فرخ سہیل گوئندی کی کتاب: لوگ درلوگ ۔۔۔ نامورشخصیات کے واقعات — نعیم الرحمٰن

0

فرخ سہیل گوئندی ایک ہمہ جہت شخصیت اور ترقی پسنددانشورہیں۔ انہوں نے انسانی اقدارکی بنیاد پرسماجی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے زندگی وقف کردی اوراپنے نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس راہ میں انہیں قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ سیاست سے لے کر ادب، فن وثقافت اورمختلف شعبوں کے بے شمارافراد سے ان کے ذاتی مراسم رہے۔ ترکی کے چارمرتبہ وزیراعظم رہنے والے بلند ایجوت سے لے کرعثمانی سلطان مراد کی نواسی کنیزے مراد تک بے شمارافراد سے ذاتی تعلقات رہے۔ حسنین ہیکل، پیلومودی، رمزے کلارک، اردال انونو، جمال نکرومہ، اردن کے شاہ حسین اور پرنس حسن بن طلال سے ملاقاتوں کاشرف حاصل ہوا جوبعد میں دوستیوں میں بدل گئیں۔

اپنے نظریات اورادب کے فروغ کے لیے فرخ سہیل گوئندی نے کتابوں کی اشاعت کا ادارہ قائم کیا۔ جس نے اردو اوردیگر زبانوں کی بہترین کتب اور ان کے تراجم شائع کیے۔ وہ بے شمارکتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ جن میں ترکی ہی ترکی، چلے آؤ بلغاریہ، بکھرتا سماج، بادشاہی سے جلاوطنی بہادر شاہ ظفر، ذوالفقارعلی بھٹوکا قتل کیسے ہوا۔ میرا لہو، حریت فکرکا مجاہد وارث میر، چوتھا مارشل لاء، پنجاب کا مسئلہ، عالمی بینکاروں کی دہشت گردی اور فوزیہ وہاب کے بارے میں مجاہد بریلوی کے ساتھ مسکراہٹ کا زندہ رہتی ہے شامل ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی مقامی اخبارمیں کالم بھی لکھتے ہیں۔ جن میں پاکستان، جنوبی ایشیا اور مڈل ایسٹ کے سیاسی، سماجی اورعلاقائی مسائل کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

فرخ سہیل گوئندی کی شخصیت کے کئی پہلوہیں۔ ترقی پسند دانشور، آزادی رائے کے علمبردار، سیاسی کارکن، مصنف، پبلشران کی زندگی کا ہر پہلو بھرپور ہے۔ ان کی کتاب ’’لوگ درلوگ‘‘ دنیا بھرکے نامورشخصیات کے حیران کن واقعات اورناقابل یقین حقائق پرمبنی ہے۔ ان میں سے ہرشخصیت اور ان سے متعلق واقعات انتہائی دلچسپ ہیں۔ دوسوصفحات کی کتاب ختم ہونے کاپتہ ہی نہیں چلتا۔ فرخ سہیل گوئندی نے کتاب کا پیش لفظ کو ’’اور ملتا چلا گیا‘‘ کا دلچسپ عنوان دیا ہے۔ لکھتے ہیں۔

’’لوگ در لوگ اُن واقعات اور تجربات پر مشتمل کتاب ہے، جنہیں میں نے اپنی سیاسی جدوجہد، قلمی میدان اورعملی زندگی کے دوران دیکھا، بیتا یا محسوس کیا۔ جب آپ کم عمری میں سیاسی ایکٹوسٹ بن جائیں، دنیاکے مختلف ممالک کی خاک اڑانے کے تجربات اوراس کے ساتھ ساتھ قلم کے میدان میں اپناحصہ ڈالناشروع کردیں تویقینا ایسے میں لاتعداد لوگوں سے آپ کاواسطہ پڑتا ہے۔ بحیثیت پولیٹیکل ایکٹوسٹ مجھے ایک عام شہری، مِل مزدور، ریڑھی بان، سیاسی رہنماسے لے کر ملک اوردنیاکے لاتعداد معروف لوگوں سے ملاقاتوں کے تجربات ہوئے۔ سڑکوں پرعوامی حقوق کی جدوجہدکرنے والوں سے لے کر وزرائے اعظم، صدوراور شاہی حکمرانوں تک۔ اس پولیٹیکل ایکٹوازم میں مَیں نے چوں کہ علم و فکرکے سفر کو بھی اپنایا، اس لیے ملک سے باہر عالمی شخصیات تک رسائی ممکن ہوگئی۔ عملی زندگی کے اس سفرکے دوران ان بیشتر لوگوں یا شخصیات نے مجھے اپنے حلقہء دوستی میں شامل کر لیا۔ اپنی زندگی کے انہی واقعات وتجربات کاکچھ حصہ میں نے ’لوگ درلوگ‘ میں رقم کر دیا ہے۔ چار دہائیوں سے زائد اہم اور دلچسپ شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں اور مکالموں کو لکھنے بیٹھوں تو ایک سے کہیں زائد کتابیں درکار ہیں۔ دوسو صفحات میں مَیں نے جن لوگوں کو شامل کیاہے، بحیثیت قلم کاراتنا ہی ممکن تھا۔ ‘‘

کتاب میں تیس سے زائد شخصیات سے ملاقاتوں کااحوال شامل ہے۔ جن میں سے ہرایک دلچسپ اورمعلومات افزاہے۔ گوئندی صاحب کا اسلوب بھی سادہ، دل نشین اورعام فہم ہے۔ جس سے کتاب کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ آئی اے رحمٰن کتاب کے تعارف میں بالکل درست لکھتے ہیں۔ ’’ لوگ درلوگ کئی داستانوں کامجموعہ ہے۔ ضلع سیالکوٹ کے گاؤں متراں والی کے دومتحرک خاندانوں کی داستان، سرگودھا کے بسنے اوراسے بسانے والوں کی داستان۔ ایک سکھ خاتون، دیپ کوراوراُن کے انگریزشوہرکی بیٹی مریناوہیلرکی اپنی جڑوں کی تلاش کرنے کی داستان۔ پاکستان میں 1970ء کی دہائی میں امیدوں کے سیلاب کی داستان، پاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین اوراس کومقبول بنانے والوں کی داستان، ہندوستان اورپاکستان کے درمیان صلح وآشتی کا پرچار کرنے والوں کی داستان اور فرخ سہیل گوئندی کی جادہ پیمائی کی داستان۔ اس خوبصورت کتاب میں گوئندی نے ذوالفقارعلی بھٹو کی کرشماتی شخصیت کا سحر بیان کیا ہے، بے نظیر بھٹوسے ملاقات کے تاثرات قلمبند کیے ہیں، اورسیاسی رہنماؤں کے خاکے بھی پیش کیے ہیں۔ قارئین کی ملاقات شیخ محمد رشید، محمد حنیف رامے، ملک معراج خالد، راؤعبدالرشید اور ممتاز کاہلوں کے علاوہ عاصمہ جہانگیر، محمود مرزا، مدیحہ گوہر، ڈاکٹر انورسجاد، منو بھائی، وارث میر، یونس ادیب اورکئی دوسرے اکابرین اورکارکنوں سے کروائی ہے۔ کئی ہندوستانی شخصیات کاتذکرہ ہے، جن میں خشونت سنگھ، کلدیپ نیئر، اندر کمار گجرال اور حاجی مستان مرزاشامل ہیں۔ سب سے نمایاں خاکہ فرخ سہیل گوئندی کاہی ہے۔ وہ ایساجہاں گردہے کہ معمولی سے رقم گرہ میں باندھ کر انسان دوستی کی طاقت سے دنیا کو زیر کرنے نکل پڑتا ہے۔ دوسرے ملکوں میں دوست بنانے کی صلاحیت کی اعلیٰ ترین مثال ترکی کے قدآور سیاستدان بلندایجوت سے تعلق خاص کی حکایت ہے۔ جنہوں نے ترکی میں متعدد بارگوئندی پذیرائی کی۔ وہ گوئندی کی دعوت پردس دن کے لیے پاکستان آئے اورسرکاری مہمان بننے کی بجائے گوئندی کے مہمان بننے پراصرارکیا۔ یہ کتاب پرشورعہدکی ایسی تصویرہے جسے پڑھ کر قارئین تولطف اندوز ہوں گے ہی، اس میں مورخین کے لیے بھی بہت ساقابلِ قدرمواد موجودہے۔ ان کی اس دلچسپ کتاب کوشروع کرنے کے بعدختم ہونے سے پہلے دُورکرناممکن نہیں ہوگا۔ ‘‘

فرخ سہیل گوئندی کا ذوالفقارعلی بھٹوسے پہلا تعارف مرفی ریڈیو پروالد صاحب کے انیس سوپیسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے بعد معاہدہ تاشقندکی خبروں سے ہوا۔ والد اور پھوپھا نوازان خبروں پرتبصرے کرتے۔ پھرایک دن انہیں دونوں کی زبانی گوئندی نے سناکہ پاکستان نے میدان میں جیتی جنگ معاہدہ تاشقند کے لیے مذاکرات کی میزپرہاردی۔ وزیرخارجہ ذوالفقارعلی بھٹواسی وقت سے فرخ سہیل گوئندی کے ہیروبن گئے۔ ایک دن والد صاحب فرخ اور بھائی اعجازکوسرگودھا کمپنی باغ میں ہونے والے سیاسی جلسے میں لے گئے۔ بھٹواسٹیج پر کھڑے کہہ رہے تھے۔ ’’میں ان جاگیرداروں کوبتادوں گاکہ یہ لڑکا (بھٹو) ان کا کیا حشرکرے گا۔ اس ملک کے مالک یہ جاگیردار اور سرمایہ دارنہیں بلکہ اس ملک کے حقیقی مالک ہاری، کسان، مزدور، نوجوان، طالب علم، محنت کش، خواتین، درمیانے طبقات ہیں۔ میں اس ملک سے ان اجارہ داروں کی اجارہ داری مٹادوں گا۔ ‘‘

فرخ سہیل گوئندی نے اس دن پہلی مرتبہ ذوالفقارعلی بھٹوکو دیکھا۔ انہی کی زبان سے سناکہ وہ سوشلسٹ ہیں۔ اب ان کے اندر بھٹو بولنے لگا۔ بس پھر وہ بھٹو کو دیکھتے چلے گئے اورآگے بڑھتے رہے۔ عمراورشعوری بلوغت کے سفرمیں۔ وہ جوں جوں بڑے ہوئے، ان کے اندرکا بھٹو بھی بڑھتاچلاگیا۔ انہوں نے بھٹوکے ساتھ جلسوں اورجلوسوں میں گھنٹے اوردن گزارے۔ ایک بارجلوس میں جیب کٹنے کے بعدتیس گھنٹے بھوکے بھی رہے۔ فروری انیس سو چوہتر کوبھٹوجس قدرخوش تھے، شایدکبھی اتنے خوش نہ ہوئے ہوں۔ اس روزبھٹو، لاہور میں پاکستان اسلامی دنیاکامیزبان بناتھا۔ فرخ سہیل نے لاہورکی سڑکوں پریاسرعرفات، شاہ فیصل، انورالسادات، الجزائرکے بومدین، شیخ مجیب الرحمٰن، مفتی اعظم امین الحسینی اورساری اسلامی دنیاکے لیڈروں کے ہمراہ بھٹوکودیکھا اوراسی اسلامی کانفرنس میں انہیں یہ کہتے دیکھا اورسنا۔ ’’ہم بیت المقدس میں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوں گے، چاہے اس کے لیے میری جان ہی چلی جائے۔ ‘‘

فرخ سہیل گوئندی نے اسی لاہورکی سڑکوں پربھٹوکوپولیس کی گاڑی میں قیدی کی حیثیت سے جاتے دیکھا۔ قتل کامقدمہ بھگتتے اورپھر سزائے موت کا سزاوارٹھہرتے دیکھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں بھٹوکواپنے دفاع میں کہتے سنا۔ ’’میں نے پاکستان کے لیے جوکچھ کیا، وہ آپ کو معلوم ہے کہ میں آج کٹہرے میں کیوں کھڑا کیا گیا ہوں۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ یہ سب عدالتیں کیوں سجائی گئی ہیں۔ مسئلہ میری جان نہیں، معاملہ کچھ اورہے۔ پاکستان آج وہ طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکاہے، جس کے لیے انڈیا نے بیس سال لگادیئے۔ ‘‘

پھر انہوں نے ذوالفقارعلی بھٹو کو چاراپریل انیس سواناسی کو پھانسی کے پھندے پرجھولتے بھی دیکھا۔ جسے وہ کبھی فراموش نہ کرسکے۔ ستمبر انیس سو اٹھہتر کی ایک دوپہراسی ہوکے عالم میں فرخ سہیل کی بھٹوکی بیٹی سے ملاقات ہوئی۔ جوان دنوں محترمہ بے نظیر بھٹو نہیں آنسہ بے نظیر کہلاتی تھیں۔ ایک نوجوان جوابھی صرف سترہ برس کا تھا۔ جس کے سینے میں آتش فشاں موجزن تھا۔ جوش اورمایوسی کی عجیب کیفیت تھی۔ جسے وہی سمجھ سکتے ہیں۔ دہائیوں بعدان کی ملاقات بے نظیربھٹوکے بیٹے بلاول سے ہوئی توزمانہ بہت بدل چکاتھا۔ ذوالفقارعلی بھٹو سُولی پر چڑھائے جاچکے تھے۔ شاہنواز بھٹو زہر دے کرماردیے گئے۔ مرتضیٰ بھٹو کو اپنی ہی بہن کے دورِ حکومت میں پولیس نے سرعام قتل کردیا۔ بے نظیر بھٹوسرعام دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ اورپارٹی۔۔۔

اسے ان کہا چھوڑکر فرخ سہیل گوئندی نے بہت کچھ کہہ دیا۔ یہی دلچسپ اور ذومعنی اسلوب پوری کتاب میں قاری کواپنی گرفت سے آزاد نہیں ہونے دیتا۔ لوگ درلوگ کے مصنف کی جنم بھومی سرگودھاہے۔ وہیں انہوںنے شعورکی آنکھ کھولی۔ کہتے ہیں سرگودھاکی لوگ دوستی میں کمال اوردشمنی میں بے مثال ہوتے ہیں۔ فرخ سہیل کہتے ہیں کہ انہوں نے درجنوں ممالک اورسینکڑوں شہروںکی سیاحت کی، لیکن ان کادل سرگودھاکے لیے دھڑکتاہے۔ باباگودھا کا سرگودھا، جوسَر (پانی کاتالاب) کے کنارے بسنے والاایک ملنگ فقیر تھا۔ 1887ء میں جب نہرکنارے اس بستی کوآباد کیاگیاتو برٹش راج میں اس کا نام سرگودھا تجویز کیا گیا۔ سرگودھاکے نام کی وجہ تسمیہ مجھ جیسے بے شمارقارئین کے لیے نئی بات ہوگی۔ لکھتے ہیں۔ ’’ذراغورکریں برطانوی سامراج نے کیکر کے اس جنگلی علاقے کو میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ایک جدیدشہری بستی آباد کردی اوراس بستی کا نام اپنے کسی گورے حکمران کے نام پر نہیں رکھا بلکہ کیکرکے جنگل کے اندرموجودتالاب کنارے بیٹھے ایک فقیر، ملنگ، درویش گودھاسے اسے منسوب کیا۔ ‘‘

انیس سو اٹھاسی میں جب فرخ سہیل جہاں گردی کرتے قرطبہ پہنچے توایک رات خانہ بدوشوں کے ایک گھربھی گئے۔ جسے دیکھ کران کے منہ سے بے اختیار نکلا، اوہ یہ تومیرے سرگودھا کے گھروں جیسا ہے۔ باباگودھا کی بستی جیسا۔ انہوں نے سرگودھا کو خوبصورت اورصاف ستھرا دیکھا، لیکن ترقی کے نام پراسے تباہ کر دیا گیا۔ جس کابیان اداس کر دیتا ہے۔ معروف ادیب خوشونت سنگھ اوربالی ووڈ اداکار وہدایت کار آئی ایس جوہر کا تعلق بھی اسی شہرسے ہے۔ 1981ء میں فرخ بمبئی کے بستی اندھیری میں سرگودھاکے ایک سابق شہری دیپک مگوں کے گھر گئے۔ تواس کے گھرمیں عید جیسی خوشی منائی گئی۔

فرخ کے آسٹریلوی دوست پیٹراوبورن نے 2018ء میںانہیں اطلاع دی کہ برطانیہ کی ایک اہم خاتون مریناوھیلر پاکستان پہنچ رہی ہیں۔ ان کی رہنمائی کریں۔ بعدمیں علم ہوا کہ مذکورہ خاتون برٹش کوئنزکونسل (ملکہ برطانیہ کی وکیل بہ لحاظ عہدہ جج) ہیں۔ ان کے شوہربورس جانسن برطانیہ کے وزیرِ خارجہ (آج کل وزیراعظم) ہیں۔ مریناوھیلر اپنے اجداد کی جڑیں تلاش کرنے آرہی تھیں، جوسرگودھاسے ہجرت کرکے بھارت چلے گئے تھے۔ ان کی والدہ دیپ کور اُس وقت چھیاسی سال کی تھیں۔ جن کاجنم سرگودھا کے ایک قصبے ہنڈے والی میں ہواتھا۔ دیپ کورکی شادی خوشونت سنگھ کے بڑے بھائی بھگوت سنگھ سے ہوئی جوکچھ عرصے بعد ٹوٹ گئی۔ بعدمیں دیپ کورنے بی بی سی کے سر چارلس وھیلرسے شادی کرلی اورمریناوھیلراسی سکھ خاتون کی بیٹی ہے۔ جوآج بھی اپنے شہرکویادکرتی ہیں۔

مریناوھیلرکی تلاش کی داستان انتہائی دلچسپ ہے۔ مرینانے والدہ کی یادوں کودہراتے ہوئے جب بتایاکہ ان کی والدہ کی ٹیچرمس سالک تھیں توفرخ سہیل خوشی اورحیرانی دیدنی تھی۔ انہوں نے بتایاکہ مس سالک ان کی بھی ٹیچررہ چکی ہیں۔ مس سالک اورمس جوزف دوبہنیں تھیں۔ جن سے کے جی میں انہوں نے پڑھاتھا۔ فرخ سہیل نے اندازہ لگایاکہ 1947ء میں مس سالک تیس سال کی رہی ہوں گی۔ بعد میں انہوں نے بھی دوسال ابتدائی تعلیم مس سالک سے حاصل کی۔ مریناوھیلر کے شوہر بورس جانسن کے پڑداداعلی کمال بھی ایک ترک مسلمان تھے۔ اپنی ذہانت سے انہوں نے عثمانی خلافت میں وزیر داخلہ کاعہدہ حاصل کرلیا۔ بورس جانسن کے پرداداعلی کمال کومصطفٰے کمال اتاترک کے دورمیں اغواکرکے قتل کردیاگیا۔ مریناوھیلرکی تلاش نے دیپ کور، ہربنس سنگھ، بورس جانسن اورعثمانی وزیرداخلہ علی کمال جیسے کتنے ناقابل فراموش کرداروں کونئی زندگی دیدی اوراس کی کڑیاں کلونیل بھارت، عثمانی سلطنت سے ہوتی ہوئی برطانیہ سے جاملیں۔

سیاسی جہاں گردی کے دوران فرخ سہیل گوئندی کی دنیاکی نامورہستیوں سے ملاقات کاشرف حاصل ہوا۔ کئی کے ساتھ یہ تعلق دوستی میں بدل گیا۔ جن میں مشرقی تیمورکے ہوزے ریموس ہورٹا، حسنین ہیکل، پیلومودی، رمزے کلارک، اردال اِنونو، جمال نکرومہ، اردن کے شاہ حسین اورپرنس حسن بن طلال ایک طویل فہرست ہے۔

لیکن ایسی دوستی جوباہمی محبت اوراحترام میں بدل گئی۔ وہ ترکی کے چارمرتبہ کے وزیراعظم بلندایجوت سے تھی۔ یہ اعتماد کاایک ناقابل ِ یقین تعلق ہے۔ ایک درمیانے طبقے کے نوجوان کی دوستی ایک سابق وزیراعظم سے، جواسی کی دہائی میں فوجی آمریت کے دنوںمیں آئین کے تحت دس سال سیاست سے باہرکر دیا گیا، اور پھروزیراعظم چنا گیا۔ چارعشروں تک اپنے ملک کامقبول ترین رہنماکااعزازبلندایجوت کو حاصل رہا۔ جواپنی وفات کے بعد بھی یورپ اورمشرق وسطیٰ میں ترکی کے سب سے قابلِ احترام سیاسی شخصیت مانے جاتے ہیں۔

فرخ سہیل گوئندی جب بھی ترکی جاتے، چند روز بعد بلند ایجوت صاحب کوفون کرتے کہ میں اب انقرہ میں ہوں۔ وہ اکثراپنے ڈرائیورکو بھیج کرانہیں بلا لیتے۔ وہ وزیراعظم کے پروٹوکول کونظراندازکرتے ہوئے فرخ کادفترکے دروازے سے باہرآکراستقبال کرتے۔ پھر پاکستان، افغانستان سمیت بے شمار موضوعات پرباہمی گفتگوہوتی۔ جب بلندایجوت صاحب 1993ء میں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے دورمیں فرخ کی دعوت پرپاکستان تشریف لائے تو نواز شریف نے انہیں اسٹیٹ گیسٹ قراردیا۔ بلندایجوت نے عزت افزائی کوقبول کیا، لیکن دفترخارجہ کے ڈسپلن میں آنے سے گریزکیا۔ انہوں نے کہاکہ اگرمیں وزارت خارجہ کے ڈسپلن میں آجاتاتوعام لوگوں سے ملنے سے محروم رہ جاتا، جن کی دعوت پرمیں یہاں آیاہوں۔

ترک وزیراعظم جناب بلندایجوت کااسٹیٹ گیسٹ کے بجائے فرخ سہیل گوئندہ کاذاتی مہمان بنناان کے لیے انتہائی قابل ِ فخرہے۔ اسی طرح 1999ء میںترکی کی تاریخ کے سب سے بڑے زلزلے کے بعدمصنف کے برطانوی دوست اورفنانشنل ٹائمز کے فارن پیچ کے ایڈیٹرایڈورڈماٹیمرجواقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے چیف ایڈوائزربھی تھے اوروہی اُن کی تقاریرلکھتے تھے۔ ماٹیمرنے فرخ کے بلندایجوت سے تعلق سے بخوبی آگاہ تھے۔ انہوں نے وزیراعظم بلندایجوت کے سامنے کی جانے والی کوفی عنان کے لیے تقریرای میل کرکے ان سے اس پرنظرثانی کی درخواست کی۔ یہ فرخ سہیل گوئندی کا ایک اوربڑااعزاز ہے۔

2003ء میں فرخ سہیل گوئندی نے لبنان کے معروف شاعر، ادیب اورسیاستدان مرحوم کامل عبداللہ کی صاحبزادی ریماسے استنبول ہی میں شادی کی۔ ان کانکاح استنبول کی مسجد کے امام نے پڑھایا۔ نکاح کی رجسٹریشن بیروت کے سنی قاضی کی عدالت میں ہوئی۔

فرخ سہیل گوئندی 1997ء میں اقوام متحدہ کی گولڈن جوبلی تقریبات کے سلسلے میں اردن میں منعقدہ لیڈرشپ پروگرام میں دنیاکے ڈیڑھ سوافراد کے ساتھ شرکت کاموقع ملا۔ پروگرام کے منتظم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بطروس غالی کے بھانجے یابھتیجے مصری پروفیسرعادل الصفتی تھے۔ اس تقریب میں پرنس حسن بن طلال سے پوچھاگیاکہ تم نے اپنے ملک میں بادشاہت کاقدیم اوربوسیدہ نظام کیوں جاری رکھا ہواہے؟۔ شہزادہ حسن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ’’دوست جمہوریت کی ماں برطانیہ میں شاہی ادارہ کیوں ہے۔ سکینڈے نیویاجیسی جمہوریتوں میں بادشاہت کیوں برقرارہے؟ہمارے ہاں تویہ نظام ہزارسال سے قائم ہے۔

لیڈرشپ پروگرام کاسب سے اہم دن وہ تھاجب اسرائیل کا سابق وزیراعظم شمعون پیریزشرکت کے لیے آیا۔ اس موقع پرپورے علاقے کواردنی فوج اور پولیس نے گھیرے میں لے لیا۔ اپنی تقریر میں شمعون پیریز نے اسرائیل کوایک جمہوری اورمشرق وسطیٰ میں ماڈل ملک قرار دیا۔ اس نے اسرائیل کی ان قربانیوں کا بھی ذکرکیا۔ جوانہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دی۔ سوالات کے سیشن میں فرخ سہیل نے کہاکہ’’ شمعون پیریز، آپ نے یہ کیسے فرمایا کہ آپ نے فلسطینیوں کواپنی دھرتی کا ٹکڑاعنایت کردیا۔ آپ جوپولینڈ میں پیدا ہوئے اورآپ ہی کی طرح ننانوے فیصد اسرائیلی جواس دھرتی پر آکر آباد ہوئے دنیاکی مختلف ثقافتوں کے نمائندے ہیں۔ روسی، پولش، یوکرائن، لاطنی امریکانہ جانے کہاکہاں سے آکر ہزارسال سے یہاں پربسنے والے فلسطینیوں کی سرزمین پربندوق، دہشت اورطاقت کی بنیاد پرایک مذہبی ریاست قائم کرکے اس خطے کے امن کو جنگِ مسلسل میں بدل دیا۔ آپ کیسے کہتے ہیں کہ آپ نے امن قائم کیااورآپ کسی ایک ثقافت کے نمائندے بھی نہیں۔ آپ نے نہتے فلسطینیوں پرمسلسل جنگ مسلط کی ہوئی ہے۔ اسرائیل کوایٹمی اسلحے کا ڈپو بنادیا ہے۔ آپ نے لوگوں سے چھینی ہوئی سرزمین پرریاست قائم کی ہے۔ اورفلسطینیوں کوریاست عطاکی جس کی حقیقت ایک بلدیہ سے زیادہ نہیں جواپنی مرضی سے پانی کاکنواں تک نہیں کھود سکتی۔ ‘‘

فرخ سہیل گوئندی کے تبصرے پرپوراہال تالیوں سے گونج اٹھا اورمندوبین میں شامل امریکی نوجوانوں نے بھی اس کی تائید کی۔ اس موقع پر ایسا بھرپوراورکٹیلا تبصرہ فرخ کابہت بڑا اعزا ز ہے۔

ایسے دلچسپ اورمعلومات افزاواقعات ’لوگ درلوگ‘ کے ہرصفحے کی زینت ہیں۔ عثمانی سلطنت آج بھی ہمارے لیے پرکشش ہے۔ کئی افراد آج بھی عثمانی خلافت بحال کرنا چاہتے ہیں۔ جنوری 2019ء میں فرخ سہیل کوایک دوست نے فون پراطلاع دی کہ جلدہی آپ سے ملنے ان کی ایک دوست تشریف لائیں گی۔ یہ خاتون پیرس سے آئی ہیں اورعثمانی سلطان مراد پنجم کی پڑنواسی ہیں۔ شہزادی کنیزے مراد جب لاہور پہنچیں توفرخ اوران کی اہلیہ ریما نے لاہور میں پرتپاک خیرمقدم کیا۔ کنیزے مراد اسی سال کی عمرمیں بھی انتہائی پرکشش خاتون تھیں۔ انہوں نے بطورصحافی لبنان کی خانہ جنگی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ذوالفقارعلی بھٹوکے دورمیں کراچی میں مزدوروں کے مظاہرے کوبھی کورکیا۔ ان کی داستانِ حیات بھی حیران کن اوردل پذیر ہے۔ سلطان عبدالمجید اول کے بیٹے، عثمانی سلطان مراد پنجم سلطنت عثمانیہ کے تینتیس ویں سلطان تھے۔ انہوں نے پانچ شادیاں کیں۔ تیسری بیوی شایان کدین کی بیٹی خدیجہ سلطان اوران کی نواسی سلمیٰ خانم سلطان رؤف تھیں۔ سلمیٰ خانم کی شادی اُترپردیش کے کی ایک مسلمان ریاست کٹوارہ کے راجاسید ساجد علی سے ہوئی۔ جوجواہرلعل نہروکے دوست تھے۔ کنیزے مرادکے سوتیلے بھائی مظفرعلی بھارت کے مشہورفلم ساز اورہدایت کارہیں۔ جنہوں نے امراؤجان ادا جیسی عالمی شہرت یافتہ فلم بنائی۔ عثمانی شہزادی کے ہاں جب بچے کی پیدائش ہونے والی تھی توشہزادی کنیزے مراد کوجنم دینے کے لیے فرانس چلی گئیں۔ انہوں نے پیرس کے اچھے ماحول میں کنیزے مراد کوجنم دیا۔ اس وقت تک سلطنت عثمانیہ کی جگہ جدید ترک جمہوریہ معرض ِ وجود میں آچکا تھا۔ شہزادی سلمیٰ پیرس میں ہی انتقال کرگئیں۔ ماں باپ دونوں کی جانب سے عثمانی اورہندوستانی شہزادی کی پرورش پیرس کے ایک کیتھڈرل میں ہوئی۔ کنیزے مرادفرانسیسی شہری کے طور پرجوان ہوئیں۔ انہوں نے صحافت کوپیشہ بنایا۔ انہوں نے 1965ء کی پاک، بھارت جنگ، لبنان کی خانہ جنگی اورانقلاب ایران کے دوران صحافت کے جوہردکھائے۔ انہوں نے اپنی والدہ کی زندگی پرمبنی مقبول ناول تحریرکیا۔ جس کا ترجمہ دنیا کے چونتیس زبانوں میں ہوا۔ کنیزے مراد کی پاکستان آمد اورفرح سہیل سے ملاقات کامقصدان کانیاناول تھا۔ جس کاموضوع پاکستان ہے۔ جوانہوں نے فرانسیسی میں لکھا ہے۔ انہوں نے اپنایہ ناول ریماگوئندی کوپیش کیاجوفرنچ زبان پرعبوررکھتی ہیں۔ ریمانے ناول کا پہلا باب پڑھنے کے بعد فرخ سہیل سے کہاکہ ’’کیا کمال تحریر ہے۔ لاہورکے بارے میں جوکچھ لکھاہے س پرمتاثرہوئے بغیر نہیں رہاجاسکتا۔ 1947ء سے پہلے کالاہورجہاں ہندو، سکھ اورمسلمان ساتھ بستے تھے۔

عثمانی شہزادی کنیزے مرادجواس عمر میں پُرامن اورترقی یافتہ دنیاکاخواب ہی نہیں دیکھتیں بلکہ اس کے لیے اپنے قلم سے حصہ بھی ڈال رہی ہیں۔ اس مختصر تجزیے میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔ لیکن ’’لوگ درلوگ‘‘ میں ایسے اوربہت سے واقعات اورکرداروں کاتذکرہ موجود ہے۔ فرخ سہیل گوئندی سے جلد شہزادی کنیزے مراد کے پاکستان کے بارے میں ناول کی اشاعت کی بھی امید ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: