بھارت کی تازہ حماقت اور شملہ معاہدہ —— ڈاکٹر محمد مشتاق

0

1972ء کے شملہ معاہدے میں ہم نے مان لیا تھا کہ بھارت کے ساتھ تمام متنازعہ امور باہمی مذاکرات سے , یا ایسے پرامن طریقے سے جس پر فریقین راضی ہوں، حل کریں گے۔ اس معاہدے کے بعد بھارت کا یہ موقف رہا ہے کہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادیں غیرمتعلق ہوگئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ پاکستان اس موقف کو مسترد کرتا ہے لیکن حقیقت یہ رہی کہ عالمی سطح پر کشمیر کا مسئلہ غیر اہم سمجھا جانے لگا۔ اسی کی دہائی کے اواخر میں جب کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع ہوئی تو یہ مسئلہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ نوے کی دہائی کے اواخر تک جاتے جاتے، اور

بالخصوص 1998ء میں ایٹمی دھماکوں اور 1999ء میں کارگل کی جنگ کے بعد، یہ مسئلہ پوری طرح بین الاقوامی مسئلہ بن چکا تھا۔ 2001ء میں جنرل مشرف کے بھارت کے دورے کے موقع پر بریک تھرو ہوتے ہوتے رہ گیا کیونکہ فریقین نے بعض مسائل کو انا کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ پاکستان نسبتاً بہتر پوزیشن پر تھا لیکن اتنے میں نائن الیون ہوگیا اور پھر پاکستان کو یوٹرن لینا پڑا۔بہت عرصے بعد اب جبکہ ایک بار پھر کشمیر کا مسئلہ عالمی توجہ کھینچ چکا ہے، اس موقع پر بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی کوشش ایک بہت بڑی حماقت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب پاکستان عالمی فورمز پر کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرکے اس موقع سے فائدہ اٹھالے۔ واضح رہے کہ بھارت کی یہ نئی حماقت شملہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس معاہدے میں (کشمیر کا نام لیے بغیر) قرار دیا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان موجود مسائل کے حتمی حل تک کوئی فریق یک طرفہ طور پر صورتِ حال کو تبدیل نہیں کرے گا۔

(Pending the final settlement of any of the problems between the two countries, neither side shall unilaterally alter the situation)۔

پچھلے ڈیڑھ مہینے کے ملکی، بھارتی اور بین الاقوامی مآخذ کے بغور جائزے سے میرا تاثر یہ بنا ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں نے بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی کوشش کا بروقت اندازہ لگالیا تھا اور کشمیر میں سیزفائر لائن کے اطراف میں موجودہ کشیدگی کو اسی سیاق میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

(Visited 1 times, 5 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: