نسلی تفاخر اور ذات پات کا نظام —- قاسم یعقوب

0

دنیا بھر کے سماجوں میں ذات پات کا نظام موجود رہا ہے۔ عموماً ذات سے منسلک ہونا طاقت کا حصول بھی سمجھا جاتا تھا۔ ذات کسی فرد کے سماجی حقوق کا بھی خیال رکھتی، فرد کو بھی اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے ذات سے منسلک ہونا ضرروی ہوتا۔ ایک ذات ایک قبیلے کی نمائندگی کرتی، یوں پورا قبیلہ فرد کی سماجی اور معاشی حفاظت کرتا۔ قدیم ازمنہ میں خاندان کا تصور بہت وسیع ہوتا تھا۔ ایک خاندان پورے قبیلے پر مشتمل ہوتاتھا۔ قبیلے کے تمام افراد ایک دوسرے کے ساتھ اپنے سگے بھائیوں جیسا برتائو کرتے، اس لیے بھی قبیلوں میں ذات سے وابستگی ناگزیر تھی۔ دنیا کی ہر تہذیب میں’ قبیلہ ثقافت‘ کے آثار ملتے ہیں۔ جب مذاہب دنیا بھر کی تہذیبوں سے ٹکرائے تو وہاں ذات کا نظام بھی اپنی تہذیب میں شامل کرتے گئے۔ مفتوح تہذیبوں نے مذہبی یا نظریاتی مسئلے کو اپنے سماجی نظام سے دور رکھا۔ خود مسلمانوں کے اندر ذات پات کا نظام اس قدر طاقت ور حالت میں موجود رہا کہ رسول اللہ نے اپنے بعد قریشیوں کو اپنا حکمران بنانے کا حکم دیا تاکہ مسلمانوں میں نفاق نہ پیدا ہو۔ حضور پاک کی وفات کے بعد بنو اوس اور بنو خزرج کی تقسیم کا معاملہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نظریاتی قبولیت کے بعد بھی سماجی ذات کی طاقت موجود رہی تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں جب شام کو فتح کرنے کے لیے فوج بھیجی گئی تواس کا سربراہ ایک سیاہ فام حبشی ’ماجا بن یاسرؓ‘ کو بنایا گیا تھا؛ مسلمانوں نے اس فیصلے پر بیزاری کا اظہار کیا تھا۔ یوں بعد میں حضرت خالد بن ولید ؓ کو شام کے لیے بھیجا گیا۔ اس بیزاری کے پیچھے نسلی امتیاز کا بہت عمل دخل تھا۔

مغربی تہذیبوں میں بھی ذات اور خاندان کا حوالہ اہمیت رکھتا رہا ہے۔ ہم یہاں مسلمان کلچر تک محدود رہے گے تاکہ جان سکیں کہ ہمارے مسلمان معاشرے میں ابھی تک نسلی تفاخر کی جڑیں کیوں قائم ہیں!

ہندوستان میں بھی جب مسلمان داخل ہوئے تو ان کا ٹکرائو ایک بڑی سطح کے ذات پات کے نظام سے ہوا۔ ہندی سماج میں ذات پات کا نظام پہلے ہی بہت مضبوط حالت میں موجود تھا۔ یہاں برہمن، کھتری، ویش اور شودر طرز کی تقسیم نے سماج کو فطری بنیادوں کی طرز پر تقسیم کر رکھا تھا۔ یہ بات غلط ہے کہ مسلمان جب اس خطے میں آئے تو انھوں نے ذات پات کے نظام کو ختم کر دیا یا ان کے نزدیک ذات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ گو ان کے دینی پیغامات میں ذات پات نہیں تھی مگرانھوں نے سماجی سطح پرایک الگ قسم کا نظامِ مراتب ترتیب دیا۔ مسلمانوں نے حسب نسب کو بہت اہمیت دی۔ منظور احمد نے ’’تلخ تحریریں‘‘ میں لکھا ہے کہ پہلے درجے کے وہ مسلمان تھے جو بیرونی حملہ آور تھے یا ن کے ساتھ برِ صغیر میں داخل ہوئے تھے، ان میں شیخ، مغل، سیدوغیرہ۔ جب کہ دوسرے درجے کے وہ مسلمان جو دوسری قوموں سے طاقت ور ذاتیں مسلمان ہوئی تھیں، جن میں راجپوت شامل تھے۔ تیسرے درجے میں ہندئووں کی وہ ذاتیں تھیں جو ہندوئوں میں بھی کامے یا چھوٹی ذات والے سمجھے جاتے یعنی ہنر پیشہ، مثلاً حجام، موچی، قصائی، تیلی، جولاھے، کمہار، لوہار، کنجڑے اور دھوبی وغیرہ۔ ہندوستان کی صنعت کاری کا نظام ان ذاتوں سے وابستہ تھا۔ مگر ان کو اہمیت کی وجہ سے نہیں، ان کو کم ذات ہونے کی وجہ سے اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ نسلی تفاخر ان کی اہمیت کو قبول نہیں کرتا تھا۔ چھوٹی ذاتوں کے یہ مسلمان کشیدہ کار، پچی کار، قالین باف، زیور ساز، جفت ساز، جلد ساز اور ہیرا تراش تھے۔

منظور احمد لکھتے ہیں:

’’ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک دلچسپ اور مخصوص ذات وجود میں آئی جو نہ تو ہندوؤں میں کبھی تھی اور نہ ہی باہر سے آنے والے مسلمانوں میں موجود تھی۔ مسلمانوں کی یہ ذات بھی ایک مخصوص پیشہ سے منسلک ہونے کی وجہ سے وجود میں آئی، چونکہ قرآنِ مجید میں شراب تیار کرنا اور فروخت کرنا بھی ممنوع ہے، اِس لئے ہندی مسلمانوں کا وہ طبقہ جو شراب فروخت کرتا تھا اُس کو مسلمانوں کی ثقافت میں ’’کلال‘‘ کہا جاتا تھا۔ کلال ذات تاجر پیشہ ہونے کے باوجود، مسلمانوں میں عزت و احترام سے نہیں دیکھی جاتی تھی۔ یہ طبقہ عام مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہوتا تھا۔ رہن سہن بھی اعلیٰ ہوتا تھا، لیکن اس کے باوجود چھوٹے پیشوں والے مسلمان کلالوں سے رشتہ داری نہیں کرتے تھے۔ انگریز کے ہندوستان میں آنے کے بعد شراب کا کاروبار پارسیوں اور اینگلو اِنڈین نے شروع کر دیا۔ کلال آہستہ آہستہ ختم ہو گئے یا دوسرے پیشوں میں چلے گئے۔ ‘‘

انسان اپنے ساتھ جینیاتی طور پر سماجی رویے نہیں لات ابلکہ رویوں کی خصوصیات لاتا ہے۔ ہمارے ہاں ذاتوں سے منسلک سب سے مضبوط حوالہ یہی دیا جاتا ہے کہ ایک ذات کے مخصوص رویے ان کے خون میں شام ہوتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ یہ خصوصیات اخلاق، تہذیب، تعلیم، کردار، طاقت یا تفاخر پیدا نہیں کرتیں۔ انسان جس سماج میں پروان چڑھتا ہے، وہ ماحول اس کو خوبصورت بناتا ہے یا بگاڑ دیتا ہے۔ کردار سازی اُس کے ماحول کے مخصوص عناصر کی قبولیت یا عدم قبولیت کی بدولت وجود میں آتی ہے۔ وہ ماحول سے مخصوص عناصر یا رویے چنتا ہے اور اپنی ذات کا حصہ بناتا ہے۔ گویا یہ سارا عملی’’ تشکیلی‘‘ (Construction) ہے۔ شخصیت بنی بنائی نہیں اترتی، بلکہ اسے بنایاجاتا ہے۔ یہ ایک دو دنوں کا کام نہیں، دہائیاں انسان اپنی شخصیت کی تشکیل کرتا رہتا ہے۔ اُس کے تجربات، احساسات، مطالعہ، جذباتی یا اقداری فیصلے اس کی شخصی تشکیل کرتے ہیں۔ جینیاتی رویے اس کی شخصیت میں مدد ضرورت فراہم کرتے ہیں مگر سب کچھ ان کے اختیار نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک جینیاتی رویہ پس منظر میں بھیجا جا سکتا یا اسے معطل بھی کیا جا سکتا ہے مثلاً ایک انسان کے اندرجینیاتی طور پر شدید غصہ موجود ہو مگر وہ اپنی کوشش یا ماحول کی خاص تربیت کی وجہ سے اس جینیاتی خصوصیت کو دبا سکتا ہے۔

صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی اس خطے کے مسلمان اپنی ذاتوں پر فخر کرتے نظر آتے ہیں۔ جٹ، گجر، اعوان، ارائیں، پٹھان، میمن، کاکڑ، نیازی، بٹ، ڈوگر، چیمے، چٹھے، وڑائچ وغیرہ ایک لمبی فہرست ہے، جو اس خطے کے افراد میں مختلف ذاتوں کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ’ ہم ذات‘ ہونا کیوں قابلِ فخر بات ہے۔ سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے، جب یہ معلوم پڑ جائے کہ اس کی اور میری ذات ایک ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے کالج کے زمانے میں دو دوستوں کی دوستی بہت مشہور ہوا کرتی تھی۔ ان میں سے ایک دوست جٹ برادری اور دوسرا ارائیں برادری کا تھا۔ وہ دونوں دوست ایک دوسرے کے لیے جان بھی نچھاور کر سکتے تھے، مگر جٹ صاحب نے جٹوں‘ کی ایک تنظیم جٹ ایسوسی ایشن جائن کر لی۔ ان کا ماہانہ اجلاس ہوا کرتا تو وہ باقاعدگی سے اپنے نسلی تفاخر کا اظہار کرنے وہاں جایا کرتا۔ مگر دلچسپ بات یہ کہ وہ اپنے جگری دوست جس کا تعلق ارائیں برادری سے تھا، اسے چھوڑ کے اکیلے جاتا۔ آپ اندازہ کریں کہ اُس کی تمام ذہنی، جذباتی اور اخلاقی وابستگی اپنے اُس دوست سے ہے جو ارائیں برادری سے ہے مگر وہ ذات کے نظام کی کشش کی وجہ سے دوسری طرف جانے پر مجبور تھا۔

میں اکثر مشاہدہ کرتا رہتا ہوں کہ وکلا حضرات اپنے چیمبرز کے باہر بل بورڈز پر بڑے بڑے حروف میں اپنے نام کے ساتھ ذات ضرور لکھواتے ہیں۔ پولیس، وکالت، نمبرداری، تحصیلداری نظام اور وہ تما م پیشے جو عوام کی اُس ذہنی حالت سے جڑے ہوئے ہیں جو ذات پات پر یقین کرتی ہے، ابھی تک طاقت اور نسلی تفاخر کو ترجیح دیتے آ رہے ہیں۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے نسلی تفاخر کی بڑی وجہ قبیلہ ہوتا تھا جو اپنے افراد کے معاشی، اخلاقی، جانی و مالی حقوق کی حفاظت کرتاتھا، اس لیے فرد کے لیے ضروری بھی تھا کہ وہ اپنے قبیلے یا اپنی ذات سے منسلک رہے۔ مگرمیری سمجھ سے بالاتر ہے کہ اب کون سا ایسا نظام باقی رہ گیا ہے کہ اُس کی ذات اُسے مالی یا جانی تحفظ فراہم کر سکتی ہے؟ اگرچہ کچھ افراد کے ہاں ایسا تصور ابھی تک قائم ہے کہ اپنی ذات کے افراد کو ریلیف دیا جائے، وہ اپنی طرز پر ایک نظام بھی رکھتے ہیںجس کے تحت اُن کی ذات کا کوئی فرد بھی ان تک رسائی کرتا ہے، تو وہ ہنسی خوشی اُس کی انتظامی یا مالی مدد کرتے ہیں۔ مگر یہ سب ازمنہ قدیم کی یادگاریں ہیں۔ ان کے سہارے اب زندہ نہیں رہا جا سکتا۔ کوئی بھی نظریہ، مذہب یا اخلاقیات کا نظام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ذاتوں پر نسلی فخر کیا جائے۔ یہ دورِ جہالت کی ایک یادگار ہے اور پرلے درجے کی غیر اخلاقیت۔

منظور احمد صاحب نے پاکستانی سیاست میں ذاتوں کی بہت درست نشان دہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کی وجہ ضیا الحق کا غیر جماعتی الیکشن تھا۔ جماعت یا اپنی پارٹی کا نام لینا ممنوع تھا۔ اس لیے مقامی سیاست دانوں نے زور شور سے اپنی اپنی ذات کا حوالہ دیا اور اپنی ذات کے نسلی تفاخر کو بنیاد بناکے اپنے ووٹرز کو اکسایا۔ آج بھی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مختلف ذاتوں سے وابستہ سیاست دان اپنے خاندان یا ذات کو اپنی پہچان بتاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ خاندان اور ذاتیں دیکھیے:

کے پی کے، کے اہم سیاست دانوں کی ذاتیں :
ارباب، رند، بلور، ترین، تنولی، جدون، خٹک، بنگش، طوری، شیر پاؤ، کنڈی، گنڈا پور، محمد زئی، ہوتی اور یوسف زئی

بلوچستان کے اہم سیاست دانوں کی ذاتیں:
اچکزئی، بزنجو، بگٹی، جام، جمالی، جوگیزئی، خان آف قلات، ڈومکی، رند، رئیسانی، زہری، کھوسہ، کھیتر، محمد حسنی، مری، مگسی، مینگل اور نوشیروانی

صوبہ سندھ کے سیاست دانوں کی ذاتیں:
ارباب، انڑ، بجارانی، بھٹو، پٹھان، پگاڑا، پیرزادہ، تالپور، شاہ (تھر پارکر)، جام، جاموٹ، جتوئی، جونیجو، چانڈیو، شاہ (خیر پور)، زرداری، سید (سن)، سومرو، پیر (سہیون) شیرازی، عباسی، قاضی، کھوڑو، گبول، لوند، شاہ (مٹیاری)، مخدوم، مری، ملک، مہر، شاہ (نواب شاہ)، وسان اور ہارون

پنجاب کے سیاست دانوں کی ذاتیں:
پراچے، ٹوانے، جنجوعے، چٹھے، چوہدری، چیمے، خلف زئی پٹھان، اعوان، رانے، دریشک، دستی، دولتانے، ڈاہا، روکڑی، رئیس، سردار، سیّد، عباسی، قریشی، قصوری، نواب آف کالا باغ، کھٹڑ، کھر، کھرل، کھوسہ، گردیزی، گیلانی، لغاری، مخدوم زادے، مزاری، موکل، نوابزادے، نکئی، نون، وٹو اور وریو
(یہ معلومات کچھ ترامیم کے ساتھ بی بی سی اردو سے لی گئی ہے۔ اس میں صرف ذاتیں نہیں وہ خاندان بھی شامل ہیں جو اپنے نسلی تفاخر کو افضلیت دیتے آ رہے ہیں اور لوگ ان پر اندھا عتماد کرتے ہیں۔ )

ہمارے خطے میںذاتوں کے نسلی تفاخر پر فخر کرنے والے صرف سیاست دان ہی نہیںبلکہ شریعت کے سخت پابند مسلمان، اعلیٰ فارن تعلیم یافتہ نوجوان، معروف لبرل دانش ور، ادیب شاعر، حتیٰ کہ علما کرام کی بھی ایک بڑی بھی ہے۔ یہ افراد اپنے ناموں کے ساتھ اپنی ذاتیں لگاتے ہیں اور لوگ انھیں ان کے نام کی بجائے ان کی ذات سے پکارتے ہیں۔ یہ بڑی خوش آئیند بات ہے کہ سرکاری سطح پر ایسی کوئی تقسیم نہیں کہ فلاں ذات کوزیادہ اہمیت دی جائے گی یا فلاں ذات کو کم۔

سماجی طور پر نسلی تفاخر کی جہالت کو اجاگر کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ اس پر مسلسل لکھا جانا چاہیے۔ خصوصاً نصابات کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ ہمارے بچوں کو اس نسلی تفاخر کی بجائے اخلاقی اور فلسفیانیہ بنیادوں پر کردار سازی کا پیغام دیا جا سکے۔ تھانوں میںدرخواست دیتے وقت ابھی تک ذات کا اندراج لازمی ہے۔ یہ پرلے درجے کی گھٹیا حرکت ہے، جو انگریز سامراج کے زمانے کی یادگار ہے۔ بلکہ اُس نسلی امتیازات کو پروان چڑھانے کے مترداف ہے جس کے خاتمے کا مسلمان دعویٰ کرتے اس خطے میں داخل ہوئے تھے۔ اصل میں ہندوستانی سماج میں ذات پات کی اس قدر تقسیم رہی ہے کہ پولیس ذات کی شناخت سے اُس کے جرم کا احاطہ کر لیاکرتی تھی۔ بڑی ذات سے منسلک مجرم کو خصوصی رعایت حاصل ہوتی، جب کہ چھوٹی ذات کے لیے معمولی جرم بھی گناہِ کبیرہ تصور کیا جاتا۔ پولیس کا نظام ابھی تک ذات پات کی تقسیم پر یقین رکھتاہے، اسے فی الفور ختم کیا جانا چاہیے۔ پاکستان بھر میںسرکاری دستاویزات میں ذات کے خانے کو بھی مکمل ختم کر دینا چاہیے۔ اس بھی پہلا کام اپنے اندر اسقبیح نظام کے خلاف اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: