کشمیر: تاریخ کا طویل ترین المیہ —- عقیل ظفر

0

کشمیر تاریخ عالم کے طویل ترین المیوں میں سے ایک ہے۔ کشمیری صدیوں سے ظلم و استبداد کے چنگل میں پھنسے ہیں مہذب اقوام سب دیکھ کر بھی خاموش ہیں۔ کبھی ڈوگرہ کبھی انگریز اور کبھی منافق ہندو سبھوں نے اس جنت نظیرخطے کا استحصال کیا ہے اسے لوٹا ہے مگر اس کو آزاد نہیں کیا۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت اور ستر لاکھ نہتوں پر سات لاکھ مسلح غنڈے۔ یہ ہے اس روشن انڈیا کا مکروہ تاریک چہرہ مگر کیا کریں اس منافق عالمی طاقت کا جو سب دیکھ کر چپ سادھ لیتا ہے کہ تجارتی مفاد مسلم دشمنی سے مل جائیں تو کشمیری نسل کشی جنم لیتی ہے۔

کشمیری قوم دو صدیاں غلامی میں گزار چکی ہے۔ حریت پسند کشمیری روز ایک نئی آزمائش سے گزرتے ہیں آتش وآہن کا سیلِ بے پناہ ہے جو اس قوم کو مسلسل درد و اندوہ کے کچوکے دیے جارہا ہے اور رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ عالمی ضمیر یا تو کسی چیز کا نام ہی نہیں یا خون مسلم کی ارزانی اسے راس آ چکی ہے۔ عالم اسلام پر بھی موت کی سی خاموشی طاری ہے۔ بقول جان ایلیا
بولتے کیوں نہیں میرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان پہ کیا!

آج پورا ملک بھارت کے اقدام کی دھائی دے رہا ہے یہ اقدام اصل میں کیا ہے۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے بھارت کشمیر کے مسئلے کو خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا۔ سلامتی کونسل کی قرارداوں کی روشنی میں کشمیر کسی طور انڈیا کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ متعصب ہند توا جماعتیں بالخصوص اور کانگریس بالعموم اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتی رہی ہیں۔ کشمیر کے بارے کیا جانے والا کوئی فیصلہ کشمیری عوام کی رائے کے بغیر نہیں کیا جاسکتا یہ حق انہیں اقوام عالم کا ہر مہذب منشور عطا کرتا ہے۔ اور کوئی نام نہاد فرمان یا متعصب گروہ ان سے یہ حق چھین نہیں سکتا۔

میرے خیال میں عالمی برادری کشمیریوں کی مقروض ہے خاص طور پر برطانیہ اور امریکہ کہ قوم کی خرید فروخت صرف انہی قوموں کا ہی شیوہ رہا ہے۔ بقول اقبال:
قومے فروختند چہ ارزاں فروختند۔

کشمیر انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر قرض ہے۔ یہ نام نہاد دانشوروں اور انسانیت کو مذہب ماننے والوں کیلئے امتحان بھی ہے۔ انہیں کہیں تو آنکھ کا بال بھی نظر آجاتا ہے اور کبھی کشمیر کے گلی کوچوں میں کھیلی جانے والی خون لی ہولی تک نظر نہیں آتی بے ضمیری نے ان لوگوں کو کوتاہ بینی کا مرض بھی عطا کر دیا ہے۔ پاکستانی میڈیا پر ایسے کئی بڑ بولے اور بڑ بولیاں ملیں گی جو بات بات پر بوِٹ اور پالش کی گردان کر کے خود کو چے گویرا سمجھنے لگ جاتی ہیں مگر ان بے ضمیروں کو آتش و آہن میں غرق کشمیر کی وادی نظر نہیں آتی۔

موجودہ بھارتی اقدام عالمی امن کے بالادستوں کو کھلاچیلنج ہے یہ سراسر نسل کشی کی سازش ہے اور اس کے پس منظر میں یہودی دماغ واضح ہو چکا ہے۔

کشمیری ایک وسیع جیل میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دئے جا چکے ہیں۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی روز بر برہت اور تشدد کی ایک نئی داستان لکھ رہی ہے۔ فیض صاحب زندہ ہوتے تو ارضِ عجم کے ان ہیروں کی تب تاب سے ان کی آنکھیں روشن ہو جاتیں۔ بوڑھے شیر سید علی گیلانی سے شہیدِ زندہ تر برہان وانی تک کشمیری ایک زندہ تریں قوم ہیں شاید اقوام عالم میں سب سے زیادہ زندہ کہ جبر مسلسل کے آگے سینہ سپر ہیں ان کے سینے چھلنی ہیں دل فگار ہیں مگر آزادی کی شمع کو ایسے پروانوں ہی کی آرزو رہتی ہے۔

میرے اس اظہارئے کا مقصد نوحہ گری نہیں بلکہ احساس کے ٹہرے پانیوں میں طلاطم خیز موجوں کا پیدا کرنا ہے ہم نے اب بھی اگر ہوش نہ کیا تو کب کریں گے اسمبلی کے اجلاسوں اور مذمتی قراردادوں سے بڑھ کر سوچنا ہو گا ہر حالت میں عالمی ضمیر کو بیدار کرنا ہو گا اور کشمیر کی عملی مدد کرنا ہو گی۔ اگر بھارت مکتی باہنی اور شانتی باہنی جیسی دہشت گرد تنظیموں کی پشتی بانی کر کے بڑھک مار سکتا ہے تو آزادی کے متوالوں کی مدد ہم کیوں نہیں کر سکتے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا جواب ہر میدان میں دیا جا چاہئے سفارت کاری مستعدی سے لے کر عسکری استقامت تک ہر ممکنہ اقدام سے گریز نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ وقتِ قیام ہے اور اس میں اگر سجدے میں گر گئے تو نادان کہلائیں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: