نہیں! عالی مرتبت! نہیں —- اظہار الحق

0

کون سا خربوزہ میٹھاہے؟ کون سا تربوز اندر سے پھیکا ہے؟
اوپر سے سب ایک جیسے ہیں۔ تربوز بیچنے والا ایک کو ٹوہتا ہے، پھر دوسرے کو! تیسرے پر ہاتھ مار کر آپ کو دے دیتاہے آپ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ شاید اسے یہی گُر بتایا گیا ہے کہ گاہک کی تسلی کے لئے ایک تربوز پر ہاتھ مارو، پھر دوسرے پر، تیسرا گاہک کو پیش کر دو۔ خوش ہو کر خرید لے گا!

انسان باہر سے ایک جیسے ہیں۔ وہی سر، سر کے اگلے حصے پر پیشانی، پیشانی کے نیچے ناک نقشہ، ہائے افسوس۔ یہی تو المیہ ہے۔ اسی کا تو رونا ہے۔ باہر سے سب ایک جیسے! اندر کے جہان میں کیا ہے؟ یہ اُس کے بولنے پر موقوف ہے۔ شاعر کو جیل میں بھیجا گیا تو دانش مند مصاحب نے سمجھایا کہ شاعر کو تنہائی مل جائے اور وقت پر کھانا‘ تو اس کی عید ہے۔ خوب شاعری کرے گا۔ اسے اذیت پہنچانی ہے تو صحبتِ ناجنس کی سزا دو! جس ذات شریف کو شاعر کا ہم اطاق بنایا گیا تو وہ اوپر سے بالکل نارمل تھا۔ یہ تو جب اس نے بتایا کہ وہ شاعر ہے تو شاعر کا دماغ ٹھکانے آیا۔ باقی قصہ قارئین نے سن ہی رکھا ہو گا!

ریڑھی بان کا موازنہ اس پروفیسر سے کیجیے جو کلاس روم میں دو گھنٹے بغیر کسی تھکان کے بولتا ہے۔ دانش کے موتی بکھیرتا ہے۔ سُننے والے مسحور ہو جاتے ہیں۔ کیا اُس کا چہرہ، اُس کا سر، اس کے نین نقش بتاتے ہیں کہ اس کے اندر علم کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ اُس جیسا انسان، بالکل اُسی جیسا، ریڑھی بان، گفتگو کرے گا تو چند پھلوں کی تھوڑی سی مقدار اور ان کی خریدو فروخت کے علاوہ کیا بات کرے گا؟ کہہ بھی کیا سکتا ہے؟

زرداری صاحب نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جو کچھ کہا، وہ اس کے علاوہ کہہ بھی کیا سکتے تھے؟ ان کے ذہن میں کتنی گہرائی ہے؟ کس قدر گیرائی ہے؟ ان کا کتنا مطالعہ ہے؟ تحریک پاکستان اور تاریخ پاکستان سے ان کی کس درجہ آشنائی ہے؟ ان کی ’’سیاسی‘‘ زندگی کی ساری تقریریں ساری گفتگوئیں یک جا کر کے تجزیہ کیجیے، کیا معلوم ہو گا؟ یہ کہ وہ جوڑ توڑ کے علاوہ کسی علم سے آشنا نہیں۔ کبھی نظام تعلیم پر کوئی کمنٹ؟ زرعی اصلاحات کس چڑیا کا نام ہے؟ ترقی کے لئے کون کون سے اقدامات لازم ہیں؟ ان کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں۔ ہاں، پاکستان کے سیاسی نظام کا جو پیش منظر ہے، جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ اس کے وہ ماہر ہیں۔ ابھی تو وہ سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی ایک اور قرار داد لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’’سندھ اور بنگلہ دیش نے پاکستان بنایا ہے آپ نے پاکستان نہیں بنایا بلکہ آپ مائگریشن کر کے آئے ہیں۔ آپ وہاں سے بھگائے گئے اور بھاگ کر یہاں آ کر آپ نے پناہ لی!‘‘

کتنی بڑی ٹریجڈی ہے کہ یہ الفاظ اس شخصیت کے ہیں جو ریاست کی سربراہ رہی۔ ’’بھگائے گئے‘‘ اور ’’بھاگ کر یہاں پناہ لی‘‘۔ یہ الفاظ، ان الفاظ کا چنائو، بہت کچھ بتاتا ہے کہ باہر سے دوسروں کی طرح نظر آنے والا وجود اپنے اندر کیا خیالات رکھتا ہے۔

اول تو یہ کوئی موقع ہی نہیں‘ اس موضوع کو چھیڑنے کا! دوسرے، تاریخ آپ کے اس بیان کو قبول ہی نہیں کر سکتی۔ پاکستان برصغیر کے تمام مسلمانوں کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ سلہٹ نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ سلہٹ آسام کا حصہ تھا۔ بنگال کا نہیں تھا نہ سندھ کا۔ خیبر پختون خواہ کے عوام نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالا۔ کیا یہ سندھ اور بنگلہ دیش کا حصہ ہے؟ یا تھا؟ کیا اب جناب آصف زرداری جیسے مورخ یہ فیصلہ کریں گے کہ پاکستان کس نے بنایا؟

ہجرت کرنا دنیا کا دردناک ترین عمل ہے۔ جو اس اذیت سے گزرا ہو اسی کو اس کے کرب کا احساس ہو سکتا ہے۔ ایک ایک اینٹ یاد آتی ہے۔ ایک ایک درخت دل میں پتے بکھیرتا ہے۔ دروازے کھڑکیاں‘ گلی محلے یاد آتے ہیں۔ دلوں میں ہوکر اٹھتی ہے! عشرت گاہوں میں پڑے، کتاب سے ناآشنا، ناخدائوں کو کیا معلوم کہ قافلے کس طرح آئے‘ کیسے لُوٹے گئے! بچے مائوں کے سامنے بھالوں میں پروئے گئے۔ جوان لڑکیاں، بے بس والدین کے سامنے بے آبرو کی گئیں! بیل گاڑیوں پر ضعیف مرد اور معصوم بچے سسکتے فاصلے طے کرتے رہے اور پاکستان داخل ہونے سے پہلے مار دیے گئے۔ ریل گاڑیوں پر حملے ہوئے۔ قتل عام تو کوئی لفظ ہی نہیں!

وہ لیاقت علی خان جس نے لمبی چوڑی جائیداد کے بدلے میں‘ ایک انچ زمین بھی نہ لی‘ مہاجر ہی تھا۔ وہ قائد اعظم جو بمبئی اور دہلی میں محلات کے مالک تھے اور جنہوں نے پاکستان آ کرکچھ بھی اپنے نام نہ کرایا‘ مہاجر ہی تھے۔

یہ کہنا آسان ہے کہ یہ لوگ ستر برس گزرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو مہاجر کہلواتے ہیں۔ ہاں، یہ ماننا مشکل ہے کہ ستر برس گزرنے کے بعد بھی آپ انہیں طعنہ دے رہے ہیں اور احسان جتا رہے ہیں کہ ’’ہم نے آپ کو پناہ دی‘‘! کراچی یونیورسٹی کا ریکارڈ چھان لیجیے مہاجروں نے طلبہ تنظیم اُس وقت بنائی جب سندھیوں، بلوچیوں، پنجابیوں، پٹھانوں اور دیگر شناخت رکھنے والوں کی پندرہ طلبہ تنظیمیں موجود تھیں! مہاجر کو مہاجر کا طعنہ دیا جاتا تو وہ الطاف حسین کے نرغے میں نہ آتا۔ آپ کے تعصب اور مہاجر دشمنی ہی نے تو الطاف حسین کا سکّہ چلایا۔ آپ نے کبھی یہ شکوہ نہ کیا کہ آج تک اچکزئی اور باچا خان کا خانوادہ پاکستانی نہ بنے۔ پٹھان ہی رہے! جن مولانا کے ساتھ آپ کا جوڑ توڑ کے حوالے سے ازلی ابدی گٹھ جوڑ ہے‘ ان کی زبان پر قائد اعظم کا نام ہی نہیں آ سکتا! اس کا غم آپ کو محسوس نہیں ہوتا!

آپ کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر آپ نے ایک پاکستانی ہونے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا جو ناقابل فراموش ہے۔ پیپلز پارٹی آج بھی چاروں صوبوں کی زنجیر کے طور پر قومی اتحاد کے لئے نیک شگون ہے۔ بلاول نے مولانا کا مذہبی کارڈ رد کر دیا۔ اس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے! مذہبی گروہ بندیوں سے پیپلز پارٹی ہمیشہ دور رہی، یہ اس کا مثبت پوائنٹ ہے۔ مگر جناب! مگر عالی جاہ! ایسی باتیں نہ کیجیے جو درست ہیں نہ شایان شان۔ خدا کے لئے مہاجروں کو مین سٹریم میں جذب ہونے دیجیے۔ قریب آ رہے ہیں تو لات نہ ماریے۔ اپنا زاویہ نظر تبدیل کیجیے۔ اگر یہ موضوع چھڑ گیا کہ ایم کیو ایم کیوں بنی؟ اس سے پہلے کیا ہو رہا تھا؟ کس کو کتنا احساس کمتری تھا۔ ؟ تو بات دور نکل جائے گی۔

حیرت ہے تاج حیدر، رضا ربانی، شرمیلا فاروقی اور دوسرے حضرات جو بقول زرداری صاحب ’’بھاگ کر آئے اور بھگائے گئے‘‘ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اللہ اللہ۔ خاندانی جماعتوں کے سائے میں سیاست کرنے والوں کی کیا کیا مجبوریاں ہیں۔ آج اگر پارٹیوں کے اندر جمہوریت ہوتی تو پارٹی کے سربراہ کا یہ نا وقت اور حد درجہ نامناسب بیان ان کی معزولی کا پیشہ خیمہ بنتا۔ برطانیہ کینیڈا یا دوسرے ملکوں میں جہاں پارٹیاں موروثی نہیں، کوئی ایسا بیان دے کر دیکھے۔ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک مہاجر کیمپ: کراچی کی داستان —- احمد اقبال
(Visited 1 times, 29 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: