کامیابی اور طاقت کا حصول کیوں ضروری ہے؟ عاطف طفیل

0

ہمارے اداروں میں اختیارات کی رسہ کشی چلتی رہتی ہے۔ جس طرح ہاتھ کی پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح اداروں میں کام کرنے والے سب افراد کے اختیارات ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔ اداروں میں چلتی ان کی ہے جن کے اختیارات زیادہ ہوتے ہیں، باقی سب حکم کے بندے ہوتے ہیں۔جن کے پاس اختیارات ہوتے ہیں اُن کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں اور سر کڑاہی میں ہوتاہے۔ اُن کے کملے بھی سیانے ہوتے ہیں۔ طاقت اور اختیارات کی وجہ سے وہ جو چاہیں کرتے ہیں اور ان کے ماتحت صرف دو کام کرتے ہیں، ایک یہ کہ ان کے آگے پیچھے دُم ہلاتے رہتے ہیں اور دوسرا کام  یہ کرتے ہیں کہ کڑھتے رہتے ہیں اور اپنے غصے کو ضبط کرتے رہتے ہیں۔ اس سبب انہیں بلڈ پریشر ہو جاتا ہے جو تمام بیماریوں کی ماں ہے۔

طاقت اور کامیابی کا حصُول جبر مسلسل سے آزادی کے لیے ضروری ہے۔ مرنا ایک ہی مرتبہ چاہیے البتہ جب انسان کو بے اختیاری لگ جاتی ہے تو وہ ہر لمحہ مرتا ہے اور موت کے وقت بس اسکا جسد خاکی شہر خموشاں کا شہری بنتا ہے۔ طاقت اور کامیابی کا حصول اس لیے بھی ضروری ہے کہ لوگ طاقتور کے ٹوکرے میں اپنا وزن ڈالتے ہیں اور کامیاب لوگوں کی صحبت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بے بسی اور ناکامی کے ساتھی صرف خون کے آنسو ہوتے ہیں۔ طاقت اور کامیابی کا جادو سب کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ کامیابی کے ویسے بھی ایک سے زیادہ باپ ہوتے ہیں اور ناکامی ہمیشہ یتیم ہوتی ہے۔

ہم اپنے پیشے میں ترقی صرف اُسی صورت کر سکتے ہیں جب ہمارے افسران ِبالا ہم سے راضی رہیں اور اپنے افسروں کو راضی رکھنے کے لیے خوشامد تیر بہدف نسخہ ہے۔ چاپلوسی کا اِقبال بلند ہو۔  ہم سب کا خون اپنی خوشامد سُن کرسیر سےسوا سیر ہو جاتا ہے۔ تعریف ہمارے کانوں میں رس گھولتی ہے۔  دراصل ہم سب اپنے بارے میں اچھا محسوس کرنا چاہتے ہیں اور یہ اُسی صورت ممکن ہے جب ہمیں دوسروں سے اپنی خوبیاں سننے کو ملیں اور ہماری شخصیت کے سلمٰی ستارے سب کی توجہ کا مرکز بن جائیں۔ اب جو بھی ہماری شخصی خوبیوں اور ہمارے اقدامات کی تعریف کرے گا، وہ ہمارے لیے حقیقی جوہر شناس کا روپ دھارلے گا اور ہم اسے بغیر کسی تردد کے نوازتے چلے جائیں گے۔ قربانی کی راہ پر چلنے والوں کے سارے راستے دلدل ہوتے ہیں جبکہ خوشامد کی سنہری سڑک پر چلنے والے شاہ کے مصاحب کا ممتاز درجہ حاصل کرتے ہیں۔ شاہ کے مصاحبین کے اہل خانہ بھی جنتِ ارضی کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ اُن کے اہل خانہ کبھی یہ نہیں کہتے کہ ہمارے باپ نے ساری عمر تھکن تو بہت کمائی لیکن دولت کمانے میں ناکام رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ جھکنے والوں نے عظمتیں پالیں اور ہم خودی کو بلند کرتے رہے۔ یاد رہے کہ ”کاتبِ تقدیر“ ہمیشہ آپ سے اُوپر ہو گا،کبھی زیریں حصے میں قیام نہیں کرے گا۔

طاقت اور کامیابی ستار العیوب ہیں۔ تمام داغ واشنگ پاؤڈر نہیں بلکہ طاقت اور کامیابی مٹاتی ہے۔ اس لیے طاقت اور کامیابی وہ دھرم ہے جس کے ماننے والے اچھے وقت کا انتظار نہیں کرتے بلکہ وہ خود اچھا وقت ہوتے ہیں۔ لوگ طاقتور اور کامیاب لوگوں کی وہ خوبیاں بھی نوٹس کر لیتے ہیں جو اُن کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتی ہیں۔

طاقت اور کامیابی کوساری توجہ ملتی ہے۔ کیمرے کی آنکھ اُن کی ہر حرکت کو محفوظ کرنا چاہتی ہے۔ میڈیا اُن کی داشتہ بننے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔ کون ہو گا وہ کمبخت جسے توجہ اچھی نہ لگتی ہو۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہم سپاٹ لائٹ کے دائرے کے اندر ہوں لیکن وائے ناکامی تیرا ستیاناس ہو کہ تو تنہائی کی اولاد ہے اور گمنامی تیری شریک حیات ہے۔

طاقت اور کامیابی آپ کی صلاحیت اور محنت کی بنیاد پر آپ سے شناسائی نہیں کرتی بلکہ یہ تو وہ محبوبہ ہےجو اپنا دل اسے دیتی ہے۔ جو اس کی خاطر ہر اخلاقی قدر کو پامال کرنے کے لیے تیارہوں۔

کامیابی و طاقت جس کا خدا بن جائے تو پھر وہ اپنے علاوہ ہر کسی کو دربدر کر دیتا ہے۔ اس لیے عاجزی اور انسان دوستی جیسی ہومیوپیتھک اخلاقی اقدار کو آج ہی گُڈبائی کر دیں کیونکہ عاجزی اور انسان دوست مہاتما تو بن سکتے ہیں لیکن حکمران طبقے کا حصہ نہیں بن سکتے ہیں۔ اس لیے سگِ راہ بننے سے بہتر ہے کہ کامیابی و طاقت کو منکوحہ کا درجہ دے دیا جائے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: