کاما —- یاسرضا آصف کا افسانہ

0

پنکھے کے پر آہستہ روی سے بند ہو رہے تھے۔ بجلی جا چکی ہے۔ اب بیٹھک میں بیٹھے رہنا دشوار تھا۔ میں نے دروازہ بند کیا اور باہر گلی میں آ گیا۔ موبائل فون کی گھنٹی نے مجھے چونکا دیا۔ جب انسان کسی سوچ میں گم ہوتا ہے تو اچانک پیدا ہونے والی آواز اس کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح لگتی ہے۔ چوں کہ میں اپنی جیب اور اخراجات کے حساب میں غرق تھا لہذا میرا چونکنا بنتا تھا۔ گرمیوں کی چھٹیاں غیر سرکاری سکولوں کے ملازمین کے لیے کسی عتاب سے کم نہیں ہوتیں۔ اُن دنوں میں ایک سکول میں پڑھا رہا تھا جو کہ حسبِ معمول چھٹیوں کی تنخواہ دینا پسند نہیں کرتے تھے۔ اس لیے میں ہر وقت خرچ اور آمدن کے بارے سوچتا رہتا۔

فون پر میرا دوست فیصل مجھے اپنی ورکشاپ پر ابھی پہنچنے کا کہہ رہا تھا۔ میں نے دو روز پہلے اسے اپنی مالی مشکلات کے متعلق بتایا تھا۔ شاید اس نے کوئی بندوبست کرلیا ہو۔ یہی سوچتے سوچتے میں اس کی ورکشاپ کی جانب چل پڑا۔ فیصل بچپن سے ہی ورکشاپ پر کام کر رہا تھا اور ٹیوب ویل ٹربائن کے چوٹی کے کاریگروں میں شمار ہونے لگا تھا۔ ہم ایک ہی گلی میں رہتے تھے اور وہ میرا بچپن کا سنگی ساتھی بھی تھا۔

میں جب ورکشاپ پر پہنچا تو وہاں ایک سفید رنگ کی پراڈو کھڑی تھی۔ جس کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کیے دیتی تھی۔ وہ دھوپ میں کھڑی فرشتوں کی سواری لگ رہی تھی۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر ورکشاپ میں داخل ہو گیا۔ کاؤنٹر کے پاس کرسیوں پر کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ فیصل اتنا پڑھا لکھا تو نہیں ہے مگر اسے بات کا ڈھب آتا ہے۔ اس نے سلام دعا کے بعد میرا تعارف کروایا اور کرسی پر بیٹھے بڑی بڑی مونچھوں والے شخص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتانے لگا “یہ میاں صاحب ہیں۔ بڑے زمیندار ہیں۔ انھیں اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے استاد کی ضرورت ہے۔ میرے ذہن میں فوراً تمھارا خیال آگیا۔ باقی تم ان سے معاملات طے کر لو۔” میں نے انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سارا بوجھ فیصل کے کندھوں پر ڈال دیا۔

فیصل نے کمال مہارت سے بات کا رخ میاں صاحب کی جانب موڑ دیا۔ میاں صاحب نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ گرج دار لہجے میں بات شروع کی ” پہلے جو استاد پڑھاتا تھا اسے میں دس ہزار دیتا تھا۔ دو بچے ہیں۔ پانچویں اور ساتویں میں پڑھتے ہیں” میں نے سواری کا عذر پیش کیا۔ “روزانہ ڈرائیور تمھیں لے بھی جائے گا اور چھوڑ بھی جائے گا۔ ہمارے ساتھ ہی چلو” ان کا لہجہ حاکمانہ تھا۔ اس وقت مجھے میاں صاحب کے لہجے سے دس ہزار والی بات زیادہ پسند آئی۔ چوں کہ سکول میں میری تنخواہ آٹھ ہزار تھی اس لیے یوں دس ہزار کا ملنا قدرت کے انعام جیسا تھا۔ میں نے ان کے لہجے کو نظر انداز کرنا ہی بہتر سمجھا۔ “چلو چلیں۔ باقی باتیں راستے میں ہوں گی۔” مجھے کیسے انکار ہو سکتا تھا۔

ڈرائیور نے دروازہ کھولا اور میاں صاحب اگلی نشست پر بیٹھ گئے۔ ان کا قد چھ فٹ سے اوپر تھا اور جسم بھی خاصہ بھاری تھا۔ کاٹن کے سفید کپڑوں میں کپاس کی گانٹھ معلوم ہو رہے تھے۔ مجھے پیچھے والی دو سیٹوں میں سے ایک پر بٹھا دیا گیا۔ گارڈ پچھلا دروازہ کھول کر آخر میں موجود لمبائی رخ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی میں بیٹھنے پر مجھے اس کی کشادگی کا اندازہ ہوا۔ وہاں اب بھی چار پانچ لوگ مزید بیٹھ سکتے تھے۔ میں رشک بھری نظروں سے گاڑی کو دیکھنے لگا۔

گاڑی سڑک پر دوڑنے لگی۔ راستے میں میاں صاحب وقتاً فوقتاً مجھ سے میری تعلیم اور گھر بار کے متعلق پوچھتے رہے۔ جن کے جواب میں سنبھل سنبھل کر دیتا گیا۔ اب گاڑی نہر کے کنارے کنارے دوڑنے لگی۔ گاڑی کی ٹھنڈک نے میری طبیعت کو شگفتہ کر دیا تھا۔ مجھے ہر شئے خوش نما اور رنگین نظر آ رہی تھی۔ شیشے سے باہر کی دنیا ٹی۔وی پر چلنے والے مناظر جیسی تھی بس آواز معدوم تھی۔ ایک دم سے گاڑی بائیں جانب مڑی اور نیم پختہ سڑک پر آگئی پھر ایک پلی پر گاڑی رک گئی۔ دور کھیت سے ایک آدمی بھاگا بھاگا آیا۔ اس نے دونوں ہاتھ ماتھے پر رکھ کر سلام کیا۔

میاں صاحب نے شیشہ نیچے کیا اور اسے حکم دینے لگے۔ چوں کہ میں ان کی پچھلی نشست پر بیٹھا تھا اس لیے آواز صاف سنائی دے رہی تھی “نجے! تم فوراً کھوہ پر پہنچو۔ ماسٹر جی اور ہم لوگ آ رہے ہیں۔” نجے کے چہرے پر جھریاں تھیں۔ داڑھی کے بال کئی جگہ سے سفید تھے۔ آنکھوں میں فکر مندی اور تابعداری کی ملی جلی کیفیت تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ ماتھے پر رکھ کر پھر سلام کیا اور کھیتوں کی جانب بھاگنے لگا۔

گاڑی کافی آگے جاکر رک گئی۔ وہاں سے ایک سڑک دو منزلہ شاندار کوٹھی کی جانب جارہی تھی اور دوسری درختوں کے جھنڈ کی طرف مڑ رہی تھی۔ میں اور گارڈ دونوں میاں کے کہنے پر اتر گئے۔ ” تم ماسٹر کو جاکر بٹھاؤ۔ بچے آ جاتے ہیں۔” کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد ہم جھنڈ کے اندر داخل ہو گئے۔ وہاں سے گاڑی کو عمارت کے گیٹ میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا تھا۔ وہ کسی سفید ڈبے کی طرح لگ رہی تھی۔

ہمارے پہنچنے تک نجے نے مونڈھوں کو ترتیب سے رکھ دیا تھا اور اب وہ درمیان میں پڑی میز کو جھاڑن سے صاف کر رہا تھا۔ “بس ہوگیا۔ اب ماسٹر کے لیے لسی پانی لے کر آؤ۔” گارڈ نے جھڑکنے کے انداز میں کہا اور نجہ جی اچھا کہہ کر چلا گیا۔ ہمارے سامنے ایک کنواں تھا اور کنویں سے لے کر مخالف سمت میں موجود کمرے تک شیشم اور کیکر کے درخت گولائی کی شکل میں کھڑے تھے۔ کنویں سے پرے فصلیں تھیں اور اس سے پرے دو منزلہ شاندار گلابی رنگ کی عمارت اپنی چھب دکھا رہی تھی۔

مونڈھے پر بیٹھ کر میں نے ارگرد نظر دوڑائی۔ وہاں ٹھنڈک کا احساس ہو رہا تھا۔ کنویں میں موٹر چل رہی تھی اور پانی چوکور کھاڈے میں زور و شور سے گر رہا تھا۔ کنواں چوں کہ تھوڑا دور تھا اس لیے موٹر اور پانی کی آواز مدھم سنائی دے رہی تھی۔ جہاں میں بیٹھا تھا پاس ہی ایک پکا کھالا گزر رہا تھا۔ جس پر تختوں کی بنی چھوٹی سی پلی رکھی گئی تھی۔ یہ چھوٹا رستہ گلابی کوٹھی کی طرف جاتا تھا۔ گارڈ مجھے وہاں بٹھا کر پلی پر گزرتے ہوئے کوٹھی کی جانب چلا گیا تھا۔

فطرت سے میرا لگاؤ شروع دن سے رہا ہے۔ مجھے پرندوں کی چہچہاہٹیں قدرت کی حسین دھنیں لگتی ہیں۔ درختوں کی جھومتی شاخوں اور لہلہلاتی فصلوں کو دیکھ کر جھوم جھوم جاتا ہوں۔ مٹی کی سوندی سوندی خوشبو مجھے گلاب کے عطر سے زیادہ پسند ہے۔ وہاں یہ سب وافر مقدار میں موجود تھا اور میں سرشار ہو رہا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی خواب زار میں آگیا ہوں۔ میں نے قمیض کے بٹن کھول دیےاور پاس رکھے پنکھے کی ہوا سینے پر محسوس کرنے لگا۔

نجہ لسی کا بھرا ہوا جگ لے کر آ گیا۔ جب اس نے گلاس میز پر رکھا تو میری نظر اس کے زخمی ہاتھ پر پڑی۔ جب وہ گاڑی کے پاس کھڑا تھا تو اس وقت ٹھیک ٹھاک تھا۔ میں نے فوراً اس کے چہرے کی جانب دیکھا۔ چہرے پر بھی چند خراشیں تھیں۔ میرے ذہن میں تجسس پیدا ہوا۔ “تمھارا نام کیا ہے؟” میں نے بات شروع کرنے کا بہانہ تلاش کیا۔ “میرا نام نذیر ہے جی لیکن صاحب جی سارے نجہ ہی کہتے ہیں۔” اس نے مسکراتے ہوئے مجھے اپنے پیلے دانت دکھائے۔ ” یار نذیر تم تو ٹھیک ٹھاک تھے پھر یہ چوٹیں کیسے آ گئیں۔” میں نے بات کو بےتکلفی کے رنگ میں آگے بڑھایا۔ نذیر نے لسی کا گلاس کانوں تک بھر کر میرے سامنے کر دیا۔ گرمیوں کے شدید موسم میں ٹھنڈی ٹھار لسی کا ملنا کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ میں نے پورا گلاس ایک ہی سانس میں غٹا غٹ کر کے چڑھا لیا۔ جب وہ دوسری مرتبہ گلاس بھرنے لگا تو میں نے پھر وہی سوال دہرایا اور اپنی نظریں اس کے چہرے پر جما دیں۔ میں جواب کا منتظر تھا۔

نذیر نے گلاس میز پر رکھ دیا اور اضطرابی انداز میں ادھر ادھر دیکھا۔ “میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔” میں نے اعتماد کی فضا بنائی۔ اس نے بالآخر لب کھولے اور رازداری سے بتانے لگا۔ “میں کاما ہوں جی۔ میرا باپ بھی کام کاما تھا اور سنا ہے جی دادا بھی کاما ہی تھا۔ میاں صاحب کا حکم تھا۔ اس لیے کھیتوں میں بھاگتا ہوا آیا۔ فصلوں کو آج کل کے موسم میں پانی لگاتے ہیں۔” میں نے اثبات میں گردن ہلائی جیسے مجھے فصلوں کے متعلق ہر بات معلوم ہو۔ اس نے درد بھرے لہجے میں بات جاری رکھی۔ وہ ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے بتانے لگا “وہاں ٹبی ہے جی۔پاؤں پھسل گیا۔ پاس ہی پکا کھالا تھا۔ اس میں جا گرا۔ اگر میں ٹائم پر نہ پہنچتا تو میاں میری چمڑی ادھیڑ دیتا۔ وہ بہت غصے والا ہے جی۔” اس نے لسی کا گلاس اٹھا کر میرے آگے کیا۔ میں نے ہمدردی کے طور پر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ “آپ کسی کو بتانا نہ؛ ابھی ان پر مٹی ملوں گا۔ یہ زخم ٹھیک ہو جائیں گے صاحب جی۔ مٹی میں بڑی شفا رکھی ہے رب سوہنے نے” میں نے لسی کا گلاس پکڑ لیا اور وہ مجھے کربناک کیفیت میں چھوڑ کر چلا گیا۔

میں نذیر کی بات سن کر سکتے میں آ گیا تھا۔ گاڑی میں کافی جگہ تھی میاں اسے گاڑی میں بٹھا سکتا تھا۔ میں نے لسی کا گھونٹ لیا تو مجھے کرواہٹ سے محسوس ہونے لگی۔ ارد گرد موجود اشجار دیو ہیکل خونخوار آدم خوروں کا روپ دھارنے لگے۔ وہی ہوا جو پہلے مدھر گیت سنا رہی تھی اب بین کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ باہر ہوا کے بین تھے اور میرے وجود میں سناٹا بھر رہا تھا۔ میں اس ماحول سے بےزار ہو رہا تھا۔ جی چاہتا تھا دوڑ لگا دوں اور یہاں سے ایک منٹ سے پہلے پہلے بھاگ جاؤں۔ میں نے اپنے ماتھے پر پسینے کی بوندوں کو محسوس کیا۔ میں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور فیصلہ کیا کہ یہاں پر آج میرا آخری دن ہے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: