دیوار آگہی یا دیوار جہالت —- سعدیہ بشیر

0

چادر اور چار دیواری کا تصور صرف انسانی معاشرت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ جانبور، پرندے بلکہ حشرات کی زندگیاں بھی چاردیواری سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگرچہ اس کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ گھونسلے، غار، زیر زمین سرنگیں اور دیگر کئی صورتوں کا مقصد نہ صرف خود کی حفاظت ہے بلکہ اپنی زندگی کا کچھ حصہ دوسروں کی نگاہ سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ بہرحال حیوان ہوں یا انسان اس حصار کے بنا گھر اور زندگی کا طریق بے معنی ہے۔ چرند، پرند صدیوں سے ایک ہی ضابطے پر کار بند ہیں جبکہ انسانی معاشرت کئی اور مقامات آہ و فغاں اور تبدیلیوں سے بھی گزری ہے۔

چادر اور چار دیواری کا تصور جتنا قدیم ہے اتنا ہی زیادہ نا پختہ بھی۔ ہم نے دیوار و در کے ضابطوں اور ساخت میں ہی تبدیلی نہیں کی، الفاظ کی تراکیب میں بھی رنگینی اور تنوع ڈالنے سے نہیں چوکے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کہاں دیوار اٹھانی ہے اور کس جگہ دروازہ رکھنا ہے۔ ہم جو دیوار اٹھاتے ہیں وہ اتنی مضبوط اور پتھریلی ہوتی ہے کہ ہوا کے لیے کھڑکی تک نہیں رکھتے۔ اور جہاں دروازے رکھنا ضروری ہو وہاں پر ہم خود سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مصنوعی غیرت اورعزت و وقار معاملات میں تو دیواریں بنانے کے شوق میں دوسروں کے سروں سے چھت ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ہماری نظریں زمین سے الجھی ہوئی ہیں۔ ہمیں دیواروں سے مطلب ہے ۔ یہ دیواریں ہمارے لیے اپنے اپنے بت ہیں۔ جن کی حفاظت میں ہم زندگی بھر ہلکان رہتے ہیں ۔ جب کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے ۔ پرانے وقتوں میں گھر کے علاوہ شہر کے گرد بھی دیواریں بنانے کا رواج تھا۔ گویا محبوب کے دل کا راستہ خواہ معدے سے گزرے ۔ گھر کے راستہ میں شہر کو فتح کرنا پڑتا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ شہر دیواروں کے تسلط سے آزاد ہوتے گئے۔ ان دیواروں کے نشانات میں اب صرف دروازوں کے نام ہی باقی رہ گئے۔ اور دیوار کا سایا ہماری سوچ و فکر اور رویوں پر پڑ گیا ہے ۔ ۔ رد بلا کا کوئی تعویذ نہیں۔

ہم نے دیواروں کو اشتہار سازی کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اب محاورات بھی اپنے معانی بدل چکے ہیں۔ دیوار ہونا کی عملی صورت ہماری جہالت اور ان رویوں میں دکھائی دیتی ہے جہاں ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ زندگی کی راہ میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے جن مقامات پر حرکت، عملی کوشش اور تگ و دو کے لیے آواز دی جاتی ہے وہاں ہم صورت دیوار کھڑے رہتے ہیں ۔ میر کے الفاظ میں

جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ

جس دیوار کو دیوار آگہی کا نام دیتے ہیں وہاں اپنے گھروں کا ناکارہ سامان پھینک آتے ہیں۔ شعور کا پردہ تک نہیں ٹانکتے۔ اصل میں ہمیں آگہی کے بجائے دیوار جہالت بنانے کی ضرورت ہے جہاں ہم سب اپنی اپنی ذہنی فرسودگی اور نادان رویے پھینک آئیں اور کہیں سے اپنی سلب کردہ فکر کو واپس لا سکیں۔ دیوار گرانے کے نام پر ہمیں ان روایات اور رسوم کی دیواریں گرانے کی ضرورت ہے ۔ جو کہیں لہو پیتی ہیں اور کہیں زندگیاں کھا جاتی ہیں۔ اور کہیں تو غیرت کے نام پر گھروں کے گھر کھا کر اتنی مضبوط ہو چکی ہیں جو کم از کم تعلیم اور جدت کے ہتھیاروں سے نہیں توڑی جا سکتیں۔ ان کے لیے قانون کے بے رحم اور انصاف کے آہنی ہتھوڑے کی ضرورت ہے جس سے یہ پاش پاش ہو جائیں اور دوبارہ کوئی ان کی تعمیر تو کیا بنیاد رکھنے کی بھی جرأت نہ کر سکے۔ لیکن ہماری ناسمجھی ضدی اور پختہ عادات کا روپ دھار چکی ہے۔ کچھ لوگوں کو دیواریں گرانے کا اتنا شوق ہوتا ہے کہ وہ روایات اور جہالت کی دیواریں ڈھانے کے بجائے دوسروں کے بیڈ روم اور باتھ روم کی دیواریں گرا دیتے ہیں۔ یا ان میں سوراخ کر دیتے ہیں اور ویڈیو کلپ بنا کر دوسروں کو نہ صرف عبرت دلاتے ہیں بلکہ خبر دار بھی کرتے ہیں کہ کاغذی پھولوں کی طرح کاغذی دیواروں سے پرہیز لازم ہے ۔ یہاں لوہے کی دیواریں ہونا چاہیں ۔ جن میں زنگ تو لگ جائے ۔ لیکن آر پار نہ دیکھا جا سکے ۔ البتہ جن کے مکان کچے ہوں ان کے گھر کی نہ تو چھت ہے اور نہ ہی دیوار۔ بقول شاعر

لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

ایسے لوگ منٹو کا بھولا بن کر ٹاٹ کی دیواریں تار تار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کچی دیواروں کے تو کان بھی نہیں ہوتے ، نہ ہی یہ دیواریں باتیں کر سکتی ہیں۔ یہ دیواریں خود سے اور اپنی مجبوریوں سے لپٹی ٹیکس بھرنے میں مگن ہیں۔

در و دیوار سن کے روتے ہیں
آہ تم تک مگر نہیں جاتی
(میر تقی میر)

کچی دیواروں کو پکا کرنے کے بجائے ہم جگہ جگہ رکاوٹوں اور بے جا پابندیوں کی دیواریں کھڑی کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور زیادہ فعال ہیں۔ چاہے گھروں کی خوب صورتی تباہ ہو یا اتفاق۔ ہماری نسلوں کے راستے کھوٹے ہو جائیں یا ہمارا حال دلدل کی ایسی زمین بن جائے جس پر حفاظتی دیوار کی بنیاد بھی خطرے میں پڑ جائے۔ جہاں پانی کی ضرورت ہو ہم وہاں ریت کی دیواریں بنانے کا شوق رکھتے ہیں تا کہ سب بنجر ہو جائے اور جہاں بند باندھنا ہو ہم آزادی کے نام پر سب دیوار یں گرا دیتے ہیں چاہے ہماری فصلیں خس و خاشاک کی مانند بہہ جائیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو ہر قسم کے خوف، ہر طرح کے نقصان سے بے نیاز اپنے ہی بنائے ٹوٹے پھوٹے راستوں پر خوشی سے ناچتے گاتے بے ہنگم ہجوم کی صورت رواں دواں ہیں۔ جو دیواریں گرانا لازم تھیں وہاں ہم نے اپنے عہدوں۔ اپنی امارت اور جھوٹی عظمت کی رنگین دیواریں کھڑی کر رکھیں ہیں۔ بھلے تازہ مناظر کے رستہ پر کتنی ہی دھند چھا جائے۔ ہم راستوں پر دیواریں کھڑی کرنے اور منزل پر دیوار گرانے کے بے جا زعم میں مبتلا قوم ہیں۔ ان دیواروں سے ہماری بصارت بھی کمزور ہو چکی ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کے خواب گڈ مڈ ہونے لگے ہیں۔ ہم یہ سوچتے ہی نہیں کہ غلط مقام پر تقریر کرنے سے جس طرح لوگ بے زار ہو جاتے ہیں اسی طرح غلط جگہ دیوار اٹھانے سے ادب و احترام اور لحاظ و مروت کی دیواریں کمزور پڑ کر کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔ ایک دیوار گرتی ہے تو دل میں بھی کئی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح دیواریں گرانے سے ناجائز تجاوزات ہی نہیں، خواب، امید، محنت، سرمایہ افرادی طاقت سب کچھ ملیا میٹ ہو جاتا ہے۔ یہ سب ڈھانے کی بجائے اس کی جگہ جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ انھیں دیواروں کو نیا نام دیا جا سکتا ہے۔ ان کو گرانے کے بجائے نئے انداز کسی اور مقصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دیواریں ڈھانا آپ کے تدبر، فہم اور دانش مندی کا امتحان ہے اور امتحان میں ایک تصویر کو مٹا کر بنانے سے بہتر عمل اسی تصویر کو نئے رنگ سے سجانا سود مند ہوتا ہے۔ ہمیں یہ خدشہ کیوں نہیں ستاتا کہ دیواریں گرانے اور کھڑی کرنے کے عمل میں بنیاد کمزور ہوتی جا رہی ہے کہیں چھت کمزور نہ پڑ جائے۔ اس پر سوچ بچار کی اشد ضرورت ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: