں گے اور کسی حد تک اس کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔
پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں عوام کی حالت بہت خستہ ہے۔ کہنے میں حرج نہیں کہ یہاں کبھی لیڈروں نے عوام کا نہی سوچا اور اب آئیندہ آنے والی نسلیں اور موجودہ نسلوں کو اس کا احساس بہت شدت سے ہونے لگا ہے۔ یہ نئی نسل آپ اور ہم سے کئی گنا زیادہ سمجھدار ہے۔نئی نسل جانتی ہے کہ دنیا میں جینے کیلئے ہتھیار نہی روٹی چاہیے جو اب ہمیں ملنا مشکل ہورہی ہے۔
ہماری نئی نسل نہ جنگ چاہتی ہے اور نہ ہونے دے گی۔ البتہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہم لڑنا نہیں جانتے تو یہ بھی غلط خیال ہے۔ جنگ ہماری خواہش نہیں لیکن جس روز للکارا گیا اس روز یہی امن کے داعی جوان سب سے پہلے سرحدوں پہ کھڑے ہونگے ۔
سو ٹھیک کہا تھا فوج نے “امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے”۔
پاکستان میں نئی حکومت کی طرف سے امن مذاکرات کی دعوت انتہا پسند ہندو ذہنیت کی بھینٹ چڑھ گئی۔ جس کا نقصان دونوں کو ہوگا اور اس نقصان کا زیادہ حصہ بھارت خود لے جائے گا۔
زرا دیکھئے مودی کے گجرات میں بچیاں آج بھی پیدا ہوتے ہی دفن کردی جاتی ہیں کہ ان کے بیاہ کا خرچ کون اٹھائے گا۔مودی کے گجرات میں آج بھی عورتوں کو سیکس ٹول کے طور پر استعمال کرکے کمائی کی جاتی ہے ۔
سروے رپورٹ بھارت کو عورت کیلئے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیتی ہے۔ اور اب تو سیاحت کے لئے اسے خطرناک قرار دے کر ممالک نے اپنے سیاح واپس بلوا لئے ۔حال ہی میں ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہرلال کے بیہودہ بیان اور ادنی سوچ کو اس بیان سے جانچا جاسکتا ہے کہ اب کشمیر کی گوری لڑکیوں کو شادی کے لیے لایا جا سکتا ہے۔ بی جے پی  کے نوجوان مقبوضہ کشمیر میں زمین بھی لیں گے اور لڑکیاں بھی ملیں گی۔ کیسی شرمناک لیڈر شپ ہے کہ اسے ماں بیٹی کی عزت کا کوئی تصور ہی نہیں۔
آج کویتا کرشنن نے جو بھارتی ایکٹویٹسٹ ہیں، الجزیرہ ٹی وی کے سامنے اپنی رپورٹ میں جو انکشاف کیے وہ دل دہلا دینے والے تھے۔ ان کے مطابق کشمیر کی ماوں بیٹیوں کو اٹھایا جارہا ہے ان کے بچوں اور جوانوں کو کسی نہ کسی بہانے سے گھر سے اٹھا کر غائب کیا جارہا ہے۔ وہاں ٹی وی ریڈیو فون لینڈ لائن فون انٹرنیٹ سبھی کچھ بند ہے۔ کرفیو کے سبب لوگ گھروں میں محصور ہوگئے اور ان کے پاس اب کھانے پینے کی اشیاء بھی نہیں میسر۔ دوسری طرف مودی نے اپنی تقریر میں مزید سختی اور کشمیر کو بھارتی آئین کے اندر لانے کی بات کی۔ ایک تشدد پسند انسانیت کے قاتل سے اور کیا امید کی جاسکتی تھی۔
ہماری طرف سلامتی کونسل کا اجلاس بلوایا گیا اور پچاس سال بعد مسئلہ کشمیر پر یہ اجلاس آئیندہ جمعہ کو متوقع ہے۔ روس نے اس مسئلہ پر ہماری حمایت کا عندیہ دیا جو بہت خوش آئند ہے البتہ اسلامی دنیا نے اپنے مفادات پر سمجھوتہ نہ کیا اور اس معاملے میں ہماری مدد سے کنارہ کرلیا۔ چلیے ہمیں بھی جواز مل گیا کہ آئندہ اپنے معاملات خود ہی دیکھنا ہم بھی اپنے مفادات دیکھیں گے۔
بہت وقت سے ہم نے بارہا شور مچایا کہ ہماری خارجہ پالیسی کو نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے بلکہ ساری خارجہ پالسی نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ اب یہ خوشخبری ہے کہ حکومت فوج کے ساتھ اس معاملے پر سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے اور موجودہ صورتحال اور ذمینی حقائق کو سامنے رکھ کر ایک بھرپور سٹریٹجی ترتیب دی جارہی ہے جو خارجہ پالیسی کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان سفارتی معاملات میں ناتجربہ کار ہیں لیکن وہ تیزی سے یہ سب معاملات سمجھنے اور سنبھالنے کی کوشش بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ پہلی بار کشمیری عوام کو پاکستان کے حکمرانوں سے کوئی امید بنتی نظر آرہی ہے اور اس خطے کے امن کی کوششوں کے لئے ایک جاندار تحریک نظر آتی ہے۔ گو کہ ہم جنگ کے حق نہیں اور میرا خیال ابھی تک یہی ہے کہ ایک جھڑپ تو ہوسکتی ہے کشمیر کے مسئلے پر لیکن باقاعدہ بڑے پیمانے پر جنگ کے آثار ابھی نہیں نظر آتے۔ ہمیں گزشتہ چند ماہ سے ٹیکس وصولی اور مہنگائی کے جھٹکوں سے بحرحال اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ ہم کسی معرکے کی خاطر کچھ بچانا چاہتے ہیں۔ تو مطلب ہماری فوج کسی حد تک ایک محدود جنگ یا جھڑپ کے لئے تیار ہے۔ اگر اس میں طوالت آئی تو ہمارے پاس بارگیننگ کے لئے سی پیک سمیت بہت کچھ ابھی موجود ہے۔ یہ قوم عادی ہے مشکلات کی اسلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم پہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو ہم لڑنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ البتہ ہمارے یہاں غزوہ ہند کے انتظار میں بھی بہت دیر سے لوگ تیار بیٹھے ہیں حالانکہ میرے حساب سے اس آخری معرکہ میں ابھی کم از کم دو دہائیوں کا وقت چاہیے ۔ ابھی وہ وقت نہیں آیا اسلئے ایسے جنگجوؤں سے معذرت۔
میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ ہمیں فی الحال اس جھڑپ کو ٹالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کشمیر کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے اگر ہماری سفارت کاری موثر ہونے لگے۔ دیکھتے ہیں کہ کل اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہمارے سفیر کیا پیش کرتے ہیں۔ امید ہے کہ ہمارا موقف تسلیم کیا جائے گا کہ کشمیر کا اقوام متحدہ کے وعدوں کے مطابق آذاد کیا جائے اور ریاست اپنی مرضی سے الحاق کرے اور ہماری امن کی خواہش کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20