خودداری نہ بیچ ——– سعدیہ کیانی

0

“باجی میرے اندر سے پیپ اور خون ایسے بہہ رہا تھا جیسے کسی نے پانی والا نلکا کھول دیا ہو”۔ وہ ہاتھ کے اشارہ سے اپنی حالت بتاتے ہوئے بولی : میرا 7 روز کا بچہ کمرے میں پڑا چلا چلا کر رو رہا تھا کیونکہ مجھے یہاں دروازے میں بیٹھے اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ میری ہمت اب واپس کمرے تک جانے کی بھی نہیں رہی۔ اس پر میرے ٹانکوں میں پڑی پس اس طرح بہہ رہی تھی کہ یہاں سے اٹھنا ممکن نہ رہا۔ دروازے سے باہر ایک عورت نظر آئی۔ بڑی مشکل سے اسے آواز دی۔ وہ آئی تو اسے کہا کہ مجھے دروازے سے ذرا پرے کر کے بٹھا دو۔ وہ گھن کھاتی ہوئی مجھے گھسیٹ کر ایک طرف ڈال گئی۔ میرے بھوکے نومولود کی آوازیں میرے دماغ پہ ہتھوڑے برسانے لگیں۔ مجھے یقین ہو چلا کہ وہ کچھ دیر میں وہاں کمرے میں پڑا مر جائے گا اور میں یہاں پڑی پڑی مر جاوں گی۔

وہ ایک لمحے کو رکی اور پھر روانی سے بولنے لگی: میں نے اللہ سے دعا مانگی کہ اتنی ہمت عطا کردے جو خود کو گھسیٹ کر کسی طرح بچے تک لے جاوں۔ پھر میں نے زمین پر لیٹے لیٹے خود کو گھسیٹا شروع کیا۔ کمرے کا فرش دو سیڑھیاں اوپر تھا اور میرے بڑے آپریشن کے ٹانکے مجھے چبھ رہے تھے۔ جیسے ہی میں کمرے تک پہنچی میں نے پہلے وہاں پڑی قینچی سے اپنے وہ ٹانکے کاٹ دئیے جو میرے نچلے دھڑ کو اوپر والے دھڑ کے ساتھ سئیے ہوئے تھے۔ میرے زخم کھل گئے اب پیپ اوپر والے زخموں سے بھی ابلنے لگی۔

پتا نہیں باجی کیسے میں نے وہ سب کچھ کیا۔
میرے بچے سکول گئے ہوئے تھے اور دو گھنٹے بعد انہوں نے واپس آکر کھانا مانگنا تھا۔ میں نے ان کے آنے سے پہلے صحن میں پانی بہایا تاکہ وہ گند صاف ہو جائے جو میرے اندر سے نکلا تھا۔
پھر پڑوس سے ایک بوڑھی عورت میرا پتا کرنے آئی تو میری حالت دیکھ کر اس کی اپنی حالت خراب ہوگئی۔ باجی وہ مجھے کہنے لگی کہ تونے اپنے ٹانکے کاٹ دئیے اب تو نے نہیں بچنا۔ تیری تو حالت بہت خراب ہے۔ یہ کیا ظلم کیا ؟
میں نے اسے بتایا کی ان ٹانکوں سے تکلیف اور کھچاواتنا تھا کہ میں مجبور ہوگئی۔

پھرمیرے بچے سکول سے بھوکے لوٹے تو اس پڑوسن کو کہا کہ کسی طرح مجھے اس چولہے کے پاس بٹھا دو۔ باجی اس روز بچوں کو کچی پکی روٹی بنا کر دی اور پھر ہسپتال جانے کے لئے اپنے یتیم بچوں کا سہارا لیا”۔
باہر بارش بہت زور کی برس رہی تھی۔ وہ اس کے تھمنے کا انتظار کررہی تھی اور اپنے دکھوں کی داستان مجھے سنا رہی تھی۔ میں اس کی باتیں توجہ سے سنتی رہی کہ پتا نہیں اس غریب کی بات کوئی سنتا بھی ہوگا کہ نہیں۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ایک عورت کی عقل میں تھوڑا پاگل پن تھا، اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کام ہے (یعنی کچھ کہنا ہے جو لوگوں کے سامنے نہیں کہہ سکتی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ام فلاں! (یعنی اس کانام لیا) تو جہاں چاہے گی میں تیرا کام کر دوں گا۔ ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں اس سے تنہائی( میں بات) کی، یہاں تک کہ وہ اپنی بات سے فارغ ہو گئی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز کرم دیکھئے کیا خوب پیغام دیا کہ اس بچاری کی بات تو کوئی بھی نہیں سنتا ہوگا پاگل سمجھ کر تو کیا میں بھی نہ سنوں ؟ مجھے تو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔
بس ایسی ہی سنتوں کی پیروی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مخلوق کے دکھتے دل پہ مرہم والا ہاتھ بن جائیں۔

مجھے اس مظلوم کی داستان سن کر دکھ تو ہوا لیکن حیرت بھی ہوئی کہ وہ اب صحیح سلامت اتنی بیمار کے بعد گھروں کے کام کرکے اپنے بچوں کو پال رہی تھی اور اس کی خود داری بھی سلامت تھی۔ ہم جیسے تو بس نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ نہ بھوک مٹی اور نہ خوداری سلامت رہی۔ لالہ کہتا ہے تمہیں تو کبھی ان لوگوں سے فائدہ بھی نہ اٹھانا آیا جو خود اپنے فائدے کے سبب تمہارے نزدیک آئے۔ تمہارا حق تھا کہ جس طرح وہ مطلب رکھتے ہیں ویسے ہی تم بھی اپنا مطلب سامنے رکھو۔ لیکن تم تو ایک دم ناکارہ ہو اس لیں دین میں۔ کچھ نہیں ہوسکتا تمہارا۔
سچ تو کہا لالہ نے لیکن مجھے بہت کچھ چاہیے بھی نہیں۔ بس وہ عزت دینے والا ہے جو اس نے دے رکھی ہے وہ کمال ہے اور جو مزید دے گا وہ احسان ہے۔

وہ اپنی خوداری کی کہانی سنا رہی تھی کہ شوہر کے انتقال کے بعد میرا بچہ پیدا ہوا تو میرے حالات ایسے بھی نہ تھے کہ بچے کے بدن پہ کوئی کپڑا باندھ دیتی۔ جس باجی کے گھر میں نے کام شروع کیا تھا وہ ہسپتال آئی اور میری کچھ مدد کرگئی۔ بس مجھے اس احسان کا پاس تھا کہ جیسے ہی گھر آئی ہفتے بعد ہی باجی کے گھر کام کے لئے چل پڑی۔ تب میرے ٹانکے خراب ہوچکے تھے۔ باجی نے ایک بار پھر میری امداد کی اور کچھ روز آرام کرنے کو کہا۔

اب اس کی آنکھوں میں چمک تھی اسے اپنی محسن کی یاد آرہی تھی جس نے اسے کام والی نہیں بلکہ انسان سمجھا اس وقت جب اس کے یتیم بچے بھوکے تھے اور اس کا جیٹھ19 لاکھ کی نئی گاڑی اپنے گیرج میں کھڑی کرکے واپس دبئی چلا گیا۔ اس فرعون نے اپنے یتیم بھتیجے کے سر پہ ہاتھ تک نہ پھیرا۔ وہ مجھے بتارہی تھی کہ اسے کتنا پچھتاوا تھا جب وہ اپنی نند کے کہنے میں آکر اپنے امیر جیٹھ کے گھر چند ہفتوں کا بچہ دوسرے بچوں سمیت لے کر گئی۔ اس فرعون اور اس کی مغرور بیوی نے اسے کھانا تو دور کی بات پانی بھی نہ پوچھا اور یہ کہہ کر رخصت کردیا کہ تم لوگ بہن کے گھر چلو مجھے کام جانا ہے واپسی پر ادھر ہی آونگا۔
وہ کہتی ہے کہ باجی اس نے تو بہانے سے ہمیں گھر سے نکالنا تھا کیونکہ اس کے گیرج میں کھڑی نئی گاڑی دیکھنے اس کے دوست احباب آرہے تھے اور اس کی بیوی غریب رشتےداروں سے نفرت کرتی تھی۔ لیکن یتیم بھتیجا تو پہلی بار اس کے گھر گیا تھا اس کو اٹھا کر ایک بار پیار ہی کرتا”-
مجھے ایک بار پھر انسان کے اس بد نما چہرے سے گھن آنے لگی جو انسانیت کی بجائے مال و دولت کی چاہت میں غرق ہے۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ یہ کیا کھاتے ہیں ؟ ہمارے جیسے اگر ہوتے تو کچھ نہ کچھ تو ہم جیسی بات ہوتی نا ان میں۔
یہی سوچ رہی تھی کہ اس نے پھر بولنا شروع کردیا اب وہ اپنے پاوں کی ہڈی ٹوٹنے کا قصہ سنا رہی تھی۔ میں نے اسے روکا کہ ذرا سنوں باہر بیل بج رہی ہے۔
اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ جی دودھ والا آیا ہے۔ میں دودھ لے آوں۔
اچھا سنوں آج میرے لئے دودھ مت لینا۔ پڑا ہے ابھی کل کا دودھ۔ بچے نہیں ہیں تو زیادہ استعمال نہیں۔ تم جاو اپنے حصے کا دودھ لے آو۔

چند روز پہلے اسے دودھ لگوا دیا تھا تاکہ جو صحت وہ اپنی کوخراب کر چکی تھی اس میں کچھ بہتری کے لئے اسے دودھ پینے کو مل جائے۔ اللہ بھلا کرے میرے گھر جو گوالا آتا ہے وہ بھی بہت اچھی طبیعت کا مالک ہے۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ یہ غریب بیوہ ہے کچھ تم فالتو دودھ دے دیا کرو اسے تو کچھ میں اس کی مالی معاونت کرونگی۔ وہ ہمیشہ میرا خیال کرتا ہے۔ جب بہت دن تک نظر نہ ہوں تو فون کرکے میری خیریت پوچھتا ہے کہ باجی زندہ ہیں نا ابھی۔ میں کہتی ہوں ابھی کام پورے نہیں ہوئے اسلئے بے فکر رہو۔ اس کی بھی ایک کہانی ہے کہ پڑھ لکھ کر خود کیوں دودھ دھوتا ہے جبکہ نوکر بھی رکھ سکتا ہے اور خود کیوں آتا ہے دودھ دینے؟ پھر کبھی اس کی کہانی لکھوں گی۔ ابھی اپنی ملازمہ کا قصہ پورا کرنا چاہتی ہوں جو اب دودھ ابال چکی تھی اور میری کافی بنا کر مجھے پکڑا رہی تھی۔
ہاں بتاو اب کیسے ٹوٹا تھا تمہارا پاوں؟
وہ پھر اپنا قصہ سنانے بیٹھ گئی۔ باجی میں ایک پٹھان خاندان کے کپڑے دھوتی تھی وہ روز روز ڈھیر لگا دیا کرتے تھے اور بہت گندے کرتے تھے کپڑے کہ میں تھک جاتی تھی میل نکالتے نکالتے۔
میں نے ٹوکا۔ کتنے لوگوں کے کپڑے دھوتی تھی ؟
وہ ہنس کر بولی۔ باجی یوں تو وہ تین خاندان ایک جگہ رہتے تھے اور سب کے کپڑے ہوتے تھے لیکن تنخواہ صرف ایک گھر کے حساب سے دیتے تھے۔
اس کی بات سن کر حیران ہوئی کچھ دیر اسے گھورتی رہی اور پھر اسے ڈانٹا۔ تو تم کیوں پاگل بنی رہی۔ کیوں نہیں چھوڑا کام ان کا ؟
کہنے لگی کہ ان دنوں میرے پاس اور کام نہیں تھا اور میرے کچھ معاملات میں انہوں نے رہنمائی کی تھی۔ اسکی بات سن کر میں سمجھ گئی کہ یہ بھی مروت کے باعث نقصان اٹھاتی رہی ہے۔

باجی انہیں کے گھر چھت پہ پانی چیک کرنے گئی تھی اور سیڑھی سے گری تھی۔ اس نے ایک طویل قصہ سنایا جس کا لب لباب یہ تھا کہ جن کے گھر کام کرتے ہوئے گری تھی انہوں نے اس کی کوئی مالی معاونت نہ کی بس سرکاری استعمال سے دوا دارو کروا کے چھوڑ دیا۔ وہ پلاسٹر والے پیر کے ساتھ اگلے روز پھر ان کے گھر کام کررہی تھی کہ اسے بچوں کے لئے راشن لینا تھا اور اگر وہ چھٹی کرتی تو وہ لوگ اس کی تنخواہ رکھ لیتے۔
باجی آپ کو لطیفہ سناوں۔ وہ ہنستے ہوئے بولی۔ جب میں پلاسٹر والے پیر کے ساتھ گود میں دودھ پیتا بچہ لے کر سڑک پہ کھڑی گاڑی کا انتظار کرتی تھی کہ گھر جاوں تو کتنے لوگ مجھے بھیک دینے لگتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک بھائی نے مجھے سو روپیہ دیا تو میں نے کہا نہیں بھائی میں تو کام پر جارہی ہوں میں بھیک نہیں لیتی۔ وہ ہنس رہی تھی جبکہ مجھے لگا جیسے باہر برستی بارش آسمان پہ روتے فرشتوں کا نالہ ہے جو کہتے تھے یہ خاکی بڑا ظالم ہے مالک اسے تخلیق نہ فرما۔

وہ اٹھی اور اپنے لئے کھانا لے آئی۔ پہلے پہل جب وہ میرے گھر آئی تو اس کا رنگ جلا ہوا تھا نہ کچھ کھاتی تھی نہ زیادہ بولتی تھی۔ پھر میں نے اسے زبردستی کھانے کے لئے بٹھایا کرنا اور اس سے ادھر ادھر کی غیر ضروری گفتگو کرنی تاکہ اس غم غلط کرسکوں جو اس کی جوان بچی کی موت نے اسے دیا تھا۔ وہ کھڑکی میں سے باہر دیکھتی ہوئی بولی۔ باجی یہ بارش رک جائے تو میں گھر کو جاوں میرے بچے بھوکے ہوں گے۔
میں نے کہا۔ تم خود تو کھانا کھا لو پہلے۔ نہ رکی بارش تو ٹیکسی منگوا دونگی۔ چلی جانا۔
جیسے ہی اس نے کھانے کا آخری نوالہ لیا۔ بارش ایک دم سے رک گئی۔ مجھے دیکھ کر بولی۔ مجھے پتا تھا۔ اللہ میری سن لے گا جیسے ہی میں کھانا ختم کرونگی بارش رک جائے گی۔ وہ بڑے مان سے کہہ رہی تھی اور میں اپنی ناشکری طبیعت کا سوچ کر دل ہی دل میں شرمندہ ہو رہی تھی۔

وہ اپنے بچوں کے کھانے پینے کا کچھ سامان اور اپنے حصے کا دودھ لے کرچلی گئی تو میں اس کی کہانی لکھنے بیٹھ گئی۔ سوچا شاید کوئی پڑھ کر اپنے رویے کو بدل سکے اور انسانیت کی قدر کرنے لگے۔ شاید کوئی اللہ سے گلے شکوے کرنے سے پہلے اس کی ان تکلیفوں کے باجود خدا پر ایمان کا سوچ کر شرمندہ ہو۔ شاید کوئی اپنی آسودہ زندگی میں داخل مشکلات پہ صبر کرے۔ سوچا شاید کوئی اس کی کہانی پڑھ کر سوچے کہ خوداری ایسی قیمتی شے ہے جو اس جیسی مصیبت کی ماری نے بھی غربت کے باوجود اپنی خود داری نہ بیچی۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: