عمران، پھٹیچر اور لاہور میں فائنل: ثاقب ملک

0

عمران خان نے بحیثیت میزبان اور اہم شخصیت کے پاکستان میں آکر کھیلنے والے مہمان کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہہ کر ایک احمقانہ بیان دیا اور پھر اس پر اصرار بھی کیا. نجی گفتگو کے بعد میڈیا کے سامنے بھی وہ اپنی بات کا دفاع کرتے رہے جو کہ عمرانی ضد کے علاوہ کچھ نہیں تھا. لیکن بطور کرکٹ شائق اور کھلاڑی، مجھے عمران کے الفاظ چھوڑ کر اصولی طور پر انکی بات سے مکمل اتفاق ہے کہ اکثر کھلاڑی غیر اہم اور تیسرے چوتھے درجے ہی کے تھے انکا انا نہ آنا پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لئے قطعاً کوئی فائدہ نہیں دے سکتا.

ریاڈ ایمرٹ، چگمبرا، انعام الحق، جارڈن، ملان، ون ویک وغیرہ تو بالکل ہی تیسرے چوتھے درجے کے کھلاڑی ہیں. سیموئیلز اور سیمی کو دوسرے درجے کے کھلاڑیوں میں شامل کیا جا سکتا ہے. لیکن اول درجے اور سپر اسٹار اسٹیٹس کے حامل پیٹرسن، گیل، مورگن اور میک کلم کی آمد ایک مثبت پیغام ضرور دیتی. یہ بات یاد رکھیں کہ بطور میزبان ان کم تر کھلاڑیوں کی کرکٹنگ صلاحیت کو جج کرنے کے لیے انھیں پھٹیچر کہنا لازمی نہیں ہے. لیکن اپنی سیاسی پتنگ اونچی اڑانے کے لئے پی ایس ایل فائنل کو معجزہ قرار دینا اور کرکٹ کی واپسی کا زینہ قرار دینا بھی مبالغہ اور جھوٹ ہے. یہ عمران اور مسلم لیگ کی سیاسی جنگ تھی جس میں پی ایس ایل فائنل، غیر ملکی کھلاڑی اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی بطور ہتھیار استعمال ہوئے. یہ کہنا درست ہوگا کہ مسلم لیگ ن نے یہ جنگ جیت لی اور عمران خان اپنی زبان کے لگائے ہوئے زخم چاٹ رہے ہیں مگر عمران مکمل غلط نہیں تھا اسکے الفاظ پھر ان پر اصرار غلط تھا.

جہاں تک ویوین رچرڈز کی بات ہے تو عمران خان کو انکا نام لیکر مطعون کرنا سیاسی اور میڈیائی پراپیگنڈا ہے کیونکہ عمران خان کا اشارہ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی جانب تھا. ریٹائرڈ کھلاڑی اور وہ بھی جو 26 سال سے ریٹائر ہوچکا ہو اسکا کسی بھی ملک میں آنا جانا کوئی معنی نہیں رکھتا. مسلم لیگ ن نے مہارت سے پی ایس ایل فائنل کو اپنی سیاسی کامیابی کے لیے استعمال کیا اور جیو ٹی وی نے بڑھ چڑھ کر انکا ساتھ دیا. میڈیا میں انکے حامی پورے ملک کے مسائل چھوڑ کر عمران کے پیچھے لگے رہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کو ابھی بھی عقل نہیں آئی اور ہمارے عوام کو بھی اپنی مرضی کی لائن پر لگانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے.

اب پاکستان میں کرکٹ کیسے واپس آئے؟ ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت ہے. پہلے تو پوری دنیا کے اہم با اثر کھلاڑیوں کو اپنا سفیر مقرر کریں. انھیں ٹاسک دیں اور انھیں پاکستان میں کرکٹ کی واپسی پورا فریم ورک بنا کر دیں. آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں پروگرام کریں. اسپورٹس ٹی وی پر بحث کروائیں. پاکستان کے حالات میں بہتری اور کرکٹ کے جنون اور ممکنہ معاشی فائدے کے امکانات بتائیں. سرکاری سطح پر آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ نیوزی لینڈ کے صدور، وزیراعظم اور وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا جائے. گوری ٹیموں اور خاص کر آسٹریلیا انگلینڈ کو بلانے پر فوکس کیا جائے. پی ایس ایل کے پورے ٹورنامنٹ کی انعامی رقم اور کھلاڑیوں کی قیمت آئی پی ایل کے قریب قریب کی جائے. بڑے بڑے سرمایہ داروں کو پی ایس ایل میں سرمایہ کاری کے رضامند کیا جائے. پی ایس ایل کو پاکستان کا نمایندہ برینڈ اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو اسکا امیج بلڈر بنانا اہم ترین ہے.

لیکن یہ بیان بازی اور گمنام کھلاڑیوں کو بلا کر اپنے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کا فائنل قیدی بن کر کروا لینا مستقبل کے لئے زیادہ سود مند نہیں ہوگا. ایک دھماکہ ہوگا اور سب ختم لیکن اگر پی ایس ایل میں پیسے زیادہ ہوں سپر اسٹار کرکٹرز کو بلایا جائے اور مکمل سپر لیگ پاکستان میں کروائی جائے تو یہ ایک اہم پیشرفت ہوگی. حکمت عملی سے کام لیا جائے تو پاکستان میں وقتی طور پر حالات خراب ہونے کے باوجود بھی کرکٹ واپس آسکتی ہے. کیونکہ پیسہ زیادہ ہو مقابلے سخت ہوں معیار اچھا ہو تو سپر اسٹار کھلاڑی رسک لینے پر آمادہ ہوسکتے ہیں.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: