آہ- ڈاکٹر سید رضا عسکری مشہدی —- قیصر سلمان غوری

0

آہ- ڈاکٹر سید رضا عسکری مشہدی۔ وہ محبت اور دوستی کے پیکر ہی نہیں، انسانی ہمدردی، خدمت اور وفاداری میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ قدرت نے ڈاکٹر صاحب کو بیک وقت ایسی خوبیوں سے نوازا تھا جو بہت کم قسمت والوں کے حصّے میں آتی ہیں۔ جن احباب کا ڈاکٹر صاحب سے تعلق رہا جنہوں نے ان کے ساتھ زیادہ وقت گزارا وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ وہ ایک سچے، نیک نیت اور مخلص انسان تھے۔انہوں نے ایک سادہ اور صاف ستھری زندگی بسر کی انہیں گفتگو پر خصوصی ملکہ حاصل تھا دفترہو یا گھر دوستوں کے ساتھ خوب محفلیں سجاتے، جہاں سب کی مہمان نوازی کرتے وہاں خوبصورت باتوں،یادوں اور جملوں سے محفل کو کشت زعفران بنا دیتے۔ تحریر و تقریر میں مختلف موضوعات پر دسترس حاصل تھی۔تقریب سیاسی ہو یا سماجی، خطاب کرتے ہوئے اپنا مافی الضمیر کھل کر بیان کرتے، تعلیمی زندگی سے ہی سیاسی سرگرمیوں میں دلچسپی لینا شروع کر دی ان کی پہلی اور آخری محبت “پاکستان پیپلز پارٹی” رہی بھٹو خاندان کے ساتھ عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ “پیپلز سٹوڈینٹس فیڈریشن پنجاب کے پہلے بانی صدر بنے۔ پھر طویل عرصہ پی پی پی ضلع قصور کے صدر رہے۔ مارشل لاء کے خلاف جدوجہد میں پابند سلاسل بھی رہے۔ پی پی پی کے ٹکٹ پر 1988ء کے عام انتخابات میں ایم پی اے کا الیکشن لڑا لیکن کامیابی نہ ملی۔ بعدازاں “پیپلز ایڈمنسٹریٹر پروگرام” ضلع قصور کے ایڈمنسٹریٹر بنے اور مختصر عرصہ میں ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر عوام کی نمایاں خدمت کی۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ ایک سیاسی پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے تقریباً تمام چھوٹے بڑے عہدیدار مالی مفادات اور مراعات سے فیض یاب ہوتے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب نہ صرف ایسے فوائد سے کوسوں دور رہے بلکہ ذاتی زمین بیچ کر ان پیسوں سے پارٹی سرگرمیاں چلاتے رہے۔ پارٹی سے وابستگی اور وفاداری کی ایسی اعلیٰ مثال شاید ہی کہیں دیکھنے کو ملے۔

سابق وزیراعظم “ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو” کے ساتھ محبت و عقیدت کا یہ عالم تھا کہ ان کے خلاف کسی قسم کی بات سننا پسند نہ کرتے بلکہ قریبی دوستوں کو بھی کھر ی کھری سنا دیتے۔ بلاشبہ ڈاکٹر صاحب بہت بڑے انسانیت دوست تھے۔ ضرورت مندوں کی خاموشی کے ساتھ مالی مدد بھی کرتے۔ وہ ایک طویل عرصہ تک معرف سماجی تنظیم “عوامی ثقافتی انجمن” کے سنیئر رکن اور بعدازاں دو سال کے لیے صدر بھی رہے۔ انجمن کے پلیٹ فارم سے انھوں نے انسانی خدمت کے کاموں میں حتی المقدور حصہ لیا کسی بھی پروگرام، تقریب یا ملک میں ناگہانی آفت کے موقع پر مالی معاونت میں ہمیشہ پہل کرتے۔ تنظیم کے زیر انتظام شائع ہونے والے مقامی جریدے “ساحل رنگ” کی بھی مستقل سرپرستی کرتے رہے۔حقیقت میں ڈاکٹر صاحب اس شعر کی عملی تصویر تھے:
اپنے لیے تو سبھی جیتے ہیں اس جہاں میں مگر
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا!!!!!!!!!!!

عرصہ قبل چونیاں سے ریورویو سوسائٹی لاہور میں قیام پذیر ہوئے تو چونیاں میں آنا جانا بہت کم ہوگیا البتہ دوست/احباب کے ساتھ فون پر رابطہ رکھتے تھے۔گھٹنوں کی تکلیف انہیں پہلے بھی رہتی تھی لیکن مسلسل ایک جگہ رہنے سے تکلیف مزید بڑھتی گئی اور وہ آہستہ آہستہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، بالآخر وہ اس جگہ چلے گئے جہاں سے لوٹ کر کبھی کوئی واپس نہیں آیا۔ یو ں تو ہر شخص نے اس جہاں فانی کو خیر باد کہنا ہے اور اللہ کے حضور پیش ہونا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب اپنی خوبیوں، عادات و فضائل سے انسانی ہمدردی اور خدمت کے جو دیر پا نقوش چھوڑ گئے ہیں وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:ہم جس پر مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اورعالم میں تجھ سے لاکھ سہی تم مگر کہاں!اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ وہ ڈاکٹر سید رضا عسکری مشہدی کی مغفرت فرمائے انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: