کیا پاکستان کے حق میں لکھنا جرم ہے؟ — ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

0

اپنے وطن، اپنی مٹی، اپنی زمین سے محبت کرنا انسان کی سرشت میں ہے کہ دھرتی، ماں کا روپ ہوتی ہے اور ماں کوجھی، کوہڑی، گوری، کالی یا بوڑھی و جوان نہیں ہوتی، ماں بس ماں ہوتی ہے۔ باب العلم نے فرمایا تھا (مفہوم): ’’سب سے بڑی خیانت اپنی زمین سے بے وفائی ہے‘‘۔ دنیا کا بیشتر بڑا ادب اپنے وطن کی محبت میں لکھا گیا ہے۔ شیکسپیئر، ٹیگور، اقبال، نیرودا، ناظم حکمت، رسول حمزہ، گورکی، دنیا کے سب بڑے لکھنے والوں کا ادب کسی نہ کسی طرح، کہیں نہ کہیں اپنی مٹی سے جُڑا ہوا ہے۔

جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ جنگ کی تائید کی جا سکتی ہے نہ اس کے حق میں جواز پیش کیا جا سکتا ہے کہ جنگ کی تمام نشانیاں بُری ہوتی ہیں لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا کی بیشتر جنگیں اپنے وطن کے دفاع میں یا اس کے مفاد میں لڑی گئی ہیں۔ آج بھی دنیا میں مہذب اور با شعور کہلانے والی ترقی یافتہ قوموںکے پاس اپنی بر بریت کا واحد جواز اپنے وطن کا دفاع اور مفاد ہوتا ہے۔ مجھے باقی دنیا کا تو معلوم نہیں لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اپنے منہ کی خارش ’’ماں‘‘ کی طرف اُنگلی اُٹھا کر دور کی جاتی ہے۔ تاریخ کمیوں، کوتاہیوں، خامیوں اور خوبیوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ کون سی قوم یا ملک ایسا ہے جس کی تاریخ کے اوراق کے اوراق غلطیوں سے مبرا ہوں؟ لیکن یہ وبا صرف پاکستان میں پھیلی ہے کہ نظریہء پاکستان کی تضحیک کر کے دشمن سے داد وصول کی جائے (مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات کے تناظر میں محبوبہ مفتی کا حالیہ بیان ساری ’’روشن خیالیوں‘‘ پر خاک ڈال گیا ہے)۔ گاندھی کو قائد اعظم سے بڑا لیڈر کہنا، قائد اعظم کے نظریات و خیالات پر سوال اٹھانا اور ان کی ذاتی پر طنز کرنا تو گویا ’’روشن خیالی‘‘ کی سند ٹھہرا۔ لاریب وہ ایک عام انسان تھے، فرشتہ یا(نعوذ باللہ) پیغمبر نہیں تھے لیکن ان جیسا کوئی دوسرا با کردار اور با اصول سیاست دان ہندوستان کی زمین آج تک جنم دے سکی ہے تو نام لیں؟

ریاستی جبر اور آزادی ء اظہار کا واویلا کرنے والے یہ نہیں بتاتے کہ وہ یہ سب کچھ کہاں بیٹھ کر لکھ اور بول رہے ہیں؟ اپنے ملک کی ریاستی اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید دنیا بھر کے دانشور کرتے ہیں۔ اپنے ملک پر کیچڑ کون اچھالتا ہے؟ آئے روز سوشل میڈیا پر کالم گردش کرتے ہیں، جن کے اوپر لکھا ہوتا ہے: ’’نا قابل اشاعت قرار دیا گیا‘‘۔ ہر اخبار اور میڈیا گروپ کی اپنی پالیسی ہوتی ہے، ممکن ہے آپ کی تحریر کسی اور وجہ سے اس قابل ہی نہ ہو کہ اخبار مین شایع کی جا سکے۔ اور اگر کسی طاقت ور نے آپ کے کالم کو شایع ہونے سے روکا ہے تو آپ کون سا کسی دوسرے ملک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پہ بروئے کار ہیں۔ جو طاقت ور اخبار میں شایع ہونے سے روک سکتا ہے، وہ انٹر نیٹ پر پھیلانے سے بھی روک سکتا ہے۔

اگر کوئی سر پھرا اپنے ملک کے حق میں لکھ بیٹھے تو اسے ’’مطالعہ پاکستان کا طالب علم‘‘ کہہ کر ٹھٹھہ اڑایا جاتا ہے۔ مطالعہ پاکستان کا طعنہ دینے والے یہ نہیں بتاتے کہ دنیا کے ہر ملک میں سکول کے طالب علموں کو ریاستی تاریخ ہی پڑھائی جاتی ہے۔ کیا برطانیہ کے سکولوں میں ’’مطالعہ برطانیہ‘‘ پڑھاتے وقت برطانیہ کی اصل نو آبادیاتی تاریخ اور سانحہء جلیانوالہ باغ مکمل سچ کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے؟ کیا امریکہ کے سکولوں میں ’’مطالعہ امریکہ‘‘ پڑھاتے وقت ویتنام، عراق اور اٖفغانستان جنگ کی تاریخ پورے سچ کے ساتھ پڑھائی جاتی ہے؟

افسوس تو یہ ہے کہ یہاں ’’ماں‘‘ کی عزت پر انگلی اتھانے والے تو معزز و معتبر ٹھہرائے جاتے ہیں لیکن کوئی غریب اپنے وطن، اپنی مٹی، اپنی زمین اور اس پر قربان ہو جانے والوں کے حق میں لکھ بیٹھے تو نہ صرف معتوب ہوتا ہے بلکہ کسی بھی بہانہ سے سر عام اس کی عزت کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔

میری ماں سمان استاد محترمہ فرخندہ لودھی نے ہجرت کا دُکھ جھیلا تھا، انھوں نے ہمیشہ بائیں بازو کے لیے لکھا اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید بھی کی لیکن جب بات پاکستان کی آئی تو انھوں نے کہا: ’’پاکستان ہمارا خواب ہے، اب جو بھی ہے، جیسا بھی ہے، ہمارا اپنا ہے۔ ‘‘

اگر پاکستان کی محبت میں لکھنا اور اس کے خلاف شر انگیزیاں کرنے والوں کے چہرے سے نقاب اُٹھانا جرم ہے تو سر آنکھوں پر، ہم یہ جرم سو بار کریں گے۔

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: