میری الجھنوں کا سبب کیا؟ —- عافیہ فیصل

0

بے ترتیب یا بکھرا ہوا گھر ہو آفس ہو گلی یا محلہ یہ انسانی فطرت ہے وہ گندگی بے ترتیبی اور بکھری پھیلی ہوئی جگہ سے الجھتا ہی ہے، بے چین ہی رہتا ہے۔ بلکہ جو لوگ ہمیں بظاہر گندگی میں رہتے ہوئے نظر آتے ہیں انہیں بھی صاف ستھری ترتیب والی جگہ میسر آجائے تو وہ بھی کبھی گندگی میں جانے کا نہ سوچیں۔ کیونکہ یہ انسان کی فطرت سلیم ہے جو اسے خوبصورتی، ترتیب اور منظم جگہ اور چیزیں متاثر کرتی ہیں اور وہ ہمیشہ ایسے ہی رہنا پسند بھی کرتا ہے۔ بس یہی معاملہ ہمارے جذبات اور احساسات کا بھی ہے۔

اچھی بری سوچ
اچھی بری یا فلیٹ فیلنگز
دماغ میں ہر لمحہ ابھرتے سوال جواب نتیجے ججمنٹ اصول خوف
دل میں ابھرتے خوشی یا غمی کے جزبات اپنائیت مایوسی رحم غم دکھ رنج الم
مستقبل کا خوف یا فکر
حال میں گزرتے واقعات
ماضی کی تلخ و شیریں یادیں
زندگی کی کڑواہٹ یا منزل کی تھکن
راستوں کی تکلیف یا سفر کی الجھن

یہ تمام اور بہت سے جذبات اور سوچیں ہمارے دل و دماغ میں بے ترتیب پڑے ہوتے ہیں انہیں ترتیب میں لانے کے لیے کاؤنسلنگ بہت ضروری ہے لیکن اس سے بھی پہلے ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ہم اس بے ترتیبی کی وجہ سے خود اور اردگرد کے لوگوں کو کتنا پریشان اور تکلیف دہ مراحل میں دھکیل رہے ہیں۔

یعنی اوئیرنس
پہلے یہ جان لیجیے کہ ہمیں ہر وقت گائڈینس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم خود کبھی عقل کل نہیں ہوسکتے۔
روز و شب روٹین کے مطابق روبوٹ کی طرح گزار دینا۔ کسی بھی معاملے کو جو سمجھ آیا ویسے حل کر لینا یا جہاں اٹکے دوسری جانب راستہ موڑ کر سفر پر گامزن رہنا تو جانور کی صفت ہے انسان کی نہیں۔

دل و دماغ میں اٹھتے طوفانوں کو ایک ترتیب میں رکھنا اور ہر جذبے یا احساس کو مکمل ہوم ورک یا اسٹڈی کے بعد اس میں رد و بدل یا بہتری لاتے رہنا، خود کو ہر وقت قابل اصلاح سمجھنا اور اگر کوئی کاؤنسلنگ کے لئے درکار نہ ہو تو خود سے کوشش کرنا، سوچنا، کتابیں پڑھنا اردگرد کے لوگوں سے سوال اٹھانا اور جواب کو حتمی کبھی تصور نہ کرنا بلکہ مزید گنجائش رکھتے ہوئے اور سیکھنے کے لیے دماغ پر زور لگانا وغیرہ وغیرہ کے بعد ہی آپ ایک وقت کے بعد اس مقام پر پہنچ پاتے ہیں جہاں آپ نظر آنے سے پہلے دیکھ لیتے ہیں، کہنے سے پہلے سمجھ لیتے ہیں بولنے سے پہلے جان لیتے ہیں اور الفاظ ادا ہونے سے پہلے سن لیتے ہیں۔

بس صرف اتنا سمجھ لیجیے کہ ہمارے اندر بکھرے تلخ و شیریں طوفان ایک سیدھی لائن میں آنے کے لیے خود بے چین ہیں۔ ہم ہی وہ طاقت رکھتے ہیں کہ جس سے یہ سب ایک ترتیب میں آجائے پھر بھی بحیثیت انسان کہیں غلطی، کمی، کجی ممکن ہے لیکن نوٹ کیجئے گا جب تک یہ سب مکمل ترتیب سے نہیں آجاتا آپ کے اندر بے چینی رہے گی۔

اگر ابھی بھی آپ کو کہیں نہ کہیں بےچینی کا سامنا ہے تو سمجھ جائیں کچھ ہے جو اب تک ترتیب سے نہیں رکھا گیا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: