استعماری چھچھورا اور لیہ والے کلاسرا —– عماد بزدار

0

کلاسرا صاحب نے افسانہ نگاری شروع کرتے ہوئے کالموں کی ایک نئی سیریز شروع کی ہے۔ حیرت ہوتی ہے ایک ایسا بندہ جو زیادہ کتابیں پڑھنے کے لئے مشہور ہے کس طرح ایک آدھ کتاب پڑھ کر قطعیت سے اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ لیری کولنز کی داستانیں پرانی ہوچکی ہیں۔ ٹرانسفر آف پاورز کے دستاویزات نے تشہیر کے شوقین اس استعماری چھچھورے کی حقیقت کھول کر بیان کر دی جسے کلاسرا صاحب اپنے زور قلم سے کوئی ماورائی مخلوق ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔
۔
ایک بد دیانت کی بد دیانتی کو کیسے “وجدان” کا چولا پہنا کر اسے عظیم دکھانے کی کوشش کی گئی یقین نہیں آتا۔ میری پریشانی یہ ہے کہ جس بندے نے خود سے تاریخ نہیں پڑھی وہ کلاسرا صاحب کے یہ کالمز پڑھ کر ماؤنٹ بیٹن کو عظمت کا ماؤنٹ ایورسٹ سمجھنا شروع کر دے گا۔
۔
یہ ہر گز کوئی وجدان نہیں تھا یہ سوچی سمجھی رائے تھی، سب کچھ پلاننگ کے تحت ہوئی۔ ویول برخواستگی بھی اسی لئے ہوئی کہ اس نے ایک حد سے زیادہ کانگرس یا ہندو لیڈر شپ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ وہ بھی تقسیم اور پاکستان کا شدید مخالف تھا اور پاکستان کو ناقابل عمل سمجھتا تھا لیکن کم از کم وہ مسلم اقلیت کے لئے رعاتیں ضرور چاہتا تھا۔

اس کے نکالنے کا قطعی فیصلہ کلکتہ کے فسادات کے بعد 27 اگست کو گاندھی نہرو والے ملاقات کے بعد ہوئی جس میں “عدم تشدد” والے مہاتما کلکتہ قتل و غارت سے پریشان ہونے کے بجائے ویول کے سامنے میز پر مکے مار مار کر کہتے رہے ” اگر ہندوستان کو خون میں نہانا پڑا تو خون میں نہائے”۔ جی ہاں “عدم تشدد” والے مہاتما ایسے ہی تھے دوسری جنگ عظیم میں نازیوں اور اتحادیوں کے جنگ پر بے چین ہو کر انہیں عدم تشدد سے لڑنے کا مشورہ دینے والے اپنے ملک اپنی آنکھوں کے سامنے قتل و غارت دیکھ کر متوقع تشدد سے قطعی طور پر پریشان نہیں ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہاتما کی مہاتمایئت کے پیچھے بھی بہت سارے “کلاسراؤں” کی کوششیں شامل ہیں۔

آتے ہیں موضوع پر، دراصل ہندو بورژوا اور برطانوی سامراج کے مفاد آکر آپسمیں ایک ہو گئے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ طاقتور کانگرس کی ناراضگی کسی بھی طرح مول لی جائے۔

3 جنوری کو ماؤنٹ بیٹن نے ایٹلی کے نام اپنے خط میں لکھا کہ

“اگر آپ اجازت دیں تو سر سٹیفورڈ کرپس ذاتی طور پر بڑی پارٹی کو میری تقرری سے کچھ وقت پہلے مطلع کردیں اور انہیں میرے جذبات سے آگاہ کر دیں کہ مجھے پوری امید ہے وہ میری تقرری کا خیر مقدم کریں گے اور مجھے اپنا پورا تعاون دیں گے یا کم از کم انہیں کوئی ذاتی اعتراض نہیں ہو گا۔ ”
ٹرانسفر آف پاور والیوم 9

کلاسرا صاحب کے لیری کولنز لکھتے ہیں

جواہر لال نہرو وہ واحد نیتا تھے جنہیں ماؤنٹ بیٹن پہلے سے جانتے تھے۔ جنگ کے بعد نہرو جب سنگا پور گئے تھے تو ماؤنٹ بیٹن بھی وہیں تھے۔ ملاقات ہوتے ہی دونوں کے درمیان ایسی دوستی کی بنیاد پڑ گئی کہ مشیروں کی رائے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ماؤنٹ بیٹن نے نہرو کو بغل میں بٹھا کر سنگا پور کی سڑکوں پر کھلی کار میں سیر کی۔ ماؤنٹ بیٹن کے مشیروں نے اعتراض کیا تھا کہ جس باغی لیڈر کے جوتوں سے برطانوی جیلوں کی دھول نہیں دور ہوئی ہے اسے ساتھ لیکر کھلی کار میں عام سڑک پر گھومنا ایک باغی کی اہمیت بڑھاے گا۔

“اہمیت میں اس کی بڑھاؤں گا یا وہ میری بڑھائے گا۔ میں جانتا ہوں کہ ایک روز یہ آدمی ہندوستان کا وزیر اعظم بنے گا۔ ” ماؤنٹ بیٹن نے بڑی صفائی سے جواب دیا”

ہندوستان آنے پر نہرو ماؤنٹ بیٹن پہلی ملاقات کا احوال مختصرا سنیں

ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کی ملاقات میں نہرو جناح کی شخصیت کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد ماؤنٹ بیٹن کہتے ہیں” اگر میں جناح سے یہ کہہ بھی دوں کہ اسے اس کا پاکستان دے دیا جائے گا تو بھی کیا حاصل ہوگا ؟ نہرو نے جواب دیا کہ ” وقت کی کمی کو بنیاد بنا کر جناح کو خوف زدہ کیا جا سکتا ہے اور تعاون پر آمادہ کیا جا سکتا ہے”۔

اس میں آسانی سے دونوں کی قربت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جناح کو خوفزدہ کر کے “تعاون” پر آمادہ کر نے کی تجویز نہرو کی طرف سے دی جا رہی
ماؤنٹ بیٹن خود اس ملاقات کے بعد نہرو بارے کیا لکھتے ہیں”پنڈت نہرو مجھے سب سے زیادہ مخلص شخص نظر آیا ہے”
ٹرانسفر آف پاور والیوم 10

یہ آگ دونوں طرف لگی ہوئی تھی کوئی وجدان نامی بکواس اس میں کارفرما نہیں تھا۔ برطانوی استعمار کانگرس کی دیوی کو ہر حال میں خوش کرنے پر تلی ہوئی تھی۔

نہرو کے سوانح نگار مایئکل بریشر ان تعلقات بارے لکھتے ہیں

Mountbatten’s most notable personal triumph in India was an intimate bond of friend ship with Nehru.
“ماؤنٹ بیٹن کی ذاتی تعلقات کے میدان میں نمایاں فتح یہ تھی کہ اس نے نہرو سے بہت گہرے دوستانہ تعلقاتا ستوار کر لئے تھے۔

As for lady Mountbatten it can only be surmised that she helped to fill a void in Nehru’s life.
اور جہاں تک لیڈی ماؤنٹ بیٹن کا تعلق ہے اس کے بارے میں مختصراً یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس نے نہرو کی زندگی کا خلا پر کیا تھا۔ “

اس قدر بد دیانت آدمی کو جو تقسیم کا فارمولا جب طے کرنے لگا دونوں فریقوں میں سے ایک کو اپنے ساتھ شملہ لے جاتا ہے اسے منصوبہ دکھاتا ہے اس کی منظوری لیتا ہے ایسے انسان کے لئے کلاسرا اور لیری کولنز جیسا افسانہ نگار ہی لکھ سکتا ہے کہ ” لیکن لارڈ مائونٹ بیٹن ایک عام انسان نہ تھا جو نہرو کے اس سخت خط کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہو جاتا ” کلاسرا صاحب کا ماؤنٹ بیٹن کی تحسین سے جی نہیں بھرا مزید لکھتے ہیں

“لارڈ مائونٹ بیٹن نے مایوسی کا شکار ہونے کی بجائے سب سے پہلے خود کو مبارک باد دی کہ ایک دفعہ پھر اس کا وجدان درست نکلا تھا۔ “

واقعی ماؤنٹ بیٹن ایک عام آدمی نہیں ایک انتہائی عام اور چھوٹے آدمی تھے جس نے مسئلے کے دونوں فریقوں میں سے ایک کو سب کچھ دکھایا اس سے منظوری لی اور دوسرے کو مکمل اندھیرے میں رکھا۔ یہ میں نہیں کہہ رہا یہ ٹرانسفر آف پاور کے دستاویزات میں موجود ہے یہ منصف مزاج ہندو رائٹرز مانتے اور لکھتے ہیں عائشہ جلال یہی بات لکھتی ہیں (نام سے کنفیوژ مت ہونا وہ ہر گز ریاستی سچ بولنے والوں میں شمار نہیں کی جاتی)

ہندوستانی مسلمان منصور احمد،رضا خان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

“”وائسرائے کی دراصل بڑی خواہش تھی کہ پنڈت نہرو کی تایئد ان کے پلان کو پہلے ہی حاصل ہو جائے سچ تو یہ ہے کہ وائسرائے اپنی اس خواہش کو چھپا نہیں سکے کہ وہ کانگرس کو مطمئن اور خوش دیکھنا چاہتے تھے ان کا ماننا تھا کہ اگر لیگ کوئی عذر کھڑا کریں گے تو انہیں اس بات کا خوف دلایا جائے گا کہ اختیارات کانگرس کے ہاتھوں ایک واحد مرکزی حکومت کی شکل میں سونپ دیئے جایئں گے۔ “

کلاسرا درست فرماتے ہیں ماؤنٹ بیٹن اور اس کا وجدان دونوں واقعی معمولی نہیں تھے اسی لئے ہر قیمت پر کانگر س کو خوش رکھنے کی کوشش ہو رہی تھی۔

اسی لئے یہ سب کچھ نہرو کو دکھایا گیا وی پی مینن کو سیسل ہوٹل میں بٹھایا گیا جس نے نہرو کی منظوری سے سارا پلان اس کی منشا کے مطابق تیار کیا۔ ۔ ۔ (کلاسرا صاحب نے اپنا آج کا کالم اس پر ختم کیا کہ یہ مینن کون تھے تو ا س سے پہلے کہ اس کے چار کالم پڑھ کر خوار ہوں اور مینن کا تعارف آپ کو حاصل ہو، میں بتا دیتا ہوں کہ وہ بطور کلرک ہندوستان کی مرکزی حکومت میں ملازم ہوا تھا۔ اس نے مختلف محکموں میں اپنی کلرکانہ محنت اور وفاداری سے اپنے افسروں کی خوشنودی حاصل کر کے اتنی ترقی کی تھی کہ یہ وائسرائے کا آیئنی مشیر بن گیا تھا۔ موصوف ڈبل ایجنٹ تھے ادھر کی باتیں اُدھر اور اُدھر کی باتیں ادھر پہنچاتے تھے۔ جب تقسیم یقینی ہوگئی تو یہ مکمل پٹیل کے آدمی بن گئے۔ موصوف خود لکھتے ہیں

“میں نے شملہ کے سیسل ہوٹل میں پہلے دو بڑے پیگ وہسکی کے چڑھائے اور پھر برصغیر کے تقسیم کا مصوبہ لکھنے بیٹھ گیا۔ منصوبہ اسی شام تیار ہو گیا۔ نہرو کو دکھایا گیا اور اس نے منظوری دے دی۔”

اس کے ساتھ ساتھ پٹیل کو بھی لمحہ بہ لمحہ کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔ ۔ ۔ ذرا سوچیں ماؤنٹ بیٹن تقسیم کرنے آیا مینن نہرو پٹیل سب کچھ کر رہے جناح قطعی لاعلم۔ ایسا بے شرم بد دیانت پھر بھی کلاسرا کی نظر میں عظیم ہے

مہاراشٹر کی ایڈوکیٹ جنرل ایچ ایم سیروائی ماؤنٹ بیٹن کی “عظمت” بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

“”سرکاری دستاویزات اور شائع شدہ ریکارڈ جسے ٹرانسفر آف پاور کے عنوان سے کئی جلدوں میں شائع کیا گیا ان کے مطالعے سے بلاشبہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم کے لیئے منصوبہ بندی کرنی شروع کی تو اس نے انصاف کا وہ لبادہ اتار دیا جو اس نے اب تک مسلم لیگ اور کانگرس کے ضمن میں اوڑھ رکھا تھا۔ اس کے اس دعوے کا بھانڈا پھوٹ گیا کہ وہ مسلم لیگ اور کانگرس سے یکساں سلوک کر رہا ہے۔ وہ حق دوستی ادا کرنے کے لیئے اہم دستاویزات نہرو کو دکھاتا رہا اس سے تجاویز لیکر ان دستاویزات میں تبدیلیاں کرتا رہا لیکن اس نے جناح اور مسلم لیگ کو اندھیرے میں رکھا اور ان کا رد عمل جاننے کی کبھی زحمت گوارا نہ کی۔

وہ کانگرس کی حمایت میں کس حد تک آگے گیا اس کا اندازہ عائشہ جلال کی کتاب کے درج ذیل پیرے کے مطالعے سے ہوتا ہے

” دو مخالف پارٹیوں میں سے صرف ایک کے ساتھ گفتگو ایک نیا تصور تھا جو ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستانی سیاست میں متعارف کرایا۔ کانگرس کے تصور کے مطابق یونین کو چند ہفتوں کے اندر ڈومینیئن کا درجہ مل جانا تھا (آزادی حاصل ہو جانی تھی) اور مسلمان اضلاع کی قبل از وقت ” پیدائش” ہونی تھی تاکہ وہ زندہ نہ رہ سکیں۔ وائسرائے کی غیر منقولہ تشبیہ کے مطابق یہی فرق ہے مستقل عمارت بنانے، جھونپڑی کھڑی کرنے یا خیمہ لگانے میں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ہم صرف خیمہ لگا رہے ہیں اور ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے”
(بحوالہ عائشہ جلال صفحہ نمبر 271)

موصوف نے ساتھ ساتھ ماؤنٹ بیٹن کی عظمت ثابت کرنے کے لئے بنگال کے حوالے سے اس کی ایک پیشین گوئی بھی شامل کر دی کہ بنگال 25 سال کے اندر پاکستان سے الگ ہو جائے گا۔ اس پر مجھے اس گھر کی وہ ” ذہین لڑکی” یاد آ گئی جس نے بھاگنے سےپہلے کی رات ہی گھر والوں کو بتا دیا تھا کہ کل اس گھر میں ایک بندہ کم ہو گا۔ ۔ ۔

حقیقت یہ ہے جناح ایسے کوئی بے بصیرت نہیں تھے کہ انہیں ان معاملات کی خبر نہ ہو وہ پورا بنگال چاہتے تھے پورا پنجاب چاہتے تھے بنگال اور پنجاب کی تقسیم صرف اور صرف جناح کو بلیک میل کرنے کے لئے کی گئی تاکہ جناح گھٹنے ٹیک دے۔ موجودہ پاکستان کو جناح ہمیشہ کٹا پھٹا پاکستان کہتے رہے۔ جب جناح نے اپنی آخری کوشش کر کے دیکھ لی تب جناح مجبورایہ ماننے کو تیار ہوگئے کہ بنگال علیحدہ ملک بن جائے مجھے اعتراض نہیں جناح کے الفاظ تھے

” مجھے اس پر خوشی ہوگی۔ کلکتہ کے بغیر بنگال کا کیا فائدہ ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ وہ متحد اور آزاد رہے۔ مجھے یقین ہے کہ بنگال والے ہمارے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے”
ٹرانسفر آف پاور والیوم نمبر 10

آخر میں پروفیسر مہدی حسن کی ایک ویڈیو بھی شامل ہے جس میں مہدی حسن صاحب کہتے ہیں کہ کلاسرا صاحب کا یہ “عظیم انسان” نہرو اور پٹیل کی محفل میں جناح صاحب کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتے تھے بلکہ “میڈ مین” کہہ کر مذاق اڑایا کرتے تھے۔ نفسیاتی کے الفاظ تو ٹرانسفر آف پاور میں بھی موجود ہیں لیری کولنز ہی کے مطابق اس “عظیم انسان” نے جناح صاحب کو شیطانی ذہانت کا مالک کہا ساتھ گالی بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں:  قائداعظم پر فرضی اعتراضات اور جھوٹے دعوی کا جواب —– محمد عبدہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: