قربانی، باپ اور لبرلز —- سحرش عثمان

0

اور پھر حکم ملا صحرا میں چھوڑ کر واپس چلے آؤ۔ پوچھا اکیلے؟ جواب ملا تنہا__ سوال کیا اسباب زندگی کا کیا ہوگا؟ جوابی سوال آیا “تم” ذمہ دار ہو؟ خاموشی سے مختصر قافلہ اٹھا رخت سفر باندھا صحرا میں ٹھکانہ کیا امانت والے کو امانت سونپی اور چل دییے قافلے کی رکن نے پوچھا کس کے آسرے پہ چھوڑے جاتے ہو۔ مختصر جواب دیا رب کے__ بی بی نے سر تسلیم خم کیا اوراُسی لمحے صحرا تاحشر آباد کرنے کے فیصلے آسمانوں سے زمین پر اترئے۔ بی بی کے تسلیم کرنے کو ایمان کا حصہ بنا دیا۔ اس کی سنت کو ہاںکا اقرار کا حصہ بنا دیا۔ وہ اقرار جو اسکو ماننے کے لیے کرنا ہے۔

رب کی ترکیب پہ غور کیا ہے کبھی؟ ظرف والے کو آزماتا ہے کم ظرف کو نہیں۔ جب اس نے کسی کو قریب کرنا ہوتا ہے نا تو پھر امتحاں ڈالتا ہے کوئی ایسا امتحاں کہ کیے نہ بنے اور چھوڑے نہ چھوٹے۔
ایسے ہی امتحاں میں ڈال دیا ابراہیم کو۔
پیری میں بیٹا دیا تو صحرا میں تنہا چھوڑنے کا حکم جب بڑا ہوا تو کہا میرے لیے قربان کردو۔

قربان؟ آئی نہ چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ میرے سوکالڈ “مہذب” لوگوں کے؟
بہت مواد اکھٹا ہوگیا ہوگا مذہب کے خلاف بھی۔

لیکن ٹھہریے ذرا ایک منٹ۔ یہ قربانی والی بات آپ لوگوں کے کیلنڈر سے بھی کم وبیش ہزار سال پہلے کی ہے عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے بھی صدیاں پہلے۔
جبکہ اپنی زمینی خداؤں دیوتاؤں کے لیے انساں قربان کرنے کی رسم تو ہمارے ہی خطے میں سو سال پہلے ختم کی گئی۔

خیر تقابل پیش کرنا مقصد ہی نہیں تھا ضمنی بات تھی بتانا یہ مقصود تھا واقعات کو زمان و مکاں سے ہٹ کر نہیں دیکھا جاتا۔ ہر واقعہ ایک مکمل تاریخ اور پس منظر رکھتا ہے۔
تو اس واقعے کے ظہور کے پیچھے سچے رب کے سچے بندے کا خواب تھا اور اس میں اشارہ کے بیٹے کو خدا کی راہ میں قربان کردو۔
باپ کی محبت ہمارے ہاں زیادہ اہم سمجھی نہیں جاتی__ ماں کی نسبت ایکنالجمنٹ بھی کم ملتی ہے ایپریسیشن کبھی کبھی۔ تو اس تناظر میں ہمارے لیے مان لینا مشکل نہیں ہوتا کہ بیٹے کو لے کہ چل دییے ہوں گے ذبح کرنے۔

نہیں ایسا نہیں ہوتا__ باپ ان سنگ ہیرو ہوتا ہے بچوں کی زندگیوں کا خاموش مضبوط اور سرو کرنے والا۔
ہم ماں کی بے ساختہ محبت کے پیچھے باپ کا خاموش مینجڈ اور پروائڈ کرنے والا پیار بھول ہی جاتے ہیں۔
کبھی کبھی لگتا ہے رب سے بھی ہمارا ایسا ہی تعلق ہے جب بھی کچھ چاہیے ہوتا ہے ہم بے فکر چلے آتے ہیں اس سےکہنے اور وہ بھی ایسا بے نیاز مسکرا کے نواز دیتا ہے۔
قربانی سے بات محبت اور تعلق تک جا پہنچی___ رب کا حکم تھا ماننا تو تھا ہی بیٹے کو لے کر چل پڑے۔ ۔ نہ کوئی سوال نہ کوئی منطق نہ لاجک نہ دلیل نہ ہی یہ کہا میرا بیٹا تیرے نافرمانوں کو تیری راہ پر چلائے گا۔ نہ ہی یہ کہا انسان اہم ہے خواب اہم نہیں۔ نہ ہی یہ پوچھا ان دیکھے رب کے ان دیکھے حکم کو کیوں مانوں۔ بس حکم سر آنکھوں پر۔ رب کو بھی گوشت اور خون تو چاہیے نہیں تھا صرف فرمابرداری چاہیے تھی اپنے بندے کا خود پر اعتماد جاننا مقصود تھا۔ اور بندا آزمائش میں پورا اترا۔ ۔

کبھی سوچا ہے ابراہیم علیہ السلام کا قصہ ہاجرہ علیہ السلام کی سنت رب نے زندہ کیوں کردی حشر تک کے لیے؟؟ ماننے والوں کے ہمارے ایمانوں کا حصہ کیوں بنا دی۔
زمیں پر ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اتارے اور سب آزمائے گئے۔
لیکن یہ مثالیں ہی زندہ کیوں ہیں صرف یہ ہی کیوں؟ وہ رب کس چیز پر قادر نہیں کیا وہ اس پر قادر نہ تھا کہ سب کی آزمائشوں پر ایک سورت اتار دیتا کوئی ہود جیسی سخت سورت یا یوسف سی دل میں ہُوک جگانے والی اعراف جیسی بوڑھا کر دینے والی یا پھر سورہ کوثر سی مختصر دو ٹوک جامع___ لیکن اس نے ایسا کیوں نہیں کیا؟؟ جب سرکشی کا قصہ سنانا چاہا تو مثال نوح (علیہ السلام) کا بیٹا ہی کیوں تھا سرکش تو قوم بھی تھی اور صرف قوم ہی ہو سکتی تھی؟ سعی منظور کی تو کس کی ہاجرہ کی کس کے حق میں اسماعیل کے- قربانی کی باری آئی تو پھر باپ بیٹا__ کیوں؟؟ کوئی اور رشتہ کیوں نہیں؟
ہمیں جب اس نے غم کی شدت محسوس کرانا چاہی تو گریہ یعقوب سنایا یوسف کے لیے اس کے باپ کے آنسو بتائے۔ ہائے باپ رو رو کہ بینائی کھو دیتا ہے لیکن پھر بھی کہتا ہے میں وہ نہیں جانتا جو میرا رب جانتا ہے۔ یہ تو دل ہے جو آنکھ خشک نہیں ہونے دیتا۔

جب ہمیں کسی فریاد کا منظور ہونا بتانا چاہا تو___ پھر زکریا کا فریاد کرنا سنوایا کہ “اس نے اپنے رب سے رو کر اولاد کے لیے التجا کی”
عرب کے “بیٹوں”والے معاشرے میں اپنے محبوب کو چار بیٹیاں عطا کردیں۔

کبھی سوچا ہے کیوں؟؟ ان سب واقعات میں رشتہ ایک ہی آزمایا گیا ہے والدین کا__
کیوں بھلا! کیونکہ دنیا کی سب محبتوں میں سے افضل محبت والدین کی محبت ہے اولاد کے لیے۔ اور ان سب واقعات میں رب نے آزماء آزماء کے ہمیں بتایا کہ اولاد میں نے دی ہے اس کے اسباب کا ذمہ دار بھی میں ہی ہوں۔ اور رب نے یہ بھی بتایا کے قربانی تو سب سے بہترین چیز کی ہی ہو تو اچھی لگتی ہے۔

لیکن اُس “تہذیب” کا بھی کیا کیجیے کہ دنیا اکھٹی کرتے وقت تو اپنے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا لیکن جب قربانی کی حج کی باری آتی ہے تو کل جہاں کے غرباء اسی کے مستحق لگتے ہیں۔ سنو لوگوں تمہیں قربانی نہیں کرنا مت کرو۔ ہر کسی کے نصیب میں یہ ہوتی بھی کب ہے۔ لیکن جو ماننے والے ہیں ان کی راہ تو کھوٹی کرنے کی سعی لاحاصل مت کرو__
کہیں یہ تمہارے اندر کا گلٹ تو نہیں جو تمہیں کس کل چین نہیں پڑنے دیتا؟
نہ تم لوگوں کو ماننے کی خو ملتی ہے نہ چھوڑ کے سکون ملتا ہے۔ اگر یہ ساری منطقیں نہ بھی دی جائیں قربانی کے فلسفے نہ بھی لکھیں جائیں صرف ان کے الفاظ لوٹا دیے جائیں یہ کہہ کر کہ مذہب ہمارا ذاتی معاملہ ہے پھر بھی تشفی ہوجانی چاہیے نا؟
لیکن ہوتی نہیں کیونکہ لینے کے اور دینے کے باٹ الگ الگ ہیں دو نمبر لبرلزم کے۔

اور یہ نہ لکھنا شائد نہ انصافی ہو کہ قربانی ہمیں توکل کے رب کے منصوبے ماننے کے اسباق پڑھاتی ہے۔ ۔ یوسف کا بارہ سال بعد ملنا زکریا کو ابراہیم کو پیری میں اولاد ملنا اور اسی اولاد سے آزمایا جانا یہ سب محض اتفاقات تو نہیں ہوسکتے۔ ۔ یہ اس کی بڑی پزل کے چھوٹے چھوٹے ٹکرے ہیں جسے وہ حل کرتا ہے تو ہم پر کھلتا ہے کہ کتنے کوتاہ فہم تھے ہم۔ اور کس قدر جلد باز۔
جو محض سطحی میژرمنٹس کے پیش نظر جلدی مچائے رکھتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ اس کی دنیا اور دوسری دنیا کے وقت کے موقع کے معیار الگ ہیں۔
اس دنیا کی گنتی ہمارے جیسی تو نہیں نہ ہی اس کی دنیا میں پرکھ کے معیار ہمارے جیسے ہیں۔
یہ ہی وجہ ہے بیٹے کے لیے تڑپتی ماں کی سنت سعی کہلائی۔ اور بیٹے کے لیے روتی آنکھیں گریہ یعقوب۔
شائد اسی لیے بیٹوں والے سماج میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر عطا ہوئی۔ اور گیارہ بیٹوں والے امر کو جہل۔
یہ اس کے منصوبے تھے جو وقت پر کھلتے رہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: