کراچی اور کے الیکٹرک: موسم ہے عاشقانہ — عطا محمد تبسم

0

کراچی کا موسم پھر سے عاشقانہ ہوگیا ہے۔ بادلوں کا سایہ اور ہلکی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، کراچی والے اس موسم میں گھروں سے نکل کر ساحل پر تفریح کے لیے جاتے ہیں۔ کراچی والوں کے پاس تفریح کے لیے سمندر ہی بچا ہے، شہر کے پارک کچرے کے ڈھیر اور بدبو اور سڑاند سے آپ کو پاگل یا بیمار کرسکتے ہیں، لیکن کراچی کی بارشوں میں انسان کیڑے مکوڑوں کی طرح مر بھی جاتے ہیں۔

دوتین دن کی بارش میں کئی بچوں سمیت ۲۲ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں لیکن اس شہر نا پرساں کا والی وارث ہے کون؟ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی نے بھائی سے جان چھڑالی ہے تو تحریک انصاف والے اس کی ہڈیاں بھنبھوڑنے کے درپے ہیں۔ کراچی میں بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے انسانی جانوں کے ضیاع کے معاملے پر نیپرا نے ایک چار رکنی تحقیقاتی ٹیم کراچی بھیجی تھی، جس نے ہلاکتوں کی تمام ذمہ داری کے الیکٹرک پر ڈالی ہے اور اس پر اپنی رپورٹ جمع کرادی ہے۔ ان ہلاکتوں پر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں دو رکنی بنچ نے بھی سماعت کی۔ جسٹس فیصل عرب نے اس پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کرنٹ لگنے سے بچوں سمیت 22 افراد مر گئے مگر بجلی والو پر کوئی اثر تک نہ ہوا۔ جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے پوچھا کہ اتنی ہلاکتوں پر بجلی والو کو گلے سے کیوں نہیں پکڑا گیا۔ جسٹس گلزار احمد کراچی کے مسائل پر نگاہیں گاڑھے ہوئے ہیں، انھوںنے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے سخت باز پرس کی اور کہا کہ،،اس شہر کا کوئی احساس ہے، ابراج کے سبھی ادارے ختم ہو گئے مگر کے الیکڑک بچا ہوا ہے۔

شہر کا اتنا حساس نظام غیر ملکی کمپنی کو دیتے وقت سوچتے کیوں نہیں، یہ بتائیں اس شہر میں بجلی کا کوئی متبادل پلان بھی موجود ہے کہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کے الیکڑک نے کچھ ڈلیور نہیں کیا بلکہ شہر کا سارا انفراسٹرکچر تباہ کرڈالاہے۔ آسمانی بجلی سے کوئی مر جائے تو الگ بات ہے لیکن کسی جدید شہر میں کم از کم بجلی سے کوئی نہیں مرتا۔ کے الیکڑک ابراج گروپ کے لیے سونے کا انڈہ د ینے والی مرغی ہے، یہ 5 پیسے کے بدلے 5 کروڑ کا منافع لیتے ہیں۔ کے الیکڑک کنڈے کے پیسے بھی آپ سے اور مجھ سے وصول کر لیتی ہے۔ کے الیکڑک نے تابنے کی ساری تاریں بیچ ڈالیں اور المونیم لگا دیا۔ کیا کبھی کسی نے کے الیکڑک کا آڈٹ کیا۔ یہ کسی عام آدمی کی رائے نہیں، بلکہ سپریم کورٹ کے جج کی رائے ہے۔ بدقسمتی سے صوبائی حکومت بھی کے الیکٹرک کے منافع میں ایک فریق ہے، (ابراج گروپ میں زرداری کمپنی کی شراکت کے قصے عام ہیں) اس کے پاس کوئی ایسا نظام موجود نہیں ہے کہ کے الیکٹرک کی نااہلی پر کوئی کارروائی کرسکے۔

یہ کام وفاقی حکومت کرسکتی ہے۔ کے الیکٹرک نجی ادارہ ہے جو وفاقی حکومت کے زیر انتظام کام کررہا ہے۔ کے الیکڑک نے معاہدے کے مطابق بجلی کی پیدوار بڑھانے کے لئے سرمایہ کاری نہیں کی اور جعلی بلوں کے ذریعہ لوٹ گھسوٹ بھی کرتی رہی ہے، یہ ادارہ سالانہ 35 ارب روپے منافع کما رہا ہے، جب کہ شہری بجلی کے بدترین بحران کا شکار ہیں۔ شہر کو تقریبا پانچ تا چھ سو میگاواٹ بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ ۔ میٹر تیز چلتے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی بہت دیکھی جارہی ہے، جس میں گھروں سے نکالے ہوئے بجلی کے میٹر چلتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ ۔ کوئی تیسری پارٹی نہیں جو میٹر کو چیک کر سکے۔ سوئی سدرن بھی اپنے واجبات لگ بھگ 80 ارب روپے کی فوری ادائیگی کے لیے کے الیکٹرک سے مطالبہ کررہی ہے۔ روشنیوں کا شہر وفاق کو 70 فیصد ریوینیو دیتا ہے۔ لیکن بارش کے چند قطر پڑ جائیں تو پورا شہر تاریکیوں میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کیلئے مکمل مطالعے اور تحقیق کی ضرورت ہے؟ وزیر اعظم ریاست مدینہ پر پی ایچ ڈی کرا رہے ہیں تو اس موضوع پر بھی ایک چیئر کراچی یونیورسٹی میں قائم کردیں۔

شدید بارشوں میں گورنر تو ایک پیالہ ہوٹل پر چائے پینے کا فوٹو سیشن کراکے گورنر ہاوس میں موسم کے مزے لینے میں مصروف ہیں، ایک وفاقی وزیر کو صفائی کا خیال آیا تو انھوں نے بھی چندے کی اپیل کردی۔ سندھ حکومت نے امن وامان کی بحالی کے لیے ایک عرصے سے وردی والوں کو لگایا ہوا ہے، جانے پولیس کا محکمہ کس مرض کی دوا ہے برسوں سے ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ رینجرز اور امن امان پر خرچ ہورہا ہے، شہر مٹی، کچرے، اورگندگی کا ڈھیر ہے، شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ بارش کے بعد بھی پورے ہفتے گٹر کے پانی میں ڈوبی رہی، گورنر ہاوس کے باہر والی روڈ پر تو ہربارش کے بعد کشتیوں کی سیر کی جاسکتی ہے۔ سندھ حکومت کے اتحادیوں کی طرح ہمارے وفاقی وزیر بحری امور نے بھی کراچی کی صفائی کے لیے فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن ایف ڈبیلو او کاانتخاب کیا ہے۔ انھوں نے پانچ بڑے اور چھ فیڈر نالوں کی صفائی کے لیے کراچی والوں سے 175 کروڑ روپے مانگے ہیں۔ انھوں نے صفائی مہم کے لیے شہریوں سے عطیات کی اپیل کی ہے، اس کے لیے ایف ڈبیلو او کا ایک بنک اکاونٹ نمبر بھی مشتہر کیا ہے۔ کے الیکٹرک نے اس صفائی مہم میں دو کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ عوامی حلقے اس عطیہ کو ایک رشوت قرار دے رہے ہیں۔

کراچی کی ٹریفک پولیس جو ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے شہریوں سے ہیلمٹ خریداری میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ ہیلمٹ نہیں تو سفر نہیں، کی مہم میں تین دن میں کراچی میں پچاس ہزار چالان کاٹے گئے اور شہریوںنے پانچ کروڑ کے جرمانے ادا کیئے، اس میں انڈر دی ٹیبل والی رقوم کا شمار نہیں، جو نوجوانوں کی جیب کی تلاشی کے دوران اچک لیئے جاتے ہیں۔ اب جمعہ سے بارش کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ شہر میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خطرہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ عید کی چھٹیوں میں کیا شہری ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ گو ایمرجنسی فرائض پر مامور بلدیاتی اداروںکے افسران اور ضروری عملہ کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چھٹیوں کے دنو ں میں بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے 24گھنٹے دستیاب رہیں۔ لیکن اس پر یقین کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ جو عملہ اپنے معمول کے فرائض انجام نہیں دیتا وہ غیر معمولی حالات میں کیا کام کرے گا۔ ابھی کراچی میں 60 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ اگر 2017ء کی طرح شہر میں 130 ملی میٹر بارش ہوئی تو کیا قیامت مچے گی۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: